آپ کی شادی نہیں ہوئی؟ آپ پر تو جادو ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امید ہے آپ کی شادہ ہوگئی ہوگی اور اگر نہیں ہوئی تو کوئی بات نہیں میری بھی نہیں ہوئی لیکن مجھ پر جادو نہیں ہے، جب کہ اکثر پچیس پرس سے زیادہ کی عمر کی لڑکیوں پر جادو ہوتا رہتا ہے کبھی کبھی اس سے کم عمر کی لڑکی پر بھی ہوجاتا ہے جو تعلیم سے جلد ہی فارغ ہونے والی ہوتی ہے لیکن زیادہ یہ جادو پچیس اور تیس کی عمر کراس کرنے والی خواتین پر جلدی اثر دکھاتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکی کی شادی کی عمر بیس، بائیس اور تئیس برس میں ہی شہنائیوں اور برکتوں کاباعث سمجھی جاتی ہے اور جب یہ عمر گزر گئی تو برکتیں اور شہنائیاں دونوں ہی کوچ کر جاتی ہیں۔

مجھے دو سال ہوئے نوکری کو خیر باد کیے ہوئے، والدہ وزن کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی سے پریشان تھیں، مجھے صاف الفاظ میں یہ سمجھا دیا گیا کے نوکری کرنی ہے تو بھی جم جانا ہے اور نوکری نہیں کرنی تو بھی جم جاتا ہے تمھاری مرضی تم کیا کرنا چاہتی ہو، ہمارے لیے تمھاری صحت ضروری ہے جو حشر اس وقت ہے اس پر نا تو رشتہ ملے گا اور نوکری تو کوئی دے گا ہی نہیں۔

اب آپ ذرا یہ سوچئے یہ ایک بہت با اعتماد اور ترقی پسند رجحان کی مالک لڑکی کو یہ جمہا سیدھا سیدھا پلیٹ میں رکھ کر دے دیا جائے تو کیسا لگے گا؟ کہ بیٹی کھالو بہت دن ہوگئے یہ کھانا اب باسی ہورہا ہے لیکن تمھاری دماغی کلینزنگ کے لئے بہت ضروری ہے۔ ہر لڑکی خود کو پیارا سمجھتی ہے چاہے موٹی ہو یا پتلی، گوری ہو یا کالی، میں بھی کچھ ایسا ہی سمجھتی تھی لیکن میری والدہ نے مجھے وزن کا آئینہ جلد ہی دکھا دیا اور دل دکھا بھی، کہ یہ ماں ہوکر اتنا سنا رہی ہیں جتنا شاید ساسیں سناتی ہیں، ایسا محسوس ہونے لگا کے امی نہیں یہ تو ساس جیسی لگ رہی ہیں، یہ کیسے اتنا برا بھلا کہہ سکتی ہیں مجھے، صرف ایک وزن کی زیادتی پر، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کے ماں باپ کی ذمے داریاں اور پریشانیاں مرتے دم تک ختم نہیں ہوتیں خاص کر جب بچے غیر مستحکم یا غیر شادی شدہ ہوں۔

شادی اچھی زندگی کی گارنٹی نہیں ہوتی لیکن بہرحال ماں اور باپ دونوں کا فریضہ ہوتی ہے اور وہ جلد از جلد اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے، بہرحال قد اچھا اور لمبا ہونے کے باوجود جب جم جاکر ویٹ مشین کی زیارت نصیب ہوئی تو وزن 103 پر پہنچا ہوا تھا، 5 فٹ آٹھ انچ پر یہ وزن بہت زیادہ تھا، دیکھنے میں مجھے اپنی شکل گول مٹول ضرور لگتی تھی لیکن بڑی پیاری لگتی تھی جیسے ہر لڑکی کو لگتی ہے لیکن جوب کے ساتھ جم نہیں ہوسکتا تھا جس کی وجہ سے میں نے خود کو غیر ضروری تکان سے بچانا ہی درست جانا اور صرف وزن کو کم کرنے پر ہی توجہ مرکوز رکھی۔ کچھ لڑکیوں میں ٹینڈینسی ہوتی ہے اور وہ جلدی جلدی وزن بڑھالیتی ہیں اگر احتیاط نہ کی جائے، میرابھی کچھ یہ ہی سلسلہ تھا جم جانے کا آغاز گریجویشن ختم کرنے کے ساتھ ہوا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن جم اور میں ساتھ ساتھ ہیں، کبھی آٹھ مہینے کا گیپ، کبھی ایک سال تو کبھی بارہ مہینے کا گیپ لیکن جم جانا پڑتا تھا اور جب ماں اتنی سخت ہو کے وہ آپ کو آئینہ ہر وقت دکھادیتی ہو تو زیادہ خوش فہمیاں دل میں پالی نہیں جاسکتیں۔

جم میں کئی لڑکیوں سے ملاقات ہوتی کبھی ٹریڈمل تو کبھی الیپٹیکل سائیکلنگ کرتے ہوئے سلام دعا سے خیریت اور خیریت سے حیرت کے سفر کا جلد ہی آٖغاز ہوجاتا ”اچھا آپ کا اتنا، اچھا میرا تو اتنا ہے، چھ مہینے پہلے اتنا تھا، مجھ میں ٹینڈینسی ہے“ اچھا۔ ”میرے تو ہارمونز کا مسئلہ ہے نا!“

ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر تسلی رہتی چلو یہ تو مجھ سے زیادہ موٹی ہیں ان کے سامنے تو میں بہت کم ہوں لیکن سامنے شیشہ بھی تھا، دل میں ندامت بھی ہوتی تھی کے کیوں چاول کھائے، روٹی نہیں کھانی چاہیے تھی، زنگر برگر اور کولڈرنکس کا ہر سپ اس وقت رلارہا ہوتا تھا جب ٹریڈمل کی اسپیڈ بڑھاتی تھی کے شاید کیلوریز زیادہ جل جائیں لیکن اصل میں تو دل جل رہا ہوتا تھا، پچھلے سال اکتوبر سے نئے کپڑے بنانا کا سلسلہ بند کردیا تھا کبھی، منہ بڑا دیکھ کر غصہ آتا تو کبھی کمر دیکھ کر!

میری والدہ کیوں پریشان تھیں مجھے جلد ہی سمجھ آگیا، وزن سے نہ صرف عمر زیادہ لگتی ہے بلکہ جسم کی خوبصورت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے، نوکری سے زیادہ انسان کی صحت اہم ہوتی ہے، میں بہت خوش نصیب تھی کے میری والدہ نے جلدی میری آنکھیں کھول دیں تھیں اور بروقت مجھے سمجھا کر مجھے اس وزن سے نجات دلوا دی جو آئے دن گھٹنوں اور ہڈیوں میں درد کا باعث بنتا تھا۔

ماں کا کردار بیٹی کی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، میں نے نوکری کرنے والی لڑکیوں ک بھی جم آتے دیکھا جو 6 بجے آیا کرتی تھیں کسی کی شادی ہونی ہوتی تھی اور کسی کا رشتہ پکا ہواہوتا تھا، کوئی نا کوئی موٹیویشن تھی ان کی زندگی میں، جو انہیں حوصلہ اور ہمت دیتی تھی کے وہ خود کو مزید خوب تر بنائیں اور ایسی لڑکیوں سے بھی ملاقات ہوئی جو یہ کہتی نظر آئیں، ہم پر بندش ہے، جادو ہے اسی لیے شادی نہیں ہوپارہی لیکن وہ یہ بات بھول جاتی تھیں کے وہ جم آرہی ہیں جس کی بنیاد ان کا بڑھا ہوا جسم ہے اور جن جن لڑکیوں سے اس موضوع کو زیر بحث لایا گیا 25 سال سے اوپر یا تیس سے اوپر تھیں۔

کیا جادو غیر شادی شدہ 25 یا 30 برس سے اوپر کی لڑکیوں پر ہی ہوتا ہے؟ مجھے افسوس ہوا یہ سن کر کے ہم کدھر جارہے ہیں۔ عمر زیادہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے شادی نہ ہونے کی وجہ جادو یا بندش ہے، میں یہ بھی نہیں کہتی کے جادو نہیں ہوتا لیکن ہر لڑکی کی شادی میں دیر جادو ٹونا یا بندش ہو یہ ذہن کا فطور ہے، ہمیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے نظرچرانے اوراحساس ندامت سے بچانے والا درکار ہوتا ہے جو ہمیں سب صحیح کہ کر صرف یہ دلاسا دے دے کہ آپ پر فلاں نے بندش کروائی اور فلاں نے جادو کروایا، تین عورتیں ہیں، چار عورتیں ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا۔

ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی عمریں اور شادی کا نہ ہونا ایک المیہ ہے لیکن اس کی اصل بنیاد جادو ٹونہ نہیں ہے بلکہ ہمارے رویوں اور رجحانات سے پنپنے والے معاشرے کی ترجیحات ہیں، جیسے اچھی تعلیم، اچھا گھر، اچھی نوکری، اچھا اسٹیٹس، اچھا فیملی بیک گراؤنڈ، خوبصورت لڑکی اور خوبصورت لڑکا اور اس خوبصورتی کی بھی مزید کیٹیگریز ہیں جو فیملی در فیملی تبدیل ہوتی رہتی ہیں لہذا ان خرافات سے ذہن کو نکالیے اور خود کو وقت اور ماحول کی ضروریات کے تحت ڈھالیے، شادی جس وقت لکھی ہے اسی وقت ہوگی، چاہے جادو ہوا ہو یا بندش ہوئی ہو شادی ہوکر رہے گی اور اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •