جب لوگوں نے ہاتھ ملانا چھوڑ دیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جب یہاں مغرب میں ایچ آئی وی کی دہشت کی لہر آئی تھی۔ وہ بھی کیا نفسا نفسی کے دن تھے کہ لوگوں نے ہاتھ ملانا چھوڑ دیے تھے۔ بس یا ریل گاڑی میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ بدن ایک دوسرے کے بدن چھو نہ جائیں۔ لوگ کاغذ یا پلاسٹک کے برتن اور چھری کانٹے استعمال کرنے لگے تھے کہ دوسروں کے جھوٹے برتن کے استعمال سے ایچ آئی وی اور آخر ایڈز لگ جائے گی۔ مجھے ٹیلی وژن کا وہ پروگرام یاد ہے جس میں بتایا جارہا تھا کہ آنکھ کے آنسو سے بھی ایچ آئی وی لگ سکتی ہے، لعاب دہن کا تو ذکر ہی کیا۔ انسانی تھوک سے بھی لوگوں کو خوف آنے لگا تھا۔ اس وقت عام تصور یہ تھا کہ ایچ آئی وی یا ایڈز کا کوئی علاج نہیں۔ یہ ایک بار جسم میں داخل ہو جائے تو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتے۔

اُس زمانے میں جو سراسیمگی پھیلی تھی اس نے معاشرے کے مزاج کو اس بری طرح متاثر کیا تھا کہ حکومت ڈر گئی تھی مگر اس کے بعد بہت ہی موثر مہم چلائی گئی اور خدا خدا کر کے سماجی زندگی معمول پر آئی۔ اس کے علاوہ عوام میں جو شعور پیدا ہوا اس میں انتہائی درجے کا اعتدال تھا۔ لوگ اچھی طرح باخبر ہو گئے اور احتیاط کی جتنی بھی تدبیریں ہو سکتی تھیں، اختیار کی گئیں۔ برطانوی قوم کے بارے میں مشہور تھا کہ لمس پسند نہیں کرتی۔

ادھر خدا جانے کیا ہوا ہے کہ برطانیہ میں گلے ملنا عام ہو گیا ہے، لوگ پیار اور مسرت کے لمحوں میں ایک دوسرے کو والہانہ گلے لگا لیتے ہیں، یہ منظر ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کہتے ہیں، اور شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ یہ سب تارکینِ وطن کا کیا دھرا ہے۔ اگر تارکینِ وطن ان لوگوں کو اس طرح کے فطری انسانی جذبوں کا اظہار سکھا رہے ہیں تو کیا بُرا کر رہے ہیں۔

ایچ آئی وی کا خیال یوں ذہن میں آیا کہ پاکستان اور خاص طور پر اس کے صوبے سندھ سے جو خبریں آرہی ہیں وہ پریشان کن نہیں، بے حد پریشان کن ہیں۔ وہاں تو ذمے دار لوگوں کو نہ شعور بیدار کرنے کے ڈھنگ آتے ہیں۔ نہ مرض کی علامات کی تمیز ہے، نہ اس وبا پر شروع ہی میں قابو پالینے کا ہنر کسی کو آتا ہے۔ نہ ہی فوری علاج کی سہولتیں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خلقت کو احتیاطی تدابیر کی تربیت دینے کا کوئی ایسا نظام بھی نہیں جو جنگی پیمانے پر چلایا جارہا ہو۔

پاکستان میں مریض انجکشن بڑے اشتیاق سے لگواتے ہیں، مقصد یہ ہوتا ہے کہ مرض ختم ہو جائے لیکن وہ ایک سوئی ہر ایرے غیرے کے بدن میں چبھوئی جائے تو ایک دوسرے کی بیماریاں منتقل کرتی رہتی ہے اور ہمارے ہاں سوئی کو ایک استعمال کے بعد تلف کر دینے کا تصور ہی نہیں۔ اسی طر ح مریض کو خون دینے میں بھی بڑے خطر ے ہیں کیونکہ خون میں کثافت یا آلودگی موجود ہونا عین ممکن ہے مگر کسے پڑی ہے کہ خون کو جانچنے کی زحمت اٹھائے۔

اسی طر ح حجام کے استرے کے استعمال سے ایچ آئی وی یا ایڈز لگنے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ میں اپنی نوجوانی میں نائی سے شیو بنواتا تھا جس کی سزا یوں ملی کے جلد پر جراثیم کا حملہ ہوا جو بڑھ کر سر کی خشکی میں تبدیل ہوگیا، وہ خشکی آج تک موجود ہے۔ شکر ہے یہ ان دنوں ایچ آئی وی کی دہشت نہیں تھی ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ مرض ایک سے دوسرے کو لگنا عام بات ہے، ایک ہی تولئے کے استعمال سے لے کر ایک ہی بستر میں سونے تک مرض منتقل ہونا عام بات ہے کہ مرد و زن کے مراسم اس راہ میں سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان حالات میں احتیاط کرنا کچھ اتنا مشکل نہیں لیکن لوگ شرمیلے ہیں، کیمسٹ کی دکان سے احتیاط کے سازوسامان طلب کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں۔

آج جون کی ستائیس تاریخ کو جس وقت میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، بی بی سی ٹیلی وژن پر خبر آرہی ہے کہ خواتین کے اندرونی اعضا کے سرطان cervicalکینسر سے بچاؤ کا ٹیکہ کامیاب ہوگیا ہے اور لڑکیوں کو نوعمری ہی میں لگایا جائے گا۔ یوں خیال رکھا جاتا ہے قوموں کی صحت کا۔

ایڈز کی تو خبر نہیں لیکن ایچ آئی وی کا ابھی کچھ عرصے پہلے تک کوئی علاج نہیں تھا، اب شکر ہے کہ اگر شروع ہی میں تشخیص ہو جائے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں صحت کے عالمی ادارے نے وافر مقدار میں دوا فراہم کی ہے۔ اسے خدا کے لئے دکانوں میں نہ بیچا جائے بلکہ مرض کی علامتیں ظاہر ہوتے ہی بلا معاوضہ استعمال کرایا جائے۔ اس طرح بیماری کی روک تھام قطعی ممکن ہے۔

ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ یوں سوچئے کہ پولیو بڑا ہی اذیت ناک مرض ہے جو انسان کو بچپن ہی میں معذور اور اپاہج کر دیتا ہے۔ پولیو کی روک تھام کے لئے تو سوئی اور انجکشن کی بھی ضرورت نہیں، صرف دو قطرے پلا دینے سے بدن پولیو کے جراثیم کو شکست دینے کا اہل ہو جاتا ہے لیکن اس میں بھی طرح طرح کے روئیے ہماری راہ روکے کھڑے ہیں اور آئے دن پولیو کے مریض سامنے آرہے ہیں۔

میڈیکل سائنس میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ حیران کرتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ لوگوں کی عمریں زیادہ ہونے لگی ہیں۔ وہ زیادہ عرصے جینے لگے ہیں۔ شدید سے شدید ایڈز میں بھی جینے کے لئے تین چار سال کی مہلت مل جاتی ہے۔ ایسے میں دوا کا حصول تو اہم ہے لیکن مرض کے حملے سے پہلے اپنے دفاع کا اہتمام کر لینا بڑی دانش مندی ہے۔ یہ کام دوا نہیں کرتی، خود ہمیں کرنا ہوتا ہے۔ نہیں آتا تو سیکھئے اور سیکھ جائیں تو دوسروں کو سکھائیے۔ اسی کو صدقہ جاریہ کہتے ہیں۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •