امیر قطر شیخ تمیم بن الجاسم الثانی کا دورہ پاکستان: قطری قرض یا سرمائے کی حقیقت کیا ہے؟

اعظم خان - بی بی سی اردو، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قطری خطوط

Getty Images
پاکستان میں قطری امیر کا خاندان قطری خطوط کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے

قطری امیر شیخ تمیم بن الجاسم الثانی کا دو روزہ دورہ پاکستان تو خاموشی سے گزرا لیکن اس کے بعد اب یہ خاموشی جشن میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس خوشی کی وجہ قطر کی طرف سے پاکستان کے لیے ڈیپازٹ اور یہاں سرمایہ کاری کا اعلان ہے۔

جب قطری امیر اسلام آباد سے واپس گئے تو سرکاری طور پر جاری ہونے والی پریس ریلیز میں 3 ارب کا کہیں کچھ ذکر ہی موجود نہیں تھا تاہم اس دورے کے ایک دن بعد قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، قطر نیوز ایجنسی کے مطابق امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی ہدایت پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان میں تین ارب قطری ریال کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جو ڈیپازٹ اور براہ راست سرمایہ کاری کی صورت میں ہو گی۔

https://twitter.com/QNAEnglish/status/1143068696883187714

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم کتنی ہے اور ڈیپازٹ سے متعلق شرائط کیا ہیں۔

ادھر اس رقم کے بارے میں بھی اس وقت ابہام پیدا ہوگیا جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے امور خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ٹوئٹر پر قطری امیر کی طرف سے دی جانے والی رقم کو تین ارب ڈالر قرار دے کر ان کا شکریہ ادا کیا۔

 

یہ سرمایہ کاری تین ارب ریال کی ہے یا ڈالر کی یہ ابہام تو دونوں ممالک خود ہی دور کرسکتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق اگر ایک بڑا ڈپپازٹ سٹیٹ بینک میں جمع ہوجاتا ہے تو اس سے ملک کے زرمبادلہ کی صورتحال بہتر ہو جاتی ہے۔

وزارت خزانہ کی وضاحت

ترجمان وزارت خزانہ ڈاکٹر نجیب خاقان نے بی بی سی کو بتایا کہ دورے کے ایک دن بعد پاکستان اور قطر نے ایک ساتھ تفصیلات بتائی ہیں اور اس میں کسی قسم کی دیر کا تاثر درست نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ کچھ بھی نہیں چھپایا جا رہا، جلد تفصیلات بتا دی جائیں گی کہ تین ارب میں کتنا ڈیپازٹ اور کتنی سرمایہ کاری شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اعلان سے قبل وزارت خزانہ تفصیلات تیار کر رہی ہے اور دو دن تک بتا دیا جائے گا۔‘

معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے معاہدوں میں پیسے دینے والے ممالک کی شرائط ہوتی ہیں کہ تفصیلات نہ بتائی جائیں۔

’اس ڈیپازٹ پر شرح سود دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستان کے معاشی مسائل میں کتنی کمی کا باعث بن سکے گا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے جب قطری امیر اسلام آباد پہنچے تو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے خود ان کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا اور ان کی گاڑی بھی خود ڈرائیو کر کے انھیں اپنے ساتھ ملاقات کے لیے ایئرپورٹ سے وزیر اعظم ہاﺅس تک لے کر آئے۔

قطری سرمایہ

Getty Images
سرکاری اہلکاروں کے مطابق جلد تفصیلات بتا دی جائیں گی کہ تین بلین میں کتنا ڈیپازٹ اور کتنی سرمایہ کاری شامل ہے

اس دورے کے دوران قطر نے تجارت، سرمایہ کاری، فنانشل انٹیلیجنس اور سیاحت سے متعلق تین مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے۔

منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اور خفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ منصور حسین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کے اہداف کی روشنی میں بھی قطر کے ساتھ یہ یادداشت اہمیت کی حامل ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اب ان شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہے۔ پاکستان جلد متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی ایسی یادداشتوں پر دستخط کرے گا۔‘

دوحہ مذاکرات

Getty Images
افغانستان میں امن کے قیام کے لیے دوحہ مذاکرات پر تبادلہ خیال بھی اس دورے کے ایجنڈے کا حصہ تھا

بیرونی قرضوں کا ایک سال

اگر حفیظ شیخ کی ٹویٹ کو درست مانا جائے اور قطری پیکج کو 3 بلین ڈالر گِنا جائے تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے لیے گئے قرضے 15.8 ارب تک پہنچ جاتے ہیں۔

گذشتہ 11 ماہ میں پاکستان نے چین سے 4.6 ارب ڈالر کا پیکج لیا جس میں ڈیپازٹ اور قرضے شامل ہیں جبکہ سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ اور 3.2 ارب ڈالر تیل کی تاخیر سے ادائیگیوں سے متعلق ہے۔

شرائط کے مطابق چین کے دو ارب ڈالر ڈیپازٹ پر ایک فیصد سود ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 2.6 ارب ڈالر پر سود کی شرح 5.5 فیصد ہے۔ سعودی اور یو اے ای سے 3.2 فیصد سے زائد سود ادا کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 6 ارب ڈالر کا قرض مختلف اداروں سے بھی حاصل کر رکھا ہے جس میں بینک بھی شامل ہیں جبکہ آئی ایم ایف سے بھی 6 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری کا امکان ہے۔

تمام بیرونی پیکجز کے باوجود پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اب بھی 7.6 ارب ڈالر تک پہنچے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8864 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp