مریم نواز کی پہلی پریس کانفرنس: سنسنی آمیز اور دھماکہ خیز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب مریم اورنگزیب صاحبہ کی کال آئی ’یہ پوچھنے کے بعد کہ کیا میں لاہور میں ہوں‘ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز تین بجے سہ پہر 180 Hماڈل ٹاؤن میں اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں۔ ”پہلی پریس کانفرنس“ کے الفاظ انہوں نے قدرے زور دے کر کہے۔ ”پہلی پریس کانفرنس“ پر میں قدرے ٹھٹھکا ’مریم نواز جب سے سیاست میں فعال ہوئی ہیں‘ کئی بار میڈیا سے گفتگو کرچکی ہیں ’ابھی دو دن پہلے انہوں نے خواجہ سعد رفیق کے ہاں بھی میڈیا سے گفتگو کی تھی‘ (وہ خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر ان کے اہلِ خانہ کی دل جوئی کے لیے گئی تھیں) کچھ عرصہ توقف کے بعد ’ان کا ٹوئٹر بھی دوبارہ فعال ہوگیا ہے‘ لیکن مریم اورنگ زیب کی بات بھی درست تھی۔

 اس سے پہلے مریم نواز کی میڈیا سے گفتگو ”غیر رسمی“ ہوتی تھی اور آج وہ پہلی باضابطہ پریس کانفرنس کرنے جا رہی ہیں۔ یہ پریس کانفرنس ”ہنگامی“ بھی تھی کہ اس کی اطلاع میڈیا کو اڑھائی تین گھنٹے پہلے دی جا رہی تھی اور اس ”ہنگامی پن“ نے اس کی اہمیت دوچند کردی تھی ’اس کے ساتھ یہ تجسس بھی کہ فوری نوعیت کا ایسا کیا اہم مسئلہ درپیش ہوگیا کہ ہنگامی پریس کانفرنس کی ضرورت آن پڑی۔ ماڈل ٹاؤن کا سفر حامد ولید کے ساتھ ان ہی قیاس آرائیوں میں گزر گیا۔

مریم نواز تین بج کر سات منٹ پر سینیٹر پرویز رشید اور پنجاب اسمبلی کی رکن عظمیٰ بخاری کے ساتھ ہال میں داخل ہوئیں (تنظیم نو میں عظمیٰ پارٹی کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہیں) مریم کے دائیں پرویز رشید اور بائیں عظمیٰ فروکش ہوئیں۔ مریم کا کہنا تھا کہ وہ میاں نوازشریف کی صحت کا معاملہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے سامنے پیش کرنے آئی ہیں۔ عوام کا حق ہے کہ وہ تین بار وزیر اعظم رہنے والے ’ملک کے سینئر موسٹ لیڈر کی صحت کے حقائق سے آگاہ ہوں۔

 ان کی زبانی میاں صاحب کے تیسرے ہارٹ اٹیک کی تفصیلات خاص سنسنی خیز تھیں۔ یہ اڈیالہ جیل کے دنوں کی بات ہے۔  جہاں باپ ’بیٹی الگ الگ سیل میں قید کاٹ رہے تھے۔ ایک دن انہیں فوراً سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ وہ سو طرح کے وسوسوں کے ساتھ وہاں پہنچیں‘ جہاں جیل حکام کے علاوہ PIMS اور AFIC کے ڈاکٹر بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن وہ ہسپتال جانے کے لیے آمادہ نہیں اور ایک بیٹی ہونے کے ناتے میں انہیں اس کے لیے کنوینس کروں۔

اتنے میں میاں صاحب بھی آگئے۔ ان کا سانس پھولا ہوا تھا اور پسینہ بھی آ رہا تھا۔ میاں صاحب کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان بھی ہنگامی طور پر پہنچ گئے تھے۔ باپ بیٹی اگرچہ الگ الگ سیل میں ہوتے تھے (اور ان کی ملاقات ہفتے میں ایک بار ہی ہوتی) لیکن میاں صاحب کو یہ اطمینان تو تھا کہ ان کی بیٹی جیل کی اسی چار دیواری میں ہے۔ اب اسے ”اکیلے“ چھوڑ کر جانے کو دل نہیں مان رہا تھا۔ لاڈلی بیٹی کو‘ محبت کرنے والے باپ کو ’ہسپتال جانے کے لیے قائل کرنے میں‘ کوئی ایک گھنٹہ لگا۔

 PIMSکے CCUمیں بھی بیٹی سے دوری کا احساس ستاتا رہا۔ ڈاکٹر انہیں مزید رکھنا چاہتے تھے ’لیکن وہ واپسی پر مصر تھے کہ مریم جیل میں اکیلی ہے۔ ہسپتال سے واپسی پر سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں باپ بیٹی میں دس منٹ کی ملاقات ہوئی۔ مریم کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کا یہ تیسرا ہارٹ اٹیک تھا‘ لیکن مریض کو ’اس کے لواحقین کو اور ذاتی معالج کو حقیقت سے بے خبر رکھا گیا۔ وہ تو بعد میں ہسپتال کی ڈسچارج سلپ سے کچھ چیزیں سامنے آئیں کہ معاملہ کتنا سنگین تھا۔

العزیزیہ ریفرنس میں قید کی سزا کاٹنے میاں صاحب کوٹ لکھپت جیل لاہور آ گئے۔ یہاں پھر صحت کے سنگین مسائل درپیش تھے۔ چیک اپ کے لیے سروسز‘ جناح اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جائے جاتے رہے۔ رپورٹوں کے مطابق ’دل کے سنگین عارضے کے علاوہ‘ ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے مسائل بھی درپیش ہیں (گردوں کا معاملہ تیسرے درجے کو پہنچ چکا ’چوتھا درجہ ڈائیلسز کا ہوتا ہے) مریم کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہسپتالوں کے چکروں کے دوران‘ مجھے ان سے ملاقات کی اجازت تھی۔

 ایک سینئر ڈاکٹر نے اعتماد میں لیتے ہوئے کہا (کچھ اور ڈاکٹروں نے بھی توثیق کی) کہ یہ بہت پیچیدہ کیس ہے۔ ہائی پروفائل کیس ہونے کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر اس میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں کہ خدا نخواستہ ناگہانی صورت کی ذمہ داری اس پر نہ آن پڑے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاج وہی ڈاکٹر کریں جنہوں نے پہلے دو ہارٹ اٹیکس میں بائی پاس کیا تھا (جناب سجاد میر کو یاد آیا کہ آرمی چیف جنرل آصف نواز کو دل کا دورہ پڑا تو فوج کا ہر ہنر مند اور باصلاحیت سرجن ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھا‘ آخر کو شاید سرجن جنرل کو آنا پڑا تھا) مریم کے ان الفاظ نے سنسنی سی دوڑا دی کہ پاکستان ”مصر“ ہے اور نہ ہم نوازشریف کو ”مرسی“ بننے دیں گے۔

 مریم نے کوٹ لکھپت جیل میں میاں صاحب سے ہفتہ وار ملاقاتوں کو محدود کرنے پر بھی احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا: اس بار صرف پانچ افراد کو ملاقات کی اجازت ملی۔ والدہ صاحبہ ’اکلوتی بہن اور شہباز صاحب کی بیٹیاں بھی جیل کے دروازے سے واپس چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی تو معمول کی بات ہے‘ لیکن اس بار ایک اور صاحب بھی ڈیوٹی پر تھے۔ یہ جاننے کے لیے کہ ایک نہتی بیٹی اپنے باپ سے اور ایک بھائی اپنے بھائی سے کیا بات کر رہا ہے۔ مریم کا کہنا تھا:وہ حکمرانوں سے کوئی اپیل ’کوئی مطالبہ نہیں کریں گی‘ وہ تو والد کی صحت کے معاملات قوم کے سامنے رکھ رہی ہیں۔

مریم کا قریباً 25 منٹ کا بیان ختم ہوا تو سوال ’جواب شروع ہوئے جن کا تازہ ترین سیاسی مسائل سے متعلق ہونا فطری تھا؛ چنانچہ وہ اصل مقصد کہیں پیچھے چلا گیا (مریم کے بقول جس کے لیے اس پہلی باضابطہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا) اور تازہ ترین مسائل میڈیا کی ہیڈ لائن اور تبصروں اور تجزیوں کا موضوع بن گئے۔ میثاقِ معیشت کے حوالے سے ان کا موقف میاں شہبازشریف کے موقف سے مختلف تھا‘ جسے انہوں نے اپنی ذاتی رائے قرار دیا۔

 انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اور شہبازشریف صاحب کی موجودگی میں بھی کسی بات پر وہ اپنا اختلافی نقطۂ نظر کھل کر بیان کرتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اسے تسلیم بھی کیا جائے۔ میثاقِ معیشت کے حوالے سے مریم کا موقف تفصیل سے میڈیا میں آ چکا (ٹی وی چینلز کے کروڑوں ناظرین کے لیے (اور ہم جیسوں کے لیے بھی) یہ بات خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ تمام نیوز چینلز نے مریم کی ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ کی پریس کانفرنس لفظ بہ لفظ لائیو نشرکی۔ میثاق معیشت کو مریم نے وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو ’ناقص منصوبہ بندی اور تباہ کن پرفارمنس پر بیل آؤٹ کرنے اور این آر او دینے کے مترادف قرار دیا؛ حالانکہ اس کے لیے وہ ”سخت تر محاسبے کے مستحق ہیں“۔

میثاقِ معیشت پر اپنے موقف کی نزاکت اور حساسیت کا احساس ہی تھا ’جو مریم نے یہاں شہبازشریف کے لیے عزت واحترام کے جذبات کا اظہار بھی ضروی سمجھا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کی حیثیت سے ان کے سامنے کئی چیزیں ہوتی ہیں جن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یقین اور اعتماد سے بھرپور لہجے میں مریم کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں مختلف اپروچ کے باوجود‘ شہبازشریف آخر کار پارٹی کے قائد اور اپنے بڑے بھائی کے فیصلے کا احترام کرتے (اور اس پر عمل کرتے) ہیں۔

ایک اورسوال کے جواب میں مریم نے صاف صاف کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت شہبازشریف ہی کریں گے اور وفد کے ارکان کا فیصلہ بھی باہم مشاورت سے کیا جائے گا۔ جاتی امرا میں بلاول کے لیے ظہرانے کو مریم نے جوابی اظہارِ خیر سگالی قرار دیا کہ بلاول نے انہیں افطار میں مدعو کیا تھا۔ مریم کا کہنا تھا کہ بلاول کی اپنی جماعت ہے اور ہماری اپنی جماعت اور دونوں کا اپنا اپنا ایجنڈا اوراپنے اپنے اہداف ہیں۔ البتہ آل پارٹیز کانفرنس میں ”حکومت کے خاتمے“ سمیت کم از کم مشترکہ نکات پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ نواب زادہ مرحوم اس کے لیے Minimum Common Agendaالفاظ استعمال کرتے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •