اب میرے عزیز ہم وطنو کی دوبارہ ضرورت نہیں رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میرے عزیز ہم وطنو، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی ہے۔ پورے ملک میں مارشل لا نافذ کرکے 1973 کا آئین معطل کردیاگیا ہے“۔ پانچ جولائی 1977 کی شام سرکاری میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے جنرل ضیاءالحق نے قوم سے وعدہ کیا کہ 90 دن میں انتخابات کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ وہ 11 سال برسر اقتدار رہے جس کے دوران پورا معاشرہ ہیروئن اور گن کلچر کی نذر ہوگیا، قوم برادری، لسانی اور فرقہ واریت میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوریت کو تیزاب میں ڈال کر ایک غیر جماعتی نظام کی بنیاد ڈال دی گئی۔

پورے ملک میں پریس پر سنسر شپ عائد کردی گئی، سیاسی وشہری آزادی سلب کردی گئی۔ تاریخ کا سبق تو یہ ہے کہ اگر کسی کے بات کرنے اور لکھنے پر پابندی لگ جائے تو سمجھو کوئی خوف زدہ ہے اور مسئلہ وہیں ہے۔

90 دن بعد الیکشن ملتوی ہوگئے کیونکہ جنرل صاحب کو مشورہ یہ دیاگیا کہ انتخابات میں پی پی پی واضح اکثریت سے جیت رہی ہے اور بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو آئین کے آرٹیکل 6 پر عمل درآمد کرسکتا ہے۔ لہٰذا پہلے، احتساب پھر انتخاب کا نعرہ بھٹو مخالفین سے لگوایا گیا۔ 4 اپریل 1979 کوسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک متنازع ترین عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی دے کر سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہنری کسنجر کی اس دھمکی کو سچ ثابت کردکھایا جواس نے بھٹو کو 1976 میں دی تھی کہ تمہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا۔

اس کے بعد جنرل ضیا کے سامنے کوئی طاقت ور سیاسی حریف نہیں رہا اور ان کے دور اقتدار کی طوالت کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی۔ ان بیالیس سالوں میں پاکستان کی سیاست اور جمہوریت، تیزاب زدہ ہی رہی۔

ہماری بدقسمتی کہ پچھلے 71 سالوں میں سب سے زیادہ تجربات جمہوریت پر ہی ہوئے۔ کبھی آمروں نے بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کیا تو کبھی دو ٹوپیاں پہن کر صدارتی نظام لانے کی کوشش کی گئی اور کبھی غیر جماعتی نظام کا تجربہ کیاگیا۔

جنرل ضیا نے اس ملک میں نظریاتی سیاست کو ختم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ سیاست میں کاروباری لوگوں کو لاکر ناصرف یہ کہ کرپشن کو فروغ دیا بلکہ اپنی آمرانہ حکومت کو بھی مضبوط کیا۔ اس دور کا سب سے بڑا ا لمیہ اس وقت کی اعلیٰ عدلیہ کا بھیانک کردار ہے۔ چاہے وہ بھٹو کا مقدمہ ہو یا بیگم نصرت بھٹو کیس جس نے نظریہ ضرورت کو دوبارہ زندہ کیا جس کی ایک اور جھلک 2001 میں ظفر علی شاہ کیس میں بھی نظر آئی۔

جنرل ضیا کے خلاف پہلی بڑی مزاحمت صحافیوں نے کی، اخبارات پر پابندی اور سنسر شپ کے خلاف 1978 کی تحریک میں چارسو صحافی اور اخباری کارکنوں کے ساتھ سندھ ہاری کمیٹی کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ چار صحافیوں کو کوڑوں کی سزا ہوئی، تین کو کوٹ لکھپت جیل میں کوڑے لگے یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

1981 میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) وجود میں آیا جس نے 1983 میں جمہوریت بحالی کی تحریک چلائی، اس دوران سندھ میں کئی سولوگ مارے گئے اس تحریک سے مارشل لا ختم تو نہیں ہوا مگر کمزور ضرور پڑ گیا۔ جنرل ضیاء کو پہلے 1984 میں ایک جعلی ریفرنڈم کروانا پڑا تاکہ وہ اپنے آپ کو قانونی صدر کہہ سکیں اور پھر 1985 میں انہوں نے غیر جماعتی انتخابات کرواکر من پسند افراد کے ذریعے، جمہوریت کا لبادہ پہننے کی بھی کوشش کی۔

چونکہ سندھ میں بھٹو کی پھانسی کے بعد احساس محرمی بڑھ گیا تھا لہٰذا اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنایا گیا اور ایک نئی مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ مگر ضیا کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب ان کے اپنے نامزد وزیرا عظم نے آزادانہ فیصلے کرنا شروع کردیے۔ سیاسی وشہری آزادیوں کی بحالی سے جلاوطن بے نظیر بھٹو کی واپسی ممکن ہوئی، پریس پر عائد پابندیوں کاخاتمہ، بڑے افسران کو چھوٹی گاڑیوں میں بٹھانا اور سب سے بڑھ کر اوجڑی کیمپ کی تحقیقات۔ 28 مئی، 1988 کو جنرل ضیا نے 58۔ 2 (b) کے ذریعے ا ن کو برطرف کردیا۔

10 اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو لاہور کے تاریخی استقبال نے ان لوگوں کی آنکھیں کھول دیں جنہوں نے جمہوریت کو تیزاب میں ڈال دیا تھا ان 11 سالوں میں ناصرف یہ کہ 1973 کے آئین کا حلیہ بگاڑدیاگیا بلکہ ایسی ترامیم لائی گئیں جن کے ذریعے صدرجب چاہے کسی بھی منتخب حکومت کوگھر بھیج سکتا تھا۔ عورتوں کے حقوق غصب کیے گئے اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی گئی۔

انتہا پسندی اور نفرت کی جو بنیاد اس دور میں رکھی گئی اس کا شکار خود جنرل ضیا 17 اگست 1988 کوہوئے۔ انتہا پسندی کے باعث دہشت گرد گروپس تشکیل پائے جن کا بعد میں نشانہ بے نظیر بھٹو بھی بنیں۔ پچھلے چندسالوں سے جس دہشت گردی اور انتہا پسند سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کی داغ بیل جنرل ضیا نے رکھی اور بعد میں ان کے ہم خیالوں نے اسے آگے بڑھایا۔ آج ہمارے سامنے جمہوریت کی جوبھی بگڑی ہوئی شکل موجود ہے وہ ایک سلیکٹیڈ جمہوری نظام ہے جو 2008 سے چلا آرہا ہے۔

یہ ساری باتیں آج اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ہم نے اپنے بچوں کوتاریخ بھی اپنے مطلب کی بتائی ہے۔ جمہوریت ویسے بھی ہمارے ’نصاب‘ کا حصہ مختلف یا منفی معنوں میں رہی ہے۔ امید صرف یہ ہے کہ ایک مرتبہ میرے عزیز ہم وطنوں کی ضرورت ناپڑے۔ شاید اب اس کی ضرورت بھی نہیں رہی۔
بشکریہ جنگ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •