عام معاشرے سے فوج کی دوری کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانہ قدیم سے ہی طاقتور ریاستیں اپنی افواج اور عوام میں واضح حد بندی رکھتی آئی ہیں۔ اس مقصد کے لئے قدیم زمانے میں دیواریں تعمیر کی جاتی تھیں تاکہ فوج کو عام عوام سے دور رکھاجائے۔ بعض فوجی ماہرین کے مطابق عوام اور فوج کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھنے کا یہ تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود فوج کا ادارہ۔ اس سوچ کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ فوج کو معاشرے کے ناہموار اثرات سے بچایا جاسکے۔ ان دونوں میں دوری اگر نہیں ہوگی تو معاشرے میں موجود اَن گنت سماجی، سیاسی اور مذہبی تنازعات فوج کے ادارہ جاتی نظم میں منعکس ہوں گے۔ ہر معاشرے میں اپنی نوع کے ایسے تنازعات اور تضادات موجود رہتے ہیں جو جو فوج کی یکجائی پر اثرانداز ہونے کا احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی خدشے کی بناءپر ازمنہ قدیم سے ریاستی فوج کو ایسے مقام پر رکھا جاتا رہا ہے جہاں وہ عام معاشرتی اثرات سے قطعی الگ رہے۔

فوج کو عام معاشرے سے الگ رکھنے کے خیال کی اہمیت جدید زمانے میں بھی کم نہیں ہوئی۔ جدید دور کی حکومتوں میں بھی اپنی افواج کو معاشرے سے الگ ہی رکھا جاتا ہے۔ فوجی تاریخ دانوں کی بڑی تعداد نشاندہی کرتی ہے کہ قدیم زمانے میں طاقت ور یونانی فوج کو ایک باضابطہ حکمت علی کے تحت عام معاشرے سے الگ رکھنے کا اہتمام یقینی بنایاگیا تھا۔ ہندوستان میں حکمران جن میں مسلمان مغل شہنشاہوں کے علاوہ اسلامی دور سے قبل کے مقامی حکمران بھی شامل تھے، کے پاس ہمیشہ ایک کمزور اور ناقص فوجی طاقت رہی جس کی وجہ یہ ان کے پاس ایسی کیسی حکمت عملی کا فقدان جو افواج کو عام معاشرے سے جدا رکھ پاتی۔

سیاسی وسماجی استحکام برقرار رکھنے کے لئے زمانہ قدیم سے چلے آنے والے اس تصور کو دور جدید میں بھی ضروری گردانا گیا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایاجاتا ہے کہ خود جدید زمانے کے فوجی منصوبہ ساز بھی معاشرے اور فوج میں مناسب دوری اور فاصلے کو ضروری تصور کرتے آئے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی طاقتور فوج کا تشخص ابھارنے کے لئے لازم ہے کہ سماجی، سیاسی اور مذہبی بکھیڑوں سے اس کا دامن پاک صاف رہے جو ہر معاشرے میں بہرحال موجود ہوتے ہیں۔

پاکستان کے معاملے پر غور کریں : فوج براہ راست تیس سال یہاں حکمران رہی ہے۔ ان برسوں میں لامحالہ یہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا کہ معاشرے اور فوج میں دوری برقرار رہ پاتی۔ معلوم نہیں ان تیس برس پر محیط براہ راست فوجی حکمرانی کے اثرات ادارہ جاتی نظم پر کیا مرتب ہوئے کیونکہ فوج سے متعلق معلومات پر مکمل اجارہ ہے۔ پاکستانی فوج پر تحقیق کرنے والے ملکی اور غیرملکی مصنفین کی تصانیف کے مطالعہ سے بمشکل ہی جان پاتے ہیں کہ ان تیس سال میں داخلی امور کار اور یکجائی کے پہلو سے کیا اثرات رہے؟

میں اپنے استدلال کو مختصرا بیان کرتا ہوں : ملک کے جس کسی بھی حصے میں فوج کو داخلی سلامتی کی ذمہ داری پر مامور کیاگیا وہاں علیحدگی پسندی کی تحاریک نے زور پکڑا۔ 1980 ءمیں جب پاکستان کی فوج سندھ کے اندر داخلی سلامتی کے فرائض انجام دے رہی تھی، اس وقت علیحدگی پسندی کے جذبات ابھرے حتی کہ ہمیشہ مضبوط وفاق کی بات کرنے والی پیپلز پارٹی نے بھی سندھی شناخت اور قومیت پرستی کی باتیں شروع کردیں۔

مشرف دور میں جب فوج اور اس کے ماتحت نیم مسلح فوجی دستے داخلی سلامتی کے فرائض کی انجام دہی پربلوچستان کے مختلف حصوں میں تعینات ہوئے، وہاں کی سیاسی وسماجی زندگی میں علیحدگی پسند سیاسی اور عسکری گروہ ایک حقیقت بن کر ابھرنے لگے۔ 1990 ءمیں فوج کو داخلی سلامتی کے ہدف کے ساتھ کراچی میں تعینات کردیاگیا، تب سے کراچی کا اردو بولنے والا وہ لسانی طبقہ جو مضبوط مرکز کا حامی تھا، اس نے کراچی کو ہانگ کانگ بنانے کی بات شروع کردی۔

تازہ ترین مثال ہمارے سامنے قبائلی علاقوں میں پشتو بولنے والوں کی ہے جہاں قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے حصوں میں داخلی سلامتی کی خاطر فوج کی تعنیاتی عمل میں آئی۔ یہاں پھر سے ہم نے اس گروہ کا ابھرنا دیکھا جو بیان کردہ سرکاری پالیسی کے مطابق اگرچہ علیحدگی پسند نہیں لیکن نعرہ بازی، بیان بازی اور تقاریر میں فوج جیسے ادارے کی مخالفت جھلکتی ہے جو عوام کی نظر میں پاکستان میں مرکزی حکومت کی مضبوط علامت ہے۔

اس حقیقت کوملحوظ نظر رکھتے ہوئے کہ آرمی داخلی سلامتی کا فرض اس وقت ایک خاص عالمی ماحول میں انجام دے رہی ہے۔ قبائلی سرحدی علاقوں سے متصل افغانستان میں امریکی اور مغربی افواج کے علاوہ ان کے سیاسی ہم مناصب موجود ہیں جو افغانستان میں داخلی سلامتی کے امور پر فائز ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان فوج سے اشتراک عمل کررہے ہیں۔ اس تناظر میں قبائلی علاقہ جات میں فوجی کارروائیوں پر اٹھنے والی مخالف آواز بین الاقوامی سطح پر جارہی ہے۔

یہ حقیقت بھی ہمارے مدنظر ہے کہ افغانستان میں گزشتہ چھ سے آٹھ سال میں مغربی افواج اور ان کی سیاسی اور سفارتی موجودگی ہے جن کے پاکستان فوج کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں یا کم ازکم افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے دونوں میں شدید اختلافات ہیں۔ اس بناءپر قبائلی علاقہ جات میں فوجی کارروائیوں کے مخالفین کی آواز سنی جانے کا احتمال ہے۔

پی ٹی ایم کے لیڈرز کی طرف قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں لوگوں کا مائل ہونا اور جلسے جلوس کی طرف رغبت اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ ان کی حمایت موجود ہے۔ مانند دیگر اس معاملے میں بھی وجہ مرکزی حکومت کے خلاف نفرت کی موجودگی اور فوج کی عوامی زندگی میں موجودگی ہے۔ پختون پٹی میں فوج کی موجودگی کی بناءپر اس کا بخوبی اندازہ کیاجاسکتا ہے۔

مشکلات کے شکار علاقوں میں فوج کی موجودگی عجب نہیں اور اس کی کارگزاری میں دقتیں درپیش ہوتی ہیں جیساکہ داخلی سلامتی پر دنیا کے کسی بھی حصے میں مامور کسی بھی فوج کا رویہ شرپسندوں سے نمٹنے میں سخت گیر ہی ہوتا ہے۔ کارروائی کے دوران ضمنی نقصانات (کولیٹرل ڈمیج) ایسے حالات میں ہونا انہونی بات نہیں۔ سخت گیری افواج کے خلاف مقامی جذبات کو انگیخت کرنے کی وجہ بنتی ہے۔

پی ٹی ایم کے لئے عدم برداشت اور سختی کا حکومت اور فوج کی جانب سے مظاہرہ عندیہ ہے کہ پاکستانی حکومت کو یقین ہے کہ ان علاقوں میں گزشتہ دس سے پندرہ سال سے جاری فوجی کارروائیوں کی پشتون آبادی کی اکثریت مکمل حمایت کرتی ہے۔ لہذا انہیں پی ٹی ایم پر غیرملکی سرمایہ سے چلنے والی تنظیم کا الزام عائد کرتے ہوئے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

یہ ہماری سویلین حکومتوں کی مکمل ناکامی ہے کہ عسکریت پسندوں سے ان علاقوں کو صاف کرنے کی فوجی کارروائیوں کے بعد وہ یہاں ایک موثر انتظامی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں اور عالمی مسلمہ اصول کو نظرانداز کیا گیا کہ فوج کو عام معاشرے سے الگ رکھا جائے اور نتیجتا خطے میں فوجی طاقت کے استعمال کے مخالف سیاسی گروہوں کی تنقید کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیا۔ اس وقت ک پی ٹی ایم علیحدگی پسند گروہ کے طورپر سامنے نہیں آئی تھی۔ یہاں حکومت پاکستان کو درج ذیل دو غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔

(الف) پی ٹی ایم کے ساتھ یہ برتاؤ نہ کریں کہ جیسے اس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی عوامی حمایت نہیں ہے : قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں جس طرح عوام نے ان کے جلسے جلوسوں میں شرکت کی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ پی ٹی ایم کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اگر حکومت پی ٹی ایم کو غیرنمائندہ تنظیم قرار دینے کی زبردستی کرے گی تو اس سے صورتحال کے مزید خراب ہونے اور ان کی قیادت کے رویے میں مزید سختی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

(ب) پی ٹی ایم کو غیرملکی سرمایہ سے چلنے والے گروہ کے طورپر لینا بند کریں : یہ حقیقت کہ پی ٹی ایم کی قیادت نے اب تک خود کو علیحدگی پسندی سے الگ رکھا ہے، اس امر کا واضح اظہار ہے کہ علاقائی طاقتوں میں سے کوئی غیرملکی طاقت ان کی پشت پرنہیں۔ اگر حکومت پی ٹی ایم کو غیرملکی سرمایہ کی بنیاد پر چلنے والا گروہ گردانتی رہے گی تو پی ٹی ایم قیادت مزید تنہائی کا شکار ہوگی جسے سے خطے کے مزید عدم استحکام سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے اور سماجی وشہری رخنہ اندازی کو مزید ہوا ملے گی۔

ہماری سیاسی اشرافیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں ہمیشہ موجود رہنے والے سماجی، سیاسی اور مذہبی تنازعات سے فوج کو الگ تھلگ رکھے۔ ستم ظریفی ہے کہ ہماری قومی زندگی میں یہ بحث کبھی نہیں ہوتی کہ اس بناءپر فوج جیسے ادارے پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •