عالمی ادارہ صحت: ’ایبولا کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ اب عام سی بات ہو گی‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایبولا

Getty Images

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ’ایک نئے دور‘ میں داخل ہو رہی ہے جہاں مہلک اور جان لیوا بیماریوں، جیسا کے ایبولا، کا بڑے پیمانے پر پھیلنا ایک ’عام سی بات‘ ہو گی۔

ماضی میں ایبولا نامی بیماری نے تعداد میں نسبتاً کم افراد کو متاثر کیا ہے۔

لیکن افریقی ملک کانگو کو اس وقت ایبولا کے دوسرے بڑے حملے کا سامنا ہے۔ ایبولا کا یہ حملہ دنیا میں اس بیماری کے پہلے بڑے حملے کے تین سال بعد رونما ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ممالک اور ادارے نئے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنے پر توجہ دیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘کینسر کے علاج کے لیے ایبولا جیسی تیزی چاہیے’

ایبولا پر عالمی ردعمل’انتہائی سست روی کا شکار’ رہا

ایبولا کے متاثرین کے لیے مستقل طبی مسائل

ایبولا کیا ہے؟

  • ایبولا ایک وائرس ہے جس کے باعث ابتدا میں بخار، سخت کمزوری، پٹھوں میں درد اور گلا خراب ہوتا ہے۔
  • دوسرے مرحلے میں قے (الٹی)، اسہال (دست) اور جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں سے خون رستا ہے۔
  • یہ بیماری ایبولا سے متاثرہ شخص کے خون، قے، پاخانے اور دیگر انسانی سیال مادوں کے صحت مند افراد میں پھٹی جلد، منھ اور ناک میں براہ راست جانے سے پھیلتی ہے۔
  • اس کا مریض عموماً ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) اور مختلف جسمانی اعضا کے مکمل ناکارہ ہو جانے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں اس متعدی بیماری کے اب تک 2025 کیس سامنے آئے ہیں جبکہ ان کے باعث 1375 اموات ہوئی ہیں۔

ایبولا کا سب سے بڑا حملہ سنہ 2014-16 کے دوران مغربی افریقہ میں ہوا تھا جس سے 28616 افراد متاثر جبکہ 11310 ہلاک ہوئے تھے۔ گِنی، لائیبریا اور سییرا لیون اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

سنہ 2000 سے سنہ 2010 تک اس بیماری کے 12 حملوں میں متاثرہ افراد کی تعداد اوسطً 100 تھی۔

سوال یہ ہے کہ اس بیماری کے حالیہ حملوں میں زیادہ لوگ متاثر کیوں ہو رہے ہیں؟

عالمی ادارہ صحت میں ہنگامی پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان کہتے ہیں کہ ’ہم شدید اثرات رکھنے والے متعدی امراض کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور یہ صرف ایبولا تک محدود نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنیا پریشان کر دینے والے خطرات کا مشاہدہ کر رہی ہے اور اس کے باعث بیماریوں جیسا کے ایبولا، ہیضہ اور یرقان کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں، ابھرتی ہوئی بیماریاں، ایسے جنگلات کی تباہی جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں، بڑھتی آبادی، کمزور حکومتیں اور جنگی حالات بیماریوں کے پھوٹنے اور ان کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث ہیں۔

’صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں‘

ڈاکٹر ریان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر میں بیماریوں کے 160 حملوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان میں نو سے گریڈ تین کی ہنگامی صورتحال کے تحت نمٹا جا رہا ہے۔ گریڈ تین سب سے بڑا ایمرجنسی لیول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اس سے پہلے بیک وقت ہمیں اتنی زیادہ تعداد میں ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔‘

’یہ نئی صورتحال ہے۔ مجھے امید نہیں ہے ایسے واقعات کی شدت میں کمی آئے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ممالک اور اداروں کو تیار رہنا پڑے گا۔

کانگو میں ایبولا کی وبا کا جاری رہنا حکام کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

ایبولا

Getty Images

پہلے 224 دنوں میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار تک تھی مگر اس کے بعد کے صرف 71 دنوں میں یہ تعداد دگنی ہو کر 2000 تک پہنچ گئی۔

کانگو میں جاری کشیدہ صورتحال کی وجہ سے بیماری پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رواں سال جنوری سے مئی کے دروان ہیلتھ سے متعلقہ سہولیات پر 40 سے زیادہ حملے ہوئے۔

دوسری بڑی وجہ محکمہ صحت کے اہلکاروں پر عدم اعتماد ہے۔ لوگ علاج کی غرض سے رابطہ نہیں کر رہے اور خطرات ہیں کہ وہ اپنی بیماری پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ویلکم ٹرسٹ کے ڈاکٹر جوزی گولڈنگ کہتی ہیں کہ دنیا کو ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مغربی افریقہ میں ایبولا، لوگوں کی نقل و حرکت اور آسان بارڈر، ہم اب ایسی دنیا میں رہتے ہیں اور یہ رکے گا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کئی بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کی وجہ ہو سکتی ہے جیسا کہ موزمبیق میں آئی ڈائی طوفان کے بعد ہیضے کا پھوٹ پڑنا۔

’تیاری بہتر ہونی چاہیے، ہمیں آبادی کی نقل و حرکت اور موسمیاتی تبدیلی پر نظر رکھنا ہو گی اور ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے تیاری کے لیے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9979 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp