مجھے اپنی محبوبہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایشا سے میری پہلی ملاقات میرئیٹ میں ہوئی تھی۔ وہ ایک این جی او کی سرگرم رکن تھی۔ یہ تنظیم آبادی کنٹرول اور سیف ابارشن پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ اس شام اسی تنظیم کا میں مہمان خصوصی تھا۔ درا صل چند دن پہلے اسی تنظیم کے ایک ذیلی دفتر کو جس ٹیم نے سیل کیا تھا، میں اس کا ممبر تھا۔ اس دفتر میں غیر قانونی اسقاط حمل ہونے کی رپورٹ تھی، اور ایک مذہبی تنظیم اس کی شکایت کنندہ تھی۔ میرا یہ شعبہ نہیں تھا کہ ان دنوں میری ڈیوٹی پوسٹ مارٹم وغیرہ جیسے ناپسندیدہ کاموں پر لگی ہوئی تھی، لیکن متعلقہ افسر چھٹی پر ہونے کی وجہ سے مجھے اس ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔

ایشا ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ پہلی ہی ملاقات میں مجھے اچھی لگی تھی۔ فروٹ چاٹ کی پلیٹ سامنے رکھے، وہ کھا کم اور باتیں زیادہ کر رہی تھی۔ اس کاموضوع وہ دائیاں اور ان ٹرینڈ ہیلتھ ورکرز تھیں، جو خفیہ طور پر ان عورتوں کے حمل ضائع کرتی تھیں جو بدنامی کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتی تھیں۔ ایسے اسقاط اکثر اوقات عورت کی موت کا باعث بنتے تھے، کیونکہ وہ باقاعدہ جراثیم سے پاک اپریشن تھیٹر کی بجائے چارپائی پر لٹا کر اور گندے اوزاروں سے کیے جاتے تھے۔ وہ کہ رہی تھی کہ ہماری تنظیم اس طرح کی اموات کو روکنے کے لئے ایسی لڑکیوں کو صاف ستھرے اپریشن تھیٹر اور ٹرینڈ سٹاف مفت مہیا کرتی ہے، بھلے وہ حمل گناہ کا نتیجہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارا مقصد اس طرح کی اموات کو روکنا یا کم کرنا ہوتا ہے۔

میں اس کی باتوں سے زیادہ اس کے حسن سے متاثر تھا۔ اس کی جھیل سی کنول آنکھوں کی گہرائی ناپ رہا تھا۔ اس کی پلکوں کا سایہ دیکھ رہا تھا جو اس کی شفاف چمکیلی آنکھوں پر پڑ رہا تھا۔ اس کے رخساروں کی سرخی، اس کی پتلی ناک اور ذرا لمبے بیضوی چہرے کے نقش و نگار میں کھویا ہوا تھا۔ اس کی خوبصورت صراحی دار گردن کو تک رہا تھا۔ وہ ازبک تھی یا اس کی ماں کوہ قاف سے آئی پری تھی۔ میری محویت کو توڑتے ہوئے، وہ اچانک بولی ”آپ کے لئے کچھ لاوں، آپ کچھ کھا نہیں رہے۔ چلیں میں آپ کے لئے کافی بناتی ہوں۔

میرا جواب سنے بغیر اس نے ویٹر کو کافی ڈالنے کا کہ دیا۔ مجھ سے پوچھے بغیر اس نے چینی کا ایک گول ساشے کھول کر پیالی میں ڈال دیا۔ میں ابھی بھی اس کی لمبی مخروطی انگلیوں میں کھویا ہوا تھا۔ اس نے ہیرے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ سنہری بریسلیٹ جو اس کی کلائی سے تھوڑا سائیز میں بڑا تھا، ہتھیلی کی پشت تک آ گیا تھا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا ”تمہارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں“۔ میری تعریف پر وہ چونکی۔

” تو کیا صرف میرے ہاتھ خوبصورت ہیں“؟ ”نہیں تم مجسّم حسن ہو، ایک شعر نہیں پوری غزل ہو، وہ بھی میر کی۔ تم بہار کے سرسبز پتوں سے بھرا جوانی کا وہ پودا ہو جو اپنی شادابی میں اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مایوس و نامراد چہروں پر رونق بکھیر دیتا ہے“۔ وہ مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ نے اس کے رخسار پر ہلکا سا گڑھا ڈال دیا، میں اس گڑھے میں ڈوبنا چاہتا تھا، اس کے سرخ گلاب ہونٹوں کو چومنا چاہتا تھا، اس کے مرمریں ہاتھ تھامنا چاہتا تھا۔

” تم شاعری اچھی کر لیتے ہو۔ “ ”نہیں ایشا، میں شاعر نہیں مگر تم سامنے رہو تو بن سکتا ہوں“۔ وہ ہنسی، اس کی کھلکھلاہٹ ایک استعارہ تھا، مثبت اشارہ تھا۔ اس کے بعد کافی دیر وہ اپنی این جی او کی باتیں کرتی رہی۔ اپنے بارے میں اس نے کوئی لفظ نہیں بولا صرف سوالیہ نشان لگایا۔ آپ سے ویک اینڈ پہ یہیں چائے پر ملاقات ہو گی۔ اس نے بے باکی سے جاتے ہوئے شیک ہینڈ کیا۔ اس کے ہاتھ کا لمس آج بھی میرے جذبوں کو تازگی دیتا ہے۔ خوشبو دور ہوتی گئی، کافی دور تک میں اس خوشبو کو فالو کرتا رہا۔

اس نے گاڑی ایمبیسیڈر انکلیو کی طرف موڑ لی تھی۔ پتہ اس وقت چلا جب گاڑی لمحے بھر کے لئے گیٹ پر رکی۔ گارڈ نے اسے سلام کیا اور دروازہ کھل گیا۔ ایک بار میں رشیا کی ایمبیسی میں ویزا انٹرویو دینے گیا تھا۔ انکلیو کے گیٹ سے پیچھے ہی گاڑی کھڑی کرکے ایک قطار میں لگنا پڑا، جامہ تلاشی اور ذاتی سامان جمع کروا کر پیدل گیٹ کے دوسری طرف جانے دیا گیا تھا، لیکن ایشا کو تو گارڈ نے سلام بھی کیا تھا، یقیناًوہ ایک با اثر لڑکی تھی۔

ایشا کی گاڑی ایک بنگلے کی پارکنگ میں رکی، جہاں پہلے ہی بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ہم سیڑھیاں اتر کر ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے۔ وہ ایک بے نام ریسٹورنٹ یا کلب کا ہال تھا جس کے ڈانسنگ فلور پر ہلکی نیلی روشنی میں کئی جوڑے متحرک تھے۔ ایشا نے کچھ سنیکس کا آرڈر دیا تھا اور سرخ مشروب۔ کہنے لگی ”میں سرخ پیتی ہوں تم شئیر کرو ٹھیک، نہیں تو کوئی اور منگا لو“۔ مجھے گرم مشروبات کے نام نہیں آتے، اور میں ریگولر پیتا بھی نہیں لیکن میں اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، یہ نہیں ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں پینڈو ہوں۔

مجھے ڈانس نہیں کرنا آتا۔ وہ مجھے فلور پر لے گئی، میں ڈانس فلور پر اس کی پتلی کمر کو چھونے آیا تھا۔ اس کی پتلی لمبی کمر کے اوپر چھاتی کے چست نشیب و فراز میں کھونے آیا تھا۔ اس کے جسم کی بھینی بھینی خوشبو میں مدہوش ہونے آیا تھا۔ کئی بار میرا پاوں اناڑی پن میں اس کے پاوں کے اوپر آیا مگر اس نے برا نہیں منایا۔ وہ دل کی بھی خوبصورت تھی۔ اس نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں ویل مینرڈ نہیں ہوں۔ اس کلب میں اس کے اور بھی کئی دوست تھے۔

اسے جو بھی آفر کرتا، اس کے ساتھ ڈانس فلور پر چلی جاتی۔ وہ کسی وفاقی سیکریٹری کی بیٹی تھی اور میرا بیک گراونڈ دیہاتی۔ اس کے ساتھ میری کئی خوبصورت شامیں اسی طرح گزر گئیں۔ یہ شامیں اس کی مرضی سے طے ہوئی تھیں، پھر وہ کہیں غائب ہو گئی۔ دراصل میں اسے شادی کی آفر کر بیٹھا تھا۔ میں نے یہ جوا کھیلا تھا اور میں اس ہی ہار بیٹھاتھا۔ اس کے گھر کا مجھے کچھ علم نہ تھا، نہ ہی میں نے کھوجنے کی کوشش کی۔ یوں ان تمام حسرتوں کے غنچے بن کھلے مرجھا گئے۔ وہ تازہ ہوا کا جھونکا تھی، جو آئی اور چلی گئی۔ ویرانی بدستور میرا مقدر رہی۔ وہ ملاقاتیں میرے خوابوں کا مقدّر ٹھریں۔ اور ان کو کبھی تعبیر نہ مل سکی۔

وہ دن میری زندگی کا بدترین دن تھا۔ میں اپنی پروفیشنل زندگی سے پہلے ہی تنگ تھا۔ میں نے میڈیکل کی تعلیم بیمار لوگوں کے علاج کے لئے حاصل کی تھی، یہاں مجھے روز پوسٹ مارٹم کرنے پڑتے تھے۔ میرے تو خوابوں میں بھی ڈیڈ باڈیز اور مُردوں کا راج تھا۔ وہی خون میں لت پت مردے اور بے گوروکفن سٹریچر پر پڑی لاشیں اور ان کی چیر پھاڑ، پھر ان کی گواہی کے لئے عدالتوں کے دھکّے اور وکیلوں کی بک بک۔ اس دن میں ڈیوٹی پر پہنچا تو دو ڈیڈ باڈیاں اور پولیس میری منتظر تھیں۔

میں نے پولیس کاغذات لئے اور سرسری طور پر پڑھے بھی۔ ایک لڑکی اور لڑکا ایک گھر کے گیراج میں کھڑی گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ میں اپنی سٹاف نرسوں کے ہمراہ مارچری (پوسٹ مارٹم کا کمرہ) میں داخل ہوا تو میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی، میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ میری ٹانگیں کپکپا گئیں۔ میں زبان سے کچھ بولنا چاہ رہا تھا بول نہیں پایا، کہ میرا گلا خشک ہو چکا تھا۔ پانی کا گلاس پینے کے بعد میری طبیعت ذرا سنبھلی تو میری آنکھوں نے وہ ناقابل یقین منظر دیکھا۔

میرے سامنے سٹریچر پر ایشا کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ میں نے ہاتھ لگا کر اسے چھوا اس کا جسم ابھی گرم تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہ جھیل جس میں کنول آنکھیں تیرا کرتی تھیں خشک ہو چکی تھی۔ وہ جب خاموش ہوا کرتی، اس کی آنکھیں باتیں کیا کرتی تھیں۔ آج وہ آنکھیں خاموش تھیں۔ سٹاف نے اس کی قمیص اور شلوار کاٹ کر اتار دی تھی کہ پوسٹ مارٹم کے لئے باڈی کا نیکڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ میرا دل چاہا میں پوسٹ مارٹم کرنے والا چاقو اپنے سینے میں اتار لوں یا اس لڑکے کے سینے میں اتار دوں جس نے میری زندگی مجھ سے چھینی تھی اور اس معصوم کو ورغلایا تھا، مگر اس کی تو لاش میرے سامنے پڑی تھی، فریاد کناں، بے حس و حرکت، ہر طرح کی تکلیف سے آزاد۔ نفرت پورے زور وشور سے میرے وجود میں بھر گئی، بڑی مشکل سے میں واپس اپنے پروفیشنل موڈ میں آ سکا۔

ایشا کے ہونٹ سرخی مائل نیلگوں تھے اور منہ تھوڑا سا کھلا ہوا۔ کبھی میں ان ہونٹوں کو چومنے کی شدید خواہش کیا کرتا تھا، وہ تو آج بھی تروتازہ تھے مگر روح سے عاری۔ اس کی گردن اور چھاتی پر چیری ریڈ کلر کے داغ پڑ گئے تھے، یوں لگتا تھا جیسے کسی نے گورے سفید جسم پر چھوٹے چھوٹے پھول بنائے ہوں۔ ایک بار پھر میری نظر اس کی آنکھوں کی طرف گئی، مجھے لگا جیسے وہ کہ رہی ہو، کہ وہ بے گناہ ہے، اس نے کوئی پاپ نہیں کیا۔ مجھے بھی اس کی معصومیت پر کوئی شک نہیں تھا، میں اپنا یقین توڑنا ہی نہیں چاہتا تھامیں مزید سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا، اس سے زیادہ کھوجنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ میرے ذہن پر اس کا جو نقش تھا، مٹانا ہی نہ چاہتا تھا۔ اس کی خوبصورت تصویر پر خون کے دھبے ڈالنا ہی نہیں چاہتا تھا۔

میں اس کا پوسٹ مارٹم، اس کی چیر پھاڑ نہیں کر سکا۔ میں نے اس کی آنکھیں بند کرکے سٹاف کو اس کے جسم پر چادر ڈالنے کو کہا اور مارچری سے باہر آگیا۔ اس کی موت کاربن مونو اکسائیڈ پوائزن سے ہوئی تھی اور وہ حادثاتی موت تھی۔

وہ آخری پوسٹ مارٹم رپورٹ تھی جو میں نے لکھی۔ اگلے ہی دن میں نے نوکری سے استعفٰے دے دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •