عمران خان کا دس سال میں قرضہ بڑھنے کی وجوہات جاننے کے لیے کمیشن کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سنہ 2008 سے سنہ 2018 کے دوران ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کی شب قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انھوں نے اپنی حکومت کے ساڑھے نو ماہ کے دوران پریشر کا سامنا کیا لیکن اب وہ ختم ہو گیا ہے۔

انھوں نے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ادوار میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا پتہ لگانے کے لیے اپنی نگرانی میں اعلی سطحی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی ، آئی ایس آئی اور آئی بی ہو گی سارے حکومتی ادارے تحقیقات کریں گے کہ کیسے اس ملک کو اس دلدل میں کیسے پھنسایا ہے اور ہم اسے نکال رہے ہیں۔

’میں اب ان سے جواب مانگنے لگا ہو۔ جس پریشر اور مشکل سے گزرے ہیں۔ اب میں نے ان کے پیچھے جانا ہے۔ میں ایک ہائی پاور انکوائری کمیشن بنانے لگا ہوں۔ جس کا ایک ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کیسے 10سالوں میں انھوں نے اس ملک پر 24 ہزار ارب روپے قرضہ کیسے چڑھایا؟‘

مزید پڑھیے

آصف زرداری 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل واپسی

خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بڑے بڑے برج جیلوں میں ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے دور اقتدار کے دس سالوں میں ملک کے قرضہ جات میں 24 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

’ہمارا بیرون ملک قرضہ مشرف کے دور میں 39 سے 41 ارب بڑھا ان دونوں کے دور میں 41 ارب ڈالر سے 97 ارب تک۔‘

ZARDARI

Getty Images

وزیراعظم نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے سربراہان کو دیے جانے والے این آرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج جو ہمیں مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ بجٹ میں سے پیسے کہاں سے نکالیں، ان دو این آر او کی قیمت اس ملک نے ادا کی۔

عمران خان نے کہا کہ سنہ 2008 میں چارٹر آف ڈیماکریسی نہیں چارٹر آف کرپشن ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف نے طے کیا کہ ہم تمھیں کچھ نہیں کہیں گے تم ہمیں کچھ نہ کہنا۔

’یہ 2008 میں واپس آئے۔ چارٹر آف ڈیماکریسی کیا تھا۔ اپنا نیب کا ہیڈ لگایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا پانچ سال تمھارے پانچ ہمارے۔ چھ ہزار ارب سے قرضہ 30 ہزار ارب روپے پر پہنچا ہے دس سالوں میں۔ کیا بنا پاکستان میں۔۔۔ یہ چارٹر آف کرپشن تھا یہ مک مکا تھا۔ دونوں نے کھل کر کرپشن کی۔‘

انھوں نے نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری اور ان کے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ یہاں سے پیسہ بناتے تھے اور اسے حوالے اور ہنڈی سے باہر بھیجتے تھے۔ جس پیسے کی ضرورت ہو وہاں سے ٹی ٹی آ جاتی تھی۔

انھوں نے الزام لگایا کہ شہباز شریف کے بیٹوں نے تین ارب سے اوپر کی منی لانڈرنگ کی چار کمپنیوں سے تیس کمپنیاں بنوائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے 100 ارب کی منی لانڈرنگ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیسے کی بیرون ملک سے پاکستان میں واپسی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ہوتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں نے ملکر اس ملک کو تباہ کیا اور اب یہ شور مچا رہی ہیں کہ تبدیلی کہاں ہے۔

وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ پہلے دن سے اپوزیشن نے انھیں اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت مختلف نظریات سے چلتی ہے پارلیمینٹ میں بیٹھ کر اس پر بات ہوتی ہے۔

نواز شریف

Getty Images

’میں نے کیا ان کا بگاڑا تھا۔ نیب کے کیسز میں ے تو نہیں کیے یہ تو پہلے کے تھے۔ سنہ 2016 میں اس وقت کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آیان علی کے بھی اسی جعلی اکاونٹ سے پیسے جا رہے ہیں جس سے بلاول بھٹو کو جا رہے ہیں۔ نواز شریف کے باناما کے کسیز شہباز شریف کے کیسز پہلے کے تھے۔ نہ انھوں نے نہیں بولنے دیا میں جب بھی اسمبلی میں جاتا ہوں بدتمیزی کرتے ہیں شور مچاتے ہیں۔ میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کی بلیک میلنگ اور پریشر میں آکر جو یہ چاہتے ہیں میں وہ این آر او نہیں نہیں دے رہا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے اپوزیشن کے نام پیغام میں کہا کہ وہ کسی اور کو بلیک میل کریں۔

’میرا جو مرضی کرنا ہے کرلیں۔ ایک ایک ایک کو جس جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ ‘

عمران خان نے مشکل معاشی صورتحال میں دوست ملکوں چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی مدد کا حوالا دیا اور کہا کہ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مشکل وقت میں مدد کی۔

بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کمزور طبقے کے لیے پانچ ارب روپے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنا سارا خرچ خود کرتے ہیں سوائے سکیورٹی کے۔

وزیراعظم نے پاکستانی افواج کی جانب سے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ 50 ارب اپنے خرچوں سے کم کیا ہے اور کابینہ کی دس فیصد تنخواہیں کم کروائی ہیں۔

قوم کے نام پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا مشکل سال ہے یہ چند مہینے مشکل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10785 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp