دیپ جلتے رہے (پندرھویں قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھر ہمیں خیال آیا کہ لکھنے والے کو لکھتے وقت ایک قلم ایک کاغذ اور تھوڑی سی خلوت چاہیے ہو تی ہے، سو خلوت بھر نعمت کے ساتھ بے نیازانہ گزرتاہے۔ میاں کی شہرت اور عزت کے طفیل بیوی کو جو پذیرائی ملتی ہے۔ تب وہ بھی تھوڑی سی شان اور ڈھیر ساری خود داری کا لبادہ اوڑھ کر چال میں تمکنت اور باتوں میں غرور بھر کر اترائے پھرتی ہے۔

ہماری مثال تو ٹرین میں سفر کرنے والے اس مسافر کی سی ہے جو تین مسافروں کی سیٹ پر ٹانگیں پھیلائے ہر دعوے دار کو کڑک آواز میں کہتا ہے کہ اوئے تم مجھے نہیں جانتے، میں کون ہوں۔
لیکن جب ایک زور آور اس سے کہتا ہے کہ وہ بتا ہی دے کہ کون ہے۔ تب وہ لجلجاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بیمار ہے۔

بچوں کے بڑھتے قد اور سہمی ہو ئی خواہشات نے مجھے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ خود داری کی اکڑ دکھا نے والوں کے بس میں خود داری کے خول کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جب چٹختا ہے۔ تب ظرف کا اندازہ ہو تا ہے۔

ہم کمرے کی ایک ایک چمک آنکھوں محفوظ کر رہے تھے کہ ندیم سرور کمرے میں داخل ہوئے۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اپنی پاٹ دار آواز میں انتہائی مخلص اور اپنایت بھرے لہجے میں گویا ہوئے۔

بھابی، احمد نوید کیا ہیں، انہیں خود بھی نہیں معلوم۔ مولا کی خاص عطا ہے ان پر۔ میں چاہتا ہوں میں ان کے نوحے پڑھوں، اور بھابی اگر احمد نوید سنجیدہ ہو گئے نا تو میں آپ کو ہیتھرو ائیر پورٹ پر دیکھ رہا ہوں۔ دنیا کی خوشیوں پر اپ کا بھی حق ہے، آپ انہیں منائیں وہ میرے لیے نوحے لکھیں۔

آپ ا ن کا نوحہ ”آ دیکھ مرے غازی اونچا ہے علم تیرا۔ “ پڑھ بھی چکے ہیں۔ لیکن مقطع ریحان اعظمی سے لکھوایا جس پر وہ خفا ہیں۔ آپ نے اچھا نہیں کیا۔ ہم نے احمدکا شکوہ ان تک پہنچایا
بھابی آپ ساری بات نہیں جانتیں، خیر چھوڑیں بس آپ ان سے کہیں کہ مجھے کلام لکھ کر دیں، پھر دیکھیں آپ کے پاس کیا نہیں ہو گا، گاڑی بنگلہ، سب کچھ۔

احمد سے جب بھی کہا کہ ہم پینٹ شرٹ پہننا چا ہتے ہیں انہوں نے یہ ہی کہا، ہم جس محلے میں رہتے ہیں، مناسب نہیں ہو گا۔ کسی اچھی جگہ ضرور یہ شوق پورا کرنا۔
ہم تصور میں پینٹ شرٹ میں ملبوس بچوں کا ہاتھ تھامے ہیتھرو ائیر پورٹ پرخود کو دیکھ رہے تھے۔ اسی تصور میں مسکراتے ہوئے ہم لوگ گھر آگئے۔

دوسرے دن موڈ اور موقع دیکھ کر احمد سے کہا، ندیم سرور کو نوحہ دینے میں آخر برا ئی کیا ہے؟ کہنے لگے،
میں اس کی دھن پر نوحے نہیں لکھ سکتا۔ وہ میرے لکھے نوحے پر دھن بنا ئے تو لکھوں گا۔

احمد آپ اسے نوکری سمجھیں مولا کی نوکری۔
ہم نے انتہائی احترام سے کہا۔ پر مولا ہمارے دل کا کھوٹ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے۔
لیکن وہ ”اچھا تو تم بھی۔ “ کہہ کر خاموش ہو گئے۔ مولا ہی نہیں مجازی خدا بھی ہمارے لہجے کا مکر پہچان گئے تھے۔

ہمیں معلوم تھا انہوں نے کبھی مصرعہ طرح پر غزل کہی نہ کسی ایسے مشاعرے میں شرکت کی، جہاں مصرعہ طرح پر کلام سنانے کی شرط ہو۔ ان کی موزوں طبیعت کسی خوشی یا غم کے موقع کی پابند نہیں۔ نوحہ عید کے دن اور غزل عاشورے کوہو جا یا کرتی ہے۔ اپنی ہی قدرت میں رہنے والے مثلِ یک طائر ِ آزاد ہیں۔

خود ہی ہادی ہوں، خود ہدایت ہوں
اپنے ہی ہاتھ پر میں بیعت ہوں

دوسروں کے مزاج کی خاطر وہ شاعری چھوڑ سکتے ہیں لیکن ان کی شاعری دوسروں کے مزاج کو قبول نہیں کر سکتی۔

گھر کی زبوں حالی سے نکلنے کا خیال آہستہ آہستہ دل میں جڑیں گہری کر رہا تھا۔ ہماری لالچ اور کمینگی کی پائپ لائن سے اسے پانی بھی مل رہا تھا۔ ہم نے اب اپنی خواہشات، گھر کی ضروریات، قرضے، اور آنے والے خرچے احمد کے آگے رکھنے شروع کر دیے، کہ زیرِ بار ہوں گے۔ تو دوسروں کی دھن پر کلام ہی نہیں، سلام بھی کریں گے اور آداب بھی بجا لائیں گے۔ دنیا کے رنگ دیکھنے کے لیے اس کے رنگ میں رنگنا پڑتا ہے۔

اور ہے دنیا پہ کرنا لعن طعن
اپنی اک دنیا بسانا اور ہے۔

اسٹار پلس کی بہو کی طرح ہماری چالاکیاں ہر روز نیا بکھیڑا کھڑا کر رہی تھیں۔ احمد گھر کے حالات کے بارے میں فکر مند ہو رہے تھے۔ بس اب کچھ دنوں کی بات تھی، ہمیں یقین تھا کہ وہ سخن کی دیوی کو مزاج کے خلاف وصل پر آمادہ کر لیں گے۔

اس زمانے میں، ملیر ہالٹ، رفاح عام میں اسمعیل خلیل کے گھر ادبی نشستیں ہر ہفتے یا شاید اتوار کو، ہوا کرتی تھیں۔ پہلے یہ، کامریڈ منصف رضا کے ہاں ہوا کرتی تھیں، ان کے انتقال کے بعد اسمٰعیل خلیل کے ہاں ہونے لگی تھیں، ہم دونوں باقاعدگی سے ان نشستوں میں شریک ہوا کرتے۔ نشست کے اختتام پر چائے بسکٹ اور پھلوں سے تو ا ضح کی جاتی۔ دونوں بچے بھی بڑے شوق سے ان محافل میں شریک ہوا کرتے، لیکن ان کی سب سے زیادہ دلچسپی کا مرکز اس نشست کا اختتامی سیشن ہی ہواکرتا تھا۔

مالی حالات میں بہتری کے لیے ہمارے پاس اب باقاعدہ طعنوں کا موقع ہاتھ آگیا۔

روزانہ اسکول سے واپسی پر کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر کیا بچوں کا جی نہیں مچلتا ہوگا۔ ٹھیلے پر پھل دیکھ کر یا چھونے سے منہ میں ذائقہ محسوس نہیں ہو تا۔ میں نے آپ کو کبھی نہیں بتا یاکہ، بچے باجی کے ہاں کیسے ندیدوں کی طرح پھل کی طرف دیکھتے ہیں، اور جب باجی سب بچوں کو حساب سے دیتی ہیں تو یہ مزید کھانے کی خواہش میں کیسے للچاتے ہیں، میرا ہی جی جانتا ہے، لیکن دیکھ لیا نہ آپ نے اپنی آنکھوں سے، کیسے ٹوٹے پڑتے ہیں وہ بسکٹ اور پھلوں کی طرف۔ لیکن آپ کو کہاں خیال آئے گا۔ ساری دنیا اللہ، مولا اور نبی کی شان میں لکھ، پڑھ کر اپنی دنیا سنوار رہی ہے، لیکن آپ کو تو بس الہامی موڈ چاہیے۔ آخر وہاں بے ہو دہ گانے بھی تو لکھ کر آئے کتنے پیسے ملے دو ہزار، اور یہاں ہن برسنے کو تیار ہے، لیکن محض سستی، کاہلی، اور کچھ نہیں۔ نوکری کبھی من سے کی ہو تو پتہ چلے کیسا جبر کرنا پڑتا ہے دل اور موڈ پر۔

ایک دن صبح صبح ساڑھے چھ بجے، بیل بجی، اسمیٰعیل خلیل تھے۔ وہ زیرِ تعمیر عمارات کے ٹھیکے بھی لیتے تھے۔
انہیں گھر بلا کر بٹھایا۔ کہنے لگے، فوراً جگا دو انہیں، کمال ہے، اب تک سو رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ سات بجے میرے گھر پر ہوں گے۔ سارے مزدور آچکے ہیں۔

میں نے رشی کو اشارہ کیا، کہ بابا کو جگا دے۔ اور خلیل بھائی سے پو چھا کہ اتنی صبح انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔
یہ میرے پاس نوکری کے لیے آئے تھے، کہ حساب کتاب کا کوئی کام ہو تو کریں گے۔ ایک مزدور بیمار ہو گیا ہے، میں نے کہا کہ مزدوری کر لو گے؟ کہنے لگے سب کچھ کروں گا فوری کام چاہیے۔

اسی وقت احمد باہر نکلے، اور خلیل بھا ئی سے بولے، چلیں۔
خلیل بھائی بھی کھڑے ہو گئے۔
ارے ناشتہ تو کر لیں۔

دیر ہو رہی ہے۔ میں تو بس انہیں لینے آیا ہوں، مجھے معلوم تھا شاعر آدمی ہے۔ جا کر ہی جگا نا پڑے گا۔
احمد ان کے ساتھ کچھ قدم آگے بڑھے پھر کچھ یاد آیا، بچوں کے قریب آئے۔

کیا لاؤں آپ دونوں کے لیے؟
آم۔ رامش بولا
نہیں انگور۔ رشی چیخا

اچھا اچھا میں آم بھی لاؤں گا اور انگور بھی
خدا ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ لیکن باپ کے اولاد کے ساتھ پیار کے اسرار ماں ہی جان سکتی ہے۔
باقی آئندہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •