دیپ جلتے رہے (پندرھویں قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہزار کے نوٹ نے سائڈ ٹیبل کے نیچے خود کو محفوظ کر لیا، آخر ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ سائڈ ٹیبل کھسکا کر نوٹ بے اماں کیا۔ وہ ایک ہزار ہمارے کس کام آئے، احمد کی آمد سے زیادہ مزید پیسوں کا بے صبری سے کیوں انتظار تھا۔ غربت سے جڑی ضرورت اور ضرورت سے جڑے قصے شام سات بجے کے سوپ ڈراموں کی طرح بلاوجہ ہیجان پھیلاتے ہیں۔ غربت سیاست دان کی تقریر، مصور کی تصویر اور افسانہ نگار کی تحریر میں ہی اچھی لگتی ہے۔ زندگی کی سچی تصویر میں غربت کے رنگ بھرنے سے تحریر پھیکی پڑسکتی ہے۔

امیر کے ڈرائنگ روم کی دیوار پر مفلسی کی مہنگی پینٹنگ یا لائبریری میں مردہ منٹو کی زندہ کہانیاں، جوخود یہ کہتے تھے کہ لوگ دماغ یا دل سے کہا نیاں لکھتے ہیں میں جیب سے لکھتا ہوں۔ جیب کے لیے، جیب سے لکھی کہانیوں، میں وہی کچھ بیان کیاجا سکتا تھا، جو مصنف کے ارد گرد تھا۔ ایک سچالکھاری وہی لکھتا ہے جو دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر شاعر کو ملک سے باہر اعلیٰ یو نی ورسٹیوں میں پڑھنے کے مواقع ملیں، تو وہ قاری کی عقل کو محوِ تماشا کر کے، اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ عشق، عقل پراپنی مقدم ہے۔ اور ستاروں سے آگے جہانوں پر غور کرنے کے مشورے کے ساتھ ہی آتشِ نمرود میں بلا سوچے سمجھے عشق کو چھلانگ مارنے کی ترغیب کے ساتھ تسلی بھی دیتا ہے کہ آگ گلزار ہو جا ئے گی۔ کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلانے کے انقلابی پیغام میں عقل کہاں جا سوئی، عشق کہاں جا مرا۔ امت کو یہ سب سوچنے کی ضرورت نہیں حکیم نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔

جو اگر مشرقی شاعر سے حالات، اور خوشبو سی باتوں اور پہناووں والی محبوبائیں، ہمارے شاعروں اور ادیبوں کو بھی میئسر آجاتیں، انہیں بھی گہرے پانیوں میں یا، بادلوں سے پرے ہوائی سفر کرنے کی استطاعت ہوتی، تو وہ بھی ریل کی پٹری پر نظر رکھتے نہ ریل کی ہیبت ناک چھکا چھک کو موسیقی سے تعبیر کرتے۔ نہ غربت میں لتھڑی بدصورتی کو تصور میں امیر گھر کی خوبصورت دوشیزہ کے روپ میں دیکھتے۔

غم جاناں، انتظار، اور بھوک کی شدت کے احساس کے بجائے، وہ بھی انسان کو آنکھ کھول کر مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج، اور مزید آسمانوں کو دیکھنے کی ترغیب دیتے، ۔ ۔ ۔ کی گود میں بلی دیکھ کر ایسے ہی خوش کن، دل پذیر خیالات ہمارے عصرِ حاضر کے شاعروں کی بھی بیاض کی رونق ہو تے۔

لیکن خون تھوکنے، سڑک سے سگرٹ کے ٹوٹے چننے والوں اور سرکاری اسپتال میں پڑے پڑے، درو دیوار دیکھنے والوں کا کوئی پر سانِ حال نہیں ہوتا۔ البتہ مرنے کے بعد لکھنے والوں کو ان کے جنازے میں لوگوں کی تعداد کی کمی بیشی سے مواد مل جا تا ہے۔

تلخیٔ زیست نے کیا کیا نہ مزا چکھوایا
اپنے دانتوں کے تلے اپنا جگر آنے تک

پندرہ روز کے بعد واپسی ہو ئی، انجکشن میں دس دن کی تاخیر ہو چکی تھی۔ شام ہوئی تو ہم نے ان سے گنے کے جوس کی فرمائش کر دی، الصحت میڈیکل اسٹور کے سامنے ہی جوس والا کھڑا ہو تا تھا۔ گنے کا جوس ختم ہوتے ہی ہم نے اچانک یادداشت واپس آنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا انہیں انجکشن لگوانے کو کہا، اسٹور سے انجکشن خریدا اورہمیشہ کی طرح اسٹور کے مالک رشید بھا ئی سے ہی لگوا بھی لیا۔ یوں انجکشن کی تاریخ میں تاخیر کے اندیشے سے ذرانجا ت ملی مگر دھڑکا لگا رہا۔ ڈاکٹر سے خطرے کے پیشِ نظررابطہ کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ اگلا انجکشن پندرہ دن بعد لگوا دیا جا ئے۔

چند روزہ نوکری کے دوران جو نوحے لکھ کر دیے، وہ میر انیس سے خاص نسبت اور انفرادیت کی وجہ سے خاصے مقبول ہوئے، یوں بھی اس زمانے میں ریحان اعظمی کو نوحہ گوئی میں خاصی شہرت حاصل ہو چکی تھی۔ ان کی خاص بات ایک دن میں بیس پچیس نوحے لکھنا تھا۔ ہمارے ہاں عام طور پر اگر خاندانی بچوں کا دل پڑھا ئی میں نہ لگے تو وہ نعت، منقبت اور نوحہ خوانی کی طرف آجاتے ہیں۔ اور والدین کو فخر کا موقع عطا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یوں بھی نعت نوحے اور منقبت پڑھنا نہایت آسان اور نیک عمل سمجھا جا تا ہے۔

جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ احمد نوید نوحے بھی لکھنے لگے ہیں۔ تو شوقین نوحہ خوانوں نے گھر کا رخ کیا۔ گو کہ ان میں سے کسی نے اس میدان میں اپنی مشاقی یا شوق کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہنرِ خام پر انکسارکا عالم دیکھیے کہ کبھی غرور نہ کیا ہمیشہ مولا کی عطا ہی کہا۔ کچھ کو واقعی مولا کی عطا تھی اور کچھ واقعی اتائی تھے۔ ایور نیو اسٹوڈیو سے تو مہینے بھر کمائی محض ایک ہزار ہی ہمارے ہاتھ آئی تھی باقی رقم ان کے سگریٹ پان اور ریل کے سفر میں تمام ہوئی۔ اب جو نوحہ خوانوں نے گھر کا رخ کیا تو دماغ میں ایک شیطانی خیال آیا کہ مولا نے ان نوحہ خوانوں کو وسیلہ بنایا ہے، ایک دن میں دو نوحے بھی لکھیں گے تو کم از کم دوسو روپے روزانہ، اور مہینے کے چھ ہزار۔

ہر نوحہ خواں کو شام کی چائے اور رات کا کھانا کھائے بغیر ہم جا نے نہ دیتے۔ لیکن حیرت تب ہوتی جب کچھ کو واپسی کا کرایہ بھی احمد دیاکرتے۔ مہینہ گزرا تو ہم نے احمد سے کہا بھئی آپ نوحے لکھنے کے پیسے نہیں لے رہے، کہنے لگے مولا کی غریب الوطنی، کربلا کے مصائب، معصومین کی مشکلات کے بیان کے میں پیسے لوں گا؟ تم بھی کمال کرتی ہو۔ ہمارے دل میں بھی وہم آگیا، اور خاموش ہو رہے۔

محرم آیا تو ہمیں انچولی سے نکلنے والے جلوس میں لے گئے ان کے لکھے ہوئے نوحوں پر ماتمی انجمنوں کے نوحہ خوان سنگت کے ساتھ

بلند آواز سے خوبصورت دھن میں گریہ ناک آوازوں سے نوحے پڑھ رہے تھے۔ جلوس کے شرکاء پر رقت طاری تھی۔ کئی کیسٹوں پر احمد نوید کا بطور شاعر نام دیکھ کر خوشی بھی ہو ئی۔

محرم ختم ہوئے تو مشہور نوحہ خواں ندیم سرور نے رابطہ کیا ہمیں اور احمد کو اپنے گھر بلا یا۔ نوحہ خوانی سے پہلے انچولی کی نکڑ پر ان کی کھلونوں کی دکان تھی، اچھی بھلی چلتی تھی، لیکن پہلی کیسٹ نے ہی انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ہم ذاتی طور پر ان کے مداح ہیں، یہ اپنے نوحوں کی دھنیں خود ترتیب دیتے ہیں۔ شاعری کی سوجھ بوجھ کافی ہے۔ شدید مصروفیت کے باعث خود نوحے نہیں لکھتے لیکن شاعر کے اظہار اور اسلوب کو اپنے خیال اور دھن سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہترین ضیافت کے بعد بھابی ہمیں اپنے کمرے لے گئیں۔ اور کہا، ندیم سرور ہم سے کچھ اہم بات کریں گے۔

پورا گھر تو شاندار تھا ہی، مگر اس کمرے کی سجاوٹ دیدنی تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر جانے کتنی قسم کے پرفیوم تھے۔ مہنگے شو پیس اور سائڈ ٹیبل پر رکھے خوب صورت لیمپپ، رات کو مدہم روشنی کیسا خوابناک ماحول ہوتا ہو گا ہمیں تو تصور سے ہی نیند آنے لگی۔ ائیر کنڈیشن کی نرم ٹھنڈک نے ہمارے جسم اور دماغ سے جھلستی غربت کو وقتی طور پر ذائل کر دیا تھا۔ مولا کی غریب الوطنی، کربلا کے مصائب، معصومین کی مشکلات کے بیان پڑھ کر آسانیاں حاصل کی جا سکتی ہیں، تو لکھنے والا خود پر قد غن کیوں لگا تا ہے۔

پڑھنے والا محفل یا مجلس میں پڑھتا ہے۔ اس کی کیسٹ ہزاروں لوگ سنتے ہیں۔ مداح اس کی راہ میں پلکیں بچاتے ہیں۔ تب پھر موقع مصائب کے بیاں کا ہو یا میلاد کا، شاعرکے لیے تمعیزِ میلاد و مصائب دوبھر ہیں۔ اور جانِ محفل و مجلس کے لیے ہر جا میلاد ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •