’ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الطاف حسین

AFP
پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا

لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔

لندن پولیس نے اپنے بیان میں گرفتار شدہ شخص کا نام ظاہر نہیں کیا ہے تاہم بی بی سی اردو کے ثقلین امام کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے تصدیق کر دی گئی ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں نے منگل کی صبح شمال مغربی لندن میں الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انھیں ساتھ لے گئے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 11 جون کو ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور اس معاملے کا تعلق پاکستان میں ایم کیو ایم سے متعلقہ فرد کی جانب سے کی جانے والی تقریروں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’الطاف حسین کے خلاف شواہد فراہم کیے جائیں‘

الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری

’الطاف حسین کا معاملہ برطانوی پولیس کا ہے: برطانیہ

بیان کے مطابق 60 برس سے زیادہ عمر کے اس شخص کو شمال مغربی لندن میں ایک مکان سے پولیس کریمنل ایویڈینس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس پر عالمی سطح پر جرائم پر اکسانے یا ان میں مدد دینے کا شبہ ہے۔

بیان کے مطابق مذکورہ شخص کو جنوبی لندن کے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے اور اسی معاملے میں تحقیقات کے لیے پولیس افسران شمال مغربی لندن کے ایک مکان کے علاوہ ایک کمرشل ایڈریس کی بھی تلاشی لے رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے دوران برطانوی پولیس کے افسران پاکستانی حکام سے رابطے میں رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

اپریل میں میٹروپولیٹن پولیس کے دہشت گردی کی تفتیش کرنے والے یونٹ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جہاں پاکستانی حکام نے ان سے تعاون کیا تھا۔

الطاف حسین کی باقاعدہ گرفتاری کے بعد انھیں مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں ایک یا دو روز میں ان کی ضمانت پر رہائی ہو سکتی ہے تاہم اب اس مقدمے کے سلسلے میں باقاعدہ فردِ جرم عائد ہو گی اور عدالت میں مقدمہ چلے گا۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا۔

اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کی کاپی اور اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے مبینہ شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے۔

اس ریفرینس مں برطانوی حکام سے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

برطانیہ کے قوانین میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے فرد کو تشدد پر اکسانے کے بارے میں سخت قوانین موجود ہیں۔

ایم کیو ایم

AFP
فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی

یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

اس خطاب کے بعد مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے مقامی میڈیا کے ملازمین اور دفتر پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

تاہم اس واقعے کے بعد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے لیے معافی مانگ لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔

اس ریفرنس کے بھجوائے جانے کے بعد فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ اکتوبر 2016 میں منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر چکی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے اس وقت بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ دو ہزار بارہ اور چودہ کے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور یا اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10785 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp