بھارت کی داخلی جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں رائج سیاسی نظاموں میں جمہوریت ایک بہترین نظام ہے۔ کیونکہ بنیادی طور پر یہ نظام عوامی سطح پر حکومتی اور سیاسی نظام میں عام لوگوں کی شمولیت کو زیادہ موثر اور شفاف بناتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری نظاموں کو دیگر نظاموں پر سیاسی اور اخلاقی سبقت حاصل ہے۔ لیکن یہاں سمجھنا ہوگا کہ ہم جمہوریت سے جڑے کس نظام کی بات کررہے ہیں۔ ایک نظام جمہوریت کے بارے علمی اور فکری بنیادوں پر موجود ہے جو ہمیں جمہوریت سے قریب آنے اور اس کو اختیار کرنے پر قائل کرتا ہے۔

جبکہ دوسرا نظام وہ ہے جو جمہوریت کے نام پر دنیا بھر میں رائج ہے اور بالادست نظر آتا ہے۔ علمی اور فکری بنیاد پر اور عملی بنیادوں پر چلنے والے جمہوری نظام میں اب بہت تیزی سے واضح تضاد کا پہلو مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت محض اب ایک سیاسی کھلونا ہے جو ایک خاص مفاد کے لیے اہل سیاست اپنے ذاتی یا کاروباری مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام اپنی افادیت کے باوجود دنیا بھر میں ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے اور بداعتمادی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ جمہوریت کے مقابلے میں کوئی اور نظام چاہتے ہیں بلکہ بڑا مسئلہ لوگ حقیقی، منصفانہ اور شفاف جمہوریت کے نظام کو سیاسی نظام میں بالادست دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ حقیقی جمہوری نظام آہستہ آہستہ محروم اور کمزور طبقات کے مفادات سے دور چلاگیا ہے جو جمہوری ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

جمہوریت کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کرکے دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ اول داخلی جمہوریت اور دوئم خارجی جمہوریت سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ہم جمہوری نظاموں کا بہتر طور پر تجزیہ کرسکتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت سے جڑے مسائل کا تجزیہ کرتے وقت خارجی مسائل پر زیاد ہ ماتم کرتے ہیں جبکہ جمہوریت سے جڑے داخلی مسائل کو نظرانداز کرکے مسئلہ کا درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا کرنا نہیں چاہتے۔

حال ہی میں بھارت کے عام اتخابات ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا اور اس خطہ کہ یہ سب سے بڑے انتخابات ہوتے ہیں اور ان انتخابات کے نتائج اور طرز عمل کا براہ راست اثر ہماری جیسی کمزور جمہوری نظاموں پر بھی پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں اہل دانش کی سطح پر رائج جمہوری نظاموں پر تفصیل کے ساتھ تحقیق اور مباحثہ ہورہا ہے اور ایسے پہلووں کو سامنے لایا جارہا ہے جو جمہوری نظاموں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے یا ان کے بقول جمہوری نظاموں کو کس طرز کے چیلنجز اور خطرات موجود ہیں۔ اگر اس کا ادراک جمہوری نظاموں کو چلانے والوں میں ہیں تو وہ ایسے کیا اقدامات کررہے ہیں جو حقیقی جمہوریت کے عمل کو یقینی اور مضبوط بناسکے۔

حالیہ 2019 کے انتخابات کے حوالے سے دو اہم نکتہ بھارتی انتخابات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ یہ نکتہ محض بھارت کی سیاست تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی جمہوری نظاموں میں یہ مسائل بدستور مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ ان مسائل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول انتخابات میں اٹھنے والے اخراجات جو اربو ں ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ دہلی میں موجود سینٹر فار میڈیا سٹڈیز کے مطابق حالیہ 2019 کے انتخابات میں تقربیا 7 ارب ڈالر کا خرچہ ہوا ہے، جبکہ 2014 میں یہ خرچہ 5 ارب ڈالر اور 2009 میں یہ خرچہ 2 ارب ڈالر تھا۔

اس پر ابزور ریسرچ فاونڈیشن کے رکن نرنجن ساہو کے مطابق ہماری سیاست، جمہوریت اور انتخابات میں ) پلوٹو کریسی یعنی دولت کی طاقت کا رجحان (خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور سیاست سمیت انتخابات میں ہونے والی بے قابو سرمایہ کاری نے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے۔ حالیہ بھارت کے انتخابات میں 543 نشستوں میں سے 475 ارکان ایسے ہیں جو کروڑ اور ارب پتی ہیں جو کہ اس پارلیمنٹ کے 85 فیصد ارکان بنتے ہیں۔ جبکہ 2014 میں ان ارکان کی تعداد 443 تھی جو کہ 82 فیصد تھے اور 2009 میں 315 افراد یا ارکان اس فہرست میں شامل تھے جو کہ 58 فیصد بنتے تھے۔

دوسرا مسئلہ جرائم پیشہ افراد کا بھار ت کی پارلیمنٹ میں موجودگی ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے مطابق اس حالیہ انتخاب میں 40 فیصد افراد ایسے ہیں جو جو مختلف جرائم پیشہ سرگرمیوں میں شامل ہیں مگر پارلیمنٹ کے رکن بھی بنے ہیں۔ یہ 40 فیصد وہ لوگ ہیں جو جیت کر آئے ہیں اور جو ہار گئے ہیں ان کی تعداد الگ ہے۔ ان جرائم میں قتل، ڈکیتی، لوٹ مار، زیادتی سمیت دیگر جرائم سرفہرست ہیں۔ اسی طرح موجودہ 543 کی پارلیمنٹ میں 233 ارکان ایسے ہیں جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔

بھارت کے انتخابی قوانین اس سنگین مسئلہ پر بے بس یا لاچار نظر آتے ہیں۔ ان کے بقول یہ کام محض الیکشن کمیشن نہیں کرسکتا جب تک کہ خود سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ افراد کو ٹکٹ دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ بی جے پی کے 303 ارکان جو جیتے ہیں ان میں سے 116 پر مقدمات ہیں، جبکہ کانگریس کے 52 ارکان میں سے 29 پر مقدمات ہیں۔ صر ف کیرالہ سے جیتنے والے ایک رکن پر 204 مقدمات ہیں۔ جبکہ 26 ارکان ایسے ہیں جو بھارت کی نئی کابینہ کا حصہ ہیں جن پر سنگین مقدمات ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت ایک مخصوص طبقہ کا نام ہے یا اس میں عام افراد کی شرکت محض ووٹ ڈالنے، انتخابی مہم چلانے یا سیاسی کارکن تک خود کو محدود کرنے سے جڑا ہے۔ کیونکہ جب جمہوریت طبقات کے نظام کا حصہ بنے گی تو یہ ایک طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد ہی گھومے گی اور عام آدمی کا استحصال ہوگا۔ یہ دونوں امراض دولت کی بنیاد پر سیاست یا سیاست کو منافع سمجھنا اور جرائم پیشہ افراد کا سیاست پر کنٹرول نے جمہوری نظام کی شکل ہی بگاڑ دی ہے۔

پڑھے لکھے اور قابل یا صلاحیت والے افراد اس جمہوری نظام سے دور ہوتے جارہے ہیں اور ان کے لیے سیاست کے راستے محدود ہوگئے ہیں۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سرمایہ داروں نے عملا سیاست کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ بی جے پی کی کامیابی کی بڑی وجہ دولت کا بے تحاشا استعمال اور بڑے کاروباری طبقات کی حمایت کا ہونا تھا۔ جبکہ اس کے برعکس کانگریس کو بی جے پی پر دولت اور کاروباری طبقات کی وہ حمایت حاصل نہ تھی جو بی جے پی کو ملی۔ اسی طرح سیاسی جماعتیں نامعلوم کاروباری افراد کی مالی امداد پر انحصا ر کرتی ہیں اور کوئی جواب دہی نہیں ہوتی کہ یہ پیسہ کون دے رہا ہے اور کیامفاد ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب سیاست اور جمہوریت بغیر کسی اصلاحات کے آگے بڑھیں گی اور سیاست میں پہلے سے موجود اخلاقی و سیاسی معاملات کو پس پشت ڈالا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں یہ ہی کچھ ہوگا جو ہمیں اس وقت نظر آرہا ہے۔ ان میں ایک مسئلہ میڈیاکا بھی ہے جو لوگوں کو اصل حقایق بتانے کی بجائے ان ہی بڑے طاقت ور طبقات یا کاروباری مفادات کے تحت وہی کچھ دکھاتا ہے جو ان طاقت ور طبقات کے مفاد کے قریب ہوتا ہے۔ لوگوں تک اصل حقایق بہت پیچھے چلے جاتے ہیں اور ایک منفی مہم کی بنیاد کی کسی کی حمایت اور مخالفت کرکے عملا سیاست اور جمہوریت کو کمزور کیا جاتا ہے۔

اگر جنوبی ایشا سمیت اس خطہ کی جمہوریت میں یہ دو بڑے بگاڑ مضبوط ہوگئے ہیں تو ہمار ے جیسے کمزور ملکوں میں جمہوری نظام اور زیادہ بگاڑ کا شکار نظر آئے گا۔ منافع کی بنیاد پر چلنے والی جمہوریت جسے آج کل دنیا میں کارپوریٹ جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے وہ حقیقی جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے نزدیک کارکن کی کوئی بڑی حیثیت نہیں اصل طاقت دولت مند طبقہ ہے جو پارٹی کے لیے اثاثہ اور طاقت بنتے ہیں۔

اب جب ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ سیاست میں اصلاحات لانی ہے اور داخلی جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ کیونکہ جن لوگوں کے پاس اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی قیاد ت ہے و ہ خود ان بڑ ے بڑے کاروباری طبقات کے ہاتھوں سیاسی طو رپر یرغما ل بن گئے ہیں۔ اس لیے بھارت سمیت دنیا بھر کی جمہوری نظاموں کو اپنے داخلی معاملات میں ایک بڑ ی مزاحمت اور مضبوط تبدیلی درکار ہے۔

یہ کام ایک بڑی سیاسی، انتظامی اور قانونی تحریک، سیاسی جدوجہد اور عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ اس حالیہ جمہوریت میں سب سے بڑا استحصال عوام سمیت محروم اور کمزور طبقات کا ہورہا ہے جو سیاسی نظام میں یرغمال ہیں اور ان کو آزاد کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی ترقی اور خوشحالی محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، اس پر سنجیدہ غور فکر اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •