زبان، ترجمہ اور ترقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم اور ترقی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ کہتے ہیں کہ ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک میں فرق دراصل علم کا ہے اور علم کے حصول اور تخلیق کا عمل تعلیمی اداروں میں پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم کی بحث میں زبان کا سوال ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ زبان کا مسئلہ اس لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی لسانی حیثیت کے علاوہ اپنی ایک سیاسی اہمیت بھی ہے۔ دراصل زبان محض خیالات، جذبات اور معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ معاشرتی سچائیوں کی تخلیق میں بنیادی کردار بھی ادا کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زبان انفرادی اور قومی سطح پر شناخت کا ایک اہم نشان بھی ہے۔ تعلیم و تدریس کی بحث میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ذریعۂ تعلیم کیا ہونا چاہیے؟ خاص طور پر یہ سوال ان ممالک میں زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو کسی زمانے میں بیرونی طاقتوں کی کالونی میں رہتے ہوں۔ پاکستان کا شمار بھی اسی طرح کے ممالک میں ہوتا ہے جو 1947 ء سے پہلے متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا، جہاں پر انگریزوں کا تسلط تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی زبان کا مسئلہ ابتدہی سے اہم رہا۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد اردو کو قومی اور انگریزی کو دفتری زبان کا درجہ مل گیا۔ یہاں یہ امر دلچسپی کا حامل ہے کہ اس وقت پاکستان میں آبادی کی اکثریت کی زبان بنگالی تھی اور دوسرا اہم لسانی گروہ پنجابی زبان کا تھا۔ اردو محض چند لوگوں کی زبان تھی، لیکن اردو چونکہ تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانوں کی شناخت بن چکی تھی اسی لئے اسے قومی زبان کا درجہ ملا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد پہلی تعلیمی کانفرنس جو 1947 ء، میں منعقد ہوئی اس میں بھی ذریعہ تعلیم اور اردو زبان کی حیثیت کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ 1959 ء کے شریف کمیشن نے یہ سفارش کی کہ اردو کا 15 سال میں سرکاری زبان کی حیثیت میں مکمل نفاذ ہو جانا چاہیے۔ اس کے مطابق یہ عمل 1974 ء تک مکمل ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اس سے ایک سال پہلے ہی 1973 ء آئین میں اس مدت میں دس سال کا مزید اضافہ کر دیا گیا۔

اس مختصر تاریخ سے ایک چیز کی تصدیق ہوتی ہے کہ اردو کے حوالے سے زبانی جمع خرچ تو بہت ہوا لیکن اردو زبان کی ترویج اور ترقی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے مثلاً تمام اہم سول اور ملٹری بیوروکریسی میں داخلے کے لیے اردو کے بجائے، انگریزی زبان کی شرط عائد ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوکریوں کے لیے بھی انگریزی زبان سے آگاہی لازمی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا انگریزی زبان کے مقابلے میں پاکستان کی قومی زبان اردو معاشرتی حوالے سے لوگوں کی پہلی ترجیح نہیں رہی، اس کے برعکس انگریزی ایک ایسی زبان کے طور پر ابھری جو طاقت کی علامت تھی، جس پر دسترس نوکریوں کے دروازے کھول سکتی تھی اور جس سے وابستگی معاشرے میں ایک اعلیٰ سٹیٹس کی علامت تھی۔

ایک اور اہم فریضہ جس سے حکومتی سطح پر پہلو تہی کی گئی، وہ اردو زبان کو دوسری زبانوں کے علم سے روشناس کرانا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور معاشی حوالے سے ثروت مند اور عام لوگوں میں خلیج بڑھتی گئی اور اس میں بھی زبان کا اہم کردار تھا۔ ا نگریزی زبان، جس تک رسائی معاشرے کے ایک محدود حصے کی تھی وہ ثروت مند لوگوں کی زبان بن گئی اور معاشرے کی اکثریت جو انگریزی زبان سے نابلد تھی اس پر جدید تعلیم اور علوم کے دروازے بند ہو گئے۔

اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں ریاستی سطح پر دارالترجمہ قائم کیے گئے تھے، جن کا مقصد دوسری زبانوں میں شائع ہونے والی کتب کا فوری ترجمہ کرنا تھا۔ ماضی قریب میں حیدرآباد دکن کی ریاست کا دارالترجمہ اسی روشن روایت کی ایک کڑی تھی۔ کاش پاکستان میں اس روایت کے تسلسل میں کوئی مؤثر دارالترجمہ وجود میں آتا، جس میں دوسری زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں اور مضامین کا ترجمہ کیا جاتا اوریوں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مشورہ محض سیاسی اعلان نہ ہوتا بلکہ اس خواہش کی عملی تشکیل بھی ہوتی۔

پاکستان میں انگریزی کتابوں اور رسالوں تک رسائی لگ بھگ چھ فیصد لوگوں کی ہو گی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملکی آبادی کی اکثریت ان معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی جو انگریزی زبان میں کتابوں اور تحقیقی مضامین میں موجود ہیں۔ معاشرے میں سماجی اور معاشی تفریق کم کرنے کے لئے انگریزی اور دیگر زبانوں میں معلومات تک رسائی ہونی چاہیے۔ اس ساری صورتِ حال میں یہ ضروری ہے کہ ملکی سطح پر دارالترجمہ کا قیام عمل میں لا یا جائے۔

یہ کام ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے کیا جائے تو اس سے براہِ راست لگ بھگ 200 یونیورسٹیوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایچ ای سی کے چیئر مین ڈاکٹر طارق بنوری ترجمے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ دارالترجمہ کے حوالے سے ہمیں کچھ اہم چیلنجز کو پیشِ نظر رکھنا اہم ہے :

۔ 1 جس تیزی اور جس پیمانے پر معلومات اور تحقیق کا سفر آگے بڑھ رہا ہے اور کتابیں اور مضامین شائع ہو رہے ہیں اِکادُکا کتابوں کے ترجمے سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے ہمیں Scale اور Frequency میں اضافہ کر نا ہو گا۔

۔ 2 ترجمے کے لیے کون سی کتابیں منتخب کی جائیں اس کے لیے مختلف مضامین کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ترجمے کے عمل میں اہم کتابوں کے چناؤ کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے۔

۔ 3 ایک اہم نکتہ کتابوں کے Copyright حاصل کرنے کا ہے۔ یہ کام حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے۔

۔ 4 ترجمے کی صحت اور درستی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ترجمے کو بغور پڑھ کر اسے verification کے عمل سے گزارا جائے۔ اس کے لیے پہلے سے قائم کسی حکومتی ادارے سے مدد لی جا سکتی ہے۔

۔ 5 Scale اور Frequencyکے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کی جائے۔ اس کے لیے معروف آئی ٹی کے اداروں سے تعاون طلب کیا جا سکتا ہے۔

۔ 6 مشین کے ذریعے ترجمہ تقریباً 70 فیصدتک درست ہوتاہے، اس ترجمے کو مزید بہتر بنانے کے لیے ترجمہ کرنے والوں کی ایک ٹیم کا ہونا ضروری ہے۔

۔ 7 ترجمہ کاروں کی تربیت کے لیے مختصر دورانیے کے کورسز کا اجراضروری ہے۔ اسی طرح ترجمہ کاروں کی ایک ڈائریکٹری مرتب کی جائے تاکہ بوقتِ ضرورت ان کی خدمات سے استفادہ کیا جا سکے۔

۔ 8 ترجمے کے کلچر کے فروغ کے لیے یونیورسٹیوں میں ٹرانسلیشن سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے اور جہاں اس طرح کے ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔

۔ 9 ترجمے کے عمل سے گزرنے کے بعد اہم مرحلہ اشاعت کا ہے۔ ترجمہ شدہ کتابوں کی اشاعت دو طرح سے ممکن ہے ایک تو ان کی سوفٹ کاپیز ایچ ای سی کی Repository پر موجود ہوں تا کہ پڑھنے والا کہیں بھی آن لائن ان کتابوں تک رسائی حاصل کر سکے۔ کتابوں کی باقاعدہ اشاعت کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کا تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد بھی طلبا تک کتابوں کی رسائی ممکن بنا نا تھا۔

کوئی بھی نیا پروجیکٹ مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اگر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اس میں پہل کرتا ہے تو یونیوسٹیوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ، وہ وزارت تعلیم اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اشتراک سے اس خواب کی تعبیر پا سکتے ہیں جس کے نتیجے میں علم کے دروازے ان لوگوں کے لیے بھی کھل سکتے ہیں جن کی رسائی عام حالات میں انگریزی یا دوسری زبانوں تک نہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ترجمہ صرف غیر ملکی زبانوں سے اردو میں نہیں بلکہ اردو کی اہم کتابوں کا بھی غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح پاکستان کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں کا ترجمہ قومی ہم آہنگی اور یگانگت بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 132 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui