چینی مسلمان: زندان میں رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ اور پوری دنیا میں مسلمان روزے رکھ رہے ہیں۔ ناروے کی دور دراز یخ بستہ قصبوں سے لے کرملیشیا اور انڈونیشیإ کے گرم علاقوں تک، مقامی روایتیں، مخصوص کھانے اور روحانی بالیدگی حاصل کرنے کی جستجو تمام روزے دار مسلمانوں کے توجہ کا مرکز ہیں۔ سوائے مسلمان اکثریتی چینی صوبہ ژنگ جیانگ کے یہ سماں ہر جگہ ہے۔

ژنگ جیانگ کے محکمہ غذا اور دوا کے ویب سائٹ پر ایک تحریر اس طرح سے اشاعت کی گئی ہے ”رمضان میں کھانا مہیا کرنے والے مراکز اپنے معمول کے مطابق کام کریں گی، اور بالخصوص رمضان میں نہ ہی روزے رکھیں اور نا ہی کسی اور مذہبی عمل میں ملوث ہوں۔ “

ایغور بچاٶ ویب سائٹ save Uighor website کے مطابق ”دنیا میں چین واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کے روزے رکھنے پر بھی پابندی عائد ہے“۔ بیشتر رپورٹ یہ بتاتی ہیں کہ رمضان المبارک کی پابندیاں سکولوں اور حکومتی دفاتر میں خصوصی طورپر نافذ کی گئی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے 10 لاکھ نسلی ایغوریوں کو مختلف وسیع قید خانوں میں قید کر رکھا ہے۔ مغربی چین کے ایک وسیع ریگستان کے انتہا پر سینکڑوں ایغور مسلمانوں کو زبردستی کسی اعلیٰ دباٶ کے تحت ایک آزمائشی پروگرام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جہاں وہ چینی زبان اور کام کی مہارت سیکھتے ہیں۔ مگر سب سے اہم مقصد انہیں ان کے مذہبی شناخت سے الگ کرنا ہے۔

یہ ان بہت سے بندی خانوں میں سے فقط ایک قید ہے جو ریاست فی الوقت چلا رہی ہے۔ ان تمام کیمپوں کے گرد باڑ لگادی گئی ہے اور سخت ترین حفاظتی پہرے دیے جاتے ہیں۔ ایک شخص نے کسی کیمپ میں سے کہا کہ ایک جنازے پر آیات مبارکہ پڑھنے کے جرم میں اسے گرفتار کر کے یہاں رکھا گیا ہے۔ تین مہینے ایک قیدی کیمپ میں رکھے جانے کے بعد انہیں سابقہ زندگی ترک کرنے کو کہا گیا۔ ان میں سے بہت سارے جنہیں قید تنہائی میں رکھا گیا، ان سب کو برین واش کیا جا رہا تاکہ انہیں (مذہب سے ) لا تعلقی کی پیشکش کی جا سکے۔

ایغور مسلمانوں کی حراست دراصل ایک بہت بڑے کڑی نگرانی پروگرام کا حصہ ہے جو کہ حکومت چین آزما رہی ہے۔ ژنگ ژیانگ کے مرکزی شہر کاشغر جو کہ متحرک مسلمان تاریخ کا مالک ہے، میں نگرانی کے لئے ہر جگہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

مقصد بڑا واضح ہے، انسانی مخبری و جاسوسی کو ٹیکنالوجیکل مخبری میں بدلا جائے۔ کثیر فوجی چوکیوں پر ایغوروں کو روک کر ان سے شناختی کارڈ طلب کی جاتی ہے۔ اور ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ بعض اوقات پولیس ایغوروں کے موبائل دیکھ کر تسلی کر تی ہے کہ انہوں نے اپنی کال نگرانی کی سافٹ ویئر موبائل میں انسٹال کر رکھا ہے۔ باقی پولیس جو کرتی ہے کرے۔ [پولیس افسر کے ہاتھوں ایک شخص نے اونٹ کی تصویر ڈلیٹ (Delete) کرنے کی بھی شکایت کی۔ ] پولیس مکمل خودمختار ہے کہ کب انہیں چیک پوسٹوں سے گزرنے کی اجازت دے۔

یہ فقط واحد طریقہ نہیں جہاں آبادی کی نگرانی کی جاتی ہو، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام پہلے سے حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ جس کا مطلب جو کوئی ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یا پھر کوئی شخص اپنے عقیدے سے زیادہ لگاٶ رکھتا ہے، اس کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کاشغر کے قرب و جوار میں خاندانوں کی نگرانی کے لئے نگران رکھے گئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی شخص پابندی کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کر کے روزہ تو نہیں رکھ رہا۔

دنیا میں چین کی ابھرتے طاقت کی وجہ سے پاکستان جیسے بہت کم مسلمان ملک مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ان پر غیر مجازی سختیوں کے خلاف بولنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بہت سے مسلمان ملک چین کے مقروض ہیں۔ ایسے میں ایغور مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا ان کے اپنے مفادات اور چینی سہاروں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اسی طرح امریکہ بھی بد ترین اسلام دشمنی کے باعث اس معاملے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پچھلے ہفتے ہی چین اور امریکہ کے مابین تجارتی مذاکرات اختتام کو پہنچے، مگر وہاں ایغور مسئلے اور مذہبی جبر کو جو کہ ان کی زندگی پر بن آئی ہے، کو قابل ذکر ہی نہ سمجھا گیا۔

مذہبی آزادی اور اسلامی اتفاق چین کے پہلو میں کھڑے رہتے ہوئے بھلا دی جاتی ہیں۔ جو کوشش کررہے ہیں وہ بھی اقلیت میں ہیں۔ ایک ترک باشندے نے مسلمانوں کے ذریعے ایک مہم شروع کرنے کی کوشش کی تاکہ روزے دار، چینی اشیإ مثلاً موبائل فون، کپڑے، اور الیکٹرانک اشیإ خریدنے سے اجتناب کریں۔ یہ نہیں معلوم کہ اس مہم کو کتنی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ جس کا ہیش ٹیگ #fastFromChina ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں توجہ حاصل کر پائے۔

روزے پر پابندیوں کی جانب کچھ مسلمان امریکی گروہوں نے بھی توجہ دلانے کی کوشش شروع کی ہے۔ توجہ مرکوز کرنے کی خاطر وہ چین کا سفر کرتے ہیں اور وہاں روزے رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ امریکی ہیں اس لئے چین ان پر پابندی نہیں لگا سکتی، لہٰذا ان کے سرعام روزے رکھنے کا عمل چین میں لاکھوں ایغوریوں کی جانب توجہ دلانے کا باعث بنے گی۔ جو کہ اپنے ہی ملک میں روزہ نہیں رکھ سکتے۔

پاکستان خود چینی انفراسٹکچر اور ٹیکنالوجی کے تعمیرات سے دن بہ دن، لمحہ بہ لمحہ چین کا مقروض ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بولنے اور لکھنے کے باوجود ایغور مسلمان اپنے سے قریب ترین مسلمان ملک کا توجہ حاصل نہ کر سکے، جہاں مذہبی آزادی کی بد ترین خلاف ورزیاں اور حق تلفیاں جنم لے رہی ہیں۔

اس مہینے میں پاکستانی آزادی سے روزہ رکھتے ہیں۔ (جبکہ بسا اوقات غیر مسلمان اقلیتوں پر کھانے کی پابندی بھی لگاتے ہیں اور ہوٹلوں کو بند کر دیتے ہیں)۔ ان میں سے بہت کم ہی یہ جاننے کی زحمت کریں گے کہ ان لوگوں کی حالت پر غور کریں جو کہ بالکل انہی کے جیسا ایمان و عقیدہ رکھتے ہیں۔

اپنی ذات و مفادات میں مگن پاکستان کے کسی بھی مذہبی عالم، ٹی وی اینکر، عسکری نمائندہ یا پھر عوامی وزیر کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کے پڑوس میں کیا ہو رہا ہے۔ اگر ان میں کچھ اچھا کرنے اور کہنے کی سمجھ بوجھ و حوصلہ نہیں ہے تو ایک عام پاکستانی سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ جو کہ روزے تو رکھتے ہیں مگر انہیں اچھا کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

(انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل)

(لکھاری ایک وکیل ہیں۔ آئین اور سیاسی فلسفہ پڑھاتی ہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •