وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو رہا کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1973 ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے سویلین چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ چھوڑ کر آئینی وزیراعظم کا منصب سنبھالا تو گجرات کے بوڑھے سیاست دان فضل الٰہی چوہدری کو صدارت کے منصب سے نوازا 1973 کے نئے آئین کے مطابق صدر کا عہدہ علامتی سربراہ مملکت کا تھا۔ صدر اتنا بے اختیار تھا کہ وزیراعظم اس کے دستخطوں کی تصدیق کرتا۔ جس تقریب میں صدر اور وزیراعظم دونوں نے شرکت کرنا ہوتی، بھٹو صاحب تقریب میں، اس وقت پہنچتے جب، صدر فضل الٰہی چوہدری پہنچ چکے ہوتے مقصد یہ ہوتا کہ انہیں اٹھ کر صدر کا استقبال نہ کرنا پڑے۔

فضل الٰہی چوہدری کی بے اختیار صدارت کے حوالے سے انہی دنوں یہ واقعہ مشہور ہوا کہ روزانہ ایوان صدر کی دیواروں پر یہ نعرے لکھے پائے جاتے کہ ”فضل الٰہی چوہدری کو رہا کرو“ حکومت بہت پریشان تھی نعرے مٹائے جاتے مگر اگلی صبح پھر لکھے پائے جاتے۔ آخر ایک روز کڑا پہرہ لگایا گیا تو ایک شخص پکڑا گیا جو منہ پر کپڑا ڈالے، ہاتھ میں رنگ کی بالٹی اور برش پکڑے یہ نعرے لکھ رہا تھا۔ ’منہ سے کپڑا ہٹایا گیا تو پتہ چلا وہ خود صدر فضل الٰہی چوہدری تھے۔

ایسے واقعات کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے حافظے میں محفوظ رہ جاتے ہیں۔ بعض اوقات تاریخ کوئی پرانا کردار کسی نئی شکل میں آپ کے سامنے لاکر کھڑا کردیتی ہے۔ سردار عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلی ہیں۔ قانون اور ضابطے کی کتاب کہتی ہے وہ باختیار ہیں پورے صوبے پر اس وقت انہی کی حکمرانی ہے۔ مگر عوام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ ان کے علاوہ سب با اختیار ہیں۔

وہ بولتے تو ہیں مگر یہ معجزہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہانگیر ترین کا نام لیا جاتا کہ وہ پیچھے رہ کر صوبے کے معاملات دیکھ رہے ہیں جب وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں وزراء کو اپنے پاس بلالیتے ہیں۔ اسی طرح نعیم الحق ہیں تو معاون وزیراعظم کے مگر ہفتے میں دو دن لاہور گزارتے ہیں اہم ملاقاتیں کرتے ہیں۔ شہر اقتدار کے احکامات ان کے ذریعے نافذ عمل ہوتے ہیں۔ جن غیر منتخب افراد کو ابھی تک کوئی عہدہ نہیں ملا نعیم الحق سے خصوصی ملاقات کے بعد وہ کسی عہدے پر براجمان نظر آتے ہیں۔

گورنر پنجاب چودھری سرور ایکٹو ہیں روز ملکی و غیر ملکی افراد گورنر ہاؤس آتے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں وہ با اثر بھی ہیں اور تجربہ کار بھی۔ یہ سب معاملات ایک طرف وزیراعلی پنجاب اسمبلی کے اراکین کے قریب تھے تو معاملات درست سمت میں جارہے تھے۔ مگر اب ان کا زیادہ وقت سیون کلب اور ایٹ کلب کے درمیان گزرتا ہے۔ شام کے وقت لان میں بیٹھ کر چائے بھی پیتے ہیں مگران کی میز پر پارٹی کے افراد نہیں بلکہ نئے تعینات ہونے والا افسر نظر آتا ہے۔

جو اپنی تعیناتی سے چند دن قبل سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے خصوصی ملاقات کر کے آیا ہے۔ ان کے ساتھ چند افسران ایسے ہیں جو وزیر اعلی پنجاب کو اراکین اسمبلی سے دور رکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ لیکن نقصان اس کایہ ہوا ہے خود وزیراعلی جس ڈویژن (ڈیرہ غازی خان) سے تعلق رکھتے ہیں اس کے اراکین ان سے ناراض نظر آتے ہیں۔ کچھ دن قبل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک رکن نے کھڑے ہوکر وزیراعلی کے خلاف تقریر کر دی موقع پر موجود لوگوں نے انہیں قابو کیا ورنہ بات کافی آگے نکل چکی تھی۔

اراکین سے فاصلے پر رہنے سے جہاں غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں وہیں بزدار کابینہ کے اہم اراکین کی زبان پر وزیراعلی پنجاب کے بھائیوں کے کچھ واقعات ہیں جو اسمبلی راہداریوں سے نکل کر عوام میں معروف ہورہے ہیں۔ کابینہ کے وزیر کے پاس ایک چیف انجینئر اپنی تعیناتی کے لیے آیا وزیر نے بے بسی دکھائی تو وہ وزیراعلی کے بھائی کے پاس پہنچ گیا۔ بقول وزیر چند دن میں اس کی تعیناتی بھی ہوگئی اور تعیناتی کی قیمت لاکھوں میں وصول کی گئی۔

ہمارے سادہ وزیر اعلی اس وقت کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں وہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر کوئی انہیں روک رہا ہے۔ وہ عوام میں نکلنا چاہتے ہیں مگر اپنے گھر اور دفتر تک محدود کردیے گئے ہیں۔ نئے دن میں نیا حکم نامہ ان تک پہنچایا جاتا ہے۔ بھائیوں کا سرکاری کاموں میں دخل اندازی سمیت بیوروکریسی کا انہیں قید کردینا انہیں مشکل میں ڈال دے گا۔ اگر یہ روایت ایسے ہی چلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب ایوان وزیر اعلی کی دیواروں پر لکھا ہو گا وزیراعلی کو رہا کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •