گھٹنوں کے درد کا علاج: پردہ اٹھتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ہماری قوم کی ایک بہت بڑی تعداد ”گوڈوں گٹوں“ سے ”رہ“ گئی ہے۔ میں نے دو ہفتے قبل گھٹنوں کی تکلیف کے لئے ابرار ندیم کی والدہ کے بتائے ہوئے ایک گھریلو نسخے پر عمل کیا تو مجھے بہت جلد درد میں افاقہ ہوا۔ میں نے یہ گھریلو نسخہ، ظاہر ہے اس لئے استعمال کیا تھا کہ خود میں بھی ”گوڈوں گٹوں“ سے رہ چکا ہوں، مگر میں نے اس کے اجزائے ترکیبی سے اپنے قارئین کو آگاہ نہ کیا، میں نے لکھا کہ میں کچھ مزید عرصہ یہ نسخہ استعمال کروں گا اور اگر آگے چل کر بھی مجھے افاقہ محسوس ہوا تو قارئین کو اس ”نسخہ کیمیا“ سے آگاہ کروں گا کیونکہ عارضی فائدے کی صورت میں لاکھوں لوگوں کو جو گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں، خواہ مخواہ ایک اور نسخے کی تیاری کی زحمت نہیں دوں گا۔

ایک اور نسخے کی تیاری کا پسِ منظر یہ ہے کہ ہماری بائیس کروڑ کی آبادی میں بیس کروڑ ”حکیم“ ہیں اور یہ ان معنوں میں کہ خود میں نے جس کسی سے اپنے گھٹنے کی تکلیف کا ذکر کیا اس نے فٹ سے ایک نسخہ مجھے بتایا جس سے اس کی نانی کو آرام آگیا تھا اور اب وہ دوڑتی پھرتیں بلکہ میراتھن ریس میں حصہ لینے کا سوچ رہی ہیں۔ میں نے کالم میں لکھا تھا کہ جب مجھ پر اس گھریلو نسخے کی افادیت پوری طرح واضح ہو جائے گی، تب میں اپنے کالم میں اس کے اجزائے ترکیبی تحریر کروں گا مگر صاحب ہوا یوں کہ ادھر میرا یہ کالم شائع ہوا اور ادھر دوستوں کے فون پر فون آنا شروع ہوگئے کہ کالم میں تو جب آپ لکھیں گے، لکھیں گے ہی، مگر اس سے پہلے ہمیں بتا دیں، ہم گھٹنوں کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور زندگی سے بیزار بیٹھے ہیں۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ گھٹنے تبدیلکیے بغیر چارہ نہیں لیکن ایک تو یہ لاکھوں کا خرچہ ہے، دوسرے تین ماہ تک آپ نارمل زندگی نہیں گزار سکتے اور چوتھے اس امر کا امکان بھی موجود ہے کہ آپریشن ناکام ہو اور آپ ایک ٹانگ پر اچھلتے پھریں۔ ان دوستوں کے علاوہ بہت سے اجنبیوں نے میرا فون نمبر کہیں سے حاصل کیا اور منت سماجت کی کہ جناب ہم پر ترس فرمائیں یہ زود اثر نسخہ کے اجزائے ترکیبی سے آگاہ کر کے ثواب دارین حاصل کریں۔

دوسری طرف ابرار ندیم کو بھی سینکڑوں کی تعداد میں فون موصول ہوئے، ان میں سے کئی ایک نے تو ان کی پنجابی شاعری کی تعریف و توصیف میں قصیدہ نما گفتگو کی اور پھر نسخہ کے بارے میں دریافت کیا۔ ابرار بہت بذلہ سنج شخص ہے، وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا ”سر دوا کی مانگ بہت زیادہ ہے آپ براہ کرم ابھی کالم نہ لکھیں بلکہ یہ معجون تیار کر کے اس کی خوبصورت اور بہت متاثر کن پیکنگ تیار کر کے اندرون اور بیرون ملک اس کی مارکیٹنگ کرتے ہیں اور یوں دنوں میں کروڑ پتی بن سکتے ہیں“۔ اس کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں اس کے کچھ دوست ہیں جن کا فارمیسی کا کاروبار ہے، چنانچہ وہ ایک ہفتے کے لئے وہاں جائے گا اور ان سے معاملا ت طے کرکے اس کی قیمت ڈالروں میں رکھیں گے۔

میرے خیال میں، میں نے آپ کا خاصا وقت لے لیا، اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں تو صاحبانِ ذی وقار مجھے اس گھریلو نسخے سے تھوڑا بہت فائدہ ہوا ہے، مگر ابتدائی فائدے سے مجھے یہ امید ہوگئی تھی کہ اب میں دوڑتا پھروں گا، ایک ہی جست میں سیڑھیوں کے تین تین اسٹیپ عبور کروں گا تو ایسی کوئی بات نہیں۔ فائدہ ضرور ہوا ہے، مگر اتنا بھی نہیں جتنا میں سمجھتا تھا، چنانچہ جو خواتین و حضرات تھوڑے کو ”بوہتا“ سمجھ کر یہ گھریلو نسخہ استعمال کرنا چاہیں ان کے لئے اس نسخے کے اجزائے ترکیبی اور تیار کرنے کی تفصیل درج ذیل ہے۔

اجزائے ترکیبی 1۔ گائے کا گھی آدھ کلو 2۔ آدھ کلو ناریل کی گری باریک کش کرنے کے بعد گرائنڈ کریں 3۔ خالص ہلدی گھر کی پسی ہوئی آدھ پاؤ (بازار کی پسی ہوئی ہلدی استعمال نہیں کرنی)۔

ترکیب: گھی کو اچھی طرح گرم کر کے دیگچی کو ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں اور جب گھی نیم گرم رہ جائے تو اس میں ہلدی اور گری باری باری ملا کر اچھی طرح مکس کرلیں اور جب یہ مرکب اچھی طرح ٹھنڈا ہو جائے تو اسے شیشے، چینی یا مٹی کے برتن میں محفوظ کرکے فریج میں رکھ لیں۔ پلاسٹک کا برتن استعمال نہیں کرنا اور روزانہ نہار منہ ایک بڑے چمچ کا چوتھائی حصہ پانی کے ساتھ استعمال کریں اور آدھے پون گھٹنے کے بعد ناشتہ کرلیں۔ وماعلینا الا البلاغ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •