ہینڈسم وزیراعظم کا عوام دوست بجٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ اسے کشف سمجھیں یا پھر الہام، مگر مجھے پہلے ہی معلوم ہوگیا ہے کہ نئے پاکستان کا پہلا بجٹ عوام دوست، غریب پرور اور وزیراعظم کی طرح ہینڈسم ہے۔ اخبارات میں شائع ہونیوالی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق حکومت اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ مثال کے طور پر اقتصادی ترقی کی شرح نمو جو گزشتہ برس کے اختتام پر 5.79 فیصد تھی اور سابقہ حکومت نے جس کا ہدف 6.3 فیصد مقرر کیا تھا، معکوس ترقی کے بعد 3.3 فیصد رہ گئی ہے۔

سب سے زیادہ تنزلی صنعتی شعبہ میں ہوئی۔ گزشتہ برس کے اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی ترقی 5.8 فیصد نوٹ کی گئی چنانچہ بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف 7.6 فیصد طے کیا گیا مگر موجودہ مالی سال کے دوران ریورس گیئر لگنے کے باعث صنعتی ترقی کی شرح لڑھکتے ہوئے 1.4 فیصد پہ آکر رُکی۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بڑھوتری کا ہدف 8.1 فیصد طے کیا گیا تھا، اگر اس شعبہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو لارج مینوفیکچرنگ کے تناظر میں 2 فیصد جبکہ اسمال مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں شرح نمو 0.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تعمیراتی شعبے میں شرح نمو کا ہدف 10 فیصد مقرر کیا گیا تھا مگر مالی سال کے اختتام پر معلوم ہوا کہ 7.6 فیصد پر پہنچتے پہنچتے کنسٹرکشن کی سانس اُکھڑ گئی۔ محاصلات جمع کرنے والا ادارہ ایف بی آر بھی مطلوبہ ہدف سے بہت پہلے تھک کر گر پڑا۔ یوں ٹیکسوں کی وصولی میں 447 ارب روپے کا ریکارڈ شارٹ فال دیکھنے کو ملا۔ البتہ ان بُری خبروں میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ توقعات سے بڑھ کر ترقی کرنے میں کامیاب رہا اورشرح نمو سے متعلق طے کیے گئے 3.8 فیصد کے ہدف کو پھلانگتے ہوئے 4 فیصد تک جا پہنچا۔

اچھی خبر کو دیکھتے ہوئے میرے منہ سے بے اختیار نکلا ”دیکھا، یہ ہوتا ہے وژن، یہ ہوتا ہے لیڈر، اسے کہتے ہیں تبدیلی“۔ البتہ جہاں تک باقی شعبہ جات میں ہدف حاصل نہ کیے جانے کی بری خبروں کا تعلق ہے تو اس کی ذمہ دار ماضی کی کرپٹ حکومتیں ہیں۔ آپ تحریک انصاف کی حکومت کو یہ کریڈٹ تو دیں نا کہ عوام سے غلط بیانی کرنے کے بجائے صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ کون سا شعبہ کس حال میں ہے۔ یہ نئے پاکستان کا اعجاز اور تبدیلی کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے کہ جس عبدالحفیظ شیخ نے 2010 سے 2012 تک مسلسل تین سال ایک بدعنوان حکومت کے زیر سایہ عوام دشمن بجٹ پیش کیے آج وہ نیک اور صالح حکمرانوں کے زیر اثر عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر مجبور ہیں اور ان کی مجال نہیں کہ غیرمتوازن بجٹ پیش کر سکیں۔

گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے عبدالحفیظ شیخ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کر رہے ہوں گے تو اس بار پیپلز پارٹی کے وہ جیالے بھی ان پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہوں گے جو 2010، 2011 اور 2012 میں ان کے گرد حفاظتی حصار بنالیا کرتے تھے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ عالمی بینک کے تربیت یافتہ مشیر خزانہ ایسے بدترین حالات میں بھی اپنے ہیٹ سے کوئی ایسا کبوتر نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کی بنیاد پر موجودہ بجٹ کو عوام دوست قرار دیا جا سکے۔

ویسے ہر حکومت کے ویژن کے مطابق بجٹ میں رنگ بھرنے والے ”بابو“ بھی کسی آرٹسٹ سے کم نہیں۔ یہ مصور موقع کی مناسبت سے ایسی پینٹنگ بناتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ کینوس بظاہر خالی دکھائی دیتا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسی پینٹنگ ہے۔ چتر کار بتاتے ہیں اس کینوس پر گھوڑے کو گھاس کھاتے دکھایا گیا ہے۔ لوگ تخیل کے گھوڑے دوڑاتے تھک جاتے ہیں تو اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس پینٹنگ میں گھاس کہاں ہے۔

نقاش مسکراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ گھاس تو گھوڑا کھا گیا۔ حیرت زدہ مگر سہمے ہوئے لوگ ہمت مجتمع کرکے ایک بار پھر استفسار کرتے ہیں کہ گھاس تو گھوڑا کھا گیا مگر گھوڑا کہاں ہے؟ صورت گروں کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں، چغد کہیں کے، گھوڑا گھاس کھانے کے بعد کھڑا تو نہیں رہے گا، کہیں گھومنے پھرنے گیا ہوگا۔ یوں یہ لوگ اپنی کم عقلی کا ماتم کرتے ہوئے گھر چلے جاتے ہیں۔

عوام تو کیا ان کے منتخب نمائندوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ بجٹ نامی پینٹنگ میں گھوڑا کہاں ہے اور گھاس کہاں مگر وہ بیچارے کوئی سوال پوچھنے کے بجائے خاموش رہ کر بجٹ کی حمایت یا مخالفت میں ڈیسک بجانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ عوام اور ان کی نمائندگی کرنے والے بیشتر ارکان پارلیمنٹ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ”معاشی شرح نمو“ کس چڑیا کا نام ہے؟ انفلیشن نام کا ہاتھی گنے کے کھیت میں گھس جائے تو کیسی تباہی مچاتا ہے، انہیں کیا معلوم؟

بجٹ ڈیفیسٹ نام کا پودا کیا گل کھلاتا ہے، ان بیچاروں کو کیا خبر۔ عام آدمی تو بس یہ جانتا ہے کہ کرپٹ حکومتوں کے دور میں دو وقت کی روٹی تھوڑی بہت تگ و تاز کے بعد مل جایا کرتی تھی مگر اب نیک اور صالح حکمرانوں کے دور میں کتے تو کیا انسان بھوکے مر رہے ہیں۔ آمدن گھٹتی جا رہی ہے مگر اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ مہنگائی کی گاڑی فراٹے بھرتی دوڑتی چلی جا رہی ہے۔ تمام غذائی اجناس عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔

بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بیمار ہونے کی سہولت محض رؤسا تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ غریب آدمی کی طبیعت تو دواؤں کی قیمتیں سن کر ہی صاف ہوجاتی ہے۔ مہنگائی تو ہر دور میں ہوتی رہی ہے مگر اس بار مہنگائی کی زد میں محض متوسط طبقہ ہی نہیں آیا بلکہ اس عام آدمی کے بھی پیر جل رہے ہیں جو طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے خاصا سخت جان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روپے کی قدر کم ہونے کے ساتھ ساتھ آمدن بھی گھٹ گئی ہے یا پھر بالکل زیرو ہوگئی ہے۔

مگر میں ان حالات و واقعات سے متاثر ہونے والوں میں سے نہیں۔ آپ مجھے انصافیا کہیں یا یوتھیا، میں اب بھی نئے پاکستان سے مایوس نہیں۔ مجھے اب بھی سب ہرا دکھائی دیتا ہے، میں اپنے چترکاروں کی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ بظاہر خالی دکھائی دے رہے کینوس میں گھوڑے کو سبز گھاس کھاتے دکھایا گیا ہے۔ اگر موجودہ حکومت سانس لینے پر ٹیکس لگا دے تو تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میرا وزیراعظم ہی نہیں، اس کی حکومت میں پیش کردہ بجٹ بھی ہینڈسم ہے۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 122 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri