ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا میریٹل ریپ سے متعلقہ وڈیو لیکچر جو مجھے کسی نے خاص طور پر دیکھنے کے لئے بھیجا دیکھنا ایک اذیت کا عمل بن گیا۔ حیرت بھی ہوئی، افسوس بھی! ۔ ان کے درس پر بات کرنا اس لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں ان کی بات ہزاروں لاکھوں مرد و عورت بہت غور سے سنتے ہیں۔ صرف ان کی بات ہی نہیں بلکہ ان کی طالبات کی ایک کثیر تعداد ان سے یہی علم حاصل کر کے اپنے دور دراز کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں اور علاقوں تک اسی علم پر مبنی ادارے چلا رہی ہیں اور مدرسہ سسٹم کی طرح الھدی سسٹم بھی معاشرے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے۔

اگر پدر شاہی کو تقویت دیتا یہ علم گھروں کے اندر تک پاکستان کے آخری کونے تک عورتوں کے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے تو اس معاشرے میں کوئی بھی تعمیری تبدیلی لانا محض ایک دیوانے کا خواب ہی ہے۔ مذہب کے نام پر دینی سکالر اگر معاشرے میں پھیلی برائیوں، ان کی وجوہات اور اثرات سے لاعلم سارے معاشرے کے گناہوں کو عورتوں اور بیویوں کے کاندھے پر لادتے رہیں گے تو آپ اپنے ہاتھوں ایک جامد کر دیے گئے مذہب کو مزید مجبور و بے بس کرتے چلے جائیں گے۔

کیا معاشرے کے انتہا پسند اور پدر شاہی معاشرے کے رنگ میں رنگ کر ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی بصیرت بھی جامد ہو چکی ہے یا معاشرے میں پھیلے بگاڑ اور طاقت کے غیر متناسب تقسیم نے عورت پر کس کس طرح کے ظلم ڈھا رکھے ہیں اس سے وہ لاعلم ہیں؟ ان کی کہی ہر بات نے بہت سارے سوال میرے سامنے کھڑے کر دیے اورمیں چاہتی ہوں کہ اس درس کے بعد ڈاکٹر صاحبہ سے کچھ سوال پوچھنا میرا فرض ہے۔

شوہر اور ریپ کی بات سن کر یقینا میرا بھی سر چکرا گیا۔ مجھے سب سے پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کس مذہبی شق کی بنیاد پر آپ ایک ایسے مرد کو ایک عورت کا شوہر بنا سکتے ہیں جس کی طرف اس کا دل ہی راغب نہیں۔ مجھے کوئی یہ بتائے باپ اور بھائی کو یہ حق کون سا اسلام دیتا ہے کہ جس مرد کے لئے اس کے دل میں جگہ نہیں اسے اس کی زندگی کے سب سے طویل ترین سفر کا ہمسفر بنا دیا جائے؟ کیا اسلام میں لڑکی کی رضا کو اولیت نہیں دی گئی؟

تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ کہ نکاح کی بنیاد دونوں فریقین کی پسند پر رکھی جائے جس سے وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے دل کی آواز سنتے رہیں نہ کہ دل کو قابل جہنم قرار دے کر صرف گھر کے مرد کے فیصلے کو مذہب کا اور سچائی کا درجہ دیا جائے۔ اسلام کی روح خراب ہو جاتی ہے اگر اس میں سے روح کا ذکر نکال دیا جائے، اعمال کی بنیاد نیتوں پر رکھنے والا دین اتنے اہم معاشرتی تعلق میں سے اس نیت، اور دلی رضامندی سے کس طرح کوتاہی برتی سکتا ہے؟

لیکن بات یہ ہے کہ جو بات عورتوں کے حقوق کو تقویت دیتی ہے وہ ہم دھیرے سے منہ موڑ کر چپکے سے کہتے ہیں تا کہ یہ طاقتور معاشرہ بگاڑ کا شکار نہ ہو جائے، اس میں مرد کی طاقت کا توازن نہ بگڑ جائے لیکن ایسے بیانات جن سے عورت کی گردن مروڑی جا سکے اسے مجرم قرار دے کر دو جوتے لگائے جا سکیں ایسے بیانات بلند و بانگ دیے جاتے ہیں۔

۔ جو مرد عورت کی خواہش کا احترام نہیں کر سکتا، اور جس مرد کی طرف عورت کا دل راغب نہیں ہوتا، اس کی ضرورت اور مجبوری کو سمجھ اور اسے حل نہیں کر پاتا وہ کس طرح صرف ایک نکاح نامے کی بنیاد پر عورت کے تماتر مالکانہ حقوق حاصل کر سکتا ہے اور نکاح نامہ بھی وہ جو پیروں میں پگڑی رکھ کر سر پر بندوق رکھ کر یا لڑکی کو کم علم ’کم تعلیم رکھ کر یا دنیا سے مخفی رکھ کر ایک دن اچانک اس کے ہاتھوں میں باپ اور بھائی کی حاکمیت کے بعد شوہر نام کے ایک نئے حاکم کے حق پر جاری کر دیا گیا ہو۔

۔ مجھے کوئی بتائے کہ جس مرد سے عورت کے دل کا، جسم کا، خواہشات کا اور خوابوں کا رشتہ ہو اس کی طرف عورت کا دل کیوں راغب نہیں ہوتا؟ اس لئے کہ ان تعلقات کو بناتے اس کا یہ بشری اور انفرادی حق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا کہ بحثیت ایک فرد، ایک انسان، خدا کی ایک مخلوق وہ بھی اپنی ایک رضا ایک خواہش رکھتی ہے جب آپ اس کے مخالف جا کر یا اسے دبا کر اسے ان فیصلوں پر مجبور کریں گے جن پر اس کا دل ہی راضی نہیں تو شوہر کے حقوق کی بات تو بہت دیر سے آتی ہے میری نظر میں تو اس نکاح کی حیثیت ہی باطل ہو جاتی ہے جس میں دونوں فریقین کی رضا شامل نہ ہو۔

پھر اس کے بعد اگر زبانی کلامی عورت کی رضا شامل بھی ہو تو پھر بھی کیوں وہ شوہر کی طرف راغب نہیں؟ ایسا کون سا جادو ہے جو مرد کرتا ہے اور عورت پر بے اثر ٹھہرتا ہے؟ یہاں تو حق مہر بخشوائے جاتے ہیں اور وراثتیں معاف کی جاتی ہیں، یہاں تو بیویاں نوکریاں چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، یہاں تو قرضوں میں، گھروں کی تعمیر اور گاڑیوں میں عورتوں کے زیور بک جاتے ہیں۔ یہاں تو ابھی بھی ایک بڑی آبادی میں بیوی پر خرچہ چونچلے اور عیاشی سمجھی جاتی ہے۔

، اگر عورتوں کی اکثریت آپ کی باتوں سے مرد کی طرف راغب ہو سکتی ہے تو مرد کی دی گئی محبت اور عزت سے اس سے کہیں زیادہ جلدی راغب ہو سکتی ہے۔ پھر کیوں نہیں وہ محبت جس کا پرچار آ پ کے معاشرے کا مرد ہر گلی ہر نکڑ پر کرتا ہے گھر کے اندر بیوی کے سامنے کرتا؟ کیوں بیوی کو زر خرید غلام سمجھ کر اس کے احساسات، جذبات اور خواہشات سے روگردانی کرتا ہے اور پھر اس سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنے سر پر ڈالی گئی تماتر ذمہ داریوں کے جھنجھٹ چھوڑ کر محض ایک پکار پر لپکتی چلی آئے؟

یہی مرد جس بیوی کو ماسی، بچوں کی آیا، ماں باپ کی خدمتگار، بھائی بہنوں کی تابعدار، بھی بنانا چاہتا ہے اور پھر ساتھ ہی ساتھ اس دن بھر کی تابعدار بیوی کے تھکے جسم سے ایک آواز پر خوشبوئیں لٹاتی گانے گاتی محبوبہ کی توقع بھی کرتا ہے۔ کیا واقعی آپ سمجھتی ہیں کہ عورت ایک مٹی کا مادھو ہے جس کے کوئی ارمان، جذبات، خواہشات کچھ بھی نہیں؟ جس کے مرد کے اوپر کوئی بھی حقوق نہیں؟ کوئی اس ملک کے مرد اور عورتوں کو بتائے کہ سورۃ البقرہ میں ”تمھارا حق عورتوں پر ہے اور عورتوں کا تم پر“ سے کیا مراد ہے؟ تو کیا ان حقوق میں وہ تمام توجہ، محبت، حسن سلوک نہیں آتا جس کے مردوں کے حق پر درس دے دے کر برصغیر کے علما کی زبانیں نہیں تھکتیں۔ اور سورۃ النسا میں ”اور ان کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے انداز میں بودوباش اختیار کرو! “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

کس طرح سے آپ نے ایک پورا لیکچر صرف عورت کو برائی کی جڑ بنانے پر دے دیا اور مرد کو مکمل طور پر اس سے ماورا قرار دے دیا؟ نبی آخر الزماں تو اپنے کپڑے تک خود سی لیتے تھے اور آپ کے معاشرے کے مرد پانی تک لا کر ہاتھ میں نہ دینے والی بیوی کو قابل تعزیر اور بری عورت سمجھتے ہیں تو یقینا اس کے پیچھے یہی اسباق ہیں جو دین کے نام پر ان کو سکھائے جاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام تو حضرت عائشہ کو ایک طعنہ تک نہیں دیتے، ان کے انسانی حقوق کی عزت رکھتے ہیں چاہے خود دل میں کس قدر تکلیف سے ہوں اور آپ کے معاشرے کے شوہر بغیر شک کے بھی بیوی پر ہر طرح کے ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں اور شک کی صورت میں تو بات مار سے شروع ہو کر، بچے چھین لینے اور چولہے پھٹنے تک جاتی ہے۔

عورت کا پیار پانا اس قدر آسان ہے کہ باہر کا مرد دو میٹھے بول بول کر پٹا لیتا ہے مگر گھر کے اندر کا مرد وہ میٹھے بول نہیں بولتا کیونکہ آپ کا دین دار معاشرہ اس سے اس کا تقاضا ہی نہیں کرتا۔ تقاضا کرتا ہے تو یہ کہ مرد کی آواز پر دوڑی چلی آئے ورنہ اس سے دور دور بیٹھے، بڑوں کے سامنے شوہر کے قریب نہ ہو، والدین کے سامنے شوہر سے بات نہ کرے۔ آپ کا معاشرہ عورت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ پر پٹی لگا کر مرد کے سامنے پھینک دیتا ہے کہ جاؤ یہ تمھاری ملکیت ہے اس سے جو چاہے کرو اب اس پر کیا گیا کوئی بھی ظلم ظلم نہیں بلکہ آپ کا حق ہے۔

آنحضور کی سیرت میں اس طرح کے شوہرانہ رویے کیوں نہیں ملتے جس طرح کے ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے نسوانیت کی عزت اور وقار بلند رکھا کیونکہ ان کے پیچھے بھی ان کے پیغمبر کا دیا ہوا علم اور سمجھ تھی۔ حضرت عائشہ نے وقار کے ساتھ زندگی گزاری۔ یہ حق، یہ وقار اور عورت کی اس عزت کی آپ کے اس درس نے دھجیاں اڑا دیں! دینی مبلغین عورت کے حقوق کو تو نظر انداز کیے جاتے ہیں مگر مرد کے حقوق پر بات کرتے فصاحت و بلاغت کی ندیاں بہا دیتے ہیں۔

عورت اس دنیا کی سب سے نرم مخلوق ہے جسے بہت آسانی اور بہت پیار سے اپنا بنایا جا سکتا ہے، اسے بدلا جا سکتا ہے۔ تبھی اسلام نے بار بار عورت سے نرمی اور محبت کا برتاؤ کا سلوک کرنے کی تلقین کی۔ کیا حجتہ الوداع میں پہاڑی پر کھڑے ہو کر نبی پاک نے اپنی امت کو حکم نہیں دیا کہ ”عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو! “۔ جبکہ ہمارے ہاں بات عورت کے حسن سلوک سے شروع ہو کر اسی کی سزا تک ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کے درس مرد کو اس محبت کی ترغیب تو نہیں دیتے مگر عورت کے گلے میں مرد کی ساری کمزوریوں کا الزام ضرور ڈال رہے ہیں۔

رشتوں میں محبت اور احترام کا نہ ہونا، ایک دوسرے کے احساسات کا ادراک نہ ہونا دراصل رشتوں اور گھروں کو خراب کرتا ہے، عورت کا انکار خراب نہیں کرتا۔ عورت شوہر کو انکار کیوں کرتی ہے اس کی وجوہات پر بھی تو کوئی بات کرے۔ آپ یہ بھول رہی ہیں کہ عورت اور مرد خدا کے بنائے دو جیتے جاگتے ہوش وحواس والے افراد ہیں جن کے رویے، جذبات اور ضروریات ہیں۔ دونوں کے رویے اس تعلق پر برابر کا اثر ڈالتے ہیں آپ کب تک عورت کو مرد کے بگڑے ہوئے تعفن زدہ امیج کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنے کا سبق دیتی رہیں گی؟

سنت سے کتنی مثالیں آپ پیش کریں گی جن پر ہمارے ہاں کے شوہروں کے رویوں کی بنیاد ہے؟ کیا نبی کریم اپنی بیویوں پر حکم صادر کرتے تھے، کیا آپ نے حضرت خدیجہ کا کاروبار بند کروا دیا تھا؟ کیا آپ اپنی بیویوں کی خواہشات کو رد کرتے تھے؟ کیا آنحضور مسجد نبوی میں کھیلنے والے حبشیوں کا تماشا حضرت عائشہ کو خود نہیں دکھاتے تھے؟ ”نوجوان لڑکی جو کھیلنے کی حریص یوتی ہے اس کی قدر کیا کرو“ کیا یہ بھی صحیح بخآری ( 443 ) میں نہیں لکھا؟ تو ان عوام الناس کے اجتماعات سے کوئی ان احادیث کی وضاحت کیوں نہیں کرتا؟

ہم اپنی مرضی سے دین کے معانی کو محدود کرتے کرتے اس میں سے بشریت کا خاتمہ کر چکے ہیں، ہم نے احتیاطی نوٹ تیار کرتے کرتے دین کے حقوق و فرائض کے تناسب کا بیٹرہ غرق کر دیا ہے۔

آپ کو کس نے یہ غلط خبر دی کہ ہمارے ہاں عورتوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ وہ شوہر کی خواہش پر لپکنے سے انکار نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ گناہ ہے؟ یہی تو وہ واحد سبق ہے جو ہر طرف سے دن رات صبح شام عورت کو دیا جاتا ہے۔ میڈیا، ڈراموں، ناولز سے لے کر ماؤں، بہنوں، سہیلیوں تک ہر کوئی ان فرشتوں سے ہی تو ڈراتا ہے جو صرف ان عورتوں کو گالیاں دینے پر مامور ہیں جو شوہر کو انکار کرتی ہیں۔ عورت کے انکار پر کیا کیا غیظ وغضب اترتے ہیں اس پر سب شور مچاتے ہیں مگر اسی حدیث کے پہلے حصے کی کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ شوہر کو بیوی کو پکارنے سے پہلے اس پر کیا کیا حقوق و فرائض لاگو ہوتے ہیں، کیا اس کے لئے بھی کوئی لوازمات ہیں کہ نہیں؟

کیا کوئی فرشتوں کی جماعت ایسی بھی ہے جو اپنی بیویوں سے بدسلوکی کرنے والوں، ان کے حقوق کا خیال نہ کرنے والوں پر بھی لعنت بھیجنے کا فریضہ کم سے کم آدھی رات تک ہی سر انجام دے لے۔ مجھے یقین ہے ایسا بھی کچھ کہا ہو گا ہمارے پیارے نبی نے مگر صدیوں سے مرد کو تقویت دیتا یہ مرد علما کا اور ان کے زیر سایہ پنپنے والی خواتین عالمین کا طبقہ شاید ان کو بہت عرصہ پہلے بھول بیٹھا ہو۔ کیونکہ مجھے تو یقین ہے کہ خدا سے بڑھ کر کوئی انصاف نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ عورت کے فرائض لکھے اور مرد کے صرف حقوق!

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

عورت کی ملازمت کو بھی آپ نے شوہر کی ناراضگی اور گھر میں بگاڑ کی بڑی وجہ بتا دیا۔ کیا پاکستان کی ہر عورت باہر نوکری کرتی ہے؟ کیا عورت گھر میں سارا دن چولہے پر کھڑی، برتن دھوتی، صفائیاں کرتی تھکتی نہیں؟ کیا صرف بچے پالنے کی ہی ذمہ داری اس کو سارا دن تھکا دینے کے لئے کافی نہیں؟ اور ایسا کیسے ہوا کہ آپ خود تو یونیورسٹی میں نوکری کریں، سکاٹ لینڈ جا کر تعلیم بھی حاصل کریں اور پھر اپنے ادارے، سکول اور کالج بھی بنائیں جن کی برانچز ہر شہر اور قصبے میں پھیل جائیں، پھر آپ صبح شام ٹی وی پر میڈیا میں درس بھی دیں، مشہور بھی ہوں، مقبول بھی ہوں تو آپ کا گھر سے باہر نکلنا جائز چونکہ آپ دین کو فروغ دے رہی ہیں جبکہ اگر کوئی عورت اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لئے سکول میں پڑھا رہی ہے، یا آپ کی قوم کی بیٹیوں کے بہتر اور محفوظ علاج یا تعلیم کے لئے ہسپتال یا سکول کالج میں ڈاکٹری یا نوکری کر رہی ہے، یا آپ کے حقوق کی حفاظت کے لئے میڈیا میں آواز اٹھا رہی ہے یا گھر چلانے کے لئے کسی ہوٹل، مارکیٹ یا فیکٹری میں کام کر رہی ہے تو آپ نے اس کو ایک بری عورت قرار دے دیا۔ یعنی اپنے بچوں، گھر زندگی اور معاشرے کی طرف سے آپ پر تو بھرپور ذمہ داری پڑتی ہے مگر یہ ذمہ داری دوسری عورتوں پر پڑ جائے تو وہ سب بری عورتیں بن جاتی ہیں جن پر فرشتے رات بھر لعنت بھیجتے ہیں؟

بیوی کے انکار پر شوہر کہیں اور دیکھے گا؟ کہیں اور دیکھنے سے مراد دوسری شادی تو نہیں؟ کیا مرد کا دوسری شادی کے لئے ”کہیں اور دیکھنا“ حرام ہے؟ یا یہ کہیں اور دیکھنا غیر محرم عورتیں ہیں جن کو محرم بنانے کی مرد کو کوئی خواہش نہیں اور اس کے ان گناہوں کا بار بھی بیوی کے کندھے پر پڑتا ہے؟ شوہر کو خدا نے دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی کا حق دیا ہے۔ آپ کے دین نے مذہب میں سے اس کو بھی خارج کر دیا؟ اگر ایک بیوی تھکی ہوئی ہے اور شوہر کہیں اور دیکھنے کا خرچہ اٹھا سکتا ہے تو دوسری بیوی کر لے۔

اپنے لئے حلال کام کا انتخاب کرے۔ دوسری شادی نہ گناہ ہے نہ حرام اور نہ پہلی بیوی کی حق تلفی جب تک کہ وہ اس کی طرف اپنی ساری ذمہ داریاں برابر سے نبھاتا رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت بھی مرد کی ساری عمر کی ملازمت سے تھک جاتی ہے اور ایسے میں اس کی ذمہ داریوں میں ایک دوسری عورت کی شمولیت خود اس کی ذمہ داریوں کو بھی بانٹنے میں مدد دیتی ہے عورت تو مرد کے ہاتھوں اس ذلالت سے ڈرتی ہے جو وہ دوسری بیوی لانے کے بعد پہلی کے ساتھ کرتا ہے۔

شوہر بھی بیوی سے اکتانے لگتا ہے جو دونوں ہی فریقین کے لئے نفسیاتی مسائل اور ذہنی خلفشار کا باعث بنتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ آپ اپنی عورتوں کو تعلیم دیتیں کہ مرد کو اس کا حق دینا کوئی آپ پر ظلم نہیں اور مرد کو یہ سبق دیتیں کہ دوسری شادی کریں مگر پہلی کے پورے حقوق کا خیال رکھیں۔ اس کی بجائے آپ انہیں یہ سبق دے رہی ہیں کہ مرد کہیں دوسری بیوی نہ لے آئے، کیا یہ کفر ہے؟ آپ عورت کو خوفزدہ کر کے اس احساس کو تقویت دے رہی ہیں کہ دوسری شادی کی اجازت دے کر اسلام نے دراصل غلطی کی ہے۔ یعنی جو سبق آپ کو پسند نہیں اسے کتاب میں سے اڑا دیں؟

پپہلے تین منٹ کے لیکچر کے بعد پھر شوہر کے ”ناروا زیادتی“ یا ”نا جائز مطالبہ“ کے الفاظ خاصے سمجھ میں نہ آنے والے لگے۔ عورت سے سارے حقوق لے لینے کے بعد پھر اس کے ساتھ اور کون سا ظلم ناجائز اور کون سا عمل ناروا مانا جائے؟

وہ شوہر جو سڑک پر کھڑے سڑکیں بنا رہے ہیں مگر آپ کے خیال میں ان کی بیویاں گھروں میں مخمل کے بستر پر لیٹی سٹار پلس دیکھتی ہوں گی۔ جو شوہر باہر سڑک پر دھوپ میں ہو گا اس کی بیوی بھی تو گرمی میں چولہے پر کھڑی ہو گی، جس کے دفتر میں اے سی نہیں اس کے گھر میں بھی نہیں ہو گا تو پھر کس پیمانے سے آپ نے مردوں کو مظلوم اور عورت کو ظالم ثابت کر دیا۔ یعنی مذہبی نقطہء نظر، سماجی نقظہ نظر، اخلاقی اور جذباتی نقظہ نظر، ہر طرف سے صرف مرد ہی ہمدردی کا، محبت کا، خدمت کا اطاعت کا حقدار ہے۔

اور ہر کوڈ آف کنڈکٹ سے صرف عورت ہی مجرم ٹھہرے گی، وہی نبھا بھی کرے گی وہی سرنڈر بھی کرے گی ورنہ وہی جہنم میں جائے گی۔ جنت تو صرف شوہر کے لئے بنائی گئی ہے۔ میں کوئی عالمہ نہیں۔ میں آپ کی احادیث کے جواب میں احادیث بھی نہیں سنا سکتی۔ میں صرف سوال اٹھا سکتی ہوں جو میں اٹھا رہی ہوں۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مرد اور عورتیں ایسے ہیں جو یہ سوال اٹھانا بھی حرام سمجھتے ہیں پھر اگر اس طرح کے صریح درس سے معاشرے کے بہت سے بگاڑ پروان چڑھتے ہیں، غلط رویوں اور رحجانات کو فروغ ملتا ہے تو عقل، سمجھ اور علم رکھنے کے باوجود غلط پیغام دینے والوں سے کوئی مواخذہ تو ہونا ہی چاہیے ورنہ لاکھوں ہی لوگ ایسے ہوں گے جن کا تماتر اسلام صرف اسی وڈیو لیکچر پر مشتمل ہو گا۔ حکومت وقت سے بھی درخواست ہے کہ جس طرح مدرسوں کو قومی دھارے میں لانے کی بات کی جا رہی ہے اسی طرح اس طرح گھر گھر لیکچر دینے والی خواتین کے لیکچرز کی بھی مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ آپ کی نسلوں کو اسلام کے نام پر کیا سکھایا جا رہا ہے اس کا بھی قومی سطح پر کوئی ریکارڈ تو ہونا ہی چاہیے۔