اثاثوں کی جنگ

\"Aamir-Hazarvi\"

ایم کیو ایم کی پیدائش کے بعد اس کے خلاف مختلف حربے آزمائے گئے جو ناکام رہے۔ ایک حربہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا تھا جو بانوے میں کیا گیا یہ حربہ ناکام رہا۔ ایم کیو ایم پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکے سامنے آئی۔ جن افسران نے انکے خلاف آپریشن کیا تھا ایم کیو ایم نے انکو چن چن کے مارا۔۔۔

دوسرا حربہ یہ تھا کہ ایم کیو ایم کے متوازی ایک جماعت کھڑی کی جائے اور مہاجروں کو تقسیم کیا جائے۔ اس سوچ کی بنیاد پہ حقیقی بنی۔ یہ حربہ بھی ناکام رہا لوگوں نے حقیقی کو قبول نہیں کیا اور آفاق صاحب بھی ناکام ہوئے۔

آپریشن اور تقسیم کرنے کے علاوہ تیسرا حربہ الزامات کا تھا۔ ایم کیوایم پہ الزامات لگائے گئے۔ جناح پور کے نقشے برآمد کیے گئے۔ ایم کیو ایم کوغدار ثابت کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ لوگ الطاف حسین کے سحر سے باہر نہیں نکلے۔ قائد کاغدار موت کا حقدار ٹھہرتا۔ ایم کیوایم پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتی رہی۔ یہ تینوں طریقے پہلے آپریشن کے بعد آزمائے گئے۔

اس بار جو آپریشن ہوا وہی پرانے طریقے دوبارہ آزمائے گئے لیکن ایک تبدیلی آئی جسے میں مثبت سمجھتا ہوں وہ تبدیلی ہے فاروق ستارکی شکل میں۔ فاروق ستار کوگرفتار کرنے کے بعد جب رہا کیا گیا تو چہرے پڑھنے والوں اور اندر کی خبررکھنے والوں نے اسی وقت کہنا شروع کردیا تھا کہ فاروق ستار کو چھوڑ کے انہیں یہ بتایا گیا کہ ہمیں آپ سے یا آپکی سیاست سے تکلیف نہیں ہے۔ آپ سیاست کریں لیکن الطاف بھائی کو چھوڑ دیں، ان سے جان چھڑائیں۔ الطاف حسین جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس دن کے بعد فاروق ستار نے ایک مشکل فیصلہ کرتے ہوئے ذمہ داری اپنے سر لی ہے اور کہا ہے کہ اب فیصلے یہاں ہونگے لندن سے رابطہ نہیں۔

فاروق ستار نے ایک قدم تو اٹھا لیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حربہ کامیاب رہے گا؟ کیا فاروق ستار الطاف حسین کی جگہ لےلیں گے؟ ماضی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس بار بھی کامیابی ناممکن ہے لیکن اللہ کرے کہ فاروق ستار کامیاب ہوجائیں۔ ایم کیو ایم پہ جو مشکل وقت ہے ایم کیو ایم اس سے نکل جائے۔ ایم کیوایم کی سیاست سے طاقت ور لوگوں کو تکلیف نہیں، تکلیف عسکریت پسندی سے ہے۔

ایک رائے تو یہ ہے کہ طاقت والوں کو تکلیف سیاست سے نہیں ہے بلکہ عسکریت پسندی سے ہے۔

اس بارے میں جب ہم نے اپنے مرشد سے پوچھا تو انکا جواب تھا یہ جنگ اثاثوں کی ہے، الطاف حیسن ہمارا اثاثہ تھا اب یہ اثاثہ کسی اور کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ اثاثوں کی جنگ میں نقصان قوم اور ملک کا ہورہا ہے۔ اس جنگ میں جیتے گا وہی جو طاقتور ہے اور طاقتور کون ہے یہ خود ہی سوچ لیں۔ ساری باتیں بتانے کی نہیں ہوتیں کچھ کام آپ بھی کرلیں نا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words