پریشاں سا پریشاں ۔ عام آدمی کی خاص کتاب

اب کی بار تو یقین ہو چلا ہے کہ رزق اور موت کی طرح اپنے حصے کے لفظ بھی آپ کو خود ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ تب ہی تو رمضان کے آخری عشرے میں انگلستان میں بیٹھے ہوۓ حسن معراج نے، ماسکو میں رہنے والے ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کی خود نوشت، ہری پور میں رہنے والے زاہد کاظمی صاحب کے توسط سے بھیجی تو گویا حیرتوں کا ایک جہاں وا ہو گیا۔  اس قدر ضغیم کتاب اگر آپ کو اس مصروف دور میں چند صفحے پڑھنے کے بعد اٹھ کر بیٹھنے پر مجبور کر دے تو یقین مان لیجئے کہ نہ تو یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی ہے اور نہ ہی کاغذ کی مہک کا نشہ روٹھنے کو ہے شرط صرف اتنی ہے کہ لفظوں کی مے  پلانے والا ساقی کوئی پریشاں سا پریشاں ہو ۔

آسانی کے لئے کتاب کے بائیس ابواب کے تین حصے کئے جا سکتے ہیں۔  پہلا حصہ بچپن اور جوانی کی دہلیز سے گزرتا ہوا آپ کو ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں علی پور سے لاہور تک لاتا ہے۔  دوسرا حصہ مختصر سی فوجی زندگی میں شمالی علاقہ جات کے حضرت سلیمان کے زندان سے اٹھا کر کر ملتان سی ایم ایچ کے ڈیوٹی روم میں پیلے دانتوں والی عیسائی نرس کی گود میں لا پٹختا ہے اور تیسرا حصہ انقلاب کے آغاز کے دنوں میں ایران کے جنوب اور شمال کی سیر کراتا ہے جہاں خواتین چہرے کے حجاب کا مکمل پاس کرتے ہوۓ انجکشن لگوانے کے لئے فٹ سے اپنے کولہوں سے کپڑا سرکا دیتیں تھیں

اب منٹو کے ” اوپر، نیچے اور درمیان ” کی طرح ان تین حصوں میں سے کونسا حصہ بہتر ہے اس کا فیصلہ فلمی ڈان کی طرح مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے

پاکستان میں آپ بیتیوں پر قابل رشک عبور رکھنے والے زاہد کاظمی اس کو اگر اردو زبان کی ٹاپ ٹین خود نوشتوں میں شامل کرنے پر بضد ہیں تو جیسے “میرا اتنا ضرور ہے کہ اس کو پڑھتے ہوے محترم راشد اشرف کی مرتب کردہ مشاہیر ادب۔  میرا جسم میری مرضی” اسی طرح “ان کی راے ان کی مرضی”  کی رومانی داستانوں پر کتاب “دل ہی تو ہے” یاد آنے لگی۔

ایسا ممکن نہیں کہ ڈاکٹر مجاہد صاحب کی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کو اردو کے چند عظیم مشاہیر کی  پہلی بیگم میمونہ سے طوفانی عشق، بارانی برات اور قابل رحم قسم کی سہاگ رات کا ذکر ہوا۔  طرز کی باتیں فلیش بیک کی طرح یاد نہ آ سکیں

تو ممتاز مفتی کا پانچ بچوں کی والدہ والا عشق یاد آگیا۔  جنسی بھوک اور ہم جنس پرستی کے مدھم تذکروں نے منٹو کا ٹھنڈا گوشت اور عصمت چغتائی کا لحاف یاد کروایا۔ ایران کے انقلاب کے ابتدائی دنوں کے تذکرے سے مختار مسعود کی لوح ایام اور سرکاری نوکری کی مشکلات کے تذکرے سے شہاب نامہ جھلکنے لگا۔  شکیل عادل زادہ کے مینا کماری سے بارہ دن کا عشق اور ساقی فاروقی کی پاپ بیتی میں بیگم آفریدی سے رنگین قسم کے ” وصا لئے ” بے حد معصومانہ لگنے لگے- یہ سب اس لئے نہیں کہ مجاہد صاحب ان بہت ہی خاص لکھنے والوں سے متاثر نظر اتے ہیں بلکہ یہ کتاب کا سحر ہے اور ستم بالاے ستم کہ اس بہت ہی خاص کتاب کو کو ایک عام آدمی کی خود نوشت کہنے پر اصرار۔۔۔۔

معروف لکھنے والوں کی آپ بیتیاں ان کی شہرت کے گھنے سایے تلے پروان چڑھتی ہیں اور اپنی ادبی حیثیت کے علاوہ دوسرے عوامل پر بھی انحصار کرتی ہیں۔  اردو میں ایسی آپ بیتیاں ہیں جن کو محض انداز بیان اور کہانی کی چاشنی کی بنیاد پر پڑھا جائے شائد انگلیوں پر ان کی تعداد کو گنا جا سکے۔  سو یہ کتاب لکھنے – سے پہلے مجاہد صاحب بھلے عام آدمی ہوں لیکن پریشاں سا پریشاں کے بعد وہ ہرگز عام آدمی نہیں رہے۔

اس کتاب میں گزرے ہوےزمانے کا پرتو ہے جب معاشرے میں رواداری اور برداشت عام ہوا کرتی تھی- شراب اور چرس کا تو اتنا ذکر ہے کہ پڑھنے کے دوران ابکایاں آنے لگتی ہیں۔ کتاب میں تصوف کا ذکر تو نہیں لیکن گھروں کی غلاظت اٹھانے والا دیندار جسے مصنف نے ولی گردانا ہے اور انوری رنڈی جیسے کردار گہرا تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔  کتاب کا کینوس خود لذتی سے لے کر ہم جنس پرستی تک اور جسم فروشی سے خود سپردگی جیسے نازک موضوعات کو اس قدر احسن طریقے سے نبھاتا ہے کہ ادبی چاشنی اور تلخ حقیقت دونوں برقرار رہتی ہیں- جیل یاترا سے لے کر سیاسی ہلڑ بازی تک، فوج میں ایک مشکل پسند جونیئر سے لے کر نرم دل سینئر تک، جیل میں ملنے والے ظالم شاہ کی دل ہلا دینے والی کہانی تک کہ جس نے سوتیلی ماں کے عشق میں اکسانے پر باپ کا قتل کیا، خود آشنا کے ساتھ بھاگ گئی اور یہ جیل پہنچ گیا-

جیل یاترا کے چھبیس روز کے بعد ڈاکٹر صاحب واپس آگئے ورنہ ایک کتاب تو جیل کی داستان پر ہی لکھی جا سکتی تھی۔  کتاب پڑھنے کے بعد اسرار الحق عرف حسن نثار جیسے قد آور لوگ بھی اپنی حرکتوں کی بدولت بونے لگنے لگتے ہیں- جاوید احمد غامدی سے خدا کے وجود پر بحث کا ذکر بھی دلچسپ ہے جن کو ربوہ کے ایک معاملے پر منبر نبوی سے جھوٹ بولنے کا قلق تھا۔  ایک زمانے میں الحاد کے دعوے دار مجاہد مرزا صاحب کا یہ جملہ عملی زندگی میں یاد رکھنے کےقابل ہے کہ امتحان پڑھ کر کے دینا چاہیے، چاہے دنیا کا ہو یا آخرت کا- اس کے لئے پریشان ہونے کی بجاے صیح تیاری کر لینی چاہیے اور پھر اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے کیوں کہ اللہ تیاری کا اجر ضرور دیتا ہے

اردو کی خود نوشتوں میں پریشاں سا پریشاں کے اصل مقام کا تعین تو وقت ہی کرے گا تاہم اتنا ضرور ہے کہ ملتان، مریدکے اور ماسکو کے درمیان پھیلی-ہوئی یہ کہانی ایک عام آدمی کی بہت خاص کتاب ہے جس کی گونج بہت عرصے تک رہے گی۔