صدرالدین گانجی کا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کا تعارف کیسے کراؤں۔ یہی کافی نہیں کہ وہ کراچی کے شریٹن ہوٹل کے مالک تھے؟ شریٹن اب بھی اُس شہر کا سب سے بڑا ہوٹل ہے۔ صدرالدین گانجی نے حکومت کویت کی پارٹنرشپ سے یہ ہوٹل بنایا تھا اور پیسہ دیگر ذرائع کے علاوہ پاکستانی بینکوں سے بھی لیا تھا۔ بڑے سیٹھ تھے لیکن حادثاتِ زمانہ ملاحظہ ہوں کہ جرمنی کے فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر ہیروئن کے ایک سوٹ کیس کے ساتھ پکڑے گئے۔ خبر ہلا دینے والی تھی۔ اتنا بڑا سیٹھ ’اور کیا کرتے ہوئے پکڑا گیا۔

جرمنی میں کیس چلا اور سزا ہوئی۔ اس کے بعد وہ پاکستان آئے۔ گو صحت ٹھیک تھی ’لیکن وہ پرانے صدرالدین گانجی نہ رہے تھے۔ ایسا حادثہ کسی کے ساتھ بھی پیش آئے‘ شخصیت پہ فرق تو پڑتا ہے۔

میں اُن کے بارے میں کیوں لکھ رہا ہوں، میرا اُن سے کیا تعلق؟ صرف اِتنا ہی کہ رہائی کے بعد جب وہ پاکستان واپس لوٹے تو مجھے ایک دن فون آیا اور دوسری طرف سے آواز آئی کہ وہ صدرالدین گانجی بول رہے ہیں۔ میں یک دم چونک اُٹھا اور میرا ردِ عمل بالکل فطری تھا۔ علیک سلیک ہوئی تو پوچھا کہ میرے لائق کیا خدمت۔ اُنہوں نے کہا کہ ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اکثر اپنے گاؤں بھگوال ہوتا ہوں تو اُنہوں نے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں وہ وہاں آ جائیں گے۔ سردیوں کی ایک شام تھی، میری پرانی بیٹھک میں آگ جل رہی تھی۔ ساتھ میز پہ شام کا مناسب اہتمام بھی تھا اور صدرالدین گانجی وہاں تشریف لائے۔ سامانِ شام سے گانجی صاحب نے معذرت چاہی۔ کہا کہ ایک زمانہ تھا ’جب عادات کچھ اور تھیں لیکن اب بدل چکی ہیں۔ خیر جو کسر انہوں نے چھوڑی وہ ہم نے پوری کر دی۔

اپنی طبع ایسی ہے کہ مہمانوں سے گھبراہٹ رہتی ہے لیکن وہ شام یادگار تھی کیونکہ ایسی دلچسپ گفتگو کم ہی سننے کو ملی ہے۔ صدرالدین نے اپنی کہانی سُنائی اور بتایا کہ شریٹن کی زمین کون سے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے اُنہوں نے حاصل کی تھی۔ ساتھ کچھ زمین تھی جو حکومتِ سندھ کی ملکیت تھی۔ وہ بھی اُنہیں درکار تھی اور اُس وقت سندھ کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفی جتوئی تھے۔ وہ لائن پہ آ نہیں رہے تھے اور صدرالدین صاحب کا کام نہیں بن پا رہا تھا۔

لیکن پھر اُنہوں نے مشہورِ زمانہ حُسنہ شیخ صاحبہ سے مدد مانگی۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ حُسنہ شیخ کون تھیں۔ وہ ایک سابق وزیر اعظم کی نہ صرف تیسری بیوی تھیں بلکہ اُن کی زندگی۔ میرے پاس مدعا بیان کرنے کے لئے مناسب الفاظ نہیں۔ کی محبت، وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں The love of his life۔ میری حُسنہ شیخ صاحبہ سے ایک آدھ ملاقات بہت بعد میں اسلام آباد میں ہوئی اور کہنا پڑے گا کہ وہ بہت دل پذیر شخصیت رکھنے والی خاتون تھیں۔

بہرحال صدرالدین نے حُسنہ شیخ سے کہا، اس نے آگے سابق وزیر اعظم سے۔ صدرالدین کے الفاظ یہ تھے کہ جب وہ سابق وزیر اعظم غسل کے ٹب میں تھے، پانی کا ٹمپریچر بالکل اُن کی مرضی کے مطابق تھا، اور ٹب کے ساتھ ہی پتہ نہیں گلاس میں کون سا مشروب۔ یعنی جب وہ صاحب صحیح موڈ میں تھے تو عین اُس وقت صدرالدین گانجی کی درخواست بذریعہ پیغامبرِ خاص اُن کے کانوں میں پہنچائی گئی۔ اُنہوں نے کیا دیر کرنا تھی۔ غسل کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ جتوئی صاحب کو فون ہوا اور پھر کام نے ہونا ہی تھا۔ صدرالدین کا یہ ساری کہانی بیان کرنے کا مقصد مجھے یہ بتانا تھا کہ ہماری مملکت ہے کیسی اور یہاں پہ کام کیسے ہوتے ہیں۔ یہاں کوئی قانون یا ضابطہ نامی چیزیں نہیں چلتیں۔ بس ایسے ہی کام ہوتے ہیں۔

اُنہوں نے ایک اور قصہ سنایا۔ شریٹن کے لئے جو بینکوں سے قرض لیے گئے تھے ’اُن کی واپسی میں دیر ہو رہی تھی اور صدرالدین گانجی ڈیفالٹر بن رہے تھے۔ بینک والے رعایت دینے کے موڈ میں نہیں تھے اور معاملہ گانجی صاحب کا بیچ میں پھنسا ہوا تھا۔ ایک دن بڑے بینک والوں کا اجلاس ہونا تھا۔ صدرالدین سر کھجا رہے تھے کہ اُنہیں کیا کرنا چاہیے۔ پھر اُنہیں ایک ترکیب سُوجھی۔ شریٹن کا اندرونی تزئین و آرائش کا کام ایک مصری کو سونپا گیا تھا‘ جو تب کراچی میں موجود تھا۔

صدرالدین نے اُس سے پوچھا کہ تمہارے پاس اپنا عبایا ہے، یعنی وہ لباس جو عربی پہنتے ہیں۔ گلف اور سعودیہ کے عرب تو روزمرّہ زندگی میں عبایا کا استعمال کرتے ہیں لیکن مصر میں مڈل کلاس اور اوپر کے لوگ عبایا کو بطور نائٹ سوٹ، یعنی رات کے کپڑوں، کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مصری نے کہا: میرے پاس عبایا ہے پر میں رات کو پہنتا ہوں۔ صدرالدین نے کہا کہ تم پہن آؤ اور میرے ساتھ چلو۔ وہ اُس بلڈنگ میں گئے جہاں بینکروں کا اجلاس ہو رہا تھا۔

صدرالدین نے کہا کہ میں تمہیں دروازے کے اندر دھکیل دوں گا، تم نے اور کچھ نہیں کرنا صرف شدید غصے کے عالم میں عربی میں بولنا ہے اور کہنا ہے کہ میرا تعلق کویت سے ہے اور یہ کیا ہے کہ ہمارے شریٹن ہوٹل کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ صدرالدین نے بتایا کہ ایسا ہی ہوا۔ مصری کمرے میں داخل ہوتے ہی بینکروں پہ عربی میں چلاتے ہوئے چڑھ گیا۔ بینکر ’جو اپنے اپنے بینک کے سربراہ تھے‘ دم بخود رہ گئے۔ اُنہوں نے کہا: سر آپ ٹھنڈے ہو جائیں، ذرا بات سُنیں لیکن وہ عربی میں چڑھائی کرتا رہا۔ قصہ مختصر کہ شریٹن ہوٹل کو جو ریلیف مطلوب تھا وہ فوراً مل گیا۔ صدرالدین نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگوں کی اصلی اوقات یہ ہے۔ دیگر بھی کئی ایسے قصیّ انہوں نے سنائے۔

میں نے صدرالدین سے صرف ایک بات پوچھی کہ اتنے سیٹھ ہو کے اُنہیں ہیروئن سمگل کرنے کی کیوں سُوجھی۔ انہوں نے کہا: میں کیا کہہ سکتا ہوں سوائے اس کے کہ مغز پھر گیا تھا یا عقل پہ تالے لگ گئے تھے۔ میں نے ایک اور سوال پوچھا کہ اُن کی سمگلنگ کی واردات کے پیچھے اصل چہرے کون سے تھے۔ صدرالدین کے جواب نے مجھے حیران کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم پیچھے تار ہلانے والے کون تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ ہمارے جیسا کوئی ایسی چیز میں پھنس جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اُن جیسا سیانا اور پہنچا ہوا آدمی ایسے جال میں کیسے پھنس گیا؟ اُنہوں نے کہا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ایسی بے وقوفی کیسے ہوئی۔

صدرالدین نے یہ سب واقعات ایک کتاب کی صورت میں لکھے ہوئے تھے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں لیکن وہ کتاب چھپ جائے تو پڑھنے کے قابل ہو گی۔

بنیادی نُکتہ البتہ اُن کا یہ تھا کہ جو یہاں کے امراء اور شرفاء کہلاتے ہیں وہ بس ایسے ہی ہیں۔ اُن کا کوئی لیول نہیں۔ ہم ارد گرد دیکھیں اور روزمرّہ کی کہانیاں سُنیں تو اِس نکتے کی تصدیق ملتی ہے۔ ناجائز طریقوں سے دولت کمانے کی جو لَت ہماری اَپر کلاس کیا ’ہر کلاس کو لگی ہوئی ہے اُس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ بنیاد ہی کچھ ایسی تھی کہ تقسیم ہند کے وقت جعلی کلیموں کے بل بوتے پر راتوں رات لوگ امیر ہو گئے۔ اِس بنیاد کا اَثر زائل ہونے کی بجائے چھاپ کی مانند آئندہ نسلوں پہ ثبت ہوتا گیا۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ مملکت کی سب سے طاقتور روش کیا سمجھنی چاہیے تو جواب یہی ہے کہ دولت کا ارتکاز ہر ناجائز طریقے سے۔

بڑے شہری مراکز اگر دیکھے جائیں کہ وہاں پراپرٹی کا کاروبار کیسے چلایا گیا ہے اور ارتکازِ دولت کیسے ہوئی ہے تو داستانِ پاکستان کے خدوخال سامنے آ جاتے ہیں۔ لاہور کو دیکھیے، کتنی قیمتی زرعی زمین اس کاروبار کی نذر ہو چکی ہے۔ کسی ہوائی جہاز پہ چڑھ کے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نے اِس ضمن میں اپنی آئندہ نسلوں کے ساتھ کیا ظلم کیا ہے۔

مانا کہ اُمید زندہ رہنی چاہیے۔ ہم بھی ہیں کہ کہتے ہیں ’ہمارا مستقبل روشن ہے۔ ہم مصیبتوں سے نکل آئیں گے۔ ایسی اُمید ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن امید کی کچھ بنیاد تو ہو۔ کہیں سے تو بات شروع ہو سکے۔ فی الحال تو بس یہ دو نمبر کے کاروبار ہیں۔ آگے کیا پڑا ہے ہمارے فرشتے جانیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •