صحافی بیٹے کے نام والد کا خط!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے امید ہے تم میرے طویل خط سے بور نہیں ہو رہے ہو گے لیکن بیٹے تمہیں اگر بوریت محسوس ہو تب بھی میں نے اپنی زندگی جن اعلیٰ اصولوں کے مطابق بسر کی ہے وہ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے تم تک ضرور منتقل کرنا چاہوں گا۔ بیٹے میں نے تمہیں بطلِ حریت قرار دیا ہے تم اس کا برا نہ ماننا اور نہ کسی کے سامنے اس کی صفائی پیش کرنا۔ یہ طنز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ تم بطلِ حریت ہو ،تم غریب ریڑھی اور ٹھیلے والوں کی آہوں کی پروا کئے بغیر ان کے خلاف لکھتے ہو، تم نے میٹر ریڈروں کے ایوانوں میں میں زلزلہ برپا کر رکھا ہے، تم بازار سے گزرتے ہو تو ظالم کانسٹیبل تمہارے خوف سے تھرتھر کانپنے لگتے ہیں، تم نے کتنے ہی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو اپنے روزنامہ گڑبڑ اور اپنے قومی اخبار میں شائع ہونے والے کالم کے ذریعے بے عزت کیا ہے، تم نے صرف ان نہتے لوگوں کے خلاف نہیں لکھا، تم نے بڑوں بڑوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلائی ہے، چنانچہ میں تمہاری حریت پسندی کی داد دیتا ہوں کہ تم نے ان شریف النفس وزیروں اور بیورو کریٹس کے خلاف بھی اپنے قلم کو تلوار کی طرح استعمال کیا ہے جن کے متعلق تمہیں یقین تھا کہ وہ جوابی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ بس بیٹے آئندہ بھی یہ احتیاط کرنا بعض میٹر ریڈر، ریڑھی والے، شاعر، ادیب، وزیر اور بیورو کریٹ بہت خر دماغ ہوتے ہیں۔ میرے ماتھے پر جو دو انچ مربع سائز کا نشان ہے وہ ایک خر دماغ برف فروش کے سُوا مارنے سے پڑا تھا مگر لوگوں کو میں نے یہی بتا رکھا ہے کہ یہ نشان کثرتِ سجود کی وجہ سے محراب کا ہے۔

پیارے بیٹے! میری ان باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ تم طاقتوروں کے خلاف کبھی لکھو ہی نہیں۔ یہ بات تو تمہارے بطلِ حریت والے ٹائٹل کے خلاف جائے گی۔ سال میں ایک آدھ دفعہ ان کی ایسی کی تیسی کر دو اور اس کے بعد سارا سال ان کی بھرپور حمایت کرو۔ ان کی حمایت میں لکھے گئے کالم ان کی حکومت کے دوران تمہارے لیے مفید ثابت ہوں گے اور ان کے جانے کے بعد ان کے خلاف لکھا گیا ایک آدھ کالم آنے والی حکومت اور قارئین کے لیے ریفرنس کا کام دے گا۔ تم اس کالم کے جملے حکومت اور اپنے قارئین کو ماضی کی حکومت کے خلاف اپنے حریت پسندانہ کردار کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہو، بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ حکومت کی حمایت میں لکھے جانے والے کالموں میں بھی دو چار جملے ان کے خلاف لکھ دیا کرو تاکہ کہ ان جملوں کے طفیل آنے والی حکومت میں بھی تمہارے جملہ حقوق محفوظ ہو جائیں۔

بیٹے! یہ دنیا کُتی ہے، اس کے لئے اپنے بیٹے وقار کو داؤ پر نہ لگاؤ۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ تنگ آئے ہوئے لوگ رواداری، محبت اور اخلاق کے تقاضوں کو بھی جوشِ انتقام میں بھول چکے ہیں اور وقار کو غلط رستوں پر لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے سنا ہے وہ ہیروئن بھی پینے لگا ہے، تم شروع سے ہی ہیروئینوں میں دلچسپی لیتے چلے آئے ہو مگر میں نے تمہیں کبھی منع نہیں کیا۔ صرف ایک ہیروئن کے بارے میں اشارتاً بتایا تھا کہ وہ میری بہت عقیدت مند ہے اور وفورِ عقیدت میں بہت کچھ کہہ اور کر جاتی ہے لہٰذا اس کے معاملے میں احتیاط کرنا مگر وقار ہیروئینوں کے بجائے ہیروئن میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ تم اسے جس ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئے تھے وہ ایک نالائق ہی نہیں بدتمیز شخص بھی ہے۔ اس کی اس بات کو اہمیت نہ دینا کہ یہ نوجوان اپنے باپ اور دادا کے بارے میں لوگوں سے سنی ہوئی کہانیوں کی وجہ سے اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا ہے اور یوں اس نے نشے میں پناہ تلاش کی ہے۔ تم آئندہ ایسے واہیات شخص کے پاس نہ جانا جو تمہارے اور میرے بارے میں یہ رائے رکھتا ہو۔ اس کے بجائے اسے بوہڑ والے بابا جی کے پاس لے جاؤ، وہ اسے درویشی کی سردائی پلائیں گے۔ مولا کرم کرے گا۔

مجھے تمہارے دوسرے بیٹوں کے مستقبل کی بھی بہت فکر ہے۔ ان کا صحافت کی طرف رجحان نہیں ہے۔ تم نے اچھا کیا کہ ایک کو پاکستان سروس اور دوسرے کو پولیس میں بھرتی کروا دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم اپنے بچوں کو بھی رزقِ حلال ہی پر لگانا چاہتے ہو۔ میری مانو تو تیسرے بیٹے کو پٹواری بنا دو اور چوتھا بیٹا وقار چونکہ ہیروئن کی لعنت میں مبتلا ہو گیا ہے لہٰذا اسے بوہڑ والے بابا جی کے سپرد کر دو ممکن ہے اپنے اس درویش بیٹے کے طفیل اللہ ہمارے گناہ بھی معاف کر دے۔

لختِ جگر! مجھے کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ تم شراب پینے کے بعد لوگوں سے بلاوجہ الجھنے کی عادتِ بد میں مبتلا ہو۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ تم حالتِ نشہ میں اپنے حال اور ماضی کے محسنوں کو گالیاں بھی دیتے ہو۔ بیٹے ماضی کے محسنوں کو تو نظریۂ ضرورت کے تحت گالی دی جا سکتی ہے لیکن جو لوگ ان دنوں تمہارے مربی ہیں ان کے حوالے سے محتاط رہا کرو۔

گزشتہ دنوں ایک سرکس کا منیجرمیرے پاس آیا، وہ چاہتا تھا کہ میں تمہیں اس کے سرکس میں قلابازیاں لگانے پر قائل کروں اور اس کے عوض وہ خاصا معقول معاوضہ دینے کو تیار تھا مگر میں نے اس کی بہت بے عزتی کی اور کہا کہ میرا بیٹا کالم نگار ہے، وہ تمہارے سرکس میں قلابازیاں کیوں لگائے گا۔ اس پر وہ منیجر بے غیرتی سے ہنسا اور بولا ’’ہر دور میں وہ قلابازیاں ہی تو لگاتا چلا آ رہا ہے‘‘ میں تمہیں اس کا ایڈریس دوں گا۔ یہ فیقے کن ٹٹے کا کیس ہے، فیقے کو اطلاع کر دو۔بیٹے! میں ملک و قوم کے مستقبل کے حوالے سے بہت فکرمند رہتا ہوں۔ مجھے اس بات کا غم کھائے جا رہا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا۔ بیٹے! لوگوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ جگاتے رہو۔ اپنے روزنامہ گڑبڑ میں روزانہ قائداعظم کے فرمودات کے علاوہ حب الوطنی پر مبنی نظمیں بھی شائع کرنا شروع کرو، یہ سیاستدان ملک کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان غداروں اور ملک دشمنوں پر جتنا کیچڑ اچھال سکتے ہو، اچھالو۔ اس سے تمہیں ذاتی طور پر بھی فوائد حاصل ہوں گے۔میرے چاند! مجھے پتا چلا ہے کہ تم نمازیں قضا کرنے لگے ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اللہ کو یاد کرتے رہو اس کے بعد خلقِ خدا سے جو چاہو کرو، وہ رؤف الرحیم ہے۔

(تمہارا غم زدہ باپ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •