پاکستان آرمی ایوی ایشن: ماضی، حال اور مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی جنگوں کا تذکرہ جھڑتا ہے، تو ذہن میں جنگ 65 اور 71 کی جنگوں میں فلمائے گئے مناظر ذہن میں آجاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی شہداء کا ذکر خون گرمانے لگتا ہے، انہی جنگوں میں پاکستان آرمی ایویشن نے اپنا لوہا منوایا، حا لانکہ یہ مختصر سا فضائی بیڑا دشمن کا عملاً کوئی حربی کردار ادا نہیں کرسکتا تھا، لیکن اس کی خدمات جنگ میں کسی مسلح دستے سے کسی طور کم بھی نہیں تھیں۔

آرمی ایوی ایشن اپنے غیر مسلح کردار میں بھی پاک فوج کے شہیدوں کی میتوں، زخمیوں کے میدان جنگ سے انخلا، میدان جنگ میں تازہ دم افواج اور سازو سامان کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر پر خطر جاسوسی مشن (جن میں اکثر مشن بغیر کسی حفاظتی حصار کے پاک آرمی ایویشن نے مکمل کیے ) کو یقینی بنایا، 1979 میں جب روسی مسلح افواج برادر اسلامی ہمسائے افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کی سلامتی بھی براہ راست خطرے میں آگئی، تاہم وہی وقت مسلح افواج کو نئے سازو سامان سے مسلح کرنے کا بھی تھا، امریکا نے وقت کو غنیمت جانا اور پاکستان کو اتحاد کی پیشکش کی، یہ پیشکش مونگ پھلی کے دانو ں ( جو محض 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے ) کی حیثیت رکھتی تھی کیونکے کارٹر انتظامیہ کو صورتحال کی سنگینی کا صحیح انداز ہ ہو ہی نہ سکا تھا۔

تاہم ریگن انتظامیہ نے ایک معقول رقم ( 3.2 بلین ) جس میں فوجی سازو سامان بھی شامل تھا پاکستان کو پیشکش کی، پاکستان کوئی امیر صنعتی ملک تو نہ تھا ( نہ اب ہے ) پاکستان ہمیشہ سے ہی زراعت پیشہ ملک ہی رہا پھر اس کی سرحدوں پر مشرق سے ہمیشہ خطرہ ہی رہا، لیکن یہ خطرہ اس بار مشرق سے نہیں بلکہ مغرب سے تھا پاکستان نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی پیشکش قبول کرلی، فوجی سازو سامان میں جن دو چیزوں کا خاص طور پر پاکستان نے تقاضا کیا ان میں جنرل ڈائنامکس کے ایف 16 اور بیل کمپنی کے کوبرا گن شپ (Cobra Gunship ) قابل ذکر تھے۔

ایف 16 کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ ایف سولہ ایک کامیاب لڑاکا طیارے کی شہرت رکھتاہے، لیکن کوبرا کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، یہ کیسے وجود میں آیا، اس کے بنانے میں کیا سوچ کار فرما تھی، اس کی اہلیت کیا ہے، اس کی آپریشنل ہسٹری کیسی رہی، اور آگے مزید اس میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں، مزید اس کے کاؤنٹر پارٹس یا اس میدان کے اور کون سے کھلاڑی اس وقت موجود ہیں جو ٹینک شکن کا کردار (Anti Tank role)، قریب (Close air support) سے بری فوج کی مدد کرنیکی صلاحیت رکھتے ہیں ان میں مزید خوبیا ں اور خصوصیات کیا ہیں، قارئین کی کے لیے پیش ہے

کوبرا گن شپ

کوبرا گن شپ / اینٹی ٹینک ہیلی کاپٹر کیسے وجود میں آیا؟ وہ کیا حالت تھے جن میں اس کی ضرورت کا احساس ہوا، یقینا ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اور بیل کوبرا (Bell Cobra) اس کی شاندار مثال ہے، ویتنام کی جنگ میں امریکی میرینز (USMarines ) کو ایسے ہتھیار کی کمی شدت سے محسوس ہوئی جو ان کے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ پرواز کرکے نہ صرف ان کی حفاظت کرے بلکہ ان کے قریب سے پروازکرتے ہوئے دشمن کو تباہ بھی کرے، جن لوگوں کو ویتنام کی جنگ سے متعلق ڈاکومینٹری فلمز یا فیچر فلمز دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو وہ میری اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کے ان فلموں میں سیاہی مائل ٹھوس ہیلی کاپٹر نظر آتا ہے جو فوجیوں کو محاذ پر اتار کر واپس چلا جاتا ہے، یہ مشہور اور معروف ہیلی کاپٹر بیل کمپنی کا یو ایچ ون ( BellUH1) ہیلی کاپٹر ہے، جس نے اس جنگ میں نہایت عمدگی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، اس ہیلی کاپٹر کو مسلح کردار میں استعال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن مسلح کردار یعنی بطور گن شپ وہ خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی جو جنگ کے اس میدان میں درکار تھیں۔

جنگ میں آزمودہ سپاہیوں اور افسروں نے تصور پیش کیا کہ کیوں نہ ایک نیا ہیلی کاپٹر تخلیق کیا جائے جو جنگ میں افواج کی قریب سے مدد کرسکے اور اس دوران پرواز توپخانے کا کردار بھی نبھائے۔ ابتداء میں یو ایچ ون کی حصوں میں ترمیم کرکے ایک نیا ہیلی کاپٹر وجود میں لایا گیا، جس کو ماڈل 209 اے ایچ 1 کو برا کا نام دیا (کوبرا نام چنے کی وجہ بہت آسان ہے، کوبرا زمین کے انتہائی قریب رہ کر بھی اڑ سکتا ہے گویا ایک سانپ جو زمین پر رینگ رہا ہو ) جس سے دشمن کے ٹینکوں، توپخانے اور دیگر ٹھاکانوں کو نشانہ بنانا اس کے لیے نہایت آسان ہے، بیل کوبرا نے پہلی پرواز 7 ستمبر 1965 کو ایڈورڈ ائیر بیس سے کی۔ کامیاب پرواز کے بعد کوبرا کی بقاعدہ پیداوار شروع کی گئی، ساتھ ہی ساتھ ماڈلز میں تبدیلوں کا سلسلہ بھی چل پڑا وہ اہم تبدیلیا ں ایک دلچسپ باب ہیں

جیسا تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کوبرا میں ابتدائی زمانے میں دو عدد توپیں استعمال کی گئیں جن میں ایک گھومنے والی و لکن کینن (Rotary Vulcun Canon ) استعمال ہوئی جس میں سے ایک چھ چھ نال کی تھیں ( 6 Barrel ) لیکن جلد ہی اس کو تین دہانے کی اکلوتی توپ سے بدل دیا گیا یہ فرق تصویر نمبر (Photo # 1 ) اور تصویر نمر (Photo # 2 ) کے تقابل سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کوبرا کے ابتدائی ماڈل کسی میزائل سے مسلح نہ تھے۔ یہ کمی راکٹوں کے ذریعے اس کی فائر پاور بڑھاکر پوری کی جاتی رہی لیکن بعد میں ٹاؤ (TOW ) میزائل سے مسلح کر کے ایک تباہ کن ہتھیار میں تبدیل کردیا گیا، جس سے اس کی حد ضرب میں اضافہ ہوا۔

کوبرا بطورٹینک شکن پاکستان آرمی کے ساتھ کوبرا کے حصول کے لیے با قاعدہ حتمی معاہدے 1983 میں طے پایا، معاہدے کے مطابق امریکا نے پاکستان کو 22 کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرزکی فراہمی کا وعدہ کیا، اس کے علاوہ کاپٹر پاکستان آرمی کے پائلٹس کی ٹریننگ کا امریکن آرمی بیس فورٹ روکرز ( Fort Ruckers ) پر اہتمام کیا گیا، 9 جنوری 1985 کے دن کوبرا ہیلی کوپٹر کا پہلابیج امریکا سے کراچی پہنچ گیا، اسمبل اور ٹیسٹ فلائٹ کے بعد یہ کوبرا ہیلی کاپٹرز 16 فروری 1985 قاسم آرمی ایوی ایشن بیس ملتان کے لیے روانہ کردیے گئے (، قارئین کے لیے بتا تے چلیں کے ملتان میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیڈ کواٹر اور ٹریننگ اسکول ہیں) 17 مارچ 1985 کے دن قاسم آرمی ایو ی ایشن بیس پر ایک پروقار تقریب میں کوبرا پاکستان آرمی کا حصہ بن گئے۔

ضرب مومن مشقوں میں کوبرا کی صلاحیتوں کی خوب جانچ ہوئی، کوبرا کا خوف اب سرحد پار محسوس کیا جاسکتا تھا، بھارت نے روس سے گن شپ ہیلی کاپٹر کی فرمائش کردی، باوجود اس کے افغانستان میں روسی ساختہ مِل ایم آئی۔ 24 ( Mil Mi 24 ) پر کیا گزری، نومبر 83 میں بھارت نے ایم آئی 25 جو کے ایم آئی 24 کا ایکسپورٹ ورژن ہے حاصل کرلیا، بھارتی وایو سینا میں ان کو اکبر کا نام دیا گیا۔ پاکستان میں موجود کوبرا ہیلی کا پٹر کا بنیادی ہتھیار تین نال کی والی توپ ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی ٹینک راکٹ اور ٹاؤ (TOW ) ٹینک شکن میزائل قابل ذکر ہیں، 28 فروری 2002 کو پاکستان نے پہلی بار کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹر کو رات میں استعمال کرتے ہوئے ٹھیک ٹھیک نشانہ لینے کا مظاہرہ کیا گیا۔

کوبرا آپریشنل ہسٹری دنیا بھر کے کے کئی محاذوں پر انتہائی کامیابی سے استعمال ہونے والا کوبرا بلا شبہ ایک لاجواب ہتھیار ثابت ہوا۔ یورپ میں کوسو و کی لڑائی کی یا ایشیا میں عرب اسرائیل تنازعہ کی یا عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کی، کوبرا ہر میدان میں کامیاب رہا۔ کوبرا آج مریکی افواج کے علاوہ، اسرائیل، پاکستان، جاپان، ایران، اردن، سعودی عرب کی افواج میں شامل ہیں۔ ویتنام کی جنگ کے بعد امریکی اتحادیوں نے کوبرا کو اپنی زمینی افواج کے لیے منتخب کیا۔ اسرائیل نے لبنان کے خلاف کوبرا کو پہلی بار استعمال کیا، ایران عراق جنگ میں کوبرا نے کئی بار عراق کے ٹینکوں کو مشکل وقت میں ڈالا۔ اسرائیلی فضائیہ کے کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرنے سنء 1982 میں ٹاؤ ( TOW stand from Tube launched Optically tracked wire guided ) میزائلوں سے درجنوں شامی ٹینکوں اور دیگر بکتر بند دستوں تباہ کیا۔

کوبرا دیگر ماڈل

ویتنام کی جنگ میں استعمال ہونے والے کوبرا اور آج کے نئے کوبرا بظاہر ایک لگتے ہیں لیکن ان میں کئی ایک فرق پائے جاتے ہیں، ویتنام کی جنگ میں جو ماڈل امریکی فوج اور میرینز نے استعمال کیے وہ اے ایچ 1 جی (AH1G ) ماڈل ہیں، اگلے ماڈل میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئیں جیسے اے ایچ 1 S۔ (AH1S ) جو کوبرا کا ایک اسٹینڈرڈ ماڈل بنا۔ پاکستان آرمی یہی ماڈل استعمال کرتی آرہی ہے۔ اس کے بعد اس کے ایوینکس میں قابل ذکر تبدیلیاں کی گئیں، اس کو ٹاؤ (TOW ) اینٹی ٹینک میزائل سے مسلح کیا جاسکتا ہے، سی کوبرا دو انجن کے حامل سمندری اثرات سے محفوظ رہنے میرینز اور سیلز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ماڈل جو بحری جہازوں سے باآسانی آپریٹ ہوسکتا ہے اور دشمن کے بحری جہازوں اور سمندری ٹھکانوں پر حملے میں معاون ہے، پاکستان نے جو ماڈل کوبرا اے ایچ ون زیڈ وائپر کے حصول کا جو معاہدہ کیا ہے وہ سی کوبرا کی جدید ترین شکل ہے، اس کی تفصیل آگے موجود ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اے ایچ 1۔ جے سی کوبرا (AH1J Sea Cobra )

یو ایس میرین کور نے نے ہی سی کوبرا کا تصور پیش کیا. میریز کا خیال تھا کے سمندر سے زمین پر یا سمندر سے سمندر یا دریائی علاقوں میں کارروائی کے لیے ایک ایسا کوبرا درکار ہے جو دو انجنوں کی مدد سے زیادہ تیز اور بہتر پرواز کرسکے، سمندری اثرات سے بھی محفوظ ہو۔ سی کوبرا دو انجن کے حامل سمندری اثرات سے محفوظ تر میرینز اور سیلز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ماڈل جو بحری جہازوں سے باآسانی آپریٹ ہوسکتا ہے اور دشمن کے بحری جہازوں اور سمندری ٹھکانوں پر حملے میں معاون ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے جو ماڈل کوبرا اے ایچ ون زیڈ وائپر کے حصول کا جو معاہدہ کیا ہے وہ سی کوبرا اور سپر کوبرا کی جدید ترین شکل ہے، اس کی تفصیل آگے موجود ہے۔ 1968 ء میں میرین کور کا حصہ بن گیا اور ایسے 5 سی کوبرا ویتنام روانہ کردیے گئے، سوویت روسی گن شپ ہیلی کاپٹروں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کو دو عدد 9 ایم ایل سائڈ ونڈر سے بھی مسلح کیا گیا، شپ اسکورٹ مشن، سمندر سے ساحلی مشن میں کار گر ہے 1975 میں پہلی جنگ بار اس کو ویتنام میں ٹیسٹ کیا گیا، اپنے پیش رو اے ایچ 1۔ جی کے مقابلے میں اس کا ٹیل ایریا بڑا رکھا گیا، سی کوبرا پراٹ وٹنی ٹی 400 کے دہرے انجن سنگل گیر باکس پر مشتمل ہے۔

استعمال کرنے والے ممالک ایران، امریکا، جنوبی کوریا (تصویر نمبر 23 ) (Photo # 23 ) کوبرا اے ایچ 1۔ Z وائپر (تصویر نمبر 4 ) (Photo # 4 ) یکم اکتوبر 2015 ء کو بعض پاکستانی ٹی وی چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ امریکا نے 4 استعمال شدہ اے ایچ۔ 1 وائپر پاک فوج کے حوالے کیے ہیں، ابھی تک کوئی تصویر یا فوٹیج حاصل نہیں ہو سکی، یہ پاک فوج میں ایک شاندار اضافہ ہوگا، اگردنیا کے گن شپ ہیلی کاپٹرز پر ایک نظر ڈالی جائے تو کوبرا اے ایچ۔ Z 1 وائیپر (Viper ) اس وقت زیادہ سے زیادہ رفتار کا حامل ہے۔

اپاچی جو خود ایک شاندا ر شاہکار ہیلی کاپٹر ہے، لیکن وائپرا رفتار میں اس سے بھی بہتر ہے، دلسچسپ بات یہ ہے کہ کوبرا اے ایچ۔ 1 وائپر اور اپاچی گن میں جنرل الیکٹرک کا مشہور زمانہ جی ای ٹی سات سو یعنی GE T۔ 700 انجن ہی استعمال ہو رہا ہے جو، ان ہیلی کاپٹرز کے علاوہ سی اسپرٹ، بلیک ہاک، سی ہاک ہیلی کاپٹر ز میں بھی استعمال ہورہا ہے، لیکن کوبرا کی رفتار کی برتری اس کا ٹیک آف ویٹ کم ہونا ہے، مناسب وزن جو اس کی صلاحیت میں کمی نہیں آنے دیتا، جب کہ دوسری طرف اپاچی زیادہ وزن اٹھانے کی وجہ سے رفتار سے محروم ہوجاتا ہے، جیسا پہلے ذکر ہو چکا کہ بنیادی طور پر سوپر کوبرا سی کوبرا کی updated شکل ہے، سی کوبرا کی طرح اس میں بھی دو انجن ہیں، سی کوبرا کی طرح اس کو سائڈ ونڈر سے بھی مسلح کیا جاسکتا ہے، جو اس کے سیلف ڈیفنس میں کارگر کردار ادا کرسکتا ہے لیکن سوپر کوبرا اے ایچ 1۔ زیڈ میں کوبرا سیریز کے ایک اور ہیلی کاپٹر اے ایچ 1۔ W (تصویر نمبر 22 ) کی خصوصیات بھی موجود ہیں، جو ( سپر کوبرا کی طرح سائڈ ونڈر سے بھی مسلح ہے ) ، سُپر کوبرا سے مختلف صرف دو بنیاد پر ہے ایک تو سُپر کوبرا کا مین روٹر چار بلیڈز پر مشتمل ہے دوسرا اس کے ایویونکس کو پائلٹ کے لیے نسبتاً زیادہ آسان بھی رکھا گیا ہے جس کو ہم انگریزی میں پائلٹ فرینڈلی بھی کہہ سکتے ہیں، اے ایچ 1۔ ڈبلیو عراق اور افغانستان میں کامیابی سے استعمال ہوچکا ہے، اس کی صلاحیت کا لوہا دنیا مانتی ہے۔

ہیل فائر سے مسلح ایک تباہ کن ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہ 3 گھنٹے سے زائد پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے (Photo # 22 ) استعمال کنندہ امریکا، پاکستان دیگر تفصیل (فوٹو نمبر 5 ) (Photo # 5 ) استعمال کرنے والے ممالک امریکا (امریکی مرین کور) ، پاکستان (ستمبر 2018 میں آمد متوقع) ۔

دنیا بھر میں بنے والے دیگر گن شپس

مِل ایم آئی 24۔ ہند، Hind Mil Mi 24

ایم آئی۔ 24 یا Mil Mi 24 ایک ملٹی مشن ہیلی کاپٹر ہے، سابقہ سویت یونین کی طاقت کی علامتوں ( Power Symbols ) میں سے ایک، یہ شاندار ہیلی کاپٹر جس میں ٹینک شکن ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر خصوصیات بھی موجود ہیں، جس میں ایک 10 سے 12 پوری طرح مسلح سپاہی میدان جنگ میں لے جانے کی صلاحیت، جو اس کو صحیح معنوں میں مداخلت کار شکن (Counter Insurgency weapon ) ہتھیار کا روپ دیتا ہے، یعنی جب سپاہ کو سپلائی، کمک اور توپ خانے کی فوراً ضرورت پیش آئے یہ تینوں کام یہ ہیلی کاپٹر خوبصورتی سے کرسکتا ہے لیکن اس کی جسامت کا طویل ہونا ( جو اوپر بتائے گئے فائدوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے تو ٹھیک ہے ) لیکن اس کو ایک آسان نشانہ بھی بنادیتی ہے، لیکن یہ ایک آل راؤنڈر ہے ضرورت کے مطابق اس کا رول ہے، مخصوص حالات کے ہتھیار اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔

آپریشنل ہسٹری ایم آئی۔ 24 کے حصے میں جہاں کئی کامیابیاں آئیں وہیں اس کی ناکامی بھی دنیا میں ڈھکی چھپی نہیں، سویت افغان جنگ اس کی آپریشنل ہسٹری کا باب کامیابی سے شروع ہوا، یہ ہیلی کاپٹر جب میدان میں آتا افغان حریت پسندوں اور مجاہدین کا بہت نقصان کرتا، میدان جنگ میں ان کے پاس اس مقابلے کا کوئی جوڑ ہی نہیں بنتا تھا، جس سے مجاہدین میں شدید بد دلی پھیل نے لگی، لیکن 25 ستمبر سن 1986 ء میں جب سے پہلا اسٹنگر (Stinger ) زمین سے فضا میں مار کرنے والامیزائل فائر ہوا، اس شاندار ہیلی کاپٹر کی صلاحیتوں کو جیسے نظر ہی لگ گئی۔

(Photo # 6 ) تصویر نمبر 6 سویت افغان افواج میں بد دلی پھیلنے لگی، وہ راہ فرار تلاش کرنے لگے، ایسے سویت افغان فضائیہ کے عملے کو پاکستان ہی جائے پناہ محسوس ہوا، 13 جولائی سن 1935 ء پہلے دو ایم آئی 24 منحرف ہوکر پاکستان آگئے، یہ پاکستان میں ایم آئی 24 کی آپریشنل ہسٹری کا آغاز تھا، پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس کو روسی دوستی کے بغیر یہ شاندار ہیلی کاپٹر مل گیا، پھر دو اور ایم آئی 24 راستہ بھٹک کر پاکستان آگئے، یہ دونوں ہیلی کاپٹر افغانستان میں تعینات خود روسی پائلٹ اڑا رہے تھے، پاکستانی ایم آئی 24 جیسا کے اس تصویر (تصویر نمبر ) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ (Photo # 7 ) تصویر نمبر 7

استعمال کرنے والے ممالک روس، بھارت، الجیریا، برازیل اورمستقبل میں پاکستان ( معاہدہ طے پاگیا ) دیگر ماڈلز ایم آئی 35 مل ایم آئی 35 ایم آئی آئی 24 کی نئی قسم ہے، اس کے اپنے کئی ورژن ہیں، جن میں اس کا ایکسپورٹ ورژن جو ایم آئی 28 کے روٹر کے ساتھ ہے خاصہ مقبول ہے، بنیادی جسامت میں کوئی فرق نہیں فرق ہے اس میں ایم آئی 28 کے مین روٹر کے ساتھ مخصوص فائبر گلاس حصوں کے ساتھ زیادہ ایرو ڈائنمک بنا دیتے ہیں، اور وزن پر بھی خاص اثر نہیں پڑتا اور ہیلی کی پھرتی اور رفتار بھی بڑھا جاتی ہے، ایکس شیپ (X shape ) ٹیل روٹر 1999 ء میں پہلی بار ایم آئی 35 کی رونمائی ہوئی، 2005 ء میں سیریل پروڈکشن کی طرف آیا، یہ رات دن ہر قسم کے موسم میں استعمال کے قابل ہے، دشمن کے ٹینکو ں بکتر بند دستوں اور دوسری گاڑیوں اور ڈرونز کو گرانا اس کا بنیادی مقصد ہے اس کے علاوہ سیکنڈری رول میں یہ فوجی اور خاص نوعیت کا سامنا بھی لے جاسکتا ہے، عراق، برازیل، بھارت اور وینز ویلا اس کے استعمال کنندہ ہیں، بھارت تو ایم آئی 24 / 25 کے ساتھ ایم آئی 35 کو کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔

جینزڈیفنس کے مطابق ( بحوالہ 1999۔ 200 ) 4 گھنٹے تک محو پرواز رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے دو بنیادی ورژن بھی ہیں، جن کو اے اور بی کہا جاتا ہے یہاں اے ورژن کی تفصیل دی جارہی ہے۔

( تصویر نمبر 8 ) بنیادی تفصیل
http://www.russianhelicopters.aero/en/helicopters/military/mi-35m/features.html

پاکستان اور روس کے نئے تعلقات کا آغاز

دو جون 2014 ء کے دنیا بھر اخبارات میں روسی دفترخارجہ کا یہ بیان شائع ہوا کہ روس نے پاکستان پرسے تمام تر دفاعی پابندیاں اٹھا لیں ہیں، روسی دفترخارجہ کا یہ بیان اس خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغازتھا، اس کے بعد نومبر 2014 ء میں پاکستان اور روس کے ما بین ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے بدولت روس نے پاکستان کو فضائی دفائی نظام (NATO CODE NAME Pantsir۔ S 1 (SA۔ 22 Greyhound، دیگر داعی نظامیوں میں ٹور Tor۔ M 2 KM (SA۔ 15 ) ، اور بکBuk۔ M 2 (SA۔ 17 ) (مؤرخہ 25 نومبر 014 2 (بمطابق جینز ڈیفنس۔ JANEs Defense ) لڑاکا طیارے ایس یو۔ 35 ( Su۔ 3 ) گن شپ ہیلی کاپٹر ایم آئی 28 ( Mil Mi 28 ) آفر ہوچکے ہیں جن پر مذاکر ات کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان اور روس معاہدے کی رو سے روس پاکستان کو اس ماڈل کے 4 ہیلی کاپٹر فراہم کردیے گئے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

پاکستان کو حاصل دیگر آپشنز اور ان کی اہم خصوصیات

ترک / اطالوی ٹی۔ 129 حملہ آور ہیلی کاپٹر (Photo # 12 ) (فوٹو نمبر 12 )

برادرملک ترکی نے پاکستان کو ٹی۔ 129 ( T۔ 129 Attack Helicopter ) ہیلی کاپٹرز کی پیشکش کی، اس پیشکش میں کا بنیادی مقصد پاکستان کے پرانے اے ایچ۔ 1 ایس، اے ایچ 1۔ کوبرا کا نیا متبادل فراہم کرنا تھا، اس آفر میں آسان مالی شرائط کے ساتھ پاکستان ایروناٹکل میں اس کی پیدار بھی شامل ہوتی، ترک کمپنی نے ایسے 3 ہیلی کاپٹر پاکستان کو بطور تحفہ بھی دینے کا ععندیہ دیا، ذرائع بتاتے ہیں، یہ وہ وقت تھا جب امریکا نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے، کوبرا اے ایچ 1۔ زیڈ ( AH۔ 1 Z ) وائپر پاکستان کو آفر کیے ( جس آفر کوپاکستان نے قبول کرلیا) ۔ بہترین پیشکش کا جواب کافی تاخیر سے دیا گیا، کیوں کہ ذرائع کے مطابق اس کے اسپیر پارٹس کے حصول میں کئی قانونی پیچیدگیاں تھیں، قارئین کے لیے بتاتے چلیں ٹی۔ 129 اے بنیادی طور پر اطالوی اگسٹا ویسٹ لینڈ 129 منگسٹا ( Italian Agusta A 129 Mangusta۔ ) ہی ہے جو ترکی کے علاوہ اٹلی میں کامیابی سے استعمال ہورہا ہے۔ 30 ہیلی کاپٹر کا آرڈر دیا جا چکا ہے، اب دیکھنا یہ شاندار ہیلی کاپٹر کب پاکستانی افواج میں شامل ہو کر پرانے کوبرا AH۔ 1 F کی جگہ لیتے ہیں

استعمال کنندہ ممالک ترکی، اٹلی

زیڈ 10۔ / Z۔ 10 اٹیک ہلی کاپٹر (Photo # 16 ) ( تصویر نمبر 16 )

عظیم ترین داتحادی اور ہر آزمائش میں کھر اترنے والے دوست ملک کا شاہکار ہیلی کارپٹر، زیڈ 10 چائنا ہیلی کاپٹر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (CHRDI ) اور چانجے ( CHAIG ) کا مشترکہ پروگرام، 2003 ء اپریل میں پہلی بار آسمان کو چومنے والا زیڈ 10 نومبر 2009 ء میں پیپلز لیبریشن آرمی کا حصہ بنا، نویں چائنہ ایوی ایشن اینڈ ایرو اسپیس ایگزہی بیشن میں نومبر 2012 میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، بلا شبہ امریکی اپاچی یا اس کے ہم پلہ کسی بھی بہترین ہیلی کاپٹر سے کسی طور کم نہیں، ایسے تین ہیلی کاپٹر پاک آرمی کا حصہ بھی بن چکے ہیں، اور ٹرائل سے گزر رہے ہیں، اس ہیلی کاپٹر کی خاص ترین بات یہ ہے کہ اس کوایک ہی وقت میں ضرورت کے مطابق مشرقی اور مغربی ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح کیا جاسکتا ہے، یہ صلاحیت اس وقت دنیا کے کسی ہیلی کاپٹر میں موجود نہیں پیپلز ر یبلک آف چائینہ کا پہلا اینٹی ٹینک اٹیک ہیلی کاپٹر ہونے کا اعزا ز بھی اسے حاصل ہے، اس کا انجن کینیڈا سے حاصل کیا گیا ہے، گویہ صحیح طور پر مشر ق اور مغرب کی ٹیکنا لوجی کا ملاپ اس ایک ہیلی کاپٹر میں موجود ہے۔

استعمال کرنے والے ممالک چین، پاکستان

اور وہ جو مقابل ہوسکتے ہیں

ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹد کالائٹ کومبٹ ہیلی کاپٹر (Photo # 17 ) ( تصویر نمبر 17 )

ہال لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹرکی پہلی پرواز 2010 ء میں ہوئی، یہ ہیلی کاپٹرابھی تک تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے، بھارت کے اس ہیلی کاپٹر کی سروس سیلنگ (یعنی یہ ہیلی کاپٹر کتنی بلندی پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ) پر زیادہ انحصارکر رہا ہے، جویہ بات سمجھنے میں مدددیتی ہے کہ بھارت کی اگلی جنگی تیاری کو نوعیت کی ہے، یہ یوں کہیے کہ بھارت کیا ارادے رکھتا ہے، بھارتی ذرائع سے جو تصویر جاری کی گئی ہے بھارتی لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر کی اس کو سیاچن کے پاس کہیں کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے، کیا یہ تصویر ایک پور اپیغام رکھتی ہے (Photo # 18 ) ( تصویر نمبر 18 ) ذریعہ جیسا کے اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ وہ تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے، آئی ایچ ایس جینز کے مطابق ( مورخہ 29 جون 2015 ء)
http://www.janes.com/article/52644/india-s-lch-completes-hot-weather-trials-moves-closer-to-ioc

مزید تفصیلات

http://techcyclopedia.blogspot.com/2015/03/light-combat-helicopterindias.html

اسکا ہاٹ ویدر ٹرائل (گرم موسم کی آزمائش ) جودھپور بیس سے راجھستان میں مکمل کیا اس کی سروس سیلنگ 6500 میٹر بتائی جارہی ہے۔ مجموعی طور پر فی الحال 114 ہیلی کاپٹر کی پیداوار توقع کی جارہی ہے، ایک بڑی خامی اب تک کی تفصیلات میں سامنے آئی ہے وہ ہ کے یہ ہیلی کاپٹر دنیا میں پائے جانے ولے گن شپس میں دوسرا سست ترین ہیلی کاپٹر ہے، کیا اٹیک ہیلی کاپٹر سست ہونا چاہیے؟ بھارت کا اس کی سستی کے بجائے اس کی زیادہ بلندی پر جانیکی خواہش کیو ں ہے، بیشک راہ فرار یا اس کا مستقبل میں ٹارگٹ بلند میدان جنگ ہی ہے۔

بنیادی خصوصیات انجن رفتار ٹیک آف ویٹ عملہ حد بلندی / سروس سیلنگ ہتھیار حد ضرب دو عدد حال ٹربومیکا شکتی، ٹربو شافٹ 268 کلومیٹر فی گھنٹہ 5800 کلو گرام 2 6500 میٹرز مجموعی طور پر چار ہارڈ پوائنٹس ہیں جو راکٹ یا میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں 700 کلومیٹرز

استعمال کنندہ ملک: بھارت

بوئنگ اے ایچ۔ 64 اپاچی گن شپ بھارتی کابینہ نے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکا پر جانے سے پہلے ( بحوالہ جینز 360 مورخہ 22 ستمبر 2015 ) اپاچی گن شپ کی خریداری کی منظوری دیدی ہے (اس کے ساتھ بوننگ سے ہی چینوک سی ایچ۔ 47 کی منظوری بھی بھارتی وزارت خزانہ نے دیدی ہے ) ، اپاچی ایک آزمودہ کار ہتھیار ہے، اس کا اسلحہ خانہ سیع، اس کے انجن ( ٹی 700۔ ) جاندار، اور ایویونکس انہائی شاندار ہیں، بہت پُھرتیلا ہیلی کاپٹر ہے، اس کی آپریشنل ہسٹری متاثر کن ہے۔ اپاچی ہیلی کاپٹر کے دو بنیادی ورژن ہیں، اور دونوں کا فلائٹ ڈوریشن مشن کی نیچر، اور پے لوڈ لوڈ کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، فڈریشن آف امریکن سانٹسٹ کی ویب سائٹ پر اس کا مزیدبغور جائزہ لیا جاسکتا ہے خیر بات ہورہی تھی اس کے ورژنز ک تو ایک ورژن اپاچی اے ایچ۔ 64 اے جبکہ دوسرا اے ایچ 64۔ ڈی لانگ بو ہے۔

اپاچی ایک نظر میں (Photo # 19 ) ( تصویر نمبر 19 )

اپاچی کو انتہائی سخت حالت کے لیے ہی بنایا گیا ہے، اس ہیلی کاپٹر نے 1975 کو پہلی پرواز کی، 1982 میں امریکی فوج نے پہلا باقاعدہ معاہد مکڈونلڈ ڈگلس کمپنی کے ساتھ کرلیا، اپاچی کا انجن T۔ 700 یہ وہی انجن ہیں جو یو ایچ 60۔ بلیک ہاک میں استعمال ہوتے ہیں، اس کے بنیا دی کردار دشمن پر اچانک حملہ کرنا، فوری جوابی کارروائی کرنا، دشمن کی حدود میں دور تک جاکر اس کو پریشان کرنا، اپاچی جیسے نام سے ہی ظاہر ہے ایک صحیح طور پر خطرناک وحشی ( اپاچی انڈینڈنز، امریکی ریڈ انڈینز میں پائے جانے والے خطرناک لوگوں کوکہا جاتا تھا ) ۔

اس کے علاوہ اپاچی لانگ بو کی پہلی پرواز 14 مئی 1992 ء میں ہوئی جو اپنے ہم عصروں میں سب زیادہ نمایا ں مقام رکھتا ہے، لونگ بو کے اندر ایڈوانس فائر کنٹرول ریڈار ہے جو پائلٹ کو یہ صلاحیت دیتا ہے، کہ وہ ہر موسم میں، بیک وقت ٹھرے ہوئے اور حرکت کرتے ہوئے کئی آبجیکٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایڈوانس ٹیکنالوجی سے آراستہ نئے اپاچی بنانے کا معاہد ہ 2003 میں بوئنگ کے ساتھ طے پاگیا، اس طرح اپاچی لانگ بو بلاک ٹو وجود میں آیا، جو مزید نئے ایویونکس اور کمیونیکیشن سسٹم سے آراستہ ہے۔

اپاچی کے عملے کو دوران پرواز ہیٹ سگنیچر ( میدان جنگ میں حدت کے نشان دھونڈنے میں کوئی خاص دقت نہیں ہوتی، متحرک ٹینک، بکتر بنڈ گاڑیاں، اور دوسرے ذرائع نقلوحمل با آسانی اس کے نشانے پر آجاتے ہیں، باوجود اس کے بہترین کیموفلاج یعنی ان کو اچھی طرح سے چھپایا گیا ہو) سن 2011 ء میں بوئنگ نے یو ایس آرمی کو پہلا بلا ک تھری وزرژن مہیا کیا، جو نیٹ ورک سینٹرک وار فیر میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اسی وجہ سے اس کو گارجئین (Gurdian ) کا نام دیا گیا ہے، یہ ماڈل بھارت خریدنے جارہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اپاچی اے ایچ 64۔ ای ( گارجئین ) میں بالکل نیا فیوز لاج استعمال کیا گیا ہے جس میں پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں کئی نئی تبدیلیاں کی گئیں ہیں، اس میں نئے الیکٹرانکس آلات کے لیے بہتر سے بہتر جگہ مہیا کی گئی ہے، جو آگے بھی اپاچی میں نئی تبدیلیوں کے لیے موزوں جگہ فراہم کرے گی، اکتوبر 2014 ء تک 100 سے زائد اپاچی بلاک تھری کی پیداوار مکمل ہوچکی ہے ( بمطابق بوئنگ ذرائع) ۔ تفصیلات اپاچی میدان جنگ میں (Photo # 20 ) ( تصویر نمبر 20 )

اپاچی پہلی بارسن 1989 میں پانامامیں امریکی فوج ہی کے ہاتھوں آزمایا گیا، اس کے بعد 1992 میں آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم میں کئی کامیابیاں سمیٹیں، بعد میں بوسنیا اور کوسوو میں امن فوج کے ساتھ خدمات پر مامور رہا۔ استعمال کنندہ میں امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، یونان، مصر، اسرائیل، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، اندونیشیا، جاپان، کویت، دی نیدرلینڈز، سنگاپور

بھارت اس فہرست میں نیا ملک ہوگا، بوئنگ کمپنی کے صدر پرتیوش کمار کا کہنا کہ بھارت کے ساتھ یہ سودا ایک سنگ میل ہے ( بحوالہ مورخہ 30 ستمبر )
http://www.oneindia.com/india/apache-chinook-to-serve-iaf-needs-into-future-boeing-1885195.html

بھارت کے لیے اپاچی اور چینوک کا سودا، کیا یہ کسی نئے میدان جنگ کی طرف پیش قدمی ہے؟

اے ایچ۔ 64 اپاچی خلیج کی پچھلی اور حالیہ جنگوں میں اور افغانستان میں اپاچی کی کارکردگی کسی شک و شبہ کے بغیر کے شاندار رہی، عراق جنگ میں ایک واقع پیش آیا وہ یہ کے دجلہ کنارے اپاچی ایک کسان کی کلاشن کوف کا نشانہ بن گیا، یہ اس جنگ کا ایک انوکھا واقع تھا، ظاہر ہے، یہ عوامی رد عمل کا نشانہ بنا جس کے آگے کسی کی نہیں چلتی، اور عوام بھی وہ جو اپنی سرزمین سے بے غرض محبت کرتے ہوں، اور ایک کسان سے زیادہ کون جان سکتا ہے یہ محبت کیا ہوتی ہے،

http://www.smh.com.au/articles/2003/03/25/1048354604384.html

اس واقعہ کی تفصیلات اس لنک پر باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں، خیر خلیج کی جنگ کو 12 سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، اب اپاچی میں نت نئی تبدیلیاں آچکی ہیں جس میں سب سے نمایاں تبدیلی اس کا نیٹ ورک سنٹرک وار میں بہتر کمیونی کیشن نظام ہے، نیٹ ورک سنٹرک بھلا اس کی کیا ضرورت بھارت کو، ؟ جواب آسان اور سادہ بھارت کو کولڈ اسٹار ڈاکٹرین کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ اپاچی اور چینوک ڈیل میں اس کو اس کا بیشتر مل رہا ہے، قارئین کے ذہن میں سوال اٹھے گا وہ کیسے؟

اس کے بارے میں صرف اتنی سی بات کافی ہے، کہ بھارت کو سرحد کے اس پار آنے کے لیے جو رفتار درکار ہے، چاہے وہ فوج لانے کی صور ت میں ہو یا کسی مخصوص علاقے پر اچانک بمباری کی شکل میں، یہ ہی صلاحیت یہ دونوں ہتھیار ( اپاچی اور سی ایچ 47 چینوک ) ، وہ رفتاراور طاقت مہیا کرینگے، پریسیشن گائڈڈمیونیشن تک رسائی بھارت کے لیے امریکا سے تعلقات کے بعد کوئی بڑی بات نہیں، اب بھارت نیٹ ورک سینٹرک وار کے لیے کمیونی کیشن نظام کے اوپر اگر کام کر رہا ہے، اس کی تکمیل اگر اپاچی اور چینوک کے آمد تک ہوجاتی ہے تو کولڈ اسٹارٹ کم از کم زیادہ دور کی چیز نہیں بھارت کے نظریے سے، ہاں یہ اور بات ہے کے وہ پاکستان کی تیاری سے بے خبر ہونے کی صورت میں ہی پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے۔

مئی 1999 کے امریکی دفاعی جریدہ (Armed Forces Journal ) صفحہ نمبر 58 پر ایک مضمون ( Combination UnBeatable) شائع ہوا جس میں امریکا کی ہیلی فورس پر تجزیہ پیش کیا گیا، اور بتایا گیا کہ چار اقسام کے ہیلی کاپٹرزمستقبل میں امریکا کو ہر قسم کی سرجیکل اسٹرائیکس کے قابل بنائیں گے، کمانچی جو اسٹیلتھ گن شپ ہیلی کاپٹر ہوا کرتا تھا، خاص کامیابیاں نہ ملنے کی وجہ سے یہ پرجیکٹ ختم کردیا گیا، لیکن باقی ماندہ تین ہیلی کاپٹر جن میں اپاچی اے ایچ 64۔ بکتر بند دستوں اور مورچوں میں محفوظ فوج پر حملوں کے لیے، بلیک ہاک فوری ہلکے ہتھیاروں سے مسلح دستوں کو اتارنے اور ان کے انخلا کے لیے، اور چینوک سی ایچ 47۔ ہیوی لفٹ رول کے لیے پسند کیے گئے، بھارت کی وایو سیہنا ( بھارتی فضائیہ) میں شامل ہونے والے یہ دو ہیلی کاپٹرز، کسی خاص مہم جوئی کا حصہ تو بنے نہیں جارہے، سیاچن کے کیس میں یہ بات ہمار ے مشاہدے میں آئی کہ الیوٹ II لاما کی خریداری کن حالات میں ہوئی (بحوالہ کتاب History of Pakistan Army Aviation 1947۔ 2007 ) اور مشہور بھارتی ویب سائٹ میں اس کا تذکرہ موجود ہے،

http://www.bharat-rakshak.com/IAF/Galleries/Aircraft/Current/Helicopters/Cheetah/

1980 میں بھارت کے پاس تقریباً 250 لائسنس بلڈ چیتا ( Alloute II Lama ) فرانس کی سڈ ایوی ایشن کے تعاون سے بنائے، ان ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے پیچھے سیاچن کے محاذ گرم کرنے کا فلسفہ تھا، لاما 4000 میٹرز پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور سیاچن میں خوب استعال کیا گیا، بھارت اس محاذ پر وہ تیزی دکھا ہی نہیں سکتا تھا جو اس ہیلی کاپٹر کی مرہون منّت ہے، اس محاذ جنگ پر بعد میں پاکستان کو بھی اسی ہیل کاپٹر کا استعمال کرنا پڑا، کیونکہ اس کے علاوہ اس وقت عالمی منڈی میں کوئی اور ہیلی کاپٹر اتنی بلندی پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، آج جب بھارت چینوک بھی خرید رہا ہے اپاچی بھی لے رہا ہے اور اس کا اپنا تیار شدہ گن شپ بلندی پر جانے کے لیے ہی تیار کیا گیا ہے اس کے پیچھے کیا محرکات ہوسکتے ہیں؟

خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے کہیں بھارت کوئی ایسی کارروائی کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتا، کم از کم بھارتی میڈیا جو زبان آج کل استعمال کر رہا ہے، اس میں کم از کم یہی تاثر مل رہا ہے، اپاچی اور اور چینوک کو ہندی میں باہو بلی کہہ کر پکار رہے ہیں جس کے معنی طاقت ور کے ہیں۔ میری اس بات کی تصدیق وہ لوگ ضرور کریں گے جو بھارتی میڈیا کے تیور دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی سیاسی چالیں کس نوعیت کی ہیں، امریکامیں اقوام متحدہ میں ان کے لیڈرز کی تقاریر کا مرکز ی نکات کیا تھے، اس کے عزائم سے صاف ظاہر ہے ( بھارت کی موجودہ قیادت امریکی دوستی پر انحصار کرتے ہوئے نظر آرہی ہے، اس کا خیال ہے کہ امریکا اس کی پاکستان کے خلاف ہر طرح سے مدد کرنے پر تیار ہوجائے گا اگر وہ امریکا اور دنیا کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے، کم از کم ان کا میڈیا یہی پیغام نشر کررہا ہے ) ( تصویر نمبر 21 ) (Photo # 21 )