برطانیہ: وزارت عظمیٰ کی دوڑ کا آغاز، جانسن کی برتری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹوری پارٹی

BBC

برطانیہ کی قدامت پسند جماعت (کنزرویٹیو پارٹی) کی صدارت اور اس کے بعد وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچنے کے لیے ہونے والے جماعتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بورس جانسن نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔

حکمران کنزرویٹیو پارٹی کی صدارت کی دورڑ میں شامل تین امیدوار، مارکر ہارپر، اندریہ لیڈسم اور ایستر میکوی خفیہ رائے شماری میں باہر ہو گئے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ اور برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے کے سب سے بڑے حامی بورس جانسن نے برطانوی دارالعوام میں ہونے والی خفیہ رائے شماری میں 114 ووٹ حاصل کیے جبکہ موجودہ وزیر خارجہ جرمی ہنٹ 43 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر اور مائیکل گوؤ 37 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

حکمران جماعت کے سربراہ کے لیے ہونے والے مرحلہ وار انتخابات کا دوسرا مرحلہ اگلے ہفتے ہو گا جس کے لیے سات امیدوار آگے آئے ہیں۔

کنزرویٹیو پارٹی کے سربراہ کے انتخاب کا حتمی مرحلہ اس ماہ کے آخری میں ہو گا جب جماعت کے منتخب ارکان میں سب سے زیادہ مقبول دو امیدواروں کے نام جماعت کے بنیادی ارکان کے سامنے رکھے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں اسلاموفوبیا عروج پر؟

کیا ساجد جاوید برطانیہ کے وزیراعظم بن سکیں گے؟

ان تمام مراحل میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار ہی ٹریزا مے کی جگہ پارٹی کا صدر منتخب ہو جائے گا اور اس کے نام کا اعلان جولائی کی بائیس تاریخ کو متوقع ہے۔

پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں حکمران جماعت کے تمام کے تمام 313 ارکانِ پارلیمان نے رائے شماری میں حصہ لیا۔

بورس جانس نے پہلے مرحلے میں واضح برتری حاصل کرنے کے بعد کہا کہ وہ اس کامیابی پر خوش ہیں لیکن ابھی بہت طویل سفر باقی ہے۔

وزیر خارجہ جرمی ہنٹ نے کہا کہ وہ دوسرے نمبر پر آنے سے مطمئن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سنجیدہ صورت حاصل میں سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماحولیات کے وزیر مائیکل گوؤ نے یہ دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور بڑی بیتابی سے چینل فور پر اتوار کو اور اس کے بعد منگل کو بی بی سی پر ہونے والے مباحثوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ ساجد جاوید نے کہا کہ وہ اپنے مثبت خیالات اور ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے کے لیے اپنے منصوبوں کو سب کے سامنے رکھنے کے انتظار میں ہیں۔

وزیر صحت میٹ ہنکاک نے اپنے حامیوں کو شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی توقعات سے زیادہ ساتھیوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا جس پر وہ بہت خوش ہیں۔

سابق بریگزٹ سیکریٹری ڈومنک راب نے کہا کہ انھیں ایک بنیاد مل گئی جس پر وہ بہت فخر اور عزت افزائی محسوس کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی ترقی کے وزیر روری سٹیورٹ نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں کہا کہ پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے پر وہ بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس چھ ووٹ ایسے تھے جو سب کے سامنے تھے لیکن خفیہ رائے شماری میں انھیں اس سے تین گنا زیادہ ووٹ پڑے۔

کیا بورس جانس کو اب کوئی نہیں روک سکتا؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنہ 2005 میں جماعت کی سربراہی کے لیے ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے پر ڈیویڈ ڈوس سب سے آگے تھے لیکن وہ آخری مرحلے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

اس کے علاوہ سنہ 2001 میں مائیکل پورٹیلو بھی آخری دو امیدوار میں آنے میں ناکام ہو گئے تھے۔

لہذا بورس جانس کے مخالفین یک جا ہو کر ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

حکمران جماعت کے ایک مبصر نے کہا کہ بورس جانس کے ساتھ دینے والے بہت سے ارکان وزارت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

ذرائع ابلاغ سے بظاہر اجتناب برتنے والے سابق وزیر خارجہ کو لگتا ہے کہ یہ احساس ہے کہ وہ خود ہی اپنے بدترین دشمن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10734 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp