دیپ جلتے رہے (سولہویں قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمدشام کو گھر آئے، دونوں بچے پھل بسکٹ اور چاکلیٹ دیکھ کر بہت خوش ہوئے، ہم نے کچھ بچا کر ان کے صبح اسکول کے لنچ کے لیے رکھ دیے۔ غریب اور امیر کا اپنے بچوں سے ایک ہی جھگڑا رہتا ہے، یہاں کھاتے بہت ہیں، وہاں کھاتے ہی نہیں۔

یہ تو آتے ہی کھانا کر سو گئے۔ صبح پانچ بجے سگریٹ کا دھواں حلق میں پہنچا، تو آنکھ کھل گئی۔ لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ بے مشقت ہی دواؤں کے زیرِ اثر ہلکان رہتے ہیں، یہ مزدوری آپ کے بس کی نہیں۔ چڑ گئے، تم خود ہی طعنے دیتی ہو آپ کو فکر نہیں، اور اب جب میں بچوں کے لیے کچھ کرنا چا ہتا ہوں تو ہمت تو ڑ رہی ہو۔ اب آگے کو ئی بات کرنا فضول تھی سو چپ ہو رہے۔

تین دن لگا تا ر پابندی سے جاتے رہے، چوتھے دن ڈھ گئے، بخار چڑھ آیا۔

شام کو اسمٰعیل خلیل آئے۔ خاصے غصے میں تھے۔
روزانہ اپنی جیب سے شاعر صاحب کو سو روپے دے رہا ہوں۔ ہم نے چونک کر انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا

مزدور آٹھ آٹھ اینٹیں اٹھاتے ہیں یہ دو اٹھاکر اوپر پہنچاتے ہیں اور ہر پھیرے پر چار سگریٹیں پیتے ہیں۔
سب مزدور دیکھ رہے ہوتے ہیں، میں ان کی نظروں کا سامنا کیسے کروں میری نظر میں تو سب برابر ہیں۔ اچھا ہوا آج نہیں آئے۔

جی انہیں بخار ہے آج۔
مجھے معلوم ہے ان کے بس کا کام نہیں میں نے منع بھی کیا تھا۔ بس انہیں کہہ دیجیے گا کل سے آنے کی ضرورت نہیں۔

کارِ مجذوب تو کچھ بھی نہیں اس کے سوا
آئنہ دیکھیے آئینہ دکھاتے چلیے

ایک دن فریدہ باجی نے ہمیں بلایا، خاصی غصے میں تھیں کہنے لگیں، تم نے بتا یا کیوں نہیں تھا کہ تم لوگ شیعہ ہو۔
ہم نے کہا، آپ نے پوچھا نہیں، اگر پوچھتیں تو بتانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔

رات رات بھر اونچی آواز سے نوحے چلتے ہیں، محلے والے بھی شکایت کر رہے تھے کہ کس کو مکان دے دیا ہے۔
سوری واقعی ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا، آئندہ ہم خیال رکھیں گے۔

نہیں میرے میاں نے کہا ہے فی الفور انہیں نکا لو۔
ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا نوحے تو مہینے بھر سے پڑھے جا رہے تھے، یہ اچانک انہیں کیا ہو گیا تھا۔ ہم نے یہ سوال ان سے کیا۔

کہنے لگیں، ہم سمجھتے تھے نعتیں پڑھی جا رہی ہیں، لیکن کل پڑوسن نے بتا یا کہ نوحوں کی آوازیں ہیں۔
ٹھیک ہے فریدہ باجی، جیسے ہی کوئی مکان ملا ہم خالی کر دیں گے۔

ہم نے احمد کو بتا یا، خوش ہو گئے کہنے لگے، اب ایسا مکان ڈھونڈ نا جہاں فون ہو۔

مالک مکان کو عام طور پڑھی لکھی اور مختصر فیملی کے کرائے دار پسند ہوتے ہیں۔ ہم ایک مالکہ ء مکان گڈو کو پسند آئے، مکان کا کرایہ ڈھائی ہزار بتایا، لیکن ہم نے پندرہ سو مہینہ پر اسے راضی کر لیا۔ اور دو تین دن بعد اس کے مکان میں شفٹ ہو گئے۔ اس نے لینڈ لائن فون کی ایکسٹینشن بھی دے دی۔ تیسرے چوتھے روز وہ آئی اور کہنے لگی با جی سچی سچی بتائیں، آپ لو گ کرسچن ہیں۔

ہم نے اسے بتایا کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ کہنے لگی، ہم ویسے کرسچن کو بھی مکان دے دیتے ہیں۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ ایسا شک اسے کیوں ہوا؟

کہنے لگی آپ بھنگی کو اپنے برتنوں میں کھانا دیتی ہیں، اس دن آپ کا بچہ ایک کتے کو گھر لے آیا تھا۔ ایسا مسلمان تو نہیں کرتے۔ ہم نے اس کی تسلی کرنے کی اپنے تئیں کوشش کی، کتے کا بچہ زخمی تھا، دودھ پلا کر اور مرہم پٹی کر کے اسے گلی میں چھوڑ آیا تھا۔ اور بھنگی انسان ہے، صفائی کا کام کرتا ہے۔ اسے اپنے برتنوں ہی میں کھانادیں گے، ۔ انسان تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ تب اس کی آنکھوں میں ابھرا، شک مزید واضح ہوگیا۔

یہ مسیحا طلبی ڈھونڈ رہی ہے بیمار
درد رکھتے ہیں جو دل میں وہ دوا رکھتے ہیں

یہ سجنے سنورنے کی شوقین خاتون تھیں ہر جمعے کو لان کا جوڑ ا ثواب کی غرض سے پہنا کرتیں۔ ان کا ایک بیٹا پڑھائی چور تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اسکول سے اٹھا کر اسے مدرسے میں ڈال دیا تھا، اب ماشاللہ اپنے عقیدے کے مطابق انہوں نے جنت میں بھی گھر بک کرا لیا تھا۔ ہر جمعرا ت درس سننے جا یا کرتیں۔ اور دوسرے دن ہمیں درس کی وہ ساری اہم باتیں بتا کر ہمارا عقیدہ درست کرنے کی کوشش کرتیں۔ اپنے گھر کے اوپر انہوں نے دو کمرے بنوا لیے تھے اور اس پر ٹین کی چھتیں ڈال دی تھیں۔ اس تپتے ہوئے نئے مکان کے ہم پہلے کرائے دار تھے۔

احمد کی خواہش کے مطابق اس میں فون بھی تھا۔ اور کرایہ بھی قابلِ برداشت تھا۔ فون سے دوسروں کو ہم سے اور ہمیں دوسروں سے رابطے میں واقعی بڑی آسانی ہوئی۔ یہ گھر اسکول اور باجی کے گھر سے پیدل کے رستے میں تھا اور انٹرینس کو ہم نے ڈرائنگ روم بنا لیا تھا۔ احمد نوید کے دوست اورمداح اس مکان میں احمد نوید سے ملنے آتے ان کا تا زہ کلام سنتے، ہماری ہمت بڑھاتے اور ہمیشہ ہی اس سرشاری میں مبتلا کر جا تے کہ ہم اس ٹین کی چھت کے نیچے ایک بڑے آدمی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے کبھی کم مائگی کا احساس نہیں ہوا آج تک احساسِ تفاخر سے سر بلند رہتا ہے۔ ایک بار جب مشہور اداکار ساجد حسن نے جو احمد کے دوست بھی ہیں ایس ٹی این ٹی وی پر اپنے پروگرام مصالحہ میں احمد کا انٹرویو لیا اور انہیں گھر تک چھوڑنے اور احمد کے کہنے پر گھر بھی آئے۔ تب پاس پڑوس کے لوگوں کو تجسس ہواکہ اس گھر میں شاید کوئی خاص شخصیت رہتی ہے۔

ایک بار اسی محلے کی ایک برقعہ پوش خاتون سن گن لینے آ موجود ہوئیں، پوچھا۔
تمہارے میاں کیا کرتے ہیں؟
شاعر ہیں۔ ہم نے فخر سے جواب دیا۔

ائے شاعر کنے کچھ ہوے نہیں ہے۔ انہوں نے بڑے طنز سے کہا۔
خالہ آپ کی حالت سے تو لگتا ہے کہ آپ کے گھر میں بھی سب شاعر ہیں۔

شاعر اگر غریب ہو تو، اس کا تعلق اس کی شاعری سے جوڑا جاتا ہے۔ اس سارے عرصے میں ہمیں ایک منفرد تجربہ ہو ا۔ ہمیں الفاظ اوررویوں سے ہماری کم مائیگی کا احساس دلا کر انہوں نے زیادہ تکلیف پہنچائی جو خودمعا شی طور پر مضبوط نہیں تھے۔ امیر آدمی کسی نہ کسی طور غریب کے کام آتا ہے لیکن بے شعور غریب، دوسرے غریب کے لیے محض آزار ہوتا ہے۔ ہمارے گھر کے بوسیدہ، ٹوٹے ہوئے فرنیچر کی نشاندہی ہمیشہ کسی کنگلے ہی نے کی۔ کبھی کسی صاحب ثروت نے ہمیں ہماری کم مائگی کا احساس نہیں دلا یا۔

نام اور کام والے لوگوں نے ہمیشہ ہماری ہمت اور احمد نوید کے کلام کی داد ہی دی۔ احمد نوید کے اعلیٰ اخلاق اور شعری توانائی سے متاثر کتنے ہی بڑے لوگ ہمارے گھر آتے۔ اور خوش خوش جاتے۔ البتہ ذہنی اور مالی کنگلے دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں نے ضرور ہماری غربت اور کم مائگی کا حساس دلا کر ہمیں شرمندہ کرنے کی کوشش کر کے خود پر ہمارے گھر کے دراوازے ضرور بند کر دیے۔ پیسہ اہم ہے لیکن اس کی اہمیت ہمارے ہی لیے ہے۔ دوسروں کو ہمارے اچھے اور برے حال سے کچھ لینا دینا نہیں ہو تا۔ اپنے دوستوں اور پسندیدہ ادیب اور شعرا سے ملتے وقت با شعور، علم یافتہ صرف ان کے کام اور اخلاق سے متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جاہل مالی حیثیت کا انداذہ لگا کر اپنے ظرف کے مطابق، اس کی عزت و احترام میں ناپ تول کرتا ہے۔

امیری کے شوق میں مبتلا کو تاہ ذہن کہا کرتے ہیں کہ لو گ پیسے والے کی عزت کرتے ہیں، اور اس لنگڑے بہانے کے ساتھ وہ، کیسے بھی کر کے پیسہ کمانا چا ہتے ہیں، چوری، کرپشن حتیٰ کہ قتل سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس سب کے بعد بھی انہیں مطلوبہ عزت نصیب نہیں ہوتی تب اختیار، طاقت، سخاوت کا برملا اظہار محافل اور دعوتوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی منہ پر عزت اور پیٹھ پیچھے مذاق اڑیا جا تا ہے۔ یہ لوگ اندر سے کھوکھلے اور بے حد تنہا ہوتے ہیں۔ چنانچہ ذاتی تجربے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اچھے مالی حالات انسان کی اپنی خواہش ہو تی ہے، اور اس کے حصول کے لیے وہ زندگی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اور الزام زمانے کو دیتا ہے۔

اس سرا میں نہیں عزات کا بنانا آساں
یہ ہی عزت ہے کہ عزت کو بچاتے چلیے۔

اس گھر کے کمرے ذرا کشادہ تھے، ہم ایک کمرے کو فرشی، ادبی نشست کے لیے مختص کر رکھا تھا۔ یہاں مہینہ، پندرہ دن میں شعری نشست ہوا کرتی، شہر بھر سے مشہو رشعرا اور شاعرات شرکت کیا کرتے۔

وسعت اللہ خان، احمد کے جگری دوست ہیں اس زمانے میں بی بی سی میں ہوتے تھے۔ جب کبھی پاکستان آتے ہمارے گھر ضرور آتے۔ پہلا چھوٹا سا موبائل فون ہم نے ان ہی کے ہاتھ میں دیکھا۔ اس زمانے میں کال ریسیو کرنے کے بھی پیسے کٹتے تھے۔

کچھ دن مشہور شاعرہ ثروت اور اس کے شوہر پیر محمد کیلاش کی میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا۔ اس سب کے ساتھ تنگی داماں کی معمولی سی بے سکونی نے بھی دل کو قبر بننے نہیں دیا۔
سکون کھینچتے دردِ اضطراب سے ہم
کہ بے قراری سے ہم تو قرار کھینچتے ہیں۔

ایک روزگڈو نے ہمیں بلا کر پوچھا، آپ لو گ ہندو ہیں؟ ہم نے انہیں حیرت سے دیکھا۔ بولیں آپ کے رشتے دار کیلاش ہیں، بچوں کے نام رمیش اور رشی ہیں۔ ہماری ہنسی نکل گئی۔
کہنے لگی ہم صرف اسے سچ بتا دیں وہ ہمیں مکان سے نہیں نکالے گی۔ خیر ہم نے اس بار پھر اسے مطمئن کر دیا۔

گرمیوں میں بارہ بجے کے بعد یہ چھتیں آگ اگلنا شروع کر دیتیں، اور چار بجے کے بعد ٹھنڈی ہو نا شروع ہو جاتیں، اسکول سے آنے کے بعد جب تپش زیادہ پریشان کرتی تو بچوں کو لے کر گلیوں میں نکل جاتے۔

اس زمانے میں ہر گھر میں رنگین ٹی وی آچکا تھا لیکن ہمارے گھر میں شارپ ٹی وی جو کہنے کوبلیک اینڈ وائٹ تھا لیکن ہم اس کی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے اسے بلینک اینڈ وائٹ کہا کرتے تھے۔ بچے جانے کیسے ٹام اینڈ جیری شناخت کر پاتے تھے معلوم نہیں۔

عطا الحق قاسمی کے بڑے بھا ئی ضیا الحق قاسمی (مرحوم) بہت اچھے انسان تھے، مزاحیہ شاعری کرتے تھے۔ اکثر ہمارے گھر آتے۔ نواز شریف کا دور تھا، صدیق الفاروق، ہاؤ س، بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کے سب سے بڑے عہدے پر فائز تھے۔ ضیا الحق قاسمی نے احمد نوید کے ساتھ اپنے گھر کے باہر شامیانہ لگا کر ایک شام منعقد کی، ان کی شرارت دیکھیے کہ صدیق الفاروق کے صبر کا امتحان لینے کو انہیں مہمانِ خصوصی بنا دیا۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے احمد نوید کو، کارپوریشن کی جانب سے دس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔

جیسے ہی دس ہزار ہاتھ آئے، ہم پی ای سی ایچ ایس سو سائٹی کی سیکنڈ ہینڈ اشیاء کی مارکیٹ سے 14 انچ کا ایل جی ٹی وی خرید لائے۔ یہ بہت اچھا ٹی وی تھا اس کے کلرز اور آواز زبردست تھی۔ قسطوں پر لیا ٹیپ ریکارڈ تو کسی ضرورت کے تحت قسطیں پوری ہونے سے قبل ہی بیچ چکے تھے۔ اب اس ٹی وی کی آمد نے گھر میں رنگ اور نغمے بکھیر دیے تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •