صحافی باقر سجاد سید کا ہراساں کرنے کا الزام: ’آپ کو کیسے یقین کہ وہ انٹیلیجنس اہلکار تھے؟‘

دانش حسین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی

AFP
باقر سجاد کے مطابق انھیں برطانوی سفارت کاروں سے ملاقات کے بعد انٹیلیجنس اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور صحافی کی خبر گواہی کی مانند معتبر تصور کی جاتی ہے۔

عمومی طور پر جب صحافی حکومت یا حکومتی اداروں کے حوالے سے کوئی خبر دیتے ہیں تو ان سے خبر کی صداقت کے بارے میں عوام کی جانب سے کسی قسم کی باز پرس کم ہی کی جاتی ہے۔

مگر جب مخصوص طاقتور حلقوں کے حوالے سے خبر دینے کی پاداش میں جب یہی صحافی بذات خود خبر بن جاتے ہیں تو سوشل میڈیا پر ان سے ہر طرح کی گواہیاں طلب کی جاتی ہیں جو صدمے اور بسا اوقات شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار صحافیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کا آزمودہ نسخہ ہے۔

گذشتہ روز ڈان اخبار سے منسلک صحافی باقر سجاد سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے مطلع کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک معروف مارکیٹ میں برطانوی ہائی کمیشن کے سفارت کاروں سے ملاقات کے بعد ان کا سامنا ’نچلے درجے کے انٹیلیجنس اہلکاروں‘ سے ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

سینسر شپ کی پاکستانی ڈکشنری

’میں آپ کے ماتھے پر چار گولیاں مار کر قتل کرسکتا ہوں‘

پاکستانی میڈیا میں سینسرشپ اور سیلف سینسرشپ

ان کے مطابق ’اہلکار مجھے اپنے ہمراہ لے جانا چاہتے تھے مگر میں نے مزاحمت کی۔ ان میں سے ایک اہلکار نے میری گاڑی کی چابیاں نکال لیں۔‘

واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے دوسری ٹویٹ میں بتایا کہ انھوں نے اہلکاروں سے ساتھ لے کر جانے کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ’ریاست نے انھیں ایسا کرنے کا اختیار دیا ہے‘ اور یہ کہ مزاحمت کرنے پر وہ کارِ سرکار میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

https://twitter.com/baqirsajjad/status/1138772037269372928

باقر کا کہنا تھا کہ اپنی پوری صحافتی زندگی میں انھیں اس طرح کے واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ ’کیا عوامی جگہ پر سفارت کاروں سے ملنا غیر قانونی ہے‘ اور ’کس قانون کے تحت اہلکار انھیں اپنے ہمراہ لے جا سکتے ہیں؟‘

یہ خبر سوشل میڈیا پر نشر ہونے کے بعد چند افراد نے اس حوالے سے شکوک و شبہات ظاہر کیے اور اس کے علاوہ وضاحت کے لیے باقر سجاد سے سوالات بھی پوچھے۔

تجزیہ کار امتیاز گل نے سوال کیا کہ ’کیا وہ واقعی انٹیلیجنس اہلکار تھے؟ باقر نے ان کو کیسے شناخت کیا؟‘

https://twitter.com/vogul1960/status/1138785285335068672

ان کی ٹویٹ کے جواب میں دیگر صارفین نے شکوک و شبہات کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ’یہ بہت جائز سوال ہے۔ یہ شہرت اور بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کا اوچھا ہتھکنڈہ ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے ہمدرد سوشل میڈیا کارکن فرحان ورک کا کہنا تھا ’آپ کو کیسے یقین ہے کہ یہ لوگ انٹیلیجنس کے تھے؟ یہ چور بھی ہو سکتے ہیں۔ کیا انھوں نے کارڈ دکھایا؟‘

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’سر آج کل اگر انھیں چھینک بھی آ جائے تو یا تو انٹیلیجنس والوں کا قصور ہوتا ہے یا پاک فوج کا اور یا پھر عمران اور انکی حکومت کا۔‘

غازی نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ’بیرون ملک پناہ لینے کی پلاننگ ہے۔‘

حامد میر اور ’ربڑ کی گولیاں‘

سنہ 2014 میں نجی ٹی وی چینل جیو سے منسلک اینکر حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ انھیں چھ گولیاں لگیں مگر ان کی جان بچ گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو چھوڑیے چند مخصوص ٹی وی اینکروں نے نہ صرف اس حملے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا بلکہ یہ الزام بھی عائد کیا کے یہ حملہ میں نے خود اپنے آپ پر کروایا۔

’انھوں نے یہاں تک کہا کہ گولیاں ربڑ کی تھیں اسی وجہ سے چھ گولیاں لگنے کے باوجود میں ہلاک نہیں ہوا۔‘

صحافی

BBC
حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ان پر یہ الزام بھی عائد کیا کے یہ حملہ انھوں نے خود اپنے آپ پر کروایا

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں انگریزی اخبار دی نیوز سے منسلک صحافی احمد نورانی پر حملے اور تشدد کے بعد باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ نورانی کا کسی لڑکی کے ساتھ چکر تھا اور اسی وجہ سے ان کی پٹائی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں صحافت کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار سفارت کاروں کو ملنے والے صحافیوں کو ملاقات کے بعد تنگ کرتے ہیں۔

’ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم انھیں ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو وہ ہمیں تنگ کرتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اب صحافیوں نے اس نوعیت کے واقعات کو رپورٹ کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ انٹیلیجنس ادارے روک ٹوک نہ ہونے کے باعث اب بالکل پرواہ نہیں کرتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چند سیاسی پارٹیوں اور ریاستی اداروں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا کارکنوں کے گروپ بنا لیے ہیں جن کو باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے اور ان کا ہدف مخالفین خاص کر صحافیوں کی کردار کشی کرنا ہے۔

صحافی

AFP
صحافی احمد نورانی پر حملے کے بعد الزام عائد کیا گیا کہ ان کا کسی لڑکی سے معاشقہ تھا جو ان پر ہونے والے تشدد کا باعث بنا

’صحافی حیات اللہ خان کو اغوا کر کے قتل کیا گیا، عمر چیمہ کو اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دیگر صحافی قتل ہوئے ان سب پر انکوائری کمیشن بنے مگر ان کی رپورٹس آج تک نہیں آ سکیں۔ رپورٹ اس لیے نہیں آتی کیونکہ پتا چل جاتا ہے کہ کیا واقعہ پیش آیا اور کون ملوث تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے کیس میں سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن بنا مگر جن لوگوں پر الزام لگایا گیا انھوں نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔

’ریاست کمزور ہے۔ جب رپورٹس نہیں آتیں، ایکشن نہیں ہوتا تو ریاستی اور غیر ریاستی عناصر جو اس طرح کے حملوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ بیباک ہو جاتے ہیں اور اس طرح کے واقعات جاری رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ باقر سجاد والے واقعے کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے والے لوگ یا تو ایک مخصوص سیاسی پارٹی یا ریاستی اداروں کے حامی ہیں۔

’فوج اور آئی ایس آئی کی تعریف کرنے والے لوگ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ ہر غیر جابندار صحافی کو گالیاں دی جائیں اور ان کے نزدیک یہی پاکستان سے محبت ہے۔‘

صحافی

AFP

سینیئر صحافی اور مدیر کی حیثیت سے پاکستانی اخبارات سے وابستہ رہنے والے ایم ضیاالدین کہتے ہیں کہ ’فوجی ذہن اور حب الوطنی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بات کو سمجھے بغیر الزام لگا دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈان اخبار کے خلاف گذشتہ کچھ عرصے سے ایک باقاعدہ مہم جاری ہے اور حالیہ واقعہ اسی کی ایک کڑی ہو سکتا ہے۔

’ڈان کے اداریوں سے اسٹیبلیشمنٹ پریشان ہے اور جواباً وہ ڈان کو پریشان کرنا چاہ رہے ہوں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کچھ لوگ انفرادی سطح پر حب الوطنی کا تقاضہ سمجھتے ہوئے الزام تراشی کرتے ہیں جبکہ اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے کہ چند مخصوص لوگوں کو خاص لائن دے کر یہ کام کروایا جائے۔

https://twitter.com/ShireenMazari1/status/1138811845270265861

تاہم دیگر سنجیدہ صحافی اور سیاسی حلقوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس مسئلے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا: ’ضیا کی آمریت کی یاد تازہ کر دی جب امریکی سفارت کاروں سے ملنے کے برعکس روسی سفارت کاروں کو ملنا ناقابل قبول ہوتا تھا!۔۔۔ یہ جمہوریت کا مسلسل تیسرا دور ہے اور اس طرح کی کاروائیاں ختم ہونی چاہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11082 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp