وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سارا سینڈرز

Getty Images
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں۔

انھوں نے انھیں ’جنگجو‘ کہہ کر ان کی تعریف کی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجمان جون کے اختتام پر اپنی آبائی ریاست آرکنساس منتقل ہو جائیں گی۔

سارا سینڈرز وائٹ ہاؤس سے مستعفی ہونے والے سینیئر اہلکاروں میں ایک حالیہ اضافہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عہدے پر کام کرنا ان کی ’زندگی کا سب سے بڑا اعزاز‘ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ نے سٹیو بینن کو قومی سلامتی کونسل سے ہٹا دیا

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری مستعفی ہو گئے

‘صدر نے کومی سے وفاداری کا عہد نہیں مانگا تھا’

مشکلات سے بھرپور ان کے دور میں وائٹ ہاؤس کی معمول کی پریس بریفنگز ماضی کا قصہ بن گئی تھیں اور ان کی ساکھ پر بھی اکثر سوالات اٹھتے رہے۔

انھوں نے جولائی سنہ 2017 میں وائٹ ہاؤس کے اس وقت کے ترجمان شان سپائسر کی جگہ لی۔ اس سے قبل وہ ڈپٹی پریس سیکریٹری کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

36 سالہ سارا سینڈرز صدر ٹرمپ کی مخلص ترجمان رہیں، ان کا ایک بیان کافی مقبول ہوا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ خدا ’چاہتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنیں۔‘

جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں صدر ٹرمپ نے انھیں ’ایک اہم شخص، اور ایک نہایت نفیس خاتون‘ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جنگجو ہیں، ہم سب جنگجو ہیں، ہمیں جنگجو بننا پڑتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر متبادل پریس سیکریٹری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سارا سینڈرز نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا ’میرے لیے یہ تجربہ زندگی بھر ناقابلِ فراموش رہے گا اور میں صدر (ٹرمپ) کی سب سے زیادہ بے باک اور وفادار حامی رہوں گی۔‘

تین بچوں کی والدہ سارا سینڈرز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ مزید وقت گزارنے کی خواہشمند ہیں۔ کبھی کبھار وہ وائٹ ہاؤس کے پریس عملے کو بھی اپنے بچوں جیسا رویہ رکھنے پر ڈانٹ دیا کرتی تھیں۔

سارا سینڈرز

EPA
’میرے لیے یہ تجربہ زندگی بھر ناقابلِ فراموش رہے گا اور میں صدر (ٹرمپ) کی سب سے زیادہ بے باک اور وفادار حامی رہوں گی۔‘

سارا سینڈرز کے میڈیا کے ساتھ تعلقات مشکل رہے اور وہ اکثر صدر ٹرمپ کی طرح میڈیا پر جھوٹی خبریں نشر کا الزام عائد کرتی نظر آتی تھیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے امریکن پریزیڈنسی پراجیکٹ کے مطابق سینڈرز نے پچھلے 13 پریس سیکریٹریز کے مقابلے میں کہیں کم پریس بریفنگ دیں۔

ان کی آخری پریس کانفرنس 94 دن قبل 11 مارچ کو ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ خود ہی اپنے ترجمان کا کردار ادا کرتے ہیں۔ بسا اوقات وہ وائٹ ہاؤس کے جنوبی باغیچے میں اپنے صدارتی ہیلی کاپٹر کے شور میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہیں۔


شمالی امریکہ کے رپورٹر انتھونی زرچر کا تجزیہ

سارا ہکابی سینڈرز تقریباً دو سال تک ڈونلڈ ٹرمپ کی صفِ اول کی ترجمان رہیں۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے صدر کا دفاع وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم میں کم ہی کیا ہے جو کہ درحقیقت اس کام کے لیے روایتی جگہ ہے۔

صدر ٹرمپ کا دور کئی حوالوں سے غیر روایتی رہا ہے اور پریس سیکریٹری کے کردار کا بتدریج ختم ہونا اس کا ایک بہت چھوٹا مگر نمایاں حصہ ہے۔

سارا سینڈرز نے حالیہ چند ماہ میں اپنا زیادہ تر وقت فاکس نیوز پر، وائٹ ہاؤس کے احاطے میں چِلّاتے ہوئے رپورٹرز کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اور غیر اہم، پسِ پردہ تفصیلات پر گفتگو کرتے ہوئے گزارا۔

صدر ٹرمپ کے اچانک فیصلوں، حیران کن پالیسی اعلانات، غیر متوقع طور پر انھیں (پالیسی) واپس لینے اور رسمی ماحول میں تضادات کی وضاحت کرنا کبھی بھی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن سارا نے صدر ٹرمپ کی اجازت سے ایسا کرنے کی کوشش بھی چھوڑ دی۔

درحقیقت صدر ٹرمپ خود ہی اپنے پریس سیکریٹری اور ڈائریکٹر اطلاعات ہیں۔ اور جیسا کہ پچھلے 24 گھنٹوں کی ٹوئیٹس اور انٹرویوز سے واضح ہے، یہ اونچ نیچ سے بھرپور ایک مشکل سفر ہے۔

کچھ ہی عرصے میں سارا سینڈرز کا کوئی متبادل آجائے گا، مگر انتظامی عملہ ان کی عدم موجودگی ضرور محسوس کرے گا۔ لیکن جب تک سب سے اوپر موجود شخص کے ہاتھوں میں معاملات رہیں گے، تب تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔


جب مئی 2017 میں صدر ٹرمپ نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سربراہ جیمز کومی کو برطرف کیا تھا، تو سارا کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’ایف بی آئی کے لاتعداد اراکین سے سنا کہ وہ صدر کے فیصلے پر شکرگزار اور خوش ہیں۔‘

جب خصوصی مشیر رابرٹ مولر نے تحقیقات شروع کیں کہ آیا صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کا روس کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا یا نہیں، تو سارا سینڈرز نے مولر کو بتایا کہ یہ دعویٰ ’صرف زبان کا پھسلنا‘ اور ’بے بنیاد‘ تھا۔

سارا سینڈرز

Getty Images
سارا سینڈرز کینیڈا میں منعقد ہونے والی جی سیون سمٹ میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ

گزشتہ جون میں ریاست ورجینیا کے شہر لیکسنگٹن کے ایک ریسٹورنٹ مینیجر نے سارا سینڈرز کو ٹرمپ انتظامیہ میں ان کے کردار کی وجہ سے ریسٹورینٹ سے نکل جانے کا کہا۔

اسی ماہ انھوں نے اپنے استعفے کی افواہوں کو مسترد کر دیا تھا۔

سارا سینڈرز سنہ 1996 سے 2007 تک ریاست ارکنساس کے گورنر رہنے والے مائک ہکابی کی بیٹی ہیں۔

ان کے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ انھیں امید ہے کہ وہ بھی اس عہدے کی دوڑ میں شامل ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ زبردست ثابت ہوں گی۔‘

سارا سینڈرز ان چند باقی رہ جانے والے عہدیداروں میں سے ایک ہیں جو صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کا بھی حصہ تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp