فسطائیت کی دستک ۔ ترمیم و اضافہ شدہ کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کے ساتھ تعاون کے باب میں، اپوزیشن ہر اخلاقی ذمہ داری سے آزاد ہو چکی۔ یہ جمہوریت نہیں، فسطائیت ہے۔ اس کے خلاف اٹھنا اپوزیشن پر فرض ہو چکا۔

یہ پہلی حکومت ہے جس نے انتخابات کے بعد بھی، انتخابی ہیجان کو برقرار رکھاہے۔ ایک سوچی سمجھی حکمت ِ عملی کے ساتھ، اس تلخی کو نہ صرف باقی رکھا گیا بلکہ اس میں مسلسل اضافہ کیا گیاہے، جو انتخابی ماحول میں ہر دفعہ جنم لیتی لیکن انتخابات کے بعد ختم ہو جا تی ہے۔ نتائج آنے کے بعد جیتنے والا، عاجزی اختیار کرتا اور قوم کو اس تقسیم سے نکالنے کی کوشش کر تا ہے، جو انتخابی مہم کا فطری نتیجہ ہو تی ہے۔ عوام کا جوا عتماد جیتنے والے کو حقِ حکمرانی دیتا ہے، وہی اعتماد اپوزیشن کو بھی نمائندگی کا حق دیتا ہے۔ اس کا احترام بھی لازم ہو تا ہے۔

اس حکومت نے، اپوزیشن کی طرف سے تعاون کی ہر پیشکش کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔ وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے والے شخص نے پہلے ہی خطاب میں اپوزیشن کو للکارا اور دعوتِ مبارزت دی۔ بجٹ میں اپوزیشن کی ہر ترمیم کو مسترد کر دیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو حیلوں بہانوں سے جیلوں میں ڈالا گیا۔ منتخب عوامی نمائندوں کوپارلیمنٹ میں مسلسل چور چور کہا گیا۔ یہی نہیں، سپیکر کویہ ’حکم‘ دیاگیا کہ ’چوروں‘ کے لیے پروڈکشن آڈر جاری نہ کیے جائیں گے۔ آصف زرادی صاحب کے پروڈکشن آڈر روک دیے گئے۔

زرادری صاحب کو کسی عدالت نے چور نہیں کہا۔ چوں کہ خان صاحب کی نظر میں وہ چور ہیں، اس لیے چور ہیں۔ دوسری طرف ایک شخص ہے جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت کہہ چکی کہ وہ امانت دار ہے نہ سچا۔ اسی وجہ سے کسی حکومتی منصب کا اہل نہیں ہے۔ ایسے شخص کو خان صاحب نے بالفعل نائب وزیراعظم بنا رکھا ہے۔ وہ حکومت کی طرف سے 309 ارب روپے کے زرعی منصوبوں کا اعلان کر رہا ہے۔ گویاوزیراعظم کی نظر میں و ہ امین بھی ہے اور صادق بھی۔ وہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ کوئی عدالتی فیصلہ اسے عوام کی خدمت سے نہیں روک سکتا۔ اس سارے عمل کی منتہا رانا ثنا اللہ کی گرفتاری ہے۔

یہ جمہوریت نہیں، فسطائیت ہے۔ ایک فردِ واحد کامطلق ا ختیار۔ وہ اپنے راستے میں حائل ہر قانون کو پامال کر رہا ہے یا اس میں ترمیم لا رہا ہے۔ قرضوں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کمیشن ہو یا اراکینِ اسمبلی کے پروڈکشن آڈر کے قانون میں ترمیم کا معاملہ، یہ فسطائی ذہن ہر جگہ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ نرگسیت نے اس میں اذیت پسندی کو بھی شامل کر دیا ہے۔ رانا ثنا اللہ کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ اس کا ایک مظہر ہے۔ ساری دنیا مقدمے ہی کو مضحکہ خیز قرار دے رہی ہے۔ اس پر مستزاد حکومتی سلوک۔ اب احسن اقبال اور دوسرے اپوزیشن راہنماؤں کو باری ہے۔

ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپاہے جس کی لے کو ایک حکمتِ عملی کے ساتھ مدہم نہیں ہو نے دیا جا رہا ہے۔ وزرا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس الاؤ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔ کوئی پانچ ہزار افراد کو لٹکا دینے کی بات کر رہا ہے اور اس کے خلاف کوئی قانون حرکت میں نہیں آ رہا۔ کوئی نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑا کر ان کے حامیوں کو مسلسل مشتعل کر رہا ہے۔ ایک ’پوسٹ ٹروتھ‘ کے ذریعے ہر خرابی کا ملبہ سابقہ حکومتوں کے سر ڈالاجا رہا ہے۔

یہ سب کچھ اتفاقیہ نہیں، ایک منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف انتخابات میں ہیجان برپا کر کے کامیابی حاصل کی گئی، ان کومجرموں کے کٹہرے میں کھڑا رکھا جائے تاکہ لوگ ا س حکومت کی نا اہلیوں سے صرفِ نظر کیے رکھیں۔ پھریہ کہ ہیجان فسطائیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ایک مستحکم اور ٹھہراؤ رکھنے والے معاشرے میں عقل کی حاکمیت ہوتی ہے، جذبات کی نہیں۔ فسطائیت کے لیے ضروری ہے کہ مسلسل ہیجان برپا رہے تاکہ عوام کو سوچنے کی مہلت نہ ملے۔

ملک کو ایک جماعتی نظام کی طرف لے جا یا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی میں عمران خان کی حیثیت ایک کردار کی ہے، تخلیق کار کی نہیں۔ کوشش یہ ہے کہ اس نظام کو دس سال کے لیے چلایا جائے یہاں تک کہ اسے بھٹو خاندان اور شریف خاندان سے پاک کر دیا جا ئے۔ یہی نہیں، ان سے بھی جو ان کے ساتھ کھڑا ہونے پر اصرار کریں۔ ان کے پاس متبادل یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف یا ق لیگ میں شامل ہو جا ئیں۔ اس مہم میں شریف اور بھٹو خاندان کو اخلاقی طور پر اس طرح تباہ کر دیا جائے کہ ان کی حکومت کے خلاف اٹھنے کی سکت ہی ختم ہو جا ئے۔

شہباز شریف صاحب کی حکمت ِ عملی نے اس منصوبے پر عمل درآمد کو بہت آسان کر دیا ہے۔ نواز شریف اور مریم نوازنے جو مزاحمتی تحریک اٹھائی تھی، شہباز شریف صاحب نے اس کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے خیال کیاکہ مفاہمت انہیں بچا سکتی ہے۔ اس مفاہمت نے ا نہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اپنے حامیوں میں مایوسی پھیلائی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ن لیگ کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوگئے۔ اب وہ تحریکِ انصاف کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ سیاست دان کاپہلا مسئلہ اقتدار نہیں، سیاسی بقا ہے۔ اقتدار کے لیے وہ انتظار کر سکتا ہے مگرسیاسی بقا کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ مجھے حیرت ہے کہ شہباز شریف صاحب نے آصف زارداری صاحب کے انجام سے نہیں سیکھا۔ چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے وقت، ان کی مفاہمت کا صلہ انہیں کیا ملا؟

میرے خیال میں اب اپوزیشن کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے پہلے حزب ِ اختلاف پر یہ اخلاقی دباؤ ہو سکتا تھا کہ حکومت کو کام کر نے کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ دباؤ اس دن ختم ہو گیا، جب حکومت نے زبان ِ حال سے اعلان کر دیا کہ نئے سیاسی نظام میں اپوزیشن کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ صرف جگہ نہیں بلکہ وہ اپوزیشن کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہتی ہے۔ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اپوزیشن کا وجود برداشت کیا جائے گا تو وہ احمقوں کی دنیا میں جیتا ہے۔ آہستہ آہستہ میڈیا میں بھی اپوزیشن کے لئے جگہ سکڑ رہی ہے۔

میرے تصورِ سیاست میں تو انسان کی آزادی معاشی استحکام سے کہیں اہم ہے۔ جمہوریت اسی آزادی کی علامت ہے۔ میرے لیے یہ ایک قومی المیہ ہوگا کہ جس یک جماعتی نظام اور پابند سیاست کو دنیا بیسویں صدی میں، اس کی خرابیوں کی وجہ سے طلاق دے چکی، ہم اس سے نکاح کر نے جا رہے ہیں۔ چور چور کے شور میں اس ہیجان کو برقرار رکھا جا رہا ہے، جو فسطائیت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت قومی ذمہ داری ہے۔ مزاحمت کا مطلب تشدد ہرگز نہیں۔ یہ رائے عامہ کی بیداری ہے۔ عوام کو متنبہ کرنا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ مزاحمت کا مطلب ہیجان کے مقابلے میں حکمت کی تعلیم ہے۔ ’پوسٹ ٹرتھ‘ کی جگہ ’ٹرتھ‘ کا فروغ ہے۔

اپوزیشن کے لیے یہ اس کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میرے لیے یہ ملک وقوم کی بقا کا سوال ہے۔ وہی قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں جن میں سماجی ارتقا ہو تا ہے۔ ہر آدمی اپنی صلاحیت کر مطابق اس ارتقا میں شریک ہو تا ہے۔ وہ ہر طرح کے خوف سے آزاد ہو کر اپنی بات دیانت داری سے کہتا ہے۔ دوسروں کے مختلف خیالات کو بھی اپنی اصلاح کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ یوں سب مل کرسماجی ارتقا میں اپنا کردار اداکرتے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ ہماری فوج اور عدلیہ مضبوط ہوں۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب اقتدار کی کشمکش میں ان کا ذکر نہ ہو۔ پاکستان کے عوام یک جان ہوں۔ اس کی ضمانت صرف قومی سیاسی جماعتیں دے سکتی ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ وہ پھلیں پھولیں۔ ملک میں معاشی استحکام ہو۔ یہ اسی وقت ہوگا جب سیاسی استحکام ہو اور سیاسی استحکام جمہوریت سے حقیقی وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔ فسطائیت ان سب امکانات کو برباد کر دیتی ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •