یوراج سنگھ کا عین ورلڈ کپ کے دوران بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوراج سنگھ کو مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گيا تھا

Getty Images
سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں یوراج سنگھ کو مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گيا تھا

انڈیا کے معروف کرکٹر یوراج سنگھ نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

انھوں نے پیر کو ممبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا: ’25 سال تک 22 گز کے درمیان رہنے اور 17 سال تک انٹرنیشنل کرکٹ میں رہنے کے بعد وقت آ گیا ہے کہ میں آگے بڑھوں۔’

انھوں نے کہا کہ اس کھیل نے انھیں لڑنا، گرنا، گرد جھاڑ کر دوبارہ اٹھنا اور آگے بڑھنا سکھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ہندوستان کے لیے 400 میچز کھیلے۔ انھوں نے کہا: ‘میں نے جب پہلا میچ کھیلا تھا اس وقت مجھے یہ خیال بھی نہیں گزار تھا کہ میں اتنے میچز کھیلوں گا۔’

انھوں نے کہا: ‘اس کھیل سے میرا نفرت اور محبت کا رشتہ رہا ہے۔ میں بیان نہیں کرسکتا کہ یہ میرے لیے کیا ہے۔ اس نے مجھے لڑنا سکھایا ہے۔ میں کامیاب ہونے سے زیادہ بار ناکام ہوا لیکن میں نے کبھی ہار نہیں مانی۔’

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب وہ آئی پی ایل میں بھی نظر نہیں آئیں گے لیکن وہ آئی سی سی کی منظور شدہ دوسری ٹی ٹوئٹی لیگ میں شرکت کریں گے۔

37 سالہ کرکٹر نے جس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہا وہ معنی خیز ہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ انڈیا کی ٹیم میں ان کا منتخب نہ ہونا انھیں بہت کھلا ہے۔ بہر حال انھوں نے چار نمبر پر بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی کے لیے کہا کہ انھیں وقت دیا جانا چاہیے۔

یوراج نے اپنی زندگی کو رولر کاسٹر سے تعبیر کیا ہے اور واقعی ان کی زندگی میں نشیب و فراز کسی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ ہی نظر آئے۔ انھیں کینسر ہوا جس کا انھوں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور اسے شکست دینے میں کامیاب رہے۔

انڈر 19 کے ورلڈ کپ میں اپنے کھیل سے انھوں نے لوگوں کو متاثر کیا اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں وہ ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔ اپنے دوسرے ہی میچ میں انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف 84 رنز کی تیز رفتار اننگز سے اپنی اہلیت کو ثابت کیا۔

لیکن انگلینڈ کے 327 رنز کے جواب میں ٹاپ آرڈر کے فلاپ ہونے کے بعد انھوں نے جو 69 رنز کی اہم اننگز کھیلی اس نے انھیں انڈیا میں راتوں رات ہیرو بنا دیا۔

یوراج نے سنہ 2000 میں اپنے ون ڈے کریئر کا آغاز کیا اور انھیں ٹیسٹ ٹیم میں تین سال بعد شامل کیا گیا. انھوں نے محض 40 ٹیسٹ میچوں میں انڈیا کی نمائندگی جہاں ان کی کارکردگی قابل ذکر نہیں۔ 62 اننگز میں 1900 رنزبنائے جن میں تین سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

البتہ وہ ون ڈے میں انڈیا کے مڈل آرڈر میں ایک عرصے تک کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ انھوں نے 304 میچز کی 278 اننگز میں 8701 رنز بنائے جس میں 14 سنچریاں اور 52 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

ہرچند کہ انڈیا میں ریکارڈ کے معاملے میں وہ بہت سے کرکٹرز سے پیچھے نظر آتے ہیں لیکن ان کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں۔ کرکٹ ناقدین کہتے ہیں کہ یوراج کی افادیت ون ڈے ٹیم میں کسی سے بھی زیادہ ہی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک بار وہ آئی پی ایل کی کرکٹ بولی میں سب سے زیادہ قیمت 17 کروڑ روپے میں خریدے گئے تھے۔

یوراج

Reuters
یوراج نے ونڈے اور ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 17 سنچریاں لگائیں

ان کی شاندار فیلڈنگ اور بہ وقت ضرورت بولنگ کرنے کی صلاحیت انھیں باقی کھلاڑیوں سے ممتاز کرتی تھی۔ انھوں نے ون ڈے میں 111 وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔

یوراج سنگھ نے انڈیا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فاتح بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انھیں سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں انڈیا کی جیت کا ہیرو مانا جاتا ہے۔ اس ورلڈ کپ میں 300 سے زیادہ رنز اور 15 وکٹیں لینے کے لیے انھیں مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔

یوراج

Getty Images

یوراج کو بچپن میں کرکٹ نہیں بلکہ سکیٹنگ پسند تھی۔ وہ اپنی خودنوشت ‘دی ٹیسٹ آف مائی لائف’ میں لکھتے ہیں: ‘میں جب 11 سال کا تھا تو میں نے ریاستی انڈر 14 سپیڈ سکیٹنگ میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔ اس پر میرے والد بہت غصہ ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے میڈل چھین کر دور پھینک دیا اور کہا کہ یہ لڑکیوں کا کھیل کھیلنا بند کرو۔’

یوگ راج خود کرکٹر تھے اور بیٹے کو کرکٹر بنانا چاہتے تھے اور ان کی خواہش اور یوراج کی لگن نے ایک عظیم کرکٹر کو جنم دیا جسے لوگ اس کے فلیم بوائنس اور انگلینڈ کے بولر سٹوارٹ براڈ کی چھ گیندوں پر چھ چھکے لگانے کے لیے ایک مدت تک یاد رکھیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp