کشمیر: کٹھوعہ ریپ کیس کا فیصلہ، چھ ملزمان کم سن مسلمان لڑکی کے ریپ اور قتل کے مجرم قرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریپ کے خلاف مظاہرے

Getty Images

پٹھان کوٹ میں ایک عدالت نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں ایک مسلم گھرانے کی آٹھ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق افسر سانجھی رام سمیت چھ افراد کو قصوروار ٹھہرایا ہے مگر ان کی سزار کا تعین نہیں کیا ہے۔

تاہم عدالت نے سانجھی رام کے بیٹھے وشال کو بری کردیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق عدالت کی جانب سے اس فیصلے کے نتیجے میں جو حلقے اس معاملے میں انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے انھوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

متاثرہ خاندان کے وکیل طالب حسین نے کہا ہے کہ ‘مجرموں کو سخت ترین سزا دینا اب انڈیا کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ضروری ہے۔’

ریپ اور قتل کی شکار لڑکی کی والدہ نے مجرموں میں سے دو کے لیے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں سانجھی رام اور دیپک کھجوریا شامل ہیں۔

لڑکی کے والدین کی جانب سے مقدمہ لڑنے والے وکیل نے بی بی سی پنجابی سروس کو بتایا کہ ‘یہ فیصلہ آئين کی روح کی جیت ہے۔۔۔ بلا تفریق مذہب و ملت سارے ملک نے اس مقدمے کو لڑا ہے۔’

انھوں نے بی بی سی کی دویہ آریہ کو بتایا ’میری بچی کا چہرہ ابھی تک میری نظروں کے سامنے گھومتا ہے اور وہ درد مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوگا۔ جب میں اس کی عمر کی دوسری لڑکیوں کو آس پاس کھیلتے دیکھتی ہوں تو میرا دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔’

گذشتہ سال اپریل میں جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کٹھوعہ ضلع کے رسانہ گاؤں میں بکروال طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم گھرانے کی آٹھ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں کشمیرکرائم برانچ نے چارج شیٹ داخل کی تو اس کی تفصیلات دیکھ کر پورے انڈیا میں مظاہروں کی لہر چل پڑی۔

ملزمان میں ایک سابق سرکاری عہدیدار، اس کا بیٹا اور ایک پولیس افسر سمیت آٹھ افراد شامل تھے جو سبھی ہندو تھے۔ ملزمان میں ایک نابالغ لڑکا بھی ہے جس کی تفتیش جوینائل کورٹ میں ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کٹھوعہ ریپ کیس کی منتقلی پر حکومت سے جواب طلب

دپیکا سنگھ: ’مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے‘

پٹھان کوٹ

Getty Images
عدالت کے فیصلے سے قبل پٹھان کوٹ کی ضلعی عدالت میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات نظر آئی

اس معاملے پر جہاں ایک طرف انصاف کی مانگ کے حوالے سے آوازیں بلند ہوئیں وہیں جموں میں اُس وقت کی بی جے پی حمایت یافتہ حکومت کے دو وزیروں نے ملزمان کے حق میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا جس کے بعد جموں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔

بی جے پی نے دونوں وزیروں کو وزارتی کونسل سے نکال دیا تاہم اس واقعے کے بعد جموں اور کشمیر کے درمیان فرقہ وارانہ خلیج مزید گہری ہوگئی۔

کیس کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسے پنجاب کی پٹھان کوٹ عدالت میں منتقل کیا گیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر ایک سال کے دوران 114 گواہوں کی شہادت ریکارڈ کی گئی اور تین جون کو سماعت ختم ہونے کے بعد اعلان کیا گیا کہ فیصلہ دس جون کو سنایا جائے گا۔

واضح رہے کرائم برانچ کی چارج شیٹ کے مطابق گذشتہ برس جنوری میں سانجھی رام اور دیپک کھجوریہ نے کٹھوعہ کے رسانہ گاؤں سے مسلم بکروال خاندانوں کو کھدیڑنے کے لیے کم سن بچی کے ریپ اور قتل کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کے مطابق بچی کو اغوا کر کے رسانہ کے ایک چھوٹے مندر کے احاطے میں کئی روز تک نشہ آور گولیاں کھلائی گئیں اور اس کا لگاتار جنسی تشدد کرنے کے بعد اسے نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔

کشمیر میں بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ صحافی سلمان لطیف کہتے ہیں ‘بی جے پی کے جن رہنماؤں نے وزارت کی کرسیوں پر براجمان ہوتے ہوئے مجرموں کے حق میں عوامی ریلیاں نکالیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی، انھیں اس فیصلے کے بعد لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10741 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp