کرکٹ ورلڈ کپ 2019 پر سمیع چوہدری کا تجزیہ: ’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جپھی

Getty Images

انڈیا سے شکست کا غم ہی ایسا شدید ہوتا ہے کہ اس کے بعد سنبھلے ہی بنتی ہے۔ کیونکہ کسی بھی چیز کا معیار ایک خاص حد سے نیچے نہیں گر پاتا، اس حد پر پہنچ کر اسے اٹھنا ہی ہوتا ہے۔

بحیثیتِ مجموعی پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم پچھلے دو سال شائقین کی آنکھوں کا تارا رہی ہے۔ چیمپیئنز ٹرافی کی جیت نے اس قوم کو ایکا ایکی ڈھیر سارے ہیروز دے دیے، جو آفریدی کے بعد کوئی نیا ہیرو ڈھونڈنے کی متمنی تھی۔

اس ٹیم کا اپنے شائقین سے رشتہ ایسا مضبوط ہے کہ پچھلے دو سال میں کہیں ایسا نہیں ہوا کہ کوئی پلیئر براہِ راست عوامی ’غم و غصے‘ کی زد میں آیا ہو۔

مگر پچھلے اتوار اس ٹیم نے وہ کام کر دیا جو اسے ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ یہ ٹیم انڈیا سے ہار گئی۔

ہار جیت تو خیر ہوتی رہتی ہے مگر میچ سے پہلے جو طبلِ جنگ شائقین بجا چکے ہوتے ہیں، ہار کے بعد وہ گالیوں اور ذاتی حملوں پہ ہی منتج ہو سکتا ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر مضامین بھی پڑھیے

’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘

شعیب ملک شیشہ پیئیں یا پیمانہ، ہمیں کیا۔۔۔

’بھئی کیسے بنا لیتے ہو ایسی وکٹیں؟‘

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

اس بار تو خیر ’غم و غصہ‘ اپنے اندر شیشے کا دھواں بھی سموئے ہوئے تھا۔ اس لیے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ کپتان کو بھی کہنا پڑ گیا کہ: بھئی، تنقید کرنی ہے تو کرو، گالیاں تو نہ دو۔

مگر شائقین کو کہیں نہ کہیں یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ یہ ٹیم ایسے ہی ٹھیک ہو گی۔ یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ٹیم کیسے ٹھیک ہو گی، ہاں یہ واضح ہے کہ ایک بار پھر بھارت سے شکست نے سرفراز کے لئے تازیانے کا کام کر دیا۔

شائقین

Getty Images

سو پچھلے چند دن جب شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کا شیشہ ہر جگہ موضوعِ سخن تھا اور سوشل میڈیا پر قومی کھلاڑیوں کی پھانسیوں کے مطالبے ہو رہے تھے، سرفراز نے شاید اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کر ڈالا۔

بڑے ٹورنامنٹس کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے پلیئرز کے بغیر نامکمل رہ جاتے ہیں۔ ورلڈ کپ 2015 میں عمران خان نے ہی کہا تھا کہ یونس خان کو پورا ٹورنامنٹ کھلائیں، وہ آپ کو ٹورنامنٹ جتوا سکتا ہے۔

یہ تجویز عمران خان جیسے گھاگ کرکٹر نے اس لیے دی تھی کہ دنیا کے کسی بھی کام میں ٹیلنٹ تجربے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ تجربہ بڑے مواقع پر کام آتا ہے اور ورلڈ کپ بڑے مواقع کا ٹورنامنٹ ہوتا ہے۔

یہی دانش ہے جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ ابھی تک ہاشم آملہ سے امیدیں باندھے بیٹھا ہے اور پاکستان بھی شعیب ملک سے جڑا رہا کہ تجربے سے بڑی ’امیدِ بہار‘ بھلا کیا ہو گی۔

لیکن انڈیا سے شکست کے بعد جو ’غم و غصے‘ کا سیلاب نکلا، اس نے اتنا بھلا تو کر ہی دیا کہ سرفراز احمد کی ٹیم سلیکشن کی تکنیک درست ہو گئی اور شعیب ملک کو ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کر لیا۔

بابر حارث

Getty Images

حارث سہیل کی خاصیت ہے کہ وہ جب بھی ’کم بیک‘ کرتے ہیں، ایک بار ان کا نام گونجتا ضرور ہے۔

کل بھی کچھ ایسا ہی دن تھا کہ حارث سہیل نے اپنے مزاج کے یکسر برعکس ایک نئے روپ میں بیٹنگ کی جس کے طفیل پاکستانی بولنگ کے سامنے ایک قابلِ دفاع ٹوٹل ممکن ہو پایا۔

سیمی فائنل میں پہنچنا تو خیر اب قسمت کے ہیر پھیر اور اگر مگر کا منتظر ہے لیکن حارث سہیل کی بیٹنگ نے چیمپیئنز ٹرافی میں فخر زمان کی سلیکشن کی یاد تازہ کر دی۔

بایں ہمہ سرفراز کو ممنون ہونا چاہیے ان سبھی شائقین کا کہ جن کی تنقید نے انھیں ٹیم سلیکشن سکھا دی اور ٹیم کو ٹیم ورک۔ غالب کی بات یاد آ گئی:

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9575 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp