ہارس ٹریڈنگ کی فخریہ واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اسلام آباد میں دنیا ٹی وی کے بیوروچیف خاور گھمن کو کہا ”میرے لیے یہ تسلیم کرنا دشوار ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ایسے لوگوں کے ایک گروہ سے ملاقات کرسکتا ہے جو حزبِ اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں اور مفادات کے عوض اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کے خواہش مند ہوں‘‘۔ خاور نے سمجھا میں اس کی خبر پر یقین نہیں کررہا۔ میں اس وقت سمجھا نہیں پایا کہ مجھے سیاستدانوں سے ہر گز اعلیٰ اخلاقی معیار کی توقع نہیں ہے لیکن وزیراعظم بن جانے کے بعد وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی میزبانی کرنا کسی سیاستدان کے شایانِ شان نہیں‘ اور عمران خان کے تو بالکل بھی نہیں۔
خاور نے مجھے اطمینان دلایا کہ اس کے پاس مصدقہ ذریعے سے خبر آئی ہے اور وزیراعظم نے ایسے لوگوں سے ملاقات کی ہے جو لوٹا بننے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تک میرا گمان تھا کہ تحریک انصاف ہارس ٹریڈنگ کا الزام لینے کی بجائے اس خبر کی کوئی تاویل کرے گی ۔ یہ خوش گمانی اس وقت تک قائم رہی جب تک وزیراعظم کے فصیح و بلیغ معاون نعیم الحق کا اعلان اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا کہ وزیراعظم نے وفاداریاں بدلنے کی غرض سے حزبِ اختلاف کے لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
اس کے بعد فواد چودھری میدان میں آئے اور مسلم لیگ ن کے مزید ایم این اے اور سینیٹر صاحبا ن کے بارے میں فرمایا کہ وہ بھی جلد تحریک انصاف سے آ ملیں گے۔ وزیرِ بے بدل شیخ رشید نے مزید توہین آمیز لہجے میں کہا”مسلم لیگ ن کے کئی اراکین جوگر پہن کر بھاگنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
میں جو وزیراعظم سے ان لوگوں کے ملنے پر سیاسی اخلاقیات کی دہائی دے رہا تھا‘ ان اصحاب کی بات سن کر ہی دنگ رہ گیا۔ میرے حاشیۂ خیال میں بھی کبھی نہیں آیا تھا کہ تحریک انصاف یا کوئی بھی سیاسی جماعت اس قدر بے باک ہوکر ہارس ٹریڈنگ کا دفاع کرے گی۔یہ جرأت تو پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والی دو سب سے بڑی جماعتوں کو بھی نہیں ہوئی۔ مجھے عمران خان کی تقریریں یاد آئیں‘ ان کے تبدیلی کے نعرے یاد آئے‘ سیاسی اخلاقیات کوبدل ڈالنے کا عزم یاد آیااور پھر تاریخ یاد آئی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عمران خان ہارس ٹریڈنگ کرکے جو کررہے ہیں وہ نیا نہیں‘ پرانی بات ہے۔ ہمارے اجتماعی حافظے میں انیس سو اٹھاسی سے لے کرانیس سو ستانوے کے دس برس اچھی طرح سے نقش ہیں جب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے اراکینِ اسمبلی توڑنے کے درپے ہوا کرتی تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مخفف ‘پی پی پی‘ کو پجارو‘ پلاٹ اور پاکٹیل سے تعبیر کیا گیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور حکومت میں اراکین ِاسمبلی کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ان تین سوغاتوں کا بھرپور استعمال کیا تھا۔
جس معزز رکن قومی اسمبلی کی یہ تین فرمائشیں پوری کردی جاتی تھیں وہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حمایت کا اعلان کردیتا تھا۔ اسی زمانے میںصوبہ سندھ میں جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی‘ اراکینِ اسمبلی کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے نامزدلوگوں کو سرکاری نوکریاں دلوائیں۔ جب یہ دروازہ کھلا تو سندھ میں ناخواندہ شخص استاد بھرتی ہوا‘ باقاعدہ مجرم پولیس میں لیے گئے اور وڈیروں کے کمدار مجسٹریٹ بن کرضلعی انتظامیہ میں بھرتی ہوئے۔
وفاق میں پی آئی اے‘ پاکستان سٹیل ملز‘ ریلوے ‘ سرکاری بینک ‘ واپڈا وغیرہ میں نوکریاں جوتیوں میں دال کی طرح بٹیں۔ مجھے اس دور کے ایک عینی گواہ نے بتایا کہ بعض جگہوں پر ملازمت کا حکم نامہ سگریٹ کے خالی پیکٹ کی پشت پر لکھا گیا اور حاملِ رقعہ ہذا بغیر کسی امتحان یا انٹرویو کے تکلف کے بھرتی کرلیا گیا۔
میرٹ کے بغیر نوکریوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ کی انتظامیہ اتنی بدعنوان اور نالائق ہوگئی کہ آج تک سدھر نہیں سکی۔ اس زمانے میںپرچی کے ذریعے سرکاری نوکریوں پر آنے والے آج سینئر افسر بن کر محکموں پر مسلط ہیں اور بالکل اسی طرح نوکریاں دیتے ہیں جیسے خود انہیں ملی تھیں۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ سندھ کے شہر برباد‘ دیہات تباہ اور انتظامیہ مردہ ہو چکی ہے ‘جس میں مراد علی شاہ پوری کوشش کے باوجود کوئی بہتر ی نہیں لا پارہے۔
انیس سو اٹھاسی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف تھے۔ انہیں بھی وہی مسئلہ درپیش تھا جو محترمہ بے نظیر بھٹو کو تھا ‘یعنی اپنے اراکینِ اسمبلی کو راضی رکھنا اور پیپلزپارٹی کے لوگ توڑنا۔ آپ نے اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے ہر رکنِ اسمبلی کی خدمت میں ایک نائب تحصیلدار‘ ایک اے ایس آئی پولیس اور ایک استاد کی نوکری پیش کی۔ اسلامی اور جمہوری سیاستدانوں نے ان نوکریوں کے علاوہ شہروں میں پڑے سرکاری پلاٹوں کو بھی خاموشی سے اپنے نام کروایا اورجہاں جہاں زرعی زمین ملی اسے بھی ڈکار گئے۔
یہاں بھی سندھ جیسا نتیجہ ہی نکلا۔ وہ نالائق جو رشوت کے طور پر بھرتی ہوئے تھے‘ پنجاب کو بھی دیمک کی طرح چاٹ گئے۔ استاد کے طور پر سرکاری سکولوں کا بھٹہ بٹھا دیا ‘ پولیس افسر کے طور پر رشوت کے ریکارڈ قائم کردیے اور محکمہ مال میں گئے تو زمینیں ادھر ادھر کرکے مال بنایا۔
یہی لوگ آج سینئر ہوچکے ہیں اور صوبے کو روزانہ کی بنیاد پر تباہ کررہے ہیں۔ پنجاب میں ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ اپنے حامیوں کو خوش کرنے کے لیے ان کی مرضی کے مطابق غیر ضروری سرکاری سکول بنے اور پھر ان میں پرچیوں پر استاد بھرتی ہوئے۔ اس طرح بننے والے سکول بعد میں بھوت سکول اور ان میں بھرتی ہونے والے بھوت استاد کہلائے ۔ یعنی سکول تھے نہ استاد بس لوٹ مار کا بازار تھا جسے ختم کرنے کے لیے نواز شریف کو بطور وزیراعظم فوج کی مدد لینا پڑی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے جو ہارس ٹریڈنگ کی اس کا نقصان ملک کو ہی نہیں خود انہیں بھی پہنچا۔ وفاداریاں بیچنے والے کبھی غلام اسحاق خان کے ہاتھ میں کھیلے اور کبھی فاروق لغاری کے۔ جن لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ان دونوں نے ریاستی اداروں کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی وہی لوگ ان کی حکومتوں کے زوال کا باعث بنے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتیں گریں تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی روش غلط تھی۔
نواز شریف کو پہلی حکومت گرنے کے بعد دوسری گرجانے کے خوف سے یہی خیال آیا اور پھر دستور میں متفقہ طور پر چودہویں ترمیم ہوئی جس کے بعد منتخب اراکینِ اسمبلی کا وفاداریاں بدل لینے کا سلسلہ ختم ہوا۔ یہ سلسلہ شاید بند رہتا لیکن پرویز مشرف آگئے۔ انہوں نے جب ق لیگ کی مدد سے جمہوریت بحال کی تو اس سے پہلے دستور کی متعلقہ شق معطل کرکے پیپلزپارٹی سے پیٹریاٹ برآمد کروائی اورمیر ظفراللہ خان جمالی کو وزارت عظمیٰ دی۔
پھر یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ دوہزار آٹھ میں شہباز شریف نے پنجاب حکومت میں ق لیگ کے عطا مانیکا کی سرکردگی میں اراکینِ اسمبلی کا فارورڈ بلاک بنواکر ہارس ٹریڈنگ کے مردے میں پھر جان ڈال دی۔ پیپلزپارٹی نے بھی دستور میں لکھی اس شق کی کوئی پروا نہیں کی۔ دوہزار نو میں جب پنجاب میں گورنر راج لگایا گیا تو اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر اور پیپلزپارٹی کے راجہ ریاض (جو آج تحریک انصاف کا حصہ ہیں) نوٹوں سے بھرے بکسے لے کر میدان میں اترے اور ببانگِ دہل مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کے دام لگانے لگے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ تحریک انصاف جو کچھ کررہی ہے وہ نیا نہیں۔ ان سے پہلے یہ کئی بار ہوچکا ہے۔ پہلے والوں نے بھی یہی سوچا تھا کہ اقتدار کی چکاچوند سے چند لوگوں کے ضمیرہی تو خریدنے ہیں مگر نتیجہ اس ملک اور خریداروں کی تباہی کی صورت میں نکلا۔عمران خان اور عثمان بزدار نے بھی جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرکے جس راستے کا انتخاب کیا ہے‘ وہ انہیں بربادی کی طرف ہی لے کر جائے گا۔ لوگوں کو لالچ دے کر سیاسی جماعتوں میں لوٹے بنانے کے اس عمل سے پہلے سیاسی ماحول تباہ ہوگا‘ پھر ملک مزید تباہ ہوگا اور انجام کار تحریک انصاف بھی مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کا گھٹیا سا چربہ بن کر رہ جائے گی ۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •