ایک لڑکے کی کربناک الجھن

وہ گھر سے بھاگ گیا تھا۔ اس کے والد صاحب نے فیس بک پہ اشتہار لگایا کہ میرا بیٹا شاہزیب گھر سے غائب ہے۔ میرے دوست احباب اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ شاہزیب کے والد کا شمار میرے بہترین دوستوں میں ہوتا ہے۔ اشتہار دیکھ کر میں بہت حیران ہوا۔ چودہ پندرہ سال کا کھلتے گلابوں جیسا پیارا سا نوعمر شاہزیب جس نے ابھی ابھی میٹرک کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں انتہائی قابل ستائش کارکردگی دکھا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

گھر سے کیسے بھاگ سکتا ہے۔ وہ تو بہت سلجھا ہوا اور نیک سیرت لڑکا تھا۔ پھر یہ کیا ہوا۔ فیس بک پہ شاہزیب کی گمشدگی کی خبر میرے لیے ایک بہت بری خبر تھی۔ میرے دل میں عجیب عجیب وسوسے سر نکالنے لگے۔ کسی نے شاہزیب کو اغواہ کر لیا۔ مگر کوئی اس کو اغواہ کیسے کرے گا۔ وہ تو ایک متوسط گھرانے کا چشم و چراغ تھا اور ا س کے والد کی کسی سے کوئی دشمنی بھی نہ تھی اس کے والد انتہائی نیک نمازی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے۔

شاہزیب کو بلا وجہ گلیوں بازاروں شاپنگ سنٹروں میں جانے اور گھومنے پھرنے کا بھی شوق نہ تھا کہ وہاں سے اسے کوئی ورغلاء پھسلاء کر کہیں لے گیا ہو۔ پھر شاہزیب کدھر گیا؟ ہوسکتا ہے وہ گھر سے بھاگ گیا ہو۔ مگر اس کے دوست اس کا حلقہ ء احباب ایسا ہرگز نہیں تھا جس کا اثر لے کر وہ گھر سے بھاگ گیا ہو۔ شاہزیب بہت اچھا لڑکا تھا۔ جب بھی مجھے ملتا ادب سے رک کر سلام کرتا۔ وہ مجھے چاچو کہا کرتا تھا۔ میں ہمیشہ اسے دیکھ کر مل کر بہت خوش ہوتا کیوں کہ اس کا دلکش انداز گفتگو اور مسکراتا ہوا چہرہ یہ قدرت کے انمول تحائف اس کی شخصیت کا حصہ تھے۔

میں نے جب بھی اسے دیکھا یا جب بھی وہ مجھے ملا میں نے ہر بار اس کے ہونٹوں پہ ہلکا ہلکا تبسم دیکھا۔ وہ مجھے کہا کرتا تھا۔ ”چاچو میں بھی آپ کے افسانے اشعار آرٹیکل اور اقوال پڑھتا رہتا ہوں۔ یہ سب آپ خود لکھتے ہیں یا کتابوں سے پڑھ کر آگے فیس بک پہ لگاتے ہیں“ تو میں مسکرا دیتا اور کہتا بیٹا اپنے آس پاس بکھری کہانیوں کو محسوس کر نا سیکھو۔ معاشرے میں انسان ہی انسان کو زہریلے سانپوں کر طرح ڈسنے میں لگا ہوا ہے۔

کہیں باپ کو بچوں کی پرواہ نہیں تو کہیں بچے باپ کے فرمانبردار نہیں، کہیں مائیں اپنے معاشقوں کی خاطر اپنے ہی بچوں کے گلے دبا کر مار رہی ہیں تو کہیں باپ گندی عورتوں کے عشق میں مبتلاء ہو کر کلہاڑیوں کے وار کرکے اور زہر دے کر اپنے معصوم بچوں کی جان لے رہے ہیں۔ کہیں بھوک اور غربت نے انسان کو وحشی بنا دیا ہے تو کہیں بے جا دولت کے نشئے نے انسان سے انسانیت چھین کر اسے درندہ بنا دیا ہے۔ کہیں رؤسا کی بیٹیاں لاکھ لاکھ روپے کی چپل پہنتی ہیں تو کہیں جہیز نہ ملنے کی وجہ سے غریبوں کی بچیاں بن بیاہی گھروں میں بیٹھی ہیں یا خودکشیاں کر رہی ہیں۔

کہیں بچے اساتذہ کو قتل کر رہے ہیں تو کہیں استاد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ کہیں انسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے انسانوں کے لیے علاج معلالجے کی بہتر سہولیات میسر نہیں تو کہیں گھوڑوں پالتو کتوں کو بیرون ملک سے خوراک پانی ادویات منگوا کر کھلائی پلائی جا رہی ہیں۔ کہیں پیٹ درد اور سر درد کی گولی لینے لوگ امریکہ برطانیہ دبئی جا رہے ہیں تو کہیں مائیں سڑکوں چوراہوں رکشوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔

بیٹا انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں اس قدر گر جاتے ہیں کہ انسان پہ انسانیت شرمانے لگتی ہے۔ بیٹا کہانی افسانہ یا آرٹیکل لکھنے کے لیے دور جنگلوں میں نہیں جانا پڑتا اور نہ ہی کتابوں سے تحاریر چوری کرنی پڑتی ہیں۔ ہمارے آس پاس سینکڑوں کہانیاں افسانے گھوم پھر رہے ہیں بس ضروت انھیں سمجھنے محسوس کرنے اور الفاظ کا لباس پہنانے کی ہے۔ دوسروں کی تکالیف کو محسوس کر نا اور لوگوں کے درد بانٹنا سیکھو۔

آپ کو بھی یہ سب لکھنا آجائے گا۔ شاہزیب میری باتوں کو بڑے انہماک سے سنتا اور مجھے یقین دلاتا کہ چاچو میں آپ کی باتوں پہ ہمیشہ عمل کروں گا۔ مجھے کیا پتہ تھا شاہزیب کی تو اپنی زندگی ایک ایسی چھپی ہوئی کربناک داستان ہے جسے میں اس کی آنکھوں اور بناوٹی مسکراہٹ میں دیکھ ہی نہیں پا رہا۔ وہ مجھے کہا کرتا تھا چاچو آپ سے بات کر کے مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن آپ جب بھی ملتے ہیں ڈیوٹی پر ہی ہوتے ہیں اس لیے میں زیادہ دیر آپ کے پاس نہیں بیٹھ سکتا اور میری باتیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

میں اسے کہا کرتا تھا شاہزیب بیٹا آپ کے ابو مجھ سے بھی زیادہ صاحب علم اور شفیق انسان ہیں ان کے پاس بیٹھا کرو۔ اپنی ہر بات اپنے والد سے کیا کرو بیٹا۔ تو وہ ہر بار میری اس بات کو جانے کیوں ٹال جایا کرتا۔ جب اس نے گیارہویں جماعت میں بھی بہت اچھے نمبر لیے تو میرے پاس آیا بڑی خوشی سے اپنا رزلٹ بتا یا اور کہنے لگا چاچو میں اپنے ابا کی طرح سپاہی کی نوکر ی نہیں کروں گا۔ بلکہ ایس پی صاحب اور ڈی آئی جی صاحب کی طرح بہت بڑا افسر بنوں گا۔

