پاکستان میں ریاستی طاقت کے کردار پر غور کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست کی عملداری قائم کرتے ریاستی ادارے طاقت کے استعمال سے آبادی کو محکوموں کے جتھے میں کب بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ریاستی عملداری کب آبادی کی آزادی یا شہری آزادیوں کو نگل جاتی ہے، امتیاز کرنا ممکن نہیں رہتا؟

پرانے وقتوں ریاست کا بنیادی تصور ہی طاقت، قوت اور جبر سے عبارت تھا۔ ایسی ریاست کا تصور محال تھا جو جبر اور طاقت کا استعمال کرنے والی مشینری کے وجود سے پاک ہو۔ کسی ریاست کے حاشیہ خیال سے ہی یہ بات ماورا تھی کہ اس کے وجود کے جائز ہونے کا معیار اور دارومدار عوام کی خدمت اور ان کو سہولیات بہم پہچانے پر ہے۔ ریاست اور شہری میں معاہدہ نہایت سادہ تھا۔ یعنی ریاستی حدود میں آباد شہری اپنی آمدن کا ایک حصہ ریاست کو ٹیکس کی صورت ادا کرے گا اور اس کے بدلے ریاست اس کی حفاظت کرے گی۔ ریاست ایک طرح سے اس بدمعاش گروہ کی مانند تھی جو پیسہ لے کر لوگوں کو تحفظ دے۔

جدید جمہوری نظریات کا فروغ سیاسی تاریخ میں بتدریج ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ریاست کے مقاصد میں جمہور، آزادی اور خدمات عامہ جیسے نظریات کی چاشنی دیر سے گھلی ہے۔ یورپی سیاسی تاریخ میں 19 ویں صدی میں ان نظریات نے آنکھ کھولی اور پھر ترقی پائی۔ مغرب میں یہ سوچ کی یہ روشنی پھیلنا شروع ہوئی کہ ریاست کے بنیادی کام یا وظائف یا اس کے جائز ہونے ہونے کی شرط عوامی خدمت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عوامی فلاح وبہبود ریاست کا بنیادی کام قرار پایا جس سے اس کے سیاسی وجود کو جائز تسلیم کیاجائے۔

یہ کہنا البتہ درست نہیں ہوگا کہ ان جدید جمہوری نظریات کے آنے سے مغرب میں ریاستی جابرانہ ہتھکنڈوں کا استعمال ترک ہوگیا تھا۔ یہ حربے بہرصورت اپنی جگہ موجود رہے البتہ ریاستی مشینری کے قانونی اور جائز ہونے کا دارومدار سماجی اور نسلی گروہوں کا تعاون اور انہیں خدمات کی فراہمی پر منحصر تھا۔ قتل وغارت گری سے عاجز آئے عوام نے ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے کی ایک شرط یہ بھی رکھی کہ وہ تنازعات کو حل کرنے کی سعی و کوشش کرے جو اس وقت کرہ ارض کے کونے کونے اور ہر معاشرے میں موجود تھے۔

عوامی فلاح وبہبود کے جدید ریاست کا پہلو قرار پانے پر اسے زیادہ پزیرائی ملی اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا استعمال پس منظر میں چلاگیا۔ اب اس کا نشانہ یا استعمال کا مقصد مغربی معاشروں میں موجود جرائم پیشہ عناصر سے نمٹنا قرار پایا۔ سیاسی یا اختلاف رائے کرنے والے گروہوں سے نمٹنے کے ماضی کے جابرانہ مشینری کے استعمال کو ختم کیاگیا۔ اس ضمن میں ریاستی رویے میں زیادہ تبدیلی مغربی معاشرے میں خاص طورپر جنگ عظیم دوم کے بعد آنے والی معاشی آسانی اور دولت کی ریل پیل کے مرحلے پر دیکھی گئی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے میں مغربی رجحانات کی موجودگی اور نظریات کی نظام کی حد تک آگہی کے باوجود پاکستانی ریاست پر ان مغربی سیاسی رجحانات کا اثر نہیں ہوا۔ یہ امر بھی حیران کن ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد مغرب سے مستعار لی گئی ہے۔ جدید ریاست کا ڈھانچہ، جدید فوج اور وفاقی پارلیمانی نظام کا ڈھانچہ یہ سب کچھ برطانیہ نے اس خطہ ارضی میں متعارف کرایا تھا۔

برطانیہ اس خطہ میں نوآبادیاتی قوت تھا، اس لئے اس وقت ریاست کا جابرانہ مشینری استعمال کرنا ایک نمایاں پہلو تھا۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ اس نوآبادیات کی پیش رو پاکستانی ریاست نے سترسال گزرجانے کے باوجود کوشش نہیں کی کہ آزادی کے حصول کے بعد وہ اس نوآبادیاتی مزاج میں تبدیلی لائے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی ریاست کی پہچان کم ازکم اس کی حدود و قیود میں اس کی جابرانہ قوت اور مشینری ہی بن کر رہ گئی ہے۔ مختلف نسلی، مذہبی اور سماجی گروہوں کی امنگوں کو قومی دھارے میں سمونا پاکستانی ریاستی مشینری کی استعداد کار سے باہر دکھائی دیتا ہے۔ ریاست کی انتظامی صلاحیت کبھی بھی مثالی نہیں رہی لیکن اب یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ شاید یہ صلاحیت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ریاست کا تمام انحصار جبر کا ہتھکنڈہ اور اس سے چلنے والی مشینری بن رہ گئی ہے جس نے دیمک زدہ قانونی نظام اور کھیل کے قواعد کو نافذ کرنا ہے جو بدقسمتی سے کسی سماجی اور سیاسی اتفاق رائے پر مبنی نہیں۔

لہذا اس پہلو سے ہمیں مغرب سے مکمل تضاد دکھائی دیتا ہے حالانکہ یہ سب اصول اور سیاسی و انتظامی ڈھانچے ہم نے وہیں سے اپنائے ہیں۔ مغرب نے جابرانہ ریاست سے حساس عوامی امنگوں کا احساس کرنے والی ریاست کا سفر بتدریج طے کیا ہے جبکہ پاکستانی ریاست گزشتہ برسوں میں مزید جابرانہ طرزحکمرانی کی طرف آئی ہے اور اس کی اس صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں ہر وہ موقع ضائع کیاگیا جہاں عوامی امنگوں اور خواہشات کی پزیرائی کو ریاستی قوت میں سمویا جاسکتا تھا اور اسے عوامی خواہشات اور امنگوں کے احساسات کی امین نظام کی علامت بنایا جانا ممکن تھا۔

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) اور اس کے نمائندوں علی وزیر اور محسن داوڑ کی گرفتاری کی حالیہ مثال لیں۔ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ان دونوں کو گرفتار کیاگیا تاکہ ریاست کی قوت اور مشینری کے ذریعے انہیں عبرتناک سزا کی مثال بنا دیا جائے۔ یہ عمل ریاست کے عدالتی بازو کے ذریعے سے انجام پا رہا ہے جو ریاستی جابرانہ ڈھانچے کا ہی ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

ٹیلی ویژن پر صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاست کے جابرانہ کردار کے حامیوں کی جانب سے کیسے ان دونوں شہریوں کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے۔ ایک تبصرہ نگار کا یہاں تک کہنا تھا کہ ”صرف وہی دو جیل کے اندر کیوں ہیں باقی ابھی تک آزاد کیوں پھر رہے ہیں؟ “۔

شمالی وزیرستان میں ہونے والے ان واقعات پر میں تبصرہ محفوظ رکھتا ہوں جن کی بنا پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی گرفتاری عمل میں آئی۔ وجہ یہ کہ حقائق فی الوقت دستیاب نہیں۔ عام کو میسرآنے والی واحد اطلاعات وہ چند الزامات ہیں جو ریاست کی طرف سے ارکان پارلیمان پر لگائے گئے ہیں۔

یہ دلخراش المیہ ہمیں بتاتا ہے کہ پاکستانی ریاستی مشنیری میں تنازعہ کو پرامن طورپر حل کرنے کی انتظامی استعداد اور قابلیت کا فقدان ہے۔ لے دے  کے ان کے پاس واحد راستہ اُن لوگوں کے خلاف جبر کا استعمال ہے جو ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کی جرات دکھاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان معملات سے ریاست پاکستان کی اخلاقی حیثیت مزید کمزور ہوئی ہے۔ کئی سوالات کا جواب میسر نہیں۔ ’پی ٹی ایم‘ ایک غیرمسلح تنظیم ہے۔ اپنے خطے میں مسلح جنگجووں کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک غیرمسلح اور عدم تشدد پر کاربند تنظیم کیسے ریاست کے خلاف ہوسکتی ہے؟ یہ اہم سوال بہرحال جواب کا متقاضی ہے؟ اس سوال کا جواب ہی اس حقیقت کا تعین کرے گا جابرانہ ہتھکنڈوں سے ہٹ کر ایک تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ریاست کی صلاحیت کیا ہے؟

یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ اختلاف کی جرات دکھانے والے اپنے ہم وطنوں کی بات سننے کا ریاست کے پاس کتنا حوصلہ ہے؟ جواب ملے گا کہ ریاست معاشرے میں اختلافی رائے رکھنے والوں سے بات چیت کیوں نہیں کرسکتی؟ اس میں تنازعات کو پرامن انداز میں حل کرنے کی صلاحیت کیوں مفقود ہے؟ جب آپ کے پاس ہر چیز کا علاج ’ڈنڈا‘ ہو تو پھر ہر مسئلہ ہی ’چھوٹا‘ محسوس ہوتا ہے۔ ریاست کی تمام تر طاقت کا مرکز علی وزیر اور محسن داوڑ ہیں، جبر اور دباؤ کے ہر ہتھکنڈے کا نشانہ یہی دو افراد ہیں، دوسری جانب مسلسل پراپگنڈہ بھی زوروں پر ہے۔

نہیں بھولنا چاہیے کہ سیاست کے اس دائمی کھیل میں ان دونوں افراد کی حیثیت عارضی ہے۔ جبر کے ذریعے انہیں منظر سے ہٹایا تو جا سکتا ہے، یا وہ خود ہی منظر سے غائب ہوسکتے ہیں۔ یعنی قدرتی طور وفات کی صورت یا بیماری سے یا پھر کسی حادثہ کا شکار ہو سکتے ہیں، یہ سب عوامل افراد کی سیاست کے کھیل میں عارضی حیثیت کے پہلو ہیں لیکن جس رجحان کی انہوں نے نمائندگی کی ہے، دراصل وہ دائمی نوعیت کا ہے اور اس کے اثرات اگر صدیوں تک نہ بھی رہیں تو بھی امکان ہے کہ دہائیوں تک ضرور موجود رہیں گے۔

نمایاں ترین مثال ہمارے سامنے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صورت موجود ہے۔ انہیں جبر اور ریاستی قوت کے بل پر سیاسی منظر نامے سے تو ہٹا دیا گیا لیکن اس وقت کے فوجی حکمرانوں کے جابرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود جن عوامی رجحانات کی ذوالفقارعلی بھٹو نے نمائندگی کی، کیا وہ ان کے جانے سے ختم ہوگئے ہیں؟ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ آج بھی معاشرے میں موجود ہیں۔

اگر ہم یہ تصور کریں کہ علی وزیر اور محسن داوڑ پشتون قوم پرستی کی قبائلی علاقہ جات میں احیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تو پشتون معاشرے میں قومیت پرستی مستقل سیاسی رجحان ہے۔ اس مسئلے سے نبردآزما ہونے کے لئے علی وزیر اورمحسن داوڑ سے مذاکرات زیادہ مناسب طریقہ رہتا۔ ایک نہایت نازک پہلو اس معاملے سے اس حقیقت کی صورت بھی جُڑا ہوا ہے کہ ان کے منظرنامے سے ہٹ جانے کے بعد زیادہ جنونی اور شدت پسند گروہ کہیں سرنہ اٹھا لیں؟ پھر ریاست اور اس کی جبر کرنے والی مشینری کس صورتحال سے دوچار ہو گی؟ اس پہلو کی ایک مثال بھارت میں کانگریس کی قیادت کا قتل بھی بتایا جاتا ہے جس کے منظر سے ہٹ جانے کا نتیجہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسند جنونیوں کی صورت میں برآمد ہوا۔ محض جبر اور طاقت کا استعمال پاکستان کے گھمبیر سیاسی، معاشی، سماجی اور مذہبی تنازعات کا حل نہیں۔ معاشرے میں موجود یا مستقبل میں سراٹھانے والے تنازعات حل کرنے کے لئے ہمیں پرامن ذرائع اختیار کرنا ہوں گے۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے ایک فریق نے حالیہ برسوں میں واضح کردیا ہے کہ وہ مخالفین کے خلاف ریاستی جبر اور قوت استعمال کرے گا۔ یہ دہشت زدہ کر دینے والی صورتحال ہے۔ پاکستانی سیاست کا یہ کھلاڑی سیاسی منظر نامے پر ہمیشہ ہی غالب رہا ہے۔ ریاستی قوت کے استعمال نے مخالف فریقین کو ہمیشہ ہی صدمہ سے دوچار کیا ہے۔ اس کھلاڑی نے ایک ایک کر کے اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹایا ہے۔ پہلے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کو منظر سے ہٹایا، پھر نواز شریف کی باری آ گئی، اب پشتون تحفظ تحریک اس کا ہدف ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک فریق نے ریاست کی جابرانہ قوت کو سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لئے استعمال کر کے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں شامل کھلاڑیوں کو یکساں ماحول میسر نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •