ہوائی سفر: ہر سال 25 ملین بیگ کیوں گم ہو جاتے ہیں؟

کرِس برانیوک - ٹِکنالوجی آف بِزنس رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سامان گم جانے کے بعد

Getty Images
وہ تکلیف دہ لمحہ جب ایئرپورٹ پر آپ کو پتا چلے کہ آپ کا سامان گم ہوگیا ہے

ایئرلائن انڈسٹری کا دعوٰی ہے کہ ہمارے سامان کو بحفاظت منزل تک پہنچانے کے معاملے میں اس کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے اور کسی حد تک اس کی وجہ بہتر ٹریکِنگ ٹیکنالوجی یعنی سامان کے نقل و حمل کی نگرانی کرنے والا نظام ہے۔

اس کے باوجود ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بیگ دوران سفر گم ہو جاتے ہیں۔

اس وقت بڑی کوفت ہوتی ہے جب تمام مسافر کیروسل پر سے اپنا سامان اتار کر اپنی راہ لیتے ہیں اور آپ اپنے بیگ کے انتظار میں کنویئر بیلٹ پر نظریں جمائے بے چینی سے اپنا وزن کبھی ایک اور کبھی دوسری ٹانگ پر ڈالتے ہیں۔

کیروسل ہچکی لے کر بند ہوجاتا ہے مگر آپ کے سوٹ کیس کا دور دور تک پتا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

برٹش ایئرویز: سات دنوں کا سفر سات گھنٹوں میں کیسے سمٹا؟

ہوائی سفر کرنے کے خوف سے کیسے نمٹا جائے؟

جہاز پر سیٹ تبدیل کرنے کا راز کیا ہے؟

کیا یہ دنیا کا خوبصورت ترین ہوائی اڈا ہے؟

آپ تنہا نہیں، ہوائی سفر کرنے والے ہزاروں افراد ہر سال اس تجربے سے دو چار ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہوائی سفر کی صنعت جو ہر طرح کی جدید سہولیات اور آلات سے لیس ہے ہمارے سامان کی حفاظت کے معاملے میں اتنی پسماندہ کیوں ہے؟

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتری آئی ہے۔

سیٹا (ایس آئی ٹی اے) کا، جو ایئر انڈسٹری کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور عالمی سطح پر سامان کی نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی بڑی کمپنی ہے، کہنا ہے کہ 2007 میں 46.9 ملین بیگ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے تھے۔ مگر 2018 میں یہ تعداد گھٹ کر 24.8 ملین ہوگئی تھی۔

اس عرصے میں ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد دگنی رہی۔

سیٹا کا کہنا ہے کہ ٹریکنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سود مند رہی ہے۔

مثلاً امریکی ایئرلائن ڈیلٹا نے بار کوڈ کے ساتھ ایک آر ایف آئی ڈی (ریڈیو فریکوینسی آئیڈنٹی فیکیشن) ٹیگ لگایا ہے جو بیگ کے ہینڈل کے گرد لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ بیگ جہاں جہاں سے گزرتا ہے خود کار طور پر سکین ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس طرح سینٹرل مانٹرینگ سِسٹم میں بھٹکے ہوئے بیگ کو آسانی سے شناخت کر لیتا ہے۔

ڈیلٹا سے وابستہ گیرتھ جوئس کے بقول ‘آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم جو ہر سال 150 ملین بیگ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک پر ایک ٹیگ لگا ہوتا ہے۔’

ڈیلٹا کا دعوٰی ہے کہ وہ اب 99.9 فی صد مسافروں کے سامان کو بالکل صحیح منزل پر پہنچاتے ہیں۔ دوسری ہوائی کمپنیاں بھی آر ایف آئی ڈی نظام اپنا رہی ہیں۔

مگر سالانہ 4.3 بلین بیگز میں سے 25 ملین اب بھی اپنے مالکوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

بیگیج ہینڈلر

Reuters
ایئر پورٹ پر سامان کو مطلوبہ جہاز تک لانے لے جانے والے ایئر لائن کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور دوسری کمپنیوں کے ملازم بھی

سیٹا کا کہنا ہے کہ گم ہونے والے بیگز کی آدھی تعداد پروازیں بدلنے کے دوران بھٹک جاتی ہے۔ اس طرح جب پرواز تاخیر کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر بھی ایک سے دوسری پرواز پر پڑتا ہے اور آپ کا سامان اگلی پرواز تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ پھر بعض اوقات مسافروں یا سامان اٹھانے والوں کی جلدی یا لاپرواہی کی وجہ سے بھی کہیں کے بیگ کہیں پہنچ جاتے ہیں۔

ایک اور سبب ’ہنڈلنگ سسٹم‘ کا پیچیدہ ہونا بھی ہے۔ بعض ہوائی اڈوں پر تو ایئرلائن کے اپنے ملازمین ہی سامان کو صحیح مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ بہت سے ایئرپورٹس پر اس کام کا ٹھیکہ ایسی کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے جن کا ایئرلائن سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے 1989 میں مسافروں کے ساز و سامان سے متعلق معیاری کوڈنگ متعارف کروائی تھی۔ جبکہ بار کوڈ 1950 سے مروج ہے۔ لیکن بعض چھوٹے ایئرپورٹس پر یہ لیبل بھی میسر نہیں۔

مثلاً ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی زیبرا کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں یونان کے چودہ ہوائی اڈوں کو 230 موبائل کمپیوٹر دیے ہیں تاکہ وہ لیبل پر موجود بار کوڈ کو پڑھ سکیں۔

زیبرا کے ڈین پورٹر کہتے ہیں کہ پہلے یہ سارا کام کاغذ اور پینسل سے لیا جاتا تھا۔

نظام کو بدلنے کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس انٹرنیشنل ایئر ٹریول ایسوسی ایشن نے ایک نیا ضابطہ متعارف کروایا جس کی رو سے فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کو سامان کی مزید بہتر نقل و حمل کا پابند کیا گیا۔ یعنی بیگز کی ترسیل کے ہر مرحلے پر تصدیق کی جائے گی۔ یعنی ایئرپورٹ سے جہاز اور جہاز سے ایئرپورٹ کے تبادلے کے دوران سامان کو چیک کیا جائے گا۔

اسی طرح مئی میں آر ایف آئی ڈی کو ہوائی صنعت میں ہر جگہ متعارف کروانے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی ہے جس سے تین بلین ڈالر کی بچت ہوگی۔

لاوارث بیگیج

Getty Images
بعض اوقات سامان اس لیے لاوارث ہو جاتا ہے کہ مسافر غلطی سے کسی اور کا بیگ اٹھا لیتے ہیں

ڈیلٹا ایسی مشینوں کی آزمائش کر رہی ہے جو گمشدہ بیگز کو ڈھونڈنے میں مدد دے سکیں اور ان مقامات اور وجوہ کا پتا چلائیں جن کی وجہ سے بیگز راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسی ایپس بھی متعارف کروائی جا رہی ہیں جو مسافروں کو ان کے سامان کے مقام کے بارے میں بروقت آگاہ کریں گے۔

سامان کے گم ہو جانے کی زیادہ شکایات یورپ میں پائی جاتی ہیں جو ہر ایک ہزار بیگز میں سے 7.29 ہے جبکہ ایشیا اور شمالی امریکہ میں اس کا تناسب 1.77 ہے۔

ویسے آپ جی پی ایس یا موبائل نیٹ ورک ٹیگ کے ذریعے بھی اپنے بیگ کے حدود اربع پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ آپ اپنے بیگ میں یہ ڈوائس ڈال دیں اور یہ دنیا میں کہیں سے بھی اپنے مقام کے بارے میں آپ کے سمارٹ فون پر معلومات فراہم کرے گا۔ چند مشہور ڈوائسز میں ‘لگ لاک’، ‘ٹریک ڈاٹ’، ‘ٹائل’ اور ‘سمارٹ یونٹ’ شامل ہیں۔

لاوارث بیگیج

Getty Images
ہر سال ہزاروں کی تعداد میں بیگ ایئرپورٹ پر گم ہو جانے کے بعد نیلام کر دیئے جاتے ہیں

گمشدہ یا چوری ہوجانے والے سامان کا بنتا کیا ہے؟

ویسے آپ نے کبھی سوچا کہ گمشدہ یا چوری ہوجانے والے سامان کا بنتا کیا ہے۔ سیٹا کے مطابق اس زمرے میں صرف پانچ فی صد سامان آتا ہے۔ تاہم جو بھی سامان ایئرپورٹ کے گمشدہ آفس میں پہنچتا ہے اسے چند ماہ تک وہاں رکھا جاتا ہے جس کے بعد اسے یا تو تلف کر دیا جاتا ہے یا نیلامی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

اگر آپ نے نیلامی میں کوئی ایسا بیگ خرید لیا تو تیار رہیں اس میں سے کچھ بھی برآمد ہو سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

––>