تو میں کہتا بیٹا شاہزیب یہ آپ کے لیے مشکل نہیں ہے آپ بہت اچھا پڑھتے ہو اور خبردار اگر نوکری کے لیے پڑھا تو۔ بیٹا اچھا انسان بننے کے لیے علم حاصل کرو۔ نوکر ی تو آپ جیسے قابل بچے کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں تو وہ ہنسنے لگتا اور کہتا پھر بھی چاچو جی میرا خواب ہے کہ میں بہت بڑا افسر بنوں۔ مجھے بھی علم تھا کہ اچھی اور بڑی نوکری ہم جیسے غریب لوگوں کے بچوں کا بہت بڑا خواب ہوا کرتی ہے۔ مگر میں اس کی قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے نوکری تک محدود ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس لیے میں اسے کہتا بیٹا اس طرح محنت شوق او ر مستعدی سے پڑھائی جاری رکھو انشاءاللہ آپ بہت اچھے اور بہت بڑے انسان بنو گے تو وہ کہتا چاچو آپ بس دیکھتے جاؤ۔

کچھ دن کی محنت اور پریشانی کے بعد شاہزیب مل گیا تھا اس کے ابا اسے گھر لے آئے تھے۔ شاہزیب گھر آگیا تھا۔ میں نے شاہزیب کے والد کو کہا دیکھو جو ہوا سو ہوا اب اسے اس طرح مت ڈانٹنا کہ وہ باغی ہوجائے۔ اصلاحی ڈانٹ ہونی چاہیے۔ وقت گزرتا رہا میں نے بہت کوشش کی کہ شاہزیب گھر سے بھاگ جانے کی وجہ مجھے بتائے۔ بارہا میں نے جاننے کی کوشش کی مگر اس کے گھر سے بھاگ جانے کا معمہ حل نہ ہو سکا۔ بس ہر بار اس نے اتنا ہی کہا چھوڑیں چاچو بس غلطی ہوگئی۔ اب ایسا نہیں کروں گا۔ مجھے تو اس نے تسلی دے کر ٹال دیا لیکن اب وہ ہمیشہ سہما سہما رہنے لگا اکثر میرے پاس سے مجھے نظر انداز کر کے گزر جاتا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

مجھے لگا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جانے کی وجہ سے شرمندہ ہے اس لیے میرا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے بھی اسے کبھی روک کر نہ پوچھا کہ وہ مجھ سے گریزاں کیوں ہے۔ بدقسمتی سے میں نے بھی اس کے دکھ تکلیف اور پریشانی کو سمجھنے کو کوشش ہی نہ کی۔ شاہزیب مجھ سے مانوس تھا مگر میں بے حس انسان نکلا۔ میں اس کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار شخصیت کو سہارا نہ دے دے سکا۔ اب شاہزیب کبھی میرے پاس نہیں آتا تھا۔ شاہزیب کے ابا سے اکثر اس کی تعلیم کے بارے بات ہوتی رہتی تھی وہ بڑے مطمعن تھے۔ ۔ ۔

گیارہویں جماعت میں ساڑھے چار سو سے زیادہ نمبر لینے والا شاہزیب بارہویں کے امتحانا ت سے فارغ ہوا اور پریکٹیکل کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ کہ اچانک ایک خبر نے تو میری جان ہی نکال دی۔ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت منجمد ہوچکی تھی۔ میں ساکت کھڑا اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہا تھا جس نے مجھے یہ قیامت سے پہلے قیامت کی خبر دی۔ میں بھاگ کر شاہزیب کے گھر پہنچا کچھ لوگ اس کے گھر کے دروازے میں کھڑے چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔

کوئی کہہ رہا تھا کہ ابھی زندہ تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا نہیں نہیں جب اس کی پنکھے سے لٹکتی باڈی کو نیچے اتارا گیا تو وہ مر چکا تھا۔ میں کسی سے کیا پوچھتا مجھے لگا کسی نے میرے حلق میں ہاتھ ڈال کر میرا کلیچہ نوچ نکالا ہو۔ شاہزیب میرا بیٹا تو نہیں تھا لیکن میرے بیٹے سے کم بھی نہیں تھا۔ میں اس کمرے کے سامنے کھڑا تھا جس کی چھت والے پنکھے سے ایک مضبوط رسہ لٹک رہا تھا۔ شاید رسہ کاٹ کر اس کی لاش کو اتارا گیا تھا۔

شاہزیب نے خودکشی کر لی تھی۔ یہ معاشرہ بنا ماں کے ہونہار شریف النفس بچے کے جذبات کو سمجھ ہی نہ سکا۔ شاہزیب کے دل میں کیا تھا کوئی نہ جان سکا۔ پندرہ سولہ سال کا سہما سہما رہنے والا چھوئی موئی کے پھول جیسا شاہزیب اپنے دوستوں اپنے باپ اور میرے جیسے جانے کتنے چاچوؤں کو داغ مفارقت دے کر جا چکا تھا۔ جس کے لیے شاید یہ دنیا جہنم تھی۔ شاہزیب فرشتوں کی دنیا میں جب کسی انسان کو نہ ڈھونڈ سکا تو اس پروردگار کے پاس چلا گیا جو اپنی مخلوق کے ساتھ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اور جس کی صفت ہے بخش دینا۔

میں زندگی میں کبھی بھی کسی خودکشی کرنے والے کے جنازے میں شریک نہیں ہوا مگر شاہزیب کی خودکشی مجھے کسی طور بھی خودکشی نہ لگی بلکہ چودہ پندرہ سال کے معصوم سے ہونہار فرمانبردار اور انتہائی قابل بچے شاہزیب کا گلے میں رسہ ڈال کر لٹک جانا اس معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس دن شاہزیب نے خودکشی کی اس کے ٹھیک دو دن بعد عیدالفطر تھی اور عید پہ شاہزیب کی عمر کے بچوں کو تو اپنی عید کے کپڑے جوتے خرید نے سے فرصت نہیں ہوا کرتی مگر شاہزیب نے اپنی عید کی خرید داری کرنے بجائے عیدی کے طور پہ ملنے والے پیسوں سے اپنے گلے میں ڈالنے کے لیے وہ رسہ خرید ا جس کا پھند ا بنا کر وہ پنکھے سے جھول گیا۔

اٹھائیسویں روزے جب وہ اپنے عیدی کے پیسوں سے اپنے لیے پھندا خرید رہا ہوگا تو جانے اس کے معصوم سے دل پہ کیا گزر رہی ہوگی۔ وہ اپنے آس پاس عید کی خریداری میں مصروف لوگوں کو کس نظر سے دیکھ رہا ہوگا۔ شاید وہ سوچ رہا ہو کہ کوئی اسے ایسا کرنے سے اسے روک لے۔ شاید وہ سوچ رہا ہو کہ انسانوں کے جم غفیر میں کوئی ایک ایسا انسان اسے مل جائے جو اس کے مسائل اس کی پریشانیوں کو سمجھ سکے۔ شاہزیب کی معصوم معصوم خواہشوں کو سمجھنے اور پورا کرنے والا کوئی بھی مسیحا اسے نہ مل سکا۔

شاہزیب کی موت پہ ہر آنکھ اشک بار تھی پورا محلہ پریشان تھا مگر کفن میں لپٹا شاہزیب تو مجھے بالکل ہی مطمعن لگ رہا تھا۔ مجھے آج بھی کفن پہن کر لیٹے شاہزیب کے ہونٹو ں پہ ہوبہو وہ ہی سہمی سہمی ہلکی ہلکی مسکان چھلکتی اور انسانیت کا منہ چڑا رہی نظر آرہی تھی۔ مجھے چاچو کہنے والا شاہزیب چپ چاپ لیٹا ہوا تھا۔ کاش وہ ایک بار ہی بتا دیتا کہ کون سی ایسی پریشانی تھی جو اس کے دل و دماغ اور خون میں سرائیت کر گئی تھی۔ کون سی محرومی تھی جو اس کی جان ہی لے گئی۔ کاش میں جان پاتا۔ کاش شاہزیب خودکشی نہ کرتا۔