عورت اور جدید معاشی چیلنجز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر حصولِ معاش کے اسلامی اصولوں کی بات ، صرف بات کرنے کی حد تک کی جائے تو عورت کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر \"uzma\"کڑاھی میں ہے.

اسلام عورت کو پیسہ کمانے کی فکر سے آزاد کرتا ہے اور اس کی معاشی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا فریضہ مرد پہ عائد کرتا ہے. چنانچہ بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے نان نفقے کی ذمہ داری بالترتیب باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے پر عائد ہوتی ہے.

ضرورت پڑنے پر اسلام عورت کو ملازمت یا کاروبار کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے بشرطیکہ کام جائز ہو اور پردے اور مرد و زن کے اختلاط کی شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو. تاہم بہتر یہی ہے کہ عورت بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے. نیز یہ کہ چونکہ کمانا عورت پر فرض نہیں ہے اس لیے وہ اپنی کمائی کا ایک پیسہ بھی اپنے شوہر اور گھر والوں پر خرچ کرنے کی پابند نہیں ہے. وہ اپنے ذاتی پیسے اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کر سکتی ہے.

ان تمام معاشی اصول کی بنیاد پر جو نظریہ کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کے مطابق عورت اولاد کی پیدائش، پرورش و تربیت اور گھریلو انتظام و انصرام کی ذمہ دار ہے. اس لیے اسے کسبِ مال اور دیگر تمام بیرونِ خانہ امور سے سبکدوش کیا گیا ہے. اسلام میں عورت کا تصور خاندان تشکیل دینے والی شخصیت کا ہے. مرد گھر کا سربراہ ضرور ہے لیکن گھر کی اصل مالکہ عورت ہے اور اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال سے اس گھر کا انتظام چلائے. عورت ایک بیوی کی حیثیت سے مکان کو گھر بنانے کا اہتمام کرتی ہے اور نسلِ انسانی کی بہترین پرورش کے لیے اسباب فراہم کرتی ہے.

اسلام کے ان معاشی اصولوں کے مطابق تو عورتوں کے لیے کافی کچھ ہرا ہرا ہے. لیکن دال میں تھوڑا سا کالا یوں ہے کہ وہ عورت جس کی معاشرتی حیثیت کا تعین بطور گھر کی ملکہ کے کیا جا رہا ہے اس عورت کا سرے سے کوئی گھر ہے ہی نہیں. والدین کے گھر تو وہ ویسے ہی چند روزہ مہمان ہوتی ہے لیکن شوہر کے گھر میں بھی ملکہ عالیہ کی حیثیت یہ ہے کہ طلاق کی صورت میں اسے بوریا بستر اور بچے سمیٹ کے وہ گھر چھوڑنا ہو گا. سو عملی طور پر خاتونِ خانہ کی حیثیت گھر کے مالک کی ملازمہ کی سی ہے جس کا معاوضہ کھانا، کپڑا اور رہائش ہے اور نوکری بھی پکی نہیں ہے. اسلام عورتوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کے بدلے انہیں معاشی تفکرات سے آزادی عطا کرتا ہے لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ غریب گھرانوں کی خواتین تو ایک طرف، خوشحال گھریلو خواتین بھی معاشی عدم تحفظ کا شکار رہتی ہیں. گھروں میں ساس بہو کی سیاست بھی اس معاشی عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے جنم لیتی ہے اور گھریلو تشدد کے ساتھ خواتین کا سمجھوتہ کر لینا بھی اسی نفسیات کا شاخسانہ ہے.

مذہبی علماء بڑی شد و مد کے ساتھ خواتین کو اپنا کردار گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنے کی تبلیغ کرتے ہیں. لیکن یہ امرِ واقعہ ہے کہ مذہبی اصول اگر قانونی شکل میں نافذ نہیں ہوتے تو ان کی افادیت بہت حد تک نیتوں اور سماجی روایتوں پر منحصر ہو جاتی ہے. مثلاً اسلام جہیز لینے کی ممانعت کرتا ہے جبکہ حق مہر ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں جہیز مانگنے کو قباحت نہیں سمجھا جاتا اور زیادہ جہیز دینا فخر و مباح کا باعث ہوتا ہے جبکہ اگر لڑکی والے حق مہر کی رقم زیادہ لکھوانے پر اصرار کریں تو اسے لالچ پر محمول کیا جاتا ہے. اس کی وجہ ہمارے مرد غالب معاشرے کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ لڑکے لڑکیوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اس لیے بیاہ پر آمادگی کا اظہار کر کے لڑکا اور اس کے گھر والے لڑکی اور اس کے گھر والوں پر احسان کرتے ہیں. اس قسم کی صورتحال میں سماجی روایات کے سامنے مذہبی نصائح بے بس ہو جاتے ہیں. کم و بیش انہی اسباب کے باعث عورتوں کو معاشی آزادی فراہم کرنے والے اسلامی اصول بھی ہمارے معاشرے میں افادیت کے حامل نہیں رہتے. نیت کا عالم جاننا ہو مذہبی علماء سے مطالبہ کر دیکھیے کہ اگر خاندانی نظام اور انسانی تمدن کی بقا عورت کے گھر کی چار دیواری میں رہنے سے وابستہ ہے تو کیوں نہ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں گھر کی ملکہ کو گھر کی قانونی مالکہ بنانے کی اجتہادی گنجائش پیدا کی جائے تاکہ طلاق کی صورت میں عورت اور اس کے بچوں کو چھت کا تحفظ مہیا رہے اور انہیں بے گھری کا سامنا نہ کرنا پڑے. تاہم علماء کرام کی جانب سے ایسے کسی بھی اجتہاد کی توقع بے کار ہے جو عورتوں کے مفاد میں ہو. چنانچہ وہ خواتین جو معاشی تحفظ حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کے لیے بہتر انتخاب کی صورت یہی ہوتی ہے کہ وہ ہاؤس وائف یا ہوم میکر بننے کے خواب دیکھنے کی بجائے پڑھ لکھ کے اپنا کریئر بنانے پر توجہ دیں اور گھر کی چار دیواری سے باہر کے سماج میں اپنا مقام پیدا کریں.

نت نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا اور حالات سے مطابقت اختیار کرلینا صابر و شاکر عورت کی فطرت میں شامل ہے. روایتی سماج نے شروع زمانے سے لے کر آج تک عورتوں سے نسل انسانی کی افزائش اور پرورش کی ذمہ داری کو نبھانے کا مطالبہ کیا ہے اور بہترین بیوی اور بہترین ماں کو ہی بہترین عورت قرار دیا ہے. روئے زمین پر بنی نوع انسان کی کثیر تعداد اس بات کی گواہ ہے کہ عورت نے اپنی حیاتیاتی ذمہ داریوں سے کبھی صرف نظر نہیں کیا. صدیوں سے عورت پیدائش اور پرورش کا ذریعہ اور گھر کے آرام و سکون کا باعث ہے. آج کے جدید شہری معاشروں میں جہاں معاشی چیلنجز سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں اور شرح پیدائش میں کمی کے باعث افزائش اور پرورش فل ٹائم بلکہ لائف ٹائم جاب نہیں رہے ہیں تو عورتوں نے بھی تناسل اور تربیت کی ذمہ داریوں سے سر اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اپنے انسان ہونے کی کھوج میں نئے افق تلاشنے لگی ہیں. لیکن آج بھی عورت اپنے فطری سماجی کردار کے حوالے سے کسی احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہے. وہ خوب سمجھتی ہے کہ اس کی حیاتیاتی فطرت کے کیا تقاضے ہیں. وہ معاش اور مامتا میں توازن قائم کرنا جانتی ہے. سو اگر صدیوں معاش کی ذمہ داریاں نبھا کر مرد آج بھی باپ کے فرائض بخوبی نبھا رہا ہے تو یقیناً عورت کے معاشرے میں مقام بنانے کی خواہش سے ماں کی مامتا کو بھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *