قدرت کا انتباہ کان کھول کر سنئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کسی نے بتایا کہ لوگ ماچس کی ایک تیلی بچانے کے لئے گیس کا چولہا کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ کیسا غضب ہے۔ لوگ کب سمجھیں گے کہ گیس، پانی اور بجلی ہمیشہ نہیں رہے گی۔ یہ سارے قدرتی وسائل محدود ہیں، دھیرے دھیرے ختم ہو جائیں گے۔ پانی پر تو پہلے ہی برا وقت پڑا ہے، کمیاب ہونے لگا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تصویریں نظر سے گزرتی ہیں جن میں ہم نے دیکھا ہے کہ کنویں خشک ہورہے ہیں، جھیلیں سوکھ رہی ہیں۔

وہاں کا یہ منظر دیکھ کر یہاں برطانیہ میں ہمارا یہ حال ہے کہ ابھی تو ہم ٹونٹی گھماتے ہیں اور پانی چھما چھم آنے لگتا ہے لیکن ہمیں اچھی طرح احساس دلا دیا گیا ہے کہ یہ ٹونٹی والی سعادت ہمیشہ نصیب نہیں رہے گی۔ اب حال یہ ہے کہ پانی کا نل بلا وجہ کھلا رہ جائے تو لپک