پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

جس کا کوئی انتظار نہ کر رہا ہو۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی ایک سرخوشی کا احساس میرے سارے بدن میں دوڑ گیا۔ خوشی جو دست برداری سے حاصل ہوئی۔ میرے قدموں کی چال دھیمی ہوگئی۔ کندھے پر لٹکا ہوا بستہ بھی جیسے لہرانے لگا۔ رکتا رکاتا میں آگے بڑھنے لگا۔ غسل خانے گیا، منھ دھویا، بال بنائے، رومال سے چہرہ رگڑتا ہوا واپس آکر سامان لانے والی بیلٹ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میرا سامان ابھی نہیں آیا تھا۔ مجھے اطمینان تھا کہ دیر نہیں ہورہی۔

باہر میرے نام کی تختی لیے ہوئے کھڑا نہیں ہوگا۔ کوئی باہر نکلنے والے ہر مسافر سے پوچھ نہیں رہا ہوگا کہ کہیں وہ میں تو نہیں۔ کسی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میں میری بکنگ نہیں ہے۔ اور نہ کوئی میرا نام آمد کے اندراج کے بہی کھاتے میں لکھنے بیٹھا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں دوست احباب کو خبر نہیں کہ میں یہاں ہوں۔ میں آرام سے نکلوں گا اور سوٹ کیس دھکیلتا ہوا باہر آجاؤں گا۔

مگر کوئی ہے۔ باہر آتے ہی ایک آدمی لپکتا ہوا میری طرف آتا ہے۔ جیسے وہ اتنی دیر سے میرا انتظار کررہا ہو۔ وہ قریب آتا ہے تو میں چونک پڑتا ہوں۔ ”گاڑی چائیدی اے؟ “ وہ میری طرف نظریں جما کر پوچھتا ہے۔

سر ہلا کر میں اسے اضطراری طور پر منع کر دیتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ یہاں سے جانا تو ہے۔ پھر ایک اور آدمی اس سے بھی زیادہ لپک کر آتا ہے۔

 ”پنڈی تک کا کیا لوگے؟ “ میں اس سے پوچھ بیٹھتا ہوں۔

 ”جو مناسب ہے“ وہ جواب دیتا ہے۔

 ”مناسب کیا ہوتا ہے؟ “ میں جواب میں پوچھتا ہوں اس لیے کہ میں اس سے پہلے کئی دفعہ اس لفظ سے دھوکا کھا چکا ہوں۔ مناسب۔ ہم اس لفظ کی وضعی تعریف کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ سوٹ کیس میرے ہاتھ سے لے کر چل پڑتا ہے۔

اب وہ میرے آگے آگے چل رہا ہے۔

اسلام آباد کا ایئرپورٹ اب بھی نیا ہے اور ڈبّے میں سے تازہ تازہ نکلنے والی چیزوں پر جیسے پیکنگ والے مواد کے ٹکڑے لگے رہ جاتے ہیں، ایک چمک اور نئے پن کی خوشبو ہوتی ہے، وہ در و دیوار سے نظر آتی ہے۔ گاڑی آگے کہیں کھڑی ہے کہ اس سے نزدیک تر لانے کی اجازت نہیں۔ ہم وہاں تک جاتے ہیں۔ صرف عمارت کا ساز و سامان ہی نہیں۔ ضابطے بھی نئے نئے ہیں۔ جب پرانے ہوں گے تب تک ہم ان کے عادی ہوجائیں گے یا بھول جائیں گے۔ میں گاڑی والے کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہوں۔

صاف ستھری گاڑی اور قاعدے قرینے کا آدمی مجھے اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوا۔ میری نظریں کھڑکی کے باہر جم گئیں اور میں بدلتے منظر دیکھنے لگا۔ خالی سڑکوں کے دونوں طرف خالی علاقے۔ بیچ بیچ میں کھیت اور مکان۔ چمکتی ہوئی سرمئی سڑک جیسے خاموشی اور سناٹے کے بیچ میں سے گزر رہی ہے۔

خاموشی میں اپنے اندر جھانکتے رہنے کا یہ کچا کانچ یک لخت ٹوٹ جاتا ہے۔ گاڑی والا آدمی موبائل فون پر بات کررہا ہے۔ ٹوٹی ہوئی خاموشی کے کانچ اس کی آواز کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ ہندکو بول رہا ہے، میں نے اندازہ لگایا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چند الفاظ کانوں میں پڑنے لگے، سمجھ میں آنے لگے۔ اسپتال۔ سی ٹی اسکین۔ ڈاکٹر نی۔ داخلہ۔ فیس۔ اوہو، میں اپنے ماضی کے ایک اور حصّے میں پہنچا دیا گیا، اپنی مرضی کے خلاف۔

اس لیے میں نے پوچھ لیا، کیا ہو گیا؟

وہ چند منٹ کے اندر اپنی پوری ابتلا سنا دینے کے لیے بے تاب ہے۔ بڑی بیٹی کی عمر ستائیس سال ہے۔ زچگی کے بعد ٹانگ میں درد رہنے لگا۔ بہت علاج کیا۔ ڈاکٹروں نے ٹیسٹ بہت کروائے۔ الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین۔ درد میں فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی سمجھ میں بس اتنا آ رہا ہے کہ ڈاکٹرنی جو کہہ رہی ہے، اس پر عمل کرتے رہنا ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک معروف اسپتال کا نام لیتا ہے۔ پھر بے بس اور وضاحت طلب نظروں سے گاڑی کے بیک ویومرر میں میری طرف دیکھتا ہے۔ میں نظریں جُھکا لیتا ہوں۔ میرے پاس اس سے کہنے کے لیے کیا الفاظ ہیں؟

راستہ پوچھتے پوچھتے مجھے وہاں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں کا پتہ میں نے گاڑی والے کو بتا دیا تھا اور اس نے حد درجے اعتماد سے کہا تھا، اسے پتہ ہے۔ پنڈی کا کونہ کونہ اس کا دیکھا ہوا ہے۔ چناں چہ پوچھ پوچھ کر راستہ طے کیا۔

دو عمارتوں کے درمیان ایک گلی اور اس گلی سے نکلنے والی ایک اور گلی جو آگے سے بند تھی۔ عمارت پر کوئی بورڈ نہیں تھا مگر باہر سے نظر آرہا تھا کہ اس میں کئی منزلیں ہیں اور بہت سے کمرے۔ دوبارہ فون کرنے پر ایک لڑکا کچھ ڈھونڈتا ہوا آیا اور سر کا اشارہ کرتا ہوا سیڑھیوں کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں نے گاڑی والے کا نمبر لیا۔ بیٹی کی خیریت پوچھنے کے لیے۔ اور بھاری قدموں کے ساتھ اس سنسان عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ وہ لڑکا اتنی دیر میں غائب ہوچکا تھا اور یہ میں اندازہ لگا کر آگے چل رہا تھا کہ اس طرف تو گیا ہوگا۔

تیسری منزل کے ریسپشن پر وہ مجھے نظر آیا۔ ”مجھے گاڑی کا انتظار کرنا ہے۔ فلاں صاحب سے بات ہوئی تھی۔ انھوں نے یہاں کا پتہ دیا تھا۔ “ میں نے اپنا سارا مقصد اس کے سامنے رکھ دیا، مبادا وہ پھر غائب ہوجائے۔

 ”آپ کو کمرہ دکھا دیتا ہوں۔ شناختی کارڈ دیں، بکنگ کر دیتا ہوں۔ “ وہ بھی اسی قدر تیزی میں ہے۔

کمرہ؟ بکنگ؟ مجھے تو گاڑی کا انتظار کرنا ہے۔ دو گھنٹے۔ میں سمجھ نہیں پاتا۔ وہ بھی سمجھا نہیں پاتا۔ ایک لاحاصل کشمکش کے مختصر دورانیے کے بعد میں سامنے والے کمرے میں بھجوا دیا جاتا ہوں اور فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

آپ فریش ہوجائیں۔ گاڑی نو بجے جائے گی، مجھے جواب ملتا ہے۔

نوبجے؟ اس میں تو بہت دیر ہے۔ آپ نے تو سات بجے کہا تھا۔ میں شاید بچّوں کی طرح ٹھنٹھنانے لگتا ہوں۔

سات بجے چلے گی، جواب ملتا ہے۔ پھر فون بند ہو جاتا ہے۔

اسی رسیپشن تک جاتا ہوں اور چائے منگوا لیتا ہوں۔ پھر سبزی اور روٹی شاید سب سے بڑی عقل مندی تھی جو میں نے اس دوران کی اس لیے کہ اگلے دن اس کے علاوہ کھانے کو اور کچھ نہیں ملنا تھا۔ لیکن اگلے دن کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ ہوتا ہے جو مجھے بھی پتہ ہوتا؟

دروازے پر دستک۔ وہ آدمی آتا ہے جس سے میں نے فون پر بات کی تھی۔ اب میں آدمیوں کو گڈمڈ کرچکا ہوں۔ پیسے دینے ہوں گے ایڈوانس وہ مجھے بتاتا ہے۔ آپ کو فرنٹ سیٹ دی ہے۔ اس کے اتنے ہوں گے۔

یہ گلگت تک ہے۔ اس کے آگے آپ جائیں گے، اتنا ٹائم لگے گا اور اتنے پیسے۔ وہ رقم بتاتا ہے اور میں حیران رہ جاتا ہوں۔

مجھے یہ سب تفصیلات طے کر لینا چاہیے تھیں۔ اب میرے پاس اور کیا راستہ ہے۔

میں بستر پر لیٹ جاتا ہوں۔ آنکھوں پر سے ہاتھ اٹھاتا ہوں اور سامنے والی کھڑکی کے اکتا دینے والے منظر۔ جس میں دوسرے مکانوں کی چھتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ میں دن کی دھوپ ڈھلتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں۔

چائے منگوا کر میں نے غلطی کی۔ چائے تو جیسی ہونی تھی، ویسی تھی۔ ایک پیالے میں شکر کے ساتھ نمک دانی بھی رکھی ہوئی تھی۔ اوہ، مجھے کچھ یاد آیا۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ گلگت یہاں سے آگے میری منزل ہے جہاں بہت سے لوگ چائے میں نمک کا ڈھیلا گھماتے ہوئے نظر آنا تھے۔

پیسوں کی فکر دل میں لیے میں پھر کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں اور اپنے آپ کو لعنت ملامت کرنے لگتا ہوں۔

یہ جان بوجھ کر پورا فائدہ اٹھا رہا ہے اور میں دیکھتے بھالتے لُٹ رہا ہوں۔ میں کراچی سے آیا تھا اس لیے لٹنے کے لیے تیار تھا۔

بلکہ اس کا عادی تھا۔

نہیں۔ میں اپنے کو نفرین بھیجتا ہوں۔ تم پیسے دکھا رہے ہو کہ تمہارے پاس خرچ کرنے کے لیے ہیں۔ اس لیے تمہارے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔ لٹنے کی دعوت تو تم خود دیتے ہو۔ اپنے آپ کو ڈانٹ لیا تو پھر ذرا دیر کے لیے اونگھ گیا۔ وقت ہونے لگا تو نیچے جا کر کھڑا ہوگیا کہ گاڑی کب آئے گی۔

گاڑی کو آنا تھا اور گاڑی آ گئی۔ سڑک کے اس طرف کھڑی ہے، وہ والی۔ اس نے اشارہ کیا اور میرا سوٹ کیس سڑک کے دوسری طرف لے آیا۔

گاڑی کے اندر دو خواتین بیٹھی تھیں۔ دو لیڈیز، یہ پیچھے کی سیٹ پر بیٹھیں گی۔ مجھے بتا دیا گیا تھا۔ لیڈیز بھی ایک سے دو ہوگئیں اور ان کے ساتھ ایک بچّہ بھی تھا جو سو رہا تھا۔ سامان رکھا گیا، ہمیں مقررہ سیٹوں پر بٹھا دیا گیا اور سفر شروع۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

جو آدمی گاڑی کے سارے معاملات طے کر رہا تھا، وہ ایک طرف ہو گیا اور ایک دبلے پتلے نوجوان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کا قصد کیا۔

 ”یہ گاڑی چلائے گا؟ “ میں نے کچھ شک ظاہر کیا۔

جواب میں مجھے بتا دیا گیا کہ یہ بہت عرصے سے گاڑی چلا رہا ہے اور اس کا کام یہی ہے۔ سوال زیادہ پوچھنے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر بھی اپنی عادت سے مجبور ہوکر میں نے اس نوجوان سے وہی معمول کے سوالات کیے جو ہر جگہ کیے جاتے ہیں، نام، تعلیم اور پھر پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔

رات پھر گاڑی چلاؤ گے، تمہیں نیند تو نہیں آجائے گی؟ گفتگو جاری رکھنے کے لیے میں نے سوال کیا۔

دو آدمی ہیں ناں، اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

مجھے تو چلتی گاڑی میں بہت نیند آ جاتی ہے، میں نے اپنی مجبوری بتائی۔

 ”آپ کو سونے نہیں دوں گا۔ آپ کو جاگنا پڑے گا۔ “ اس نے مجھ پر میرا فریضۂ منصبی واضح کردیا۔

مقام شکر ہے کہ مجھے سارے وقت ان ڈرائیور صاحب کی بیداری کا کام نہیں کرنا پڑا۔ وہ مستقل ٹیپ لگائے رہا۔ پہلے ہندوستانی گانے پھر تسبیح۔ اور ان کے علاوہ چیونگم بھی چباتا رہا۔ جب ہم گلگت اترے تو میں نے دیکھا اس نے قمیض کے دامن میں سرخ رنگ کی انرجی ڈرنک بھی رکھی ہوئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم ان میں سے کون سی شے سب سے زیادہ کارگر ہوئی۔ بہرحال کام چل گیا۔

چلتی کا نام واقعی گاڑی ہے۔

نیند اور اندھیرے میں چھوٹے بڑے شہر گزرتے گئے۔ حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ۔ رمضان کے آخری عشرے کی وجہ سے دوکانیں رات گئے تک کُھلی ہوئی ہیں اور بازار میں لوگ چلتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ عید آنے والی ہے، اسی لیے تو گاڑیاں نہیں مل رہی ہیں۔ گاڑی والے نے مجھے پہلے سے انتباہ کردیا تھا۔

لوگ فیملی سے ملنے جا رہے ہیں، اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ آپ کی فیملی کہاں ہے؟ اس سے رہا نہ گیا تو اس نے براہِ راست سوال کر لیا۔

عصمت چغتائی کا مضمون ایک شوہر کی خاطر یاد آگیا۔ اکیلے دکیلے سفر کرنے والوں سے لامحالہ اس طرح کے سوال کیے جاتے ہیں۔ میں اس معاملے میں نیا ہوں اس لیے کوئی گھڑا گھڑایا جواب نہیں دے پاتا۔

 ”سب ہیں۔ دو بیٹیاں ہیں، اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ “ میں بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

اتنا کافی نہیں ہے۔ پچھلی سیٹ والی خاتون اپنا تعارف کراتی ہیں اور میرے بارے میں تفصیلات پوچھتی ہیں۔ ان کا تعلق گلگت سے ہے۔ کراچی کے ایک بینک میں افسر ہیں اور اپنی امّی سے ملنے کے لیے جارہی ہیں۔

شمالی علاقوں کے پڑھے لکھے افراد کی طرح وہ دونوں آپس میں ساری باتیں اردو میں کرتی ہیں۔ بس بچّہ جب اٹھ جاتا ہے تو اس سے گفتگو انگریزی میں ہوتی ہے۔ وہ کسی نے کہا تھا ناں کہ شہروں کے لوگ اپنے کُتّوں سے اور بچّوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔

بچّہ ٹیڑھا منھ کرکے انگریزی میں فرمائش کرتا ہے اور حلق پھاڑ کر چیختا ہے۔ شکر ہے اس کی بیداری کے وقفے کم سے کم رہتے ہیں۔

یہ لوگ ایبٹ آباد میں کھانا کھاتے ہیں مگر بچے کو ٹھنڈی سیون اپ نہیں ملتی تو مانسہرہ میں بھی رک کر پوچھتے ہیں۔ مانسہرہ، سیون اپ، ٹھنڈی، ہیں؟ آگے چلو۔ اب میری نیند کے جھونکے بھی لمبے ہونے لگے۔

صبح سحری سے پہلے بشام آجاتا ہے۔ اس کا نام آتے ہی میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے لیے دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔ یہ کون سی جگہ ہے دوستو، یہ کون سا دیار ہے۔ میں زیرلب دہراتا ہوں اور اس کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر رات کے وقت کھلتے ہوئے بازاروں کے ایک قصباتی شہر کے علاوہ کچھ نہیں پہچان پاتا۔

بازار سے گزرتے ہوئے پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل، شہر کا مرکزی تھانہ مجھے نظر آتے ہیں۔ تھانہ دو منزلہ عمارت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ شہر میں جابجا پولیس اور ملٹری کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ بازار جہاں رکنے لگتا ہے، وہاں سے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک حصّہ اوپر سوات کو چلا جاتا ہے اور سیدھی سڑک آگے گلگت کو، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔

ہوٹل کے کمرے سے اس سڑک کو دیکھا کرتا تھا، اداسی کے ساتھ۔ پھر وہ گاڑی بڑھ کر اسی ہوٹل کے سامنے رک گئی۔ ہم سب اندر آگئے۔ ہوٹل کی سیڑھیاں، ایک اجاڑ سا لان اور ہوٹل کا بڑا کمرہ عین مین اسی طرح تھے۔ بہت سے لوگ وہاں موجود تھے اور سامنے کئی گاڑیاں، بسیں کھڑی ہوئی تھیں۔ آگے کا سفر کرنے والے یہاں سحری کے لیے وقفہ کر رہے تھے۔

اتنے لوگوں کی وجہ سے ہر چیز کا صفایا ہوچکا تھا۔ برتن خالی تھے مگر دوبارہ مانگنے پر چائے آگئی اور اس وقت گرم چائے اچھی لگی۔ میں نے چائے پی کر جائزہ لیا۔ ہوٹل کی عمارت کا سامنے والا حصہ روشنی میں نہلا دیا گیا تھا مگر کمرے کا بدرنگ قالین اسی طرح تھا، شاید وہی تھا۔ 2005 ء کے تباہ کن زلزلے کے بعد مجھے یہاں تعینات کردیا گیا تھا اور میں نے جتنا وقت گزارا، یہ ہوٹل میرا بے قاعدہ دفتر بنا رہا۔ میں نے رسیپشن پر بیٹھے ہوئے آدمی سے ہاتھ ملایا مگر اس جگہ سے اپنی پچھلی وابستگی کی داستان سنانے سے گُریز کیا۔ اس طرح کے قصّوں سے لوگ اکتا جاتے ہیں اور اسے کیا دل چسپی ہوسکتی ہے کہ میں اتنے برس پہلے وہاں آیا تھا۔ نئے مالک نے کچھ عرصہ پہلے ہوٹل خریدا ہے، اس نے بتایا۔

ہوٹل کا یہ حال شاید منافع میں مل گیا، میں نے دل میں سوچا اور چائے کی خالی پیالی جگہ پر رکھتے ہوئے باہر آنے لگا۔

چائے کے کتنے پیسے، میں نے اس سے پوچھا۔

ایک چائے کا کیا پیسہ لینا، اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے رخصت کیا اور میں بھی سلام کرکے باہر آگیا۔ گاڑی سفر کے اگلے مرحلے کے لیے تیار تھی۔

جس طرح گنگا کے اشنان سے پہلے بنارس کی گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح گلگت سے پہلے چیلاس آتا ہے۔ یہ مجھے معلوم تھا۔ طول طویل جو کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتا، بے رنگ وبو، گرد آلود، اکتاہٹ کا مارا۔ لیکن شاید میں چیلاس کے ساتھ بے انصافی کررہا ہوں۔ طویل سفر کا آخری حصّہ یوں بھی بوجھل لگتا ہے۔ پھر کوہستان اور چیلاس کی وضع قطع شانگلہ سے بھی مختلف ہے اور گلگت سے بھی۔ ایسی جگہوں کا اپنا کھردرا مزاج ہوتا ہے اور کبھی ان کو دیکھنا چاہیے۔ لیکن آج نہیں۔ آج تو جی چاہ رہا تھا کہ یہ مسافت کسی طرح ختم ہو۔

گاڑی کے سفر میں مستقل چلنے والے گانے دہرا دہرا کر گھس گئے تھے، پچھلی سیٹ کی مسافر خواتین کا تبادلۂ خیال اونگھنے لگا تھا۔ سڑک کے کنارے جو چائے خانے نظر آتے تھے، سب بند تھے۔ رمضان کے مہینے میں کوہستان کا سفر کررہا ہوں، میں نے اس ڈر سے پانی کی بوتل کو مُنھ بھی نہیں لگایا۔ لیکن ہوٹل بند ہونے سے ایک نئی مشکل کا اندازہ ہوا۔ ’باتھ روم‘ جانے کے لیے بھی آپ کو افطاری کا انتظار کرنا پڑے گا، میں یہ سوچ کر کانپ اٹھا۔

اس علاقے میں تو یہ بات بھی نہیں کہ ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے۔ اس طرح کا قصّہ سفر میں میرے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

چٹانوں کی اوٹ سے میرا کام تو چل گیا مگر مجھے اندازہ ہے کہ خواتین کو خاصی مشکل پیش آئی ہوگی۔

سست رو، مٹیالا سا دریا ہمارے ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا۔ اس میں تُندی تھی نہ شورش۔ ایسے ہی ایک مقام پر چھوٹا سا بورڈ نظر آیا۔ دیامر۔ بہت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا لیکن کچھ ہو تو نظر آئے۔ ایک وقت تھا کہ دیامر کا نام ہمارے ہر قومی مسئلے کے حل کے طور پر لیا جاتا تھا۔ اب اتنے دن ہو گئے، نام بھی سننے میں نہیں آتا۔ جیسے وہ کیا جانور ہوتا ہے جس کے سر کے سینگ نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔

دیامر کے نام سے چونک اٹھنے سے تو بہتر تھا میں سوتا ہی رہتا۔ میں ڈرائیور سے ایک ہزارویں دفعہ پوچھتا ہوں، اب گلگت کتنی دور رہ گیا ہو گا؟

اس کا جواب مجھے سوال پوچھنے سے پہلے معلوم ہے۔

تھوڑی دیر بعد، وہ جیسے مجھے طفل تسلّی دینے کے لیے کہتا ہے۔

ایک اور آدمی سے تصدیق ہو گئی کہ میں ابھی راستے میں ہوں۔