برطانیہ کا وہ کیفے جہاں آپ پیسے دینے کے پابند نہیں!

کیلئہ بیکر - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ شمال مشرقی لندن کے ایک مصروف کیفے میں معمول کی صبح ہے۔

کٹلری کھنکھنا رہی ہے اور لوگ ناشتہ کرتے ہوئے اپنی قریبی میزوں پر موجود دیگر لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہیں جبکہ اسکول کے بچے اپنے دوستوں کے اندر داخل ہونے پر چلّا کر ان کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔

مگر والتھمسٹو کے علاقے کا ’ایگز اینڈ بریڈ کیفے‘ کوئی عام کیفے نہیں۔

یہاں کسٹمر بیٹھ کر زبردست ناشتے کا مزہ لے سکتے ہیں اور وہ بھی کچھ ادا کیے بغیر۔

یہ پراجیکٹ برطانیہ بھر میں شروع ہونے والے ان درجنوں کیفے میں سے ہے جو نان پرافٹ بنیادوں پر یعنی کسی نفع کے بغیر کام کرتے ہیں اور جہاں کسٹمر جو چاہیں ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سری نگر کا خاموش کیفے

ببلی کا جوبن کیفے بند کیوں ہوا؟

رن مرید: ’یہ کوئی ہنسنے کی بات نہیں‘

جب بھی یہاں کوئی کسٹمر آتا ہے تو ان سے جتنا وہ چاہیں یا جتنا وہ کر سکیں اتنا عطیہ دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔

اور اگر وہ کچھ نہ دے سکیں تو؟ کوئی مسئلہ نہیں۔

ایگز اینڈ بریڈ کیفے

AFP
مصنفہ شیلا ایڈی ٹیلی ہفتے میں دو سے تین مرتبہ اپنے چھے سالہ بیٹے ایتھان کے ساتھ یہاں آتی ہیں

’ایگز اینڈ بریڈ‘ کے باہر ایک بورڈ موجود ہے جس کے مطابق اس ریسٹورنٹ کا مینو مختصر ترین ہے یعنی صرف ابلے ہوئے انڈے، ٹوسٹ اور دلیہ جس کے ساتھ آپ پینے کے لیے چائے، کافی یا اورنج جوس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

جن لوگوں پیشے دے سکتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ دیوار پر ایک جانب لگے ہوئے ‘عطیات’ کے بکسے میں پیسے ڈال دیں جس سے کسی کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ کس نے کتنے پیسے دیے ہیں اور دیے بھی ہیں کہ نہیں۔

یہ کیفے گزشتہ ہفتے ٹوئٹر پر اس وقت وائرل ہوا جب ایک شخص نے انکشاف کیا کہ اس نے وہاں ناشتے کے لیے 20 پاؤنڈ ادا کیے تھے مگر اسٹاف کا کہنا ہے کہ یہ پیسوں کی بات نہیں۔

یہاں کے مالک گائے ولسن کہتے ہیں کہ ‘چاہے آپ امیر ہوں یا غریب، یہاں ہر کوئی بھی آسکتا ہے۔’

‘چاہے آپ کو دوستوں سے ملنا ہو یا آپ صرف آرام سے ناشتہ کرنا چاہتے ہوں، آپ یہاں آ کر کچھ بھی کھا سکتے ہیں وہ بھی قیمت ادا کیے بغیر۔’

گائے جو کہ ایک انشورنس کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیفے خیراتی طور پر نہیں بلکہ نان پرافٹ کاروبار کے طور پر چلانے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کیفے ‘پیسوں کو ایک طرف رکھ کر’ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور اچھے ناشتے پر بات چیت کا موقع دیتا ہے۔’

یہاں باقاعدگی سے آنے والی شیلا ایڈی ٹیلی جو کہ ایک مصنفہ ہیں، ہفتے میں دو سے تین مرتبہ اپنے چھ برس کے بیٹے ایتھان کے ساتھ اُس کے اسکول شروع ہونے سے قبل آتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھی ‘ہم یہاں اس لیے آتے ہیں کیونکہ یہ ناشتے کا آسان طریقہ ہے، کبھی پیسوں کی تنگی ہوتی ہے اس لیے، اور جب ہم کچھ ادا کر سکتے ہیں تو ضرور کرتے ہیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے یہاں بہت مزہ آتا ہے اور ہم دونوں نے یہاں کافی دوست بنائے ہیں۔’

بیچ میں ایتھان شوخ انداز میں کہتے ہیں کہ ‘امی، کیا ہم آج ادائیگی کریں گے؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کرنی چاہیے۔’

شیلا ہنس دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہاں وہ آج ادائیگی کریں گے۔

یہ کیفے اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ یہاں کسٹمر خود ہی اپنی مدد آپ کے تحت اپنا ناشتہ تیار کرتے ہیں۔ وہ ایک یا دو انڈے ٹوکری میں سے اٹھا کر انڈوں کے ٹائمر کے ساتھ انہیں ایک خصوصی خانے میں رکھ دیتے ہیں۔

پھر وہ اپنی ڈبل روٹی کو خود ٹوسٹ کرتے ہیں اور خود ہی اپنے لیے مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ پورا مرحلہ یہاں آنے والے بچوں کے لیے بہت دلچسپی کا سامان پیدا کرتا ہے۔

خاکہ نگار لوئی پیمبرٹن اپنے شوہر سائمن جو کہ خود بھی ایک خاکہ نگار ہیں، اپنے دو بچوں کے ساتھ باقاعدگی سے یہاں آتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘ہم یہاں تقریباً پچھلے چار مہینوں سے ہفتے میں تین مرتبہ آتے ہیں۔’

سائمن کہتے ہیں کہ ‘یہاں آکر لگتا ہے کہ کہ آج جھٹی کا دن ہے، یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے اور ہر کوئی نہایت دوستانہ ہے۔’

یہاں آنے والوں میں عین اسکول سے قبل اپنے بچوں کے ساتھ آنے والے والدین، عمر رسیدہ افراد، پروفیشنلز، خصوصی ضروریات رکھنے والے لوگ اور اچھا وقت گزارنے والے افراد شامل ہیں۔

یہاں پر کسٹمرز کے لیے اجتماعی میزیں ہیں جن سے یہ یقینی ہو پاتا ہے کہ لوگ اجنبیوں کے ساتھ بیٹھیں اور یوں بسا اوقات لوگوں کی آپس میں گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔

جمعہ ڈیموک یہاں پہلی مرتبہ کافی مارننگ میں شرکت کے بعد اپنے شوہر وارن اور اپنے بچوں ریّا اور خالد کو ساتھ لائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘ہم یہاں پہلی مرتبہ آئے ہیں اور ہم نے سوچا کہ ہم اسے آزما کر دیکھتے ہیں۔ یہ جگہ اچھی ہے اور آسانی یہ ہے کہ بچوں کا اسکول بھی قریب ہے۔’

‘خالد عموماً گھر پر انڈے نہیں کھاتے مگر انھوں نے آج یہاں کھائے ہیں۔ ہم یقیناً یہاں دوبارہ آئیں گے۔’

جولی اور کیٹ یہاں باقاعدگی سے آتی ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جو دوستوں سے ملنے اور خوشگوار بات چیت کے لیے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔

جولی کہتی ہیں کہ ‘ہمیں یہاں آ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے لوگ بہت اچھے ہیں اور یہ جگہ ہمیشہ نہایت صاف ستھری ہوتی ہے۔’

اس کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی ایسے پراجیکٹ بمشکل کھاناخریدنے کی سکت رکھنے والے لوگوں کی مدد یا پھر ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر قائم ہو رہے ہیں۔

کئی جگہیں سپرمارکیٹس، ریسٹورنٹس اور سپلائرز کی جانب سے عطیہ کیے گئے کھانوں کا استعمال کرتی ہیں جو کہ دوسری صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔

ویک فیلڈ میں قائم دی ریئل جنک فوڈ پراجیکٹ کے زیر انتظام چلنے والے کیفے ‘جو آپ ادا کر سکیں’ کی بنیاد پر ایسا کھانا پیش کرتے ہیں جسے پھینک دیا جانا تھا۔

اس کیفے کا مقصد کھانے کے ضیاع کو روکنا ہے۔ اس کے مالک ایڈم اسمتھ زور دیتے ہیں کہ اس کا مشن ‘سماجی سے زیادہ ماحولیاتی’ ہے۔

2013 میں قائم ہونے والے اس کیفے کی اب ملک بھر، بشمول گلاسگو اور مانچسٹر میں شاخیں ہیں۔

اس کے علاوہ یہ پراجیکٹ ویک فیلڈ میں ‘کائنڈنیس شیئر ہاؤس’ کے نام سے دنیا کی پہلی ایسی سماجی سپر مارکیٹ چلاتا ہے جو کہ مختلف ذرائع سے پھینکے جانے کے لیے تیار کھانے حاصل کر لیتا ہے۔

اس پراجیکٹ نے اب تک 5 ہزار ٹن کھانا پھینکے جانے سے بچایا ہے جو کہ 11 لاکھ 90 ہزار خوراکوں کے برابر ہے، جبکہ اس نے دنیا بھر میں ایسے 120 سے زائد تصورات کو متاثر کیا ہے۔

یہ تنظیم 92 اسٹورز کے ساتھ مل کر ‘جو آپ ادا کر سکیں’ کی بنیاد پر ٹنوں کے حساب سے کھانا لوگوں تک پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔

اسمتھ کہتے ہیں کہ انہوں نے ریسٹورنٹس کے باورچی خانوں اور فارمز کی جانب سے ضائع کیے گئے کھانوں کی تعداد دیکھ کر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ ‘دی ریئل جنک فوڈ پراجیکٹ تب ہی کامیاب ہوگا جب ہماری ضرورت نہیں رہے گی۔’

وسطی انگلینڈ کے شہر لیڈز کے ’ٹوسٹ لو کیفے‘ میں تمام اجزاء مقامی دکانوں اور سپرمارکیٹس کی جانب سے عطیہ کردہ ہوتے ہیں جنہیں دوسری صورت میں پھینکا جانا تھا۔

مگر مینو میں کوئی قیمتیں درج نہیں ہیں اور کیش کے بجائے کرنسی کے طور پر ہنر اور وقت قبول کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی لندن کے ’بریکسٹن پاؤنڈ کیفے‘ میں اضافی کھانے کو ‘چاہے کچھ بھی ہو سب کے لیے’ سبزیوں والی (ویجیٹیریئن) غذا کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ کیفے جولائی 2016 میں شروع ہوا تھا اور اس نے 2018 میں 3.2 ٹن کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا۔ اس بچائے گئے کھانے سے ساڑھے 18 ہزار لوگوں کو 11 ہزار کھانے فراہم کیے گئے اور انہوں نے 35 مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر علاقے کے رہنے والوں کی کم قیمت اور صحت بخش غذا تک رسائی بڑھانے کے لیے کام کیا۔

یہاں کے مینیجر شان روئے پارکر کہتے ہیں کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ بریکسٹن میں مہنگی اور مخصوص طبقے کی جگہوں کا متبادل ڈھونڈ رہے مقامی لوگوں کو آرام دہ اور ہر طبقے کے لوگوں کے لیے کھلی جگہیں فراہم کریں۔’

ایگز اینڈ بریڈ کے مالک گائے ولسن کہتے ہیں کہ ‘بنیادی طور پر ہم مقامی افراد کو اپنی مدد خود کرنے کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔’

فی الوقت تو وہ خود ہی اسٹاف کو تنخواہیں دے رہے ہیں اور پراجیکٹ کی فنڈنگ کر رہے ہیں مگر انہیں امید ہے کہ ایک سال کے اندر اندر یہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔

اس مقصد کے لیے کیفے اب ہفتہ وار ڈنر بھی منعقد کرتا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم ناشتہ پراجیکٹ کے لیے مختص کر دی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ظاہر ہے کہ اگر مقامی لوگ اپنا خیال نہیں رکھنا چاہیں گے تو یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9575 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp