بڑھتی ہوئی غیریقینی سیاسی صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے قومی بجٹ پرہونے والی بحث کے بعد سے پارلیمنٹ میں سیاسی درجہ حرارت کچھ کم ہو چکا ہے تو قومی اسمبلی اورسینٹ میں ابتدائی ہنگامہ آرائی کے بعد جمعیت علمائے اسلام، جے یو آئی (ف) کے مولانافضل الرحمن کی جانب سے بروز بدھ 26 جون کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کرنے کے بعد یقیناً باہر شوروغل زیادہ ہے، اس کا مقصد حکومت مخالف تحریک اور ’اسلام آباد لاک ڈاؤن‘ کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اب زیادہ تر یہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی مخالف حکمت عملی پر منحصرہے کہ وہ صورتحال سے ترغیب و تحریص سے نمٹیں۔

اسٹیبلشمنٹ میں کچھ ہائی پروفائل تبدیلیوں کو بہت سے لوگ سیاسی طور پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ پاکستان کو بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور گزشتہ دس ماہ میں حکومت عوام کو کوئی بڑا ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے اور مہنگائی میں غیرمثالی اضافہ ہوا ہے اور گیس اور بجلی کے محصولات میں بڑھ گئے ہیں جس کے لئے پی ٹی آئی اور وزیر اعظم گزشتہ حکومتوں کو الزام دیتے ہیں اور انھوں نے ایک اعلیٰ سطحیٰ کمیشن تشکیل دے دیا ہے، حالات ٹھیک نظرنہیں آتے۔

اے پی سی کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک جانب پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوابشاہ میں شہید محترمہ بے نظیربھٹو کی سالگرہ کے موقع پرایک سخت تقریر کی ہے اور حکومت کاتختہ الٹنے کا عزم کیا اور دوسری جانب پی ایم ایل (ن) کی رہنما مریم نواز کافی عرصے بعد اپنی پہلی باقاعدہ پریس کانفرنس کے ساتھ نافرمانی کے موڈ میں نظر آئیں اور حکومت، اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرکے اور اپنی ہی پارٹی کے صدر شہباز شریف سے اختلاف کر کے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ اپوزیشن میں سب اچھا نہیں ہے۔ اِن دو پیش رفتوں نے پہلے سے ہی کشیدہ سیاسی صورتحال کو غیر یقینی صورتحال میں بدل دیا ہے اور یہ وزیراعظم اور ان کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا حقیقی امتحان ہو گا۔

آئندہ ایک یا دو ماہ میں جس طرح سے صورتحال بدلے گی وہ سیاسی طور پر اہم ہو گا۔ اپوزیشن کے ذرائع کہتے ہیں اے پی سی نہ صرف ’ڈیکلیریشن‘ جاری کرے گی بلکہ اسلام آباد کی جانب حتمی مارچ سے قبل مختصر مدتی اور طوی مدتی حکمتِ عملی بھی بتائیں گے۔ انتظار کرنا ہو گا اور دیکھنا ہوگا کہ کیا اے پی سی کسی گرینڈ اپوزیشن الائنس میں تبدیل ہوتی ہے یا تحریک کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ اے پی سی کو بجٹ پر بحث اور ’ووٹ‘ سے چند دن قبل ہی طلب کیا گیا۔

اس وقت حکومت کو بجٹ منظور کرانے میں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں ہوسکتا کیونکہ وزیراعظم ذاتی طور پر تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور ان کے متعلقہ مطالبات بشمول ایم کیو ایم (پاک) اور پی ایم ایل (ق) کو ایک ایک وزارت دینا مان چکے ہیں۔ تاہم انھیں تاحال بی این پی (مینگل) کے چھ نکات سے نمٹنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اپوزیشن کی بجٹ کو روکنے کی امید صرف پی ٹی آئی کے اتحاد میں تقسیم پر منحصر ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تمام اپوزیشن پارٹیوں بشمول سابق وزیراعظم نواز شریف جو کوٹ لکھپت جیل میں سات سال کے لئے قید کاٹ رہے ہیں، کو اعتماد میں لے کر اے پی سی بلائی ہے۔

بی این پی (مینگل) نے تاحال اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا لیکن مولانا نے اس کے اہم رہنما سردار اختر مینگل سے چند دن قبل اہم ملاقات کی ہے اور اخترمینگل نے اپنی پارٹی کی سپورٹ کے لئے چند شرائط رکھی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ تقریر کے دوران وزیر اعظم کی موجودگی میں احتجاج کرنے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا تھا، انھوں نے شدید غصے کا اظہار کیا اور اپنے ایم این ایز کو ہدایت کی کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو بولنے نہ دیں۔

نیب کی جانب سے سابق صدرآصف زرداری کو گرفتار کرنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر وزیراعظم کی جانب سے دباؤ میں آ گئے کہ وہ زرداری اور پی ایم ایل (ن) کے رہنما خواجہ سعدرفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری نہ کریں۔ بعد میں پی ٹی آئی کے عقل مند لوگوں کے مشورے پر وزیراعظم نے اپنا موقف نرم کرلیا اور حکومت اور اپوزیشن دونوں نے یہ سمجھوتا کیا کہ کوئی بھی کسی رکن کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی نہیں کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •