جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت، ملک بھر میں وکلا کا احتجاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وکلا احتجاج

BBC
وکلا نے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے کرسیاں لگا کر اسے بند کر دیا

اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل جمعے کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کریم خان آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسوں کی سماعت کر رہی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کونسل اس ریفرنس کی سماعت کرے گی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر ارکان میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس گلزار احمد کے علاوہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔

ان ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل کی یہ پہلی کارروائی ہوگی جو کہ ان کیمرہ ہو گی اور اس میں اٹارنی جنرل ان ریفرنس کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل کو آگاہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے خلاف ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر کے نام خط

فیض آباد دھرنا کیس: ’پاکستان کسی فوجی نے نہیں بنایا‘

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں ان پر بیرون ملک اثاثوں کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صدر کی طرف سے بھجوائے گئے اس ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

اس ریفرینس کی خبریں میڈیا میں سامنے آنے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے صدرِ مملکت کو دو خط بھی تحریر کیے تھے جن میں ان سے تفصیلات مانگی تھیں۔

ملک بھر میں وکلا احتجاج

جسٹس فائز اور جسٹس آغا کے خلاف ریفرینس بھیجے جانے پر جمعے کو ہی پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کال پر پورے ملک میں ہڑتال کی جاری ہے تاہم اس ہڑتال پر وکلا کی رائے منقسم ہے۔

نامہ نگار کے مطابق جمعے کی صبح سے ہی اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے احاطے میں وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد موجود رہی جبکہ ایک گروپ نے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے کرسیاں لگا کر اسے بند کر دیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے دیگر وکلا رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کے خلاف ریفرنس کو ایک علامتی ریفرنس بنا کر نذر آتش کیا۔ ان وکلا کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وکیل رہنما علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دراصل اعلی عدلیہ کے دیگر جج صاحبان کے لیے پیغام ہے کہ اگر اُنھوں نے آزادانہ فیصلے کرنے کی کوشش کی تو ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی متعدد وکلا کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں پڑے ہوئے ہیں جنھیں ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

وکلا احتجاج

BBC

دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی میڈیا پر وکلا کی منتخب کمیٹیوں کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کو کوریج نہیں دی جارہی جبکہ اس ہڑتال کے مخالف وکلا کی پریس کانفرنس دکھائی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر کوریج کے لیے آنے والے متعدد نجی ٹی وی چینلز کے عملے کا کہنا ہے کہ اُنھیں اپنے دفاتر سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ وہ صرف وکلا کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کریں انھیں لائیو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی وکلا نے ریفرینسوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق وکلا نے ضلع کچہری سے ایک ریلی نکالی جس کے شرکا زرغون روڈ سے ہوتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ پہنچے جہاں انھوں نے مظاہرہ کیا اور ریفرینس کے خلاف نعرے بازی کی ۔

وکلا احتجاج

BBC
کوئٹہ میں وکلا نے جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کے خلاف ضلع کچہری سے ریلی نکالی

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وکلا رہنماﺅں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی مذمت کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے ساتھ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں تین سو سے زائد ریفرینسز ہیں لیکن ان کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہیں اور ان میں کیا الزامات ہیں مگر قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کو ٹرائل سے پہلے منظر عام پر لایا گیا۔

وکلا رہنماﺅں کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں جس کے باعث بعض حلقے ان کو جج کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔

وکلا احتجاج

BBC
کوئٹہ میں وکلا رہنماﺅں نے اس ریفرنس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے عہدے سے محروم کرنے کی سازش بھی قرار دیا

انھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت بلوچستان سے واحد جج ہیں اوروہ 2023 تک سپریم کورٹ کے جج بنیں گے۔ وکلا رہنماﺅں نے اس ریفرنس کو بلوچستان کو چیف جسٹس کے عہدے سے محروم کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔

لاہور میں بھی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ لاہور بار، لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب بار کونسل کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ اس ہڑتال میں شریک نہیں ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لاہور میں کسی قسم کی تالہ بندی نہیں کی گئی ہے تاہم آج عدالتوں میں سائلین کا رش معمول سے کم رہا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

––>