ذکر پینسٹھ کے رجز گوؤں کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1965کے گمنام سپاہیوں، موسیقاروں،سورة الفتح کا نقش کاڑھنے والی ماوں بیٹیوں اور بہنوں کو سلام !
اگر کوئی ایسا پیمانہ ہوتا جس سے یہ پرکھا جا سکتا کہ ’’حرام موسیقی‘‘ نے حلال جنگ میں کیا حصہ ڈالا تو شاید ہم دانتوں میں انگلیا ں دبائے کھڑے ہوتے ، صرف17 دنوں میں 23 لازوال جنگی ترانے تخلیق ہوئے ، ایسی شاعری ۔ ہائے ہائے ۔ آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاکؐ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

عنایت حسین بھٹی نے زندگی کی ساری کمائی دفاع فنڈ میں جمع کروا دی۔ پاس صرف ڈھائی سو روپے رکھے۔ اور گایا کیا ؟

’’اللہ کی رحمت کا سایہ، توحید کا پرچم لہرایا۔ اے مرد ِمجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ ۔

نسیم بیگم ، شوکت علی ۔
میڈم کی خدمات پہ تو میں ایک جملہ کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ۔
یہ کون لوگ تھے؟ یہ کون موسیقار تھے؟ طبلے پہ کون تھا؟ ہارمونیم پہ کس کہ ہاتھ تھے؟
میں جب لوک ورثہ میں تھا تو اقبال حسین حیدری وہاں کام کرتے تھے۔
جی جی وہی اقبال حسین حیدری (ساڈا چڑیاں دا چنبھا وے اور ٹور پنجابن دی، اور لائی بے قدراں نال یاری تخلیق کرنے والے)
بہت محبت کرنے والے ، شفیق انسان۔
مجھے بانسری ہارمونیم اور طبلہ کی تھیوریاں بتایا کرتے ۔
میری تنخواہ 3000 ماہوار تھی ۔ اقبال حسین حیدری 2500 روپے ماہوار لے رہے تھے۔
پھر ایک دن لاہور میں خبر ملی ۔ اقبال حسین حیدری ایکسپریس ہائی وے پر پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظار کر رہے تھے۔
ہارٹ اٹیک ہوا ۔ فوت ہو گئے !
ابھی کل ہی نا جانے میرے ذہن میں کہاں سے خیال آیا۔ میں نے گوگل پہ لکھا۔ ’’اقبال حسین حیدری‘‘ اور امیجز کو کلک کیا ۔۔
کچھ نہیں تھا۔پھر ویب کو کلک کیا ۔ کچھ نہیں تھا !
ساتھ ہی گوگل نے ہنس کر جواب دیا ۔
’’ہاں مجھے ایک چھوٹا موٹا خد ا ضرور کہتے ہیں لیکن ہر چیز کا علم اسی خدا کی ذات کو ہے، میں تو انسانوں کا بنایا ایک منی گاڈ ہوں اور اپنے پاس وہی رکھتا ہوں جو انسانوں کے Collective Conscious میں ہے ، تم انسانوں کے Collective Conscious میں اقبال حسین حیدری کہیں نہیں ہے ۔۔معذرت‘‘
میں نے گوگل کا احترام کیا ۔ معذرت قبول کی ۔ اور اپنے مرحوم دوست کےلیے فاتحہ کی۔۔
قادر مطلق ضرور جانتا ہے ، کس نے اس ملک میں کیا کیا اور کس نے اس ملک کو کیا دیا !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 158 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “ذکر پینسٹھ کے رجز گوؤں کا

  • 07/09/2016 at 1:32 pm
    Permalink

    Waqai dard ki tasweer bana di Malik Saheb ney…hum Ehsaan-na’shanaas ‘log’ hain, Qaum jaanboojh ker nah likha

Comments are closed.