وہ سچ جو ہمیں پسند نہ آیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنی پسند کا سچ سننے اور کہنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ جو سچ ہمیں پسند نہ آئے اسے جھوٹ قرار دینے کے لئے ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ کچھ سچ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کہنے یا لکھنے کی جرأت ہم میں نہیں ہوتی۔ جب کوئی دوسرا یہ سچ بول دیتا ہے تو ہم پر ہذیانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ہم سچ میں سازش کے پہلو تلاش کرنے لگتے ہیں۔

 محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے لوگ ہذیانی کیفیت میں گلا پھاڑ پھاڑ کر فتوے دے رہے ہیں کہ اس رپورٹ میں تو کچھ بھی نیا نہیں اور اقوام متحدہ نے ہمارے کروڑوں روپے اجاڑ دیے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے نام نہیں بتاسکی۔ کچھ کرم فرما تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے 65 صفحات پر مشتمل رپورٹ پڑھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی لیکن رپورٹ پر مسلسل تنقید میں مصروف ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 3 فروری 2009 ء کو یہ واضح کردیا تھا کہ انکوائری کمیشن محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی کریمنل انوسٹی گیشن نہیں کرے گا بلکہ ان حالات و واقعات کا تعین کرے گا جن میں انہیں قتل کیا گیا۔ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھئے اور بالکل ایمانداری سے بتایئے کہ کیا کوئی پاکستانی تحقیقاتی ادارہ یہ کہنے کی گستاخی کرسکتا تھا کہ 27 دسمبر 2007 ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے جائے شہادت کو دھونے کا حکم اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز نے دیا تھا؟

یہ وہ سچ ہے جو ہم نہیں بول سکتے تھے، یہ وہ سچ ہے جو ہم میں سے کئی لوگ سننا بھی نہیں چاہتے کیونہ یہ سچ ان کی پسند کا نہیں لیکن سچ تو سچ ہے اور یہ سچ تو اب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔ آپ اس سچ کو پسند کریں یا نہ کریں لیکن اس سچ کی مزید تفاصیل جاننے کے لئے حکومت پاکستان نے دواعلیٰ سرکاری افسران اور ایک فوجی افسر پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ اس کمیٹی نے حالات و واقعات اور ٹھوس شواہد کی موجودگی میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا واقعی میجر جنرل ندیم اعجاز نے راولپنڈی پولیس کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت دھونے کا حکم دیا تھا؟

اگر ندیم اعجاز کے خلاف کوئی ثبوت مل گیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات مزید آگے بڑھیں گی۔ ثبوت نہ ملا تو پھر مشکل ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں یقیناً کچھ اہم سوالات کا جواب نہیں ہے لیکن اس رپورٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا ایک رُخ متعین کردیا ہے اور کچھ ایسے واضح اشارے دیدیئے ہیں جن کی مدد سے قاتلوں کو بے نقاب کرنا مشکل نہ ہوگا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ اقوام متحدہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اس وقت پرویز مشرف پاکستان کے صدر اور افواج پاکستان کے با اختیار سپریم کمانڈر تھے۔

پرویز مشرف نے 29 نومبر 2007 ء کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا تاہم تین اہم خفیہ اداروں کے سربراہ وہی رہے جو پہلے سے تھے۔ 27 دسمبر 2007 ء کو جب سانحہ لیاقت باغ پیش آیا تو جنرل کیانی کو آرمی چیف بنے صرف ایک ماہ گزرا تھا۔ عام طور پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس ہر اہم حکم آرمی چیف کی مرضی سے جاری کرتا ہے لیکن میجر جنرل ندیم اعجاز کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ وہ 1999 ء میں کرنل تھے اور اسی زمانے سے براہ راست جنرل مشرف سے ہدایات لیا کرتے تھے۔

کرنل کی حیثیت سے انہوں نے لاہور کے مختلف تھانوں میں جاوید ہاشمی، خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویز رشید پر وحشیانہ تشدد کیا اور اٹک قلعے مں نواز شریف کی حوالات کے اردگرد سانپ چھوڑ دیے۔ انہی موصوف نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ بھی زیادتی کروائی اور تشدد کے بعد رانا صاحب کو عالم بے ہوشی میں موٹر وے پر پھینک دیا گیا۔ مسلم لیگ (ق) کی تشکیل میں ندیم اعجاز نے اہم کردار ادا کیا اور انہی خدمات کے صلے میں انہیں لاہور ہی میں بریگیڈیئر اور پھر میجر جنرل بنادیا گیا۔

ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ بننے کے بعد انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ نواب اکبر بگٹی کو راستے سے ہٹادیا۔ اس وقت چوہدری شجاعت حسین نے مذاکرات کے ذریعہ بگٹی صاحب کے ساتھ مفاہمت کا راستہ نکال لیا تھا لیکن ندیم اعجاز نے ان مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد ایک اجلاس میں پرویز مشرف نے کہا کہ اب محمود خان اچکزئی کی باری ہے لیکن اس دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ معاملات بگڑگئے اور یوں اچکزئی بچ گئے۔

جسٹس افتخار سے استعفیٰ لینے کا مشورہ بھی ندیم اعجاز کا تھا۔ جب وکلاء تحریک شروع ہوگئی تو پھر ندیم اعجاز نے میڈیا میں سے مشرف دشمن عناصر کو ملک دشمن قرار دینا شروع کیا اور جس کسی نے ان کی بات نہ مانی اسے اغوا کروایا، تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ غداری کے مقدمات بنانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ چوہدری پرویز الٰہی اعتراف کرچکے ہیں کہ 5 مئی 2007 ء کو جی ٹی روڈ پر اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے جسٹس افتخار اور اعتزاز احسن پر فائرنگ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

افسوس کہ چوہدری صاحب کے انکشاف کے بعد بھی کوئی ادارہ حرکت میں نہ آیا، اگر حرکت میں آجاتا تو بہت پہلے پتہ چل جاتا کہ نہ صرف 5 مئی بلکہ 12 مئی 2007 ء کو کراچی میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار بھی ندیم اعجاز تھا۔ صرف یہ پتہ کرلیجیے کہ 2 مئی اور 12 مئی 2007 ء کے درمیان ندیم اعجاز بیرون ملک کس کے پاس گیا اور واپس آکر کس کس کو ملا؟ اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں خفیہ اداروں کے کردار پر کافی روشنی ڈالی ہے لیکن خفیہ ادارے کے کسی فرد پر کوئی بے بنیاد الزام عائد نہیں کیا۔

صفحہ 15 پر آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم تاج کے بارے میں بڑے مثبت الفاظ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے 27 دسمبر کی صبح محترمہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردوں کے ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کردیا تھا۔ انٹلی جنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ سے انکوائری کمیشن نے براہ راست ملاقات کی اور اپنی رپورٹ کے صفحہ 62 اور 63 پر اعجاز شاہ سمیت ان تمام افراد کو بے گناہ قرار دیا جن کے بارے میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے 16 اکتوبر 2007 ء کو مشرف کے نام خط لکھا تھا۔

یہ پہلو قابل غور ہے کہ انکوائری کمیشن نے ندیم تاج اور اعجاز شاہ کے بارے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی شک کا اظہار نہیں کیا لیکن ندیم اعجاز کے بارے میں ایک براہ راست الزام کیوں لگادیا؟ مغرب میں عام طور پر آئی ایس آئی الزامات کا نشانہ بنتی ہے لیکن انکوائری کمیشن نے ایم آئی کی طرف انگلی کیوں اٹھائی؟ ایم آئی کے سابق سربراہ کے بارے میں تحقیقات سے افواج پاکستان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ ساکھ میں بہتری پیدا ہوگی۔

ندیم اعجاز جیسے افسروں کے پس منظر میں جانے کے بعد پاکستانی فوج کی عزت و احترام میں اضافہ ہورہا ہے اور اگر اس قسم کے افسران کا احتساب ہوگا تو عام پاکستانی کو یہ واضح پیغام ملے گا کہ مشرف دور میں چند فوجی افسران جو کچھ کرتے رہے اس کا ذمہ دار وہ جوان نہیں تھا جو تپتے صحراؤں اور برف سے ڈھکے پہاڑوں میں قوم کی خدمت کرتا ہے بلکہ اس کا ذمہ دار صرف مشرف تھا، وہ چلا گیا اور اس کے ساتھ اس کا فوجی دور ستم بھی چلا گیا۔

(یہ کالم محترم حامد میر نے 26 اپریل، 2010 کو تحریر کیا تھا۔ اس میں بیان کئے گئے بہت سے سچ ایسے ہیں جن پر آج بھی غور کر لیا جائے تو شاید ہماری سطحی سیاسی سوچ میں بہتری کی صورت پیدا ہو سکے۔ اس تحریر کی اشاعت مکرر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اس ملک میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا ہے جس کا کل تاریخی اثاثہ 18 اگست 2008 سے 25 جولائی 2018 کے دس برس ہیں۔)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •