معصوم شکل بادشاہ اور بونگا بخیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری عمر یہی کوئی دس سے بارہ سال کے درمیان ہو گی۔ اس وقت چونکہ ٹیبلٹس، آئی پیڈز اور ویڈیو گیمز نہیں ہوا کرتی تھیں اس لئے اس وقت کے بچے کہانیں سن یا پڑھ کر خوش ہو جایا کرتے تھے۔ اُس سچے زمانے میں بچوں کے لئے کہانییوں کی چھوٹی چھوٹی کتب محلے کی دکان پر بھی دستیاب ہوتی تھیں۔ جن کی مالیت پچاس پیسے یا ایک روپیہ ہوتی تھی۔ یاد رہے یہ گئے دنوں کی بات ہے جب روپیہ اتنا بے قدر نہیں ہوا تھا جتنا اب ہے۔ میں بھی باقی بچوں کی طرح گھر سے ملنے والا جیب خرچ بچا کریہ کہانیاں آسانی سے خرید لیا کرتا تھا جو اکثر ٹارزن کی بہادری کے کارناموں یا حاتم طائی کی سخاوت جیسے موضوعات پر مشتمل ہوتیں تھیں۔

کبھی کبھار کوئی ڈراونی کہانی جیسے دیو کا انتقام یا شیرو کا اغوا وغیرہ بھی ہاتھ لگ جایا کرتی تھی۔ مختصر یہ کہ ان کہانیوں کو پڑھتے پڑھتے ایک دن خیال آیا کہ کیوں نہ خود بھی کوئی ایسی کہانی لکھی جائے۔ جس کا کردار ایک طرف ٹارزن اور حاتم طائی کی طرح کرشماتی خصوصیات کا حامل ہو جب کہ دوسری طرف اُسکا انجام بھی ظالم دیو کی طرح ہو۔

سومیں نے برسوں پہلے ایک کہانی معصوم شکل بادشاہ اور بونگا بخیل کے عنوان سے لکھی۔ آج پرانے کاغذوں میں سے ملی تو سوچا آپ بھی پڑھ لیں۔ کہانی شروع کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ چونکہ یہ کہانی ایک بچے نے لکھی ہے لہذا ممکن ہے اس میں آپ کو ادب کی چاشنی محسوس نہ ہو۔ دوسرا اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں اس لئے مماثلت اتفاقی اور آپ کی اپنی ذہنی اختراع ہوگی۔ تو لیجیے پیشِ خدمت ہے معصوم شکل بادشاہ اور بونگا بخیل۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ملک تھا جس کا نام ”پھلواری“ تھا۔ پھلواری ایک نہایت خوبصورت ملک تھا جہاں ہر طرف امن کا دور دورہ تھا۔ اگرچہ پھلواری اپنے پڑوسیوں کا بہت خیال رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے تمام پڑوسی ممالک اسے دیکھ کر دل ہی دل میں اس سے جلتے رہتے تھے اور اسے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ پھلواری میں رہنے والے لوگ خوبصورت، جری اور انتہائی ذہین تھے۔ نغمہ، موسیقی اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے لوگ خوش رہتے تھے۔ پھلواری قدرتی دولت سے مالا مال تھا (کم از کم درسی کتب میں یہی لکھا تھا) اور اس کی زمین سونا اگلتی تھی۔ ملک میں کوئی شخص بھوکا نہ سوتا تھا اور سکون ایسا تھا کہ آپ بازار سے ہاتھوں میں سونا اچھالتے گزر جائیں مجال ہے کوئی اپنی گندی نظر اس پر ڈال سکے۔

ملک کا سب سے جری اور بہادر شخص ملک کا بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اچانک پھلواری کی عوام کو خیال آیا کہ ہمیں اپنا بادشاہ خود چننا چاہیے جو خوش شکل ہو۔ یوں ایک رحم دل خوش شکل شخص پھلواری کا بادشاہ بن گیا۔ نیا باشاہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتا تھا۔ سنتا زیادہ اور بولتا کم تھا۔ باشاہ کے بقول وہ عوام کی بھلائی کے لئے بے شمار کام کر رہا ہے لیکن حرکت تیز تر ہونے کے باوجود ترقی کا سفر بہت آہستہ تھا۔

اخبارات سے لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ خوش شکل بادشاہ باہر سے معصوم لیکن اندر سے گُنوں کا پورا ہے۔ ملک کو لوٹ کر اپنے بچوں کے لئے محل بناتا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا یہ جھوٹ ہے، معصوم شکل بادشاہ نے جب سے بولنا زیادہ اور سننا کم کیا ہے اس کے بارے میں ایسی خبریں جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہیں۔

پھلواری کے عوام پریشان رہنے لگ گئے کہ پتہ نہیں اصل ماجرا کیا ہے۔ وہ تو بھلا ہو بونگے بخیل کا جس نے کھیل کود اور آوارہ گردی چھوڑ کر لوگوں کو سمجھانا شروع کیا کہ ہمارے برے حالات کا ذمہ دار معصوم شکل بادشاہ ہے اور بادشاہ چور ہے۔ یہ اندر ہی اندر ہماری جڑیں کاٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے لئے محل بناتا رہا ہے۔ شروع شروع میں پھلواری کے عوام نے بونگے کی باتوں پر کان نہیں دھرے کیونکہ اکژیت اسے آوارہ گرد خیال کرتی تھی۔ لیکن جوں جوں لوگوں کو پتہ چلا کہ معصوم شکل بادشاہ نے قرضہ دینے والے ملک کو مقروض کردیا ہے وہ بونگے بخیل کو سچا جاننے لگے۔

بونگے نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر اسے بادشاہ بنا دیا جائے تو وہ اچھے دن واپس لا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک سچا اور ایماندار شخص ثابت ہو چکا تھا اس لئے پھلواری کی عوام نے احتجاج کرکے، جانوں کی قربانی دے کر اور دعائیں کر کر کے بونگے بخیل کو بادشاہ بنا دیا۔ ایک دفعہ پھر ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پرانا دور واپس آنے کی امید نے پورے ملک میں ہیجانی کیفیت کو ختم کردیا۔ بونگے بادشاہ نے بادشاہت ملتے ہی وعدے کے مطابق، معصوم شکل بادشاہ کو کال کوٹھری میں بند کر دیا۔ پھر اس نے ملک کا نام تبدیل کرکے ”پھلواری“ سے ”پھولیا“ کردیا۔

ان کاموں سے فارغ ہو کر بونگا بادشاہ جب تاج پہن کر تخت پر بیٹھا تو اسے خیال آیا کے اس نے بادشاہت کے گر تو سیکھے ہی نہیں۔ زندگی کا ایک حصہ کھیل کود اور آوارہ گردی میں جب کے باقی عمر معصوم بادشاہ کو کوسنے میں گزار دی تھی۔ ملک کے نظام کو کیسے چلایا جاتا ہے یہ تو اس کو پتہ ہی نہ تھا۔ اس نے اپنے قریبی ساتھیوں کو دربارسے نکال کر اچھے وقتوں کے رتن اپنے ساتھ رکھ لئے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔

آخر میں جب اس سے کچھ نہ بن پڑا تو اس نے لوگوں کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں اب کیا کروں سب کچھ تو معصوم شکل بادشاہ لوٹ کر لیا گیا ہے۔ پھولیا کے لوگ بہت پریشان ہوئے۔ لیکن وہ اپنی ساری قوت بونگے بخیل کو بادشاہ بنانے میں لگا چکے تھے۔ اب ان میں ہمت نہیں تھی کہ وہ بونگے بخیل کو بھی معصوم بادشاہ کی طرح تخت سے ہٹا سکیں۔
نتائج۔ لالچ بری بلا ہے، ”اتفاق“ میں برکت نہیں رہی، سو سنار کی ایک ”فنکار“ کی اور۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عاطف الیاس کی دیگر تحریریں
عاطف الیاس کی دیگر تحریریں