اپنا جواز کھوتا ہوا نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر اس نظام کا زمین بوس ہونا مقدر ہے جسے عوام جائز اور حلال تسلیم نہ کریں۔ کسی بھی سیاسی نظام کی بقاءکا دارومدار اس کا سیاسی طور پر جائز ہونا ہے۔ جدید سیاسی نظریہ میں سیاسی نظام کا جائز ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، یہ اتنا ہی ضروری ہے جیسے انسانی جسم میں دوڑتا خون۔ انسانی تاریخ کے مختلف مواقع پر مہم جوئی سے کئی جتھوں نے طاقت سلب کرلی۔ اقتدار پر قبضے کا جواز کبھی مذہب کو بنایا گیا تو کبھی قبائل کے معاہدے سے اسے حلال قرار دینے کی جستجو ہوئی، یا سیاسی یا فوجی اتحادوں کو سند جواز بنانے کی کوشش ہوئی۔ لیکن اقتدار کے یہ تمام جواز تسلیم نہ کیے گئے اور وقت کے ساتھ ایسے تمام جتھے حق حکمرانی کا جواز کھوبیٹھے۔

پاکستان کی ستر سال کی تاریخ میں فوجی مہم جو سول حکومتوں کو چلتا کرکے بڑی آسانی سے اقتدار میں تو آگئے لیکن انہیں اصل مشکل اپنی حکمرانی کو جائز قرار دلانے کی صورت درپیش رہی۔ مثال کے طورپر جنرل ضیاءکی قیادت میں فوجی جنتا کے لئے بہت آسان تھا کہ وزیراعظم بھٹو کی حکومت کا 1977 ءمیں دھڑن تختہ کردیں۔ یہ وہ موقع تھا جب بھٹو کو ایک مقبول عوام احتجاج کی مشکل درپیش تھی۔ انتخابات کی شفافیت اور اس بناءپر دوسری بار اقتدار تک پہنچنے کے پارلیمانی جواز کو تسلیم نہیں کیاجارہا تھا۔ اسی طرح وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت نے سیاسی جواز کھودیا تھا جب جنرل ایوب خان اور ان کے پیشرو سکندر مرزا نے اکتوبر 1958 ءمیں بغاوت کردی۔

جنرل ضیاءالحق توچلے گئے لیکن پاکستانی سیاست میں یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رہا۔ 1990 سے 1999 تک بظاہر فوجی مداخلتوں کے نتیجے میں حکومت سے ہاتھ دھوبیٹھنے والی زیادہ تر حکومتوں کو اپنے جواز کا مسئلہ درپیش رہا۔ جنرل ضیاءالحق کے دور کے بعد ’حق حکمرانی کا جواز‘ نہ ہونے کی عمومی وجہ حکمران جماعت کی کرپشن یا بدعنوانی بنی۔ ضیاءدور کے بعد پاکستانی فوج کے جنرلوں یا ’بیورو کریٹ‘ یعنی سرکاری ملازموں کی مہم جوئی کے نتیجے میں جو کٹھ پتلی حکومتیں معرض وجود میں آئیں، ان کے بارے میں یہ تصور پیدا ہوگیا تھا کہ وہ اپنے ہونے کا جواز کھو چکی ہیں، اس لئے ان کو منظر سے ہٹادیاگیا۔

مشرف دور کے بعد مہم جو درحقیقت ماضی سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے برسراقتدار آنے والی حکومتوں کے لئے جواز کا بحران پید اکرنا اور اس میں ڈوریاں ہلانا شروع کردیا۔ پہلے مرحلے میں انہیں کمزور کیاگیا اور پھر بوقت ضرورت دودھ میں سے مکھی کی طرح نظام سے نکال کر باہر پھینک دیاگیا۔ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ مشرف دور کے بعد ہم نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جو دو حکومتیں بعد دیکھی ہیں، وہ کسی بھی لحاظ سے کوئی مثالی حکومتیں تھیں۔

نہیں، ایسا نہیں تھا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مہم جوئی کرنے والوں نے ان حکومت کے جائز ہونے کا بحران پیدا کیا تاکہ دونوں حکومتوں کی ملک پر حکمرانی کے حق کی اخلاقی حیثیت کمزور ہوجائے جو پی پی پی حکومت کو عوام سے 2008 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کو 2013 ءمیں پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ملا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہم جوئی کرنے والوں نے ان حکومتوں کے آئینی اختیار اور انتخابی مینڈیٹ کے جائز اور درست ہونے پر ہی شکوک وشبہات اور سوالات پیدا کردیے۔ میمو گیٹ سکینڈل اس کی بہترین مثال ہے جس نے پی پی پی حکومت کے ملک پر حکمرانی کے جواز کا بحران پیدا کردیا۔ اس سکینڈل میں حاضر سروس آرمی چیف (جنرل کیانی ) اور حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی (جنرل پاشا) نے پی پی پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ امریکی فوج کے ساتھ مل کر ان دونوں ’جینٹلمین‘ کو نوکری سے برطرف کرنے کی سازش کررہی تھی۔

پاکستان کے عجیب وغریب پراسرار معاملے میں یہ انکشاف کہ، برسراقتدار حکومت غیرملکی اور دشمن قوتوں کے ساتھ مل کراپنی ہی فوج کے خلاف سازش میں ملوث ہے، اس قدر سنگین ہے جو سول حکومت کے اقتدار سے جانے کے لئے کافی ہے۔ لہذا کسی حکومت کا ایسا کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانا عوام کی نظر میں ان کا حق حکمرانی ختم کردیتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں پاناما سکینڈل آیا جو مہم جوعناصر کے لئے غیبی مدد کے مترادف تھا۔

ایک عالمی قانونی فرم کی طرف سے وزیراعظم اور شریف خاندان کے مالیاتی بدانتظامیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کے الزام عائد ہوئے۔ مہم جو یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ریاست کی متعصبانہ مشینری کو کیسے موجودہ وزیراعظم کے خلاف استعمال کرنا ہے اور کیسے پورا منظر تیار کرنا ہے جس سے حکومت کے جائز ہونے پر ہی سوال اٹھ جائے۔ باقی تاریخ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی انتخا بات کے بعد جولائی 2018 ءمیں ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس مرتبہ کھیل کے اصول مختلف ہیں۔ موجودہ حکومت بذات خود ہی سیاست کے بڑے کھلاڑیوں اور سیاسی جماعتوں کو چیلنج کررہی ہے اور ان کے وجود کے جائز ہونے پر سوال اٹھارہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنا سیاسی بیانیہ اُن سیاسی کھلاڑیوں سے لیا ہے جو مشرف دور کے بعد بڑی سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے کے لئے باہر موجود تھے۔ مشرف دور کے بعد اس سیاسی نظام کی پیداوار دونوں بڑی جماعتوں کو مکمل اور ناقابل معافی حد تک بدعنوان یا کرپٹ مشہور کیاگیا۔

دلائل کی خاطر چند لمحے کے لئے ہم یہ تصور کرلیتے ہیں کہ دونوں حکومتوں یا انتخابی نظام کی پیداوار جماعتوں نے ناقابل معافی حد تک کرپٹ یا بدعنوان مان لیا ہے۔ اب ذرا اس سیاسی یا انتخابی نظام کی تیسری پیدوار یعنی ’پی ٹی آئی حکومت‘ کی طرف چلتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے پہلے نو ماہ میں جو معاشی کارکردگی دکھائی ہے، اسے ملک میں اس وقت درپیش معاشی بحران سے نمٹنے میں نا اہلی قرار دیاجارہا ہے۔ حکومتی صلاحیت کے بارے میں اگر کوئی شک وشبہ تھا بھی تو وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ کے عہدے سے اپنی ٹیم کے ’اوپننگ بیٹسمین‘ کی چھٹی کرکے ناقدین کو درست ثابت کردیا۔

نوسال کی فوجی حکمرانی کے بعد پاکستان نے پارلیمانی جمہوریت کے جو گیارہ سال دیکھے ہیں، اس کے بعد صرف دو باتیں ہی کہی جاسکتی ہیں کہ یہ سیاسی نظام یا تو صرف بدعنوان یا کرپٹ پیدا کرسکتا ہے یا پھر نا اہل سیاسی حکومتیں۔ یہ دونوں نتیجے ہی محض حکومت ہی نہیں سیاسی نظام کے سیاسی جواز پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

پچیس سال پہلے میں نے سیاسی رپورٹنگ شروع کی تھی۔ اسلام آباد میں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت میں، میں نے خود کو تباہ کرنے کا رجحان کسی نہ کسی حد تک پایا ہے۔ اقتدار میں آنے کے ابتدائی پرامن ماحول کے ایک یا دو سال بعد حکومتیں عموما خود کو تباہی کے راستے پر لیجاتی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت اس لحاظ سے ایک استثنی نظرآتی ہے۔ یہ پہلے دن سے ہی اپنی تباہی کے راستے پر گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی حکومت سیاسی نظام کے جواز کھودینے کے عمل میں بہت تیزی دکھارہی ہے اور وہ دلائل اپنی قوت کھورہے ہیں جنہیں مستقبل میں زیادہ مدت تک سیاسی نظام کے تسلسل اور بقاءکے حق میں پیش کیاجاسکتا ہے۔

عام طور پر حکمران جماعت اور وزیراعظم ’ڈرائیونگ سیٹ‘ پر ہوتے ہیں اور وہ سیاسی نظام کی گاڑی کو اس راستے پر لیجارہے ہوتے ہیں جہاں گہری کھائیاں اور خطرناک گھاٹیاں منہ کھولے ہوتی ہیں۔ سابق وزراءاعظم قوم کو ان خطروں سے بچانے کی تگ ودوکرتے نظرآئے ہیں لیکن موجودہ وزیراعظم قوم کی گاڑی ان ہلاکت خیز راستوں پر خود لے آئے ہیں ۔ ہر حکمران جماعت ہمیشہ یہ کوشش کرتی آئی ہے کہ نظام کے بارے میں اچھی رائے فروغ پائے یا پھر کم ازکم اس کا مثبت تاثر ضرور قائم رہے۔

آپ غور فرمائیے: قومی اسمبلی ہر روز اکھاڑا بنی ہوتی ہے۔ ہلا گلا، گالم گلوچ، توتکار، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا معمول ہے جس میں زیادہ تر کوئی اور نہیں خود حکمران جماعت ملوث ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی کے ایوان سے سامنے آنے والے کچھ مناظر بہت پریشان کن ہیں۔ طاقت کے ایک ایوان سے نظرآنے والے اس منظر کو ”مایوس کن“ کے لفظ کے سوا اور کیا قرار دیاجاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •