دیپ جلتے رہے (چودھواں حصہ)۔

ہم احتیاطاً گھر کی چابی اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ واپسی پرتالا بند ملے گا، گو کہ یہ صرف احتیاط ہی تھی، ہمیں معلوم تھا کہ طے کردہ دن اور وقت پر آفس میں جوائننگ دینے سے عزت نہیں رہتی۔ ایک دو دن بعدہی جایا کرتے ہیں۔ اور اگر ان ہی دنوں جب کوئی اسائنمنٹ سامنے رکھا ہو تو، طبیعت ایسی زوروں کی موزوں ہو تی ہے کہ جب تک خیالات کی روانی سمیٹ کر کاغذ میں نہ لپیٹ لی جائے، کسی طور قرار نہیں آتا۔ اور ایک کل وقتی شاعر کے لیے کو ئی آسان نہیں۔

جیب و دامان و گریباں بخیہ و چاک و رفو
عشق کے اک کا م سے کتنے نکل آتے ہیں کام

ہر ملنے جلنے والے کو آفس کا ایڈریس، پہلے سے ہی ملنے کی تاکید کے ساتھ سمجھا دیا گیا تھا۔ اس لیے آفس کی نوکری کی مختصر مدت میں دوست احباب کو ان سے شدید نوعیت کے کام لاحق ہو گئے۔ کوئی ان سے نوحے لکھوا رہا ہے تو کوئی اصلاح کی غرض سے پہنچا ہوا ہے۔ کسی کو تازہ کلام سنانے کے مروڑ اٹھے، تو کسی بے روز گار کو گھر والوں کے سوال جواب سے بچنے کو ان کا آفس بہترین مسکن معلوم ہوا۔ یوں آفس پاک ٹی ہاؤس کا منظر پیش کرنے لگا۔

ادارے کے بد ذوق، ناسمجھ مالکان کو اپنے ادارے کی شعر و سخن سے سجی، داد وتحسین سے گندھی ایسی پبلسٹی سخت نا گوار گزری، ماتھے پر چڑھی تیوریاں پیرِ سخن بھی کیسے برداشت کرتے، یوں پندرہ دن نوکری میں پلے سے اٹھائیس سو روپے خرچ کر کے سولہویں روز سے شاعرانہ معمول اختیار کر کے، بے گاروں کو ایک بار پھر اپنی نوکری سے متعلق موضوع اور کام دے دیا۔ اور ہم نے ان کی نوکری چھوٹنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔ اور ان سے کہہ دیا کہ اگر کوئی پوچھے توصاف کہہ دیں شاعر ہوں، کل وقتی نوکری ہے، اگر کبھی فراغت ملی تو میں بھی آپ کی طرح نو سے پانچ بجایا کروں گا۔

یوں لوگوں کہ منہ بند ہوئے اور ہمیں دائمی سکون نصیب ہوا۔ آج بھی اگر یہ نوکری کرنے کی خواہش کر دیں تو فکر کے مارے ہماری نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔

دھرنے کو دل پہ یاں نہ اٹھا ہاتھ پر سے ہاتھ
کاموں سے لوگ اپنے نمٹ کے چلے گئے

ان کا بس چلے تو وہ ایک ایسی ریاست بنا ئیں جہاں نا تو کو ئی فیکٹری ہو نہ مل، ادارہ نہ آفس، مزدور نہ مالک، آقا نہ نو کر اور ارسطو ٹائپ ذہنیت کواپنی اس ریاست سے باہر نکال پھینک دیں، ایک تھنک ٹینک بنا دیں جو صبح و شام اپنی ضروریات کم کرنے کی تبلیغ کیا کرے، ان کی ریاست میں مجنوں کی حکمرانی ہو، اور عاشق خارجہ پالیسی بنا ئیں، فلسفی امورِ داخلہ نبٹائیں۔ شا عر آئین بنا ئیں، اور صوفی وزارتِ خزانہ سنبھا لیں۔ نہ ان کی سلطنت میں دفاع کا محکمہ ہو، نہ ہی فوج۔ انصاف کا محکمہ ہو جو شعرا کی زمینوں، سرقہ اور حسیناؤں پر بے جا پابندیوں کے معاملات دیکھا کرے۔ اور عالِم تعلیم کے محکمے کے نگران ہوں۔ اسکولوں میں تمام علوم پڑھائے جائیں، لیکن سائنسی علوم پر پابندی ہو۔

سائنس کا قلی ہے بہت زار و نا تواں
وزن اس پہ اپنی آرزوؤں کا کہ الاماں

ایجاد کی سواری ہے گر چہ رواں دواں
وللہ پر نہیں ہے کو ئی اس کا کوچواں

بچوں کے قد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان میٹھے اور نمکین ذائقوں سے بھی واقف ہو رہی تھی۔ چاکلیٹ، آئیس کریم، کیک، بسکٹ، پھل، گوشت جیسی چیزیں اس پرچون کی دکان پر نہ ملتی تھیں، جہاں سے صابن، دال، آٹا، چاول، گھی، پتی، چینی، پاؤڈر ملک اور دیگر اشیاء ادھار لی جاتی تھیں۔

یہ ذائقہ بھی عجیب چیز ہے، منہ کو لگ جائے تو اشتہا کے ساتھ زندگی سے دلچسپی اور اس کاکام بھی بڑھ جا تا ہے۔ ذائقہ بچوں کے منہ کو لگا، فرمائش کرنے کولب آزاد ہوئے توایسا لگا جیسے جنون کو سنبھال آگیا، وحشتیں ٹھکانے لگیں۔

جب تھاجنوں تو سر کو میسر تھا سنگ ِ طفل
اب کیا کریں کہ اب نہ جنوں ہے نہ سنگ ہے

اور اس ہمہ وقت مصروفیت میں، اس کل وقتی شاعر کو بچوں کی خواہشات کا ادراک ہوا تو اپنی شاعرانہ کیفیات، تیاگنے پر بھی تیار ہو گیا۔ مشقِ سخن تو کبھی کی نہ تھی ایک خاص کیفیت میں خود میں سے غائب ہو جا تے، اور نادر کلام کے ساتھ وجود کی حاضری ہو جا تی۔

کہاں سے لاؤں وہ محویّت ِ خبر انداز
یہاں تو خود کو مئیسّر کبھی کبھی ہوں میں

ایک بار میں نے انہیں یاد دلا یا کہ میں نے اس وقت آپ سے فلاں کام کے لیے کہا تھا آپ نے اب تک نہیں کیا۔ کہنے لگے میں لکھ رہا تھا۔ ہم نے کہا نہیں آپ کے پاس کاغذ قلم کچھ نہیں تھا آپ فالتو بیٹھے ہو ئے تھے۔

کہنے لگے جس میں وقت ہم دوسروں کو فالتو نظر آتے ہیں اسی وقت تو ہم کام کر رہے ہو تے ہیں۔ جو کام ہم کاغذ پر اتارتے ہیں وہ اسی کام اور سوچ کا نتیجہ ہو تا ہے۔

گم ہو رہو خود آپ میں گر خود کو پا سکو
کیا مجھ کو ڈھونڈتے ہو خلا ہے مرا وجود

شاعری مشغلہ ہے نہ ہی کام، یہ شوق یا مجبوری سے نہیں ہوتی۔ یہ ایسی سواری ہے جس پرسوار نہیں بیٹھتا، یہ اس پر سوار ہوکر اسے ہنکائے پھرتی ہے۔

انچولی میں نیّر ہوا کرتے تھے۔ اب وہ گلشن میں کہیں رہتے ہیں۔ پورا نام یاد نہیں، فلموں میں کچھ عمل دخل تھا۔ انہوں نے احمد کو اپنے ساتھ لاہور ایور نیو اسٹوڈیو چلنے کے لیے کہا، کہ وہاں فلمی گیت لکھنا پیسے ملیں گے۔ پیسوں کا آسرا ملا تو ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے۔ گھر کے حالات ان کے سامنے تھے۔ اور شایدذمے داری کا احساس ہو گیا تھا، کہنے لگے اچھا موقع ملا ہے کچھ پیسے ہاتھ آجائیں گے تو حالات میں بہتری آجائے گی۔

نا امیدی کو مگر اس نے نہ آنے دیا پاس
چاہے وحشت سے کو ئی کام بنا ہو کہ نہ ہو

حالات میں بہتری کا خیال ہے تو نوکری کر لیں، ان کے نوکری کے مضر اثرات جانتے ہوئے بھی ہم نے فی الحال ان کا دھیان بٹانے کے لیے ڈرتے ڈرتے کہا۔

تمہیں معلوم ہے نو سے پانچ والی پابندی مجھ سے نہیں ہوتی۔

منع کرنے، اور لاکھ سمجھانے کے باوجودہماری آنکھیں دروازے کی جھری سے ٹکا اور کان قدموں کی آہٹ پر لگا کرخود نیّر کے ساتھ ہولیے۔ کب واپسی ہو گی، اس بارے میں بھی کچھ نہ بتا یا۔

پندرہ دن گزر گئے، ایک روز بائیں گھر والی پڑوسن کے میاں نے دروازہ بجایا، انتہائی ناگوار چہرے سے کہا کہ ان کے گھر جا کر ہم فون سن لیں۔

احمد کا فون تھا، کہا ایک فلم کے گانے لکھ کر دیے ہیں، لیکن ابھی اتنے پیسے بھی نہیں ہو پائے کہ واپسی کا ٹکٹ بھی ہو سکے۔ شاید پندرہ دن اور لگیں، تم فلاں صاحب سے ایک ہزار روپے لے آؤ میں نے انہیں فون کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور شاعر (مر حوم) جو فلمی گیت بھی لکھتے تھے ان کا نام لیا۔

کیا آپ نے انہیں قرض دیا تھا، ان سے کیوں لیں۔ ان سے بھیک مانگتے اچھا نہیں لگے گا۔

کہنے لگے تم نے منع کیا تھا نہ اس لیے میں نے اپنے نام سے گانے نہیں لکھے۔ ان کی اجازت سے ان ہی کے نام سے لکھے ہیں، آدھے پیسے انہیں ان کے کمیشن کے ان کے اکاؤنٹ میں ڈائریکٹر نے ٹرانسفر کر دیے ہیں، مجھے ہفتہ دس دن میں پیسے دے گا۔

تو آپ نے ان کا نام کیوں استعمال کیا۔ کسی بھی نام سے لکھ لیتے۔
فلم ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ مشہور شاعر کا نام ہو تو گانا اور فلم زیادہ مشہور ہوتی ہے۔

نہیں تو چھوڑیں آپ اپنے نام سے ہی لکھ لیں وہ تو میں نے پہلے آپ کو اس لیے منع کیا تھا کہ آپ نے بہت ہی بے ہودہ گانا لکھا تھا۔
اب بھی بے ہودہ گانے ہی لکھے ہیں۔ انہوں نے بتا یا

مگر آپ اپنے نام سے ہی لکھیں، کم از کم کمیشن تو دینا نہیں پڑے گا۔ اب کے زلف میں جو پیچ پڑا تھا اسے سنوارنے کے لیے، ہم نے بھی شرفاء کی تقلید میں مردار حلال کر نے کے لیے تا ویل گڑھ لی تھی۔

میں مشہور نہیں، ڈائریکٹر نے ہی ان کا نام تجویز کیا ہے۔
اوہ اچھا! تو ایسے کہیں ناں۔

کچھ باتوں کے بعدہم نے فون بند کر دیا۔ اور گھر آکرحساب لگا نے بیٹھ گئے، آٹھ گا نوں کے چار ہزار روپے۔ دو ہزار مشہور شاعر کے اور دو ہزار ہمارے حصے میں آئیں گے۔ اب سمجھ آیا کہ لوگ جسے بے ہو دگی اور بے حیائی کہتے ہیں، اصل میں یہ وہ اجرت ہے۔ جو آدھی دلال کے پاس چلی جاتی ہے۔ اور آدھی دھوپ میں پسینہ سکھانے والے کے پاس۔

ہم نے باجی کے پاس رشی کو چھوڑا، ان سے پانچ روپے ادھار لیے، اور رامش کے ساتھ دو، بسیں بدل کر مشہور شاعر کے اسٹاپ پر اتر گئے۔ اس داستانِ حیات میں سب ہی کرداروں کے نام اصلی ہیں لیکن مشہور شاعر کا نام اس لیے راز رہے گا، کہ اخلاقی تقاضا ہے اگر شاعر نے اپنی کسی تخلیق کے عیوض پیسے لے لیے، تب وہ اپنے کسی کلا م کا دعوے دار ہو سکتا ہے، نہ ہی اس شاعر کا نام ظاہر کر سکتا ہے، جس کے نام سے اس کا کلام منسوب ہے۔

اسٹاپ پر اتر کر شاعر صاحب کے محلے میں داخل ہوئے، ان کا ایڈریس لکھا ہوا تھا، لیکن مکانوں پر عجیب طرح کے آڑے ٹیڑھے بے ترتیب مکان نمبر پڑے ہوئے تھے۔ ہر ایک سے پوچھتے، اور ہر ایک پوری دیانت داری سے ایڈریس سمجھا تا، کر اچی کے لوگوں میں ایک عادت بڑی اچھی ہے، یہ پوچھنے والے کو راستہ ضرور بتا تے ہی نہیں دکھاتے بھی ہیں۔ اب آپ بھٹکیں یا منزل پر پہنچیں قسمت کی یاوری ہے۔ بہرحال شل ہو تی ٹانگوں کے ساتھ مشہور شاعر صاحب کے گھر پہنچ ہی گئے، خدا کا شکر ہے کہ وہ گھر پر مل گئے۔

ان کی بیگم ہمیں سپاٹ چہرے کے ساتھ لاؤنج میں لے گئیں۔ جہاں شاعر صاحب ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ مداح جان کر انہوں نے فوراً ٹی وی بند کر دیا لیکن جب ہم نے اپنا تعارف اور ان سے ملنے کا مدعا بیان کیا تو چہرے پر واضح حقارت کے آثار نمو دار ہوئے۔ کہنے لگے، بی بی گھر میں سو ضروریات ہو تی ہیں، خرچ ہو گئے پیسے۔

ہم بھی ضرورت کے لیے ہی آئے ہیں اور احمد نے ضرورت کے لیے ہی فلمی گانے لکھے۔ وہ ابھی تک وہیں ہیں اور آپ کو گھر بیٹھے پیسے مل گئے۔ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ ان کی رعونت پر ہم نے بھی کھری کھری سنا دیں۔

آٹھ گا نوں کے چار ہزار طے ہوئے تھے، دو ہزار ہمیں مل گئے، اب دو ہزار جو نوید کو ملیں گے، وہ، وہ رکھ لے۔ میں تھوڑی مانگوں گا اس سے۔ وہ چڑ کر بولے

انہیں اب تک نہیں ملے ہیں، وہ باقی پیسے لیے بغیر آ بھی نہیں سکتے۔ جب کہ آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے آچکے ہیں۔ اور یہ بات بقول احمد کے طے ہو چکی تھی کہ ان میں سے آدھے آپ مجھے دیں گے۔ ہم نے تر کی بہ ترکی جواب دیا۔

بی بی اس سے کہو، کو ئی کام دھندہ کرے اس طرح کیسے گزارہ ہو گا۔
انہوں نے انتہائی حقارت سے کہا، اس سے پہلے کہ ہم انہیں کوئی سخت جواب دیتے انہوں نے بیگم کو غصے میں آواز لگائی۔

مہ پارہ! مہ پارہ دوڑتی ہوئی آئیں، ان کے ہاتھ میں گندھا آٹا لگا تھا۔

ذرا ایک ہزار کا نوٹ لادو، بیگم نے انہیں گھور ا، پھر ہماری طرف دیکھا۔
کیا ضرورت پڑ گئی؟
میں تمہیں کل لوٹا دو ں گا، ابھی بحث مت کرو۔

مہ پارہ الٹے قدموں لوٹ گئیں، چند سیکنڈ بعد اندر آئیں، آٹے میں لتھڑی دو انگلیوں میں ہزار کا نوٹ پکڑا ہوا تھا، انہوں نے ہماری طرف نوٹ بڑھایا اس سے پہلے کہ ہم نوٹ پکڑتے انہوں نے اپنی انگلیاں ڈھیلی چھوڑ دیں، نوٹ کے ساتھ ہماری آنکھیں بھی زمین پر رقص کرنے لگیں، اور محترمہ پردہ اٹھا کر واپس چلی گئیں۔

ہم نے کفن بھی دیکھ لیا اوڑھ کر مگر
وہ ننگ تھے کہ ہم سے چھپا ہی نہیں گیا
باقی آئندہ