وائرل بچہ، سیلفی ایبل ہزبینڈ اور زکوٹا جن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا معاشرہ ایک حسن پرست معاشرہ ہے، اگر کوئی اس حقیقت سے انکاری ہے تو وہ خودفریبی کے ایک ایسے بلبلے میں قیدہے جس کے باہر کی دنیا کے سیاہی کے چھینٹے ابھی اس کے رنگین خوابوں پر نہیں پڑے ہیں۔

ایک عورت ہونے کے باعث یہ راز یوں تو مجھ پر بہت جلد کھل گیا تھا کہ اس معاشرے میں خوبصورتی کی کیا اہمیت ہے لیکن حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بچے کو مارننگ شوز اور بعدازاں گیم شوز کا حصہ بنا دیکھ کر یہ بات ایک بار پھر روزِروشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ یہ معاشرہ وہ معشوق ہے جومعشوقہ کے ہزار نخرے بھی برداشت کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اگر وہ حسین ہو۔

یوں تو اس بچے کے حوالے سے کافی باتیں کی جارہی ہیں لیکن نہ تو میں اس کی تربیت کو زیرِبحث لانا چاہتی ہوں نہ ہی میرا موضوع مارننگ شوز اور گیم شوز کے ذریعے نکلنے والا اخلاقی جنازہ ہے، بلکہ مجھے تو اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ اس کم عمری میں یہ ٹی وی شوز کا حصہ کیوں بن رہا ہے؟ میرا سوال کچھ اور ہے، بات کچھ اور ہے جو کافی دنوں سے دل و دماغ میں چبھن کا باعث بن رہی ہے۔ سوال میرا یہ ہے کہ یہ بچہ اگر اس قدر خوش شکل نہ ہوتا، اگر یہ ایک پیارے پیارے گپلو بچے کے زمرے میں نہ آتا تو کیا ایسی صورت میں بھی اس کی حرکتوں پر دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے؟ کیا یہ اسی طرح شہرت سمیٹ کر ٹی وی اسکرین کی زینت بن پاتا؟

تنقید کانشانہ توگوکہ اسے ابھی بھی بنایا جارہا ہے لیکن فی الوقت اس کی مقبولیت کا گراف بھی بلندی پر پہنچاہوا ہے، پریقین مانیے اگر اس بچے کی رنگت سرخ و سفید، رخسار روئی کے گالوں کے طرح پھولے پھولے اور آنکھیں کنجی نہ ہوتی تواس کی ان ہی کیوٹ اور پیاری پیاری باتوں پر نصف نہیں بلکہ سو فیصد معاشرہ اس قدر لعن طعن کرتا کہ ماں باپ بھی ٹی وی اسکرین پر آکر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر مجبور ہوجاتے۔

ہماری جوہرشناسی کاعالم اور معیارتو یہ ہے کہ اگرخوبصورت ہو تو چائے والے کو بھی راتوں رات اسٹاربنادیتے ہیں، لیکن اگر حسن کے مروجہ معیارات پر پورا نہ اترتا ہو تو بے شک اداکاری کے فن میں کتنا ہی طاق کیوں نہ ہو ساری زندگی محض زکوٹا جن کے کردار پر ہی اکتفا کرناپڑتا ہے۔

بات محض یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اب تو بارہا یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ محض تعریف و تحسین ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر انصاف دلاؤ مہم کی توّجہ حاصل کرنے کے لیے بھی یا تو پُل کے اُس پار کارہائشی ہونا ضروری ہے (شرمین عبید چناے ٗکی بہن کا کیس یاد کیجئے ) یا پھر دربارِحسن کا راجہ ہونا۔ کیا کہا ایسا نہیں ہے، سوچیے کراچی مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارا جانے والا نقیب اللہ محسود اگر ایک حسین و جمیل جوان نہ ہوتا، توبھی کیا ہماری اسی توجہ کا حقدار ٹھہرپاتا؟

کیا نقیب کی تصاویر دیکھ کر ہماری زبان سے بے اختیار یہی نہیں نکلا تھا کہ ”ہائے ہائے کیسے خوبصورت جوان کومارڈالا“ ۔ یعنی مان لیجیے کہ اگر نقیب نے ہمارے دل و دماغ کے حسن پرست تاروں کو نہ چھوا ہوتا تو ہم اسے گھاس بھی نہ ڈالتے کیونکہ اس سے قبل بھی نہ جانے کتنے نقیبوں کا خون رزقِ خاک بن چکاہے لیکن حُسن کے سنگھاسن پر براجمان نہ ہونے کے باعث انہیں انصاف دلاؤ مہم کا ٹکٹ نہ مل سکا۔

یہ حسن پرست معاشرہ اپنے خود ساختہ معیارات سے کم نظر آنے والے افراد کے لیے اس قدر ظالم ہے کہ عمومی طور پر سب کو اور خصوصی طور پر کسی لڑکی کو اپنی خواہشات کے اظہار کا حق بھی صرف اسی صورت میں دیتاہے جب وہ خوبصورت، پیاری اور حسین وجمیل جیسی صفات سے مزّین ہو، لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس ہو توزندگی بھر یہ طعنہ ہی اس کا مقدر بنتا ہے کہ شکل دیکھو اور نخرے دیکھو۔ یوں نخرے کرنا، اپنی خواہشات کا اظہار کرنا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق بھی صرف حسن والوں کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

حسن پرستی کا یہ وار صرف لڑکیوں کو نہیں بلکہ بسا اوقات لڑکوں کو بھی سہنا پڑتا ہے۔ ان گناہ گار کانوں نے کئی لڑکیوں کے منہ سے سنا کہ، ”بھئی ہزبینڈ کو اتنا سیلفی ایبل تو ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ تصاویر فیس بک ہر ڈالی جا سکیں۔“

تو جناب حسین شکلوں کے پیچھے بھاگنے والے اس معاشرے میں یا تو دلفریب چہروں کی گنجائش ہے یا سیلفی ایبل ہزبینڈ کی، اگر آپ شمار ان میں نہیں ہوتا تو خاموشی سے بیٹھیے اور ساری عمر زکوٹا جن بن کر خوش رہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شمائلہ عظیم جامعی کی دیگر تحریریں
شمائلہ عظیم جامعی کی دیگر تحریریں