بڑے سیاسی دنگل کی تیاریاں زوروں پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنگل کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔ تاریخ اور جگہ کا اعلان باقی ہے مگر ایک بات طے ہے کہ اصل مقابلہ مولانا فضل الرحمٰن اور وزیراعظم عمران خان میں ہے۔ اب یہ میچ کتنے راؤنڈ چلے گا کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کہ اس کا انجام اکرم پہلوان اور انوکی کے مقابلے جیسا ہو جس کا بڑا شور تھا اور جذبہ ایمانی بھی کمنٹری کے ذریعہ ابھارا گیا تھا مگر میچ ایک منٹ میں پہلے راؤنڈ کے خاتمے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ اس مقابلے کا سبق تو تھا کہ مقابلے سے پہلے مدمقابل کی طاقت کا اندازہ کر لینا چاہیے ورنہ نقصان بڑا ہوسکتا ہے۔ اکرم بیچارے کا تو ہاتھ ہی ٹوٹ گیا تھا۔

ہمارے ملک میں سیاست ایک دنگل کی طرح ہے جہاں ریفری کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ بعض اوقات پہلوان ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر ہی میدان میں اتر پڑتے ہیں۔ کبھی تو مقابلہ جلد ختم ہو جاتا ہے اور کبھی ریفری میچ ہی ختم کردیتا ہے کیونکہ آخری فیصلہ بہرحال اسی نے کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر بات کھیل سے لڑائی تک پہنچ جاتی ہے تو پھر کھلاڑیوں پر پابندی بھی لگ سکتی ہے کچھ میچوں کی یا معاملہ زیادہ سنگین ہو تو تاحیات۔ اپیل کا حق بہرحال موجود ہوتا ہے۔ یہاں بھی این آر او ہوسکتا ہے۔

سنا ہے جولائی میں پہلے راؤنڈ کا امکان ہے اور ”رنگ“ ڈی چوک ہی ہوگا۔ اصل مقابلہ بہرحال مولانا اور خان صاحب کے درمیان ہی ہے۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ کتنے راؤنڈ ہوتے ہیں۔ میچ ریفری کا انتظار ہے۔ یہ بھی خطرہ موجود ہے کہ گرمی کا بہانہ بنا کر مقابلے کی نئی تاریخ دے دی جائے۔ خان صاحب کا پچھلے دس سال کا ریکارڈ اچھا ہے چاہے وہ 2013 ہو یا 2018 مگر مولانا ہار ماننے کو تیار نہیں۔ بدقسمتی سے نتائج ماننے کی عادت ہم میں کم ہے چاہے وہ مولانا ہوں، خان صاحب ہوں یا کوئی اور۔ یہ سلسلہ تو 1970 سے ایسے ہی چل رہا ہے۔ ہم نے آج تک کھیل کھیلنے کا نہ طریقہ بدلا ہے اور نہ ہی نتائج تسلیم کرنے کا ہم نے حوصلہ پیدا کیا ہے۔ بس شکست نہیں تسلیم کرنی۔ ایسے میں فیصلہ پھر ریفری ہی کرتا ہے۔

مولانا پوری تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ کچھ نوجوان کھلاڑی بھی ساتھ ہوں گے۔ دوسری طرف خان صاحب کو تو کھیل کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم میں کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ شاید کوچ بھی تبدیل کردیا ہے۔ سیاسی دنگل میں وقت کا انتخاب بڑا اہم ہوتا ہے۔ ویسے بھی سیاست میں درست وقت پر درست اقدام ہی آپ کو بہتر نتائج دلوا سکتا ہے۔ بے وقت اٹھایا گیا اقدام تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

موسم بہرحال گرم ہے مگر بارش کا امکان بھی موجود ہے اور یہ بات دونوں کپتان بھی جانتے ہیں اور ریفری بھی۔ اس بار کمنٹری کے فرائض ہمارے ”اینکرز“ انجام دیں گے۔ کچھ کھلاڑی مقابلہ TVپر دیکھیں گے کیونکہ وہ جیل میں ہیں اور میچ میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ رہے گا انتظار اس دنگل کا اور اس کے نتائج کا۔ عین ممکن ہے جب تک یہ کالم چھپے دنگل شروع ہو چکا ہو یا کم از کم دونوں ٹیموں کا اعلان ہوجائے۔ سیاسی درجہ حرارت 42 ہے تو اس کی شدت 48 محسوس ہوتی ہے۔ مولانا کی کپتانی پر بہرحال اپوزیشن کا اتفاق ہے۔

ہر دنگل سے پہلے اس کا شور بہت ہوتا ہے، کبھی اشتہارات کی شکل میں تو کبھی پہلوان ایک دوسرے کے سامنے آجاتے ہیں۔ اس دنگل کا بھی بڑا چرچہ ہے اور آپ نے تو اس کی ایک جھلک بجٹ اجلاس میں دیکھ ہی لی ہوگی۔ مولانا خود تو اسمبلی کا حصہ نہ بن سکے مگر انہوں نے جیالوں اور شریفوں کی مدد سے دوسرے پہلوانوں کو پیغام ضرور دے دیا کہ میں آرہا ہوں اسلام آباد۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان کہاں رکنے والے تھے اپنے نوجوان پہلوانوں مراد سعید، فیصل واوڈا، علی زیدی، فواد چوہدری (جو بہرحال نوجوان تو نہیں ہیں ) کو دنگل کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے جیالوں اور شریفوں کے لئے مشکل پیدا کردی ہے۔ اگر عمران نہیں بول سکتے تو شہباز شریف بھی نہیں بول سکتے۔ بجٹ تو ویسے بھی کتنے لوگ پڑھتے اور ان میں سے بھی کتنے سمجھتے ہیں۔ سو لگتا یہی ہے کہ بجٹ بھی دنگل کی نذر ہو جائے گا۔

اب تو مولانا کہہ چکے ہیں کہ یہ لڑائی حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی جبکہ ہمارے وزیراعظم جنہوں نے پہلے اپنی طرف سے کنٹینر اور کھانے اور پانی کا بھی وعدہ کیا تھا اب ”یوٹرن“ لے لیا ہے اور ساتھیوں سے بھی کہہ دیا ہے کہ جب تک ”دنگل“ جاری رہے اب انہیں کچھ نہیں دینا۔ لگتا ہے فرینڈلی کشتی اب سنجیدہ لڑائی میں بدلتی جارہی ہے۔ ریفری کے نام کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ اس دنگل اور اس کے نتائج کا تعلق بھی اس سے ہو سکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ کوئی نیا ریفری میدان میں آئے گا یا وہی پرانا۔ فیصلہ بہرحال اس نے ہی کرنا ہے میچ شروع ہونے کا بھی اور خاتمہ کا بھی۔

آج سے تین سال پہلے عمران خان ”رنگ“ میں اترے تو باہر آنے میں 126 دن لگ گئے نتائج البتہ ان کی مرضی کے نہیں آئے تھے۔ دیکھتے ہیں ہمارے مولانا اور ان کے جانثار کتنے دن لگاتے ہیں۔ اگر ”دنگل“ شروع ہوتے ہی کوئی بڑی لڑائی ہوگئی تو یہ دونوں کو پتا ہے کہ نہ صرف میچ ختم ہوسکتا ہے بلکہ کشتی اور پہلوانوں پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ نتائج بہرحال جس کے کسی کے لئے بھی اچھے نہیں ہوتے۔
بشکریہ جنگ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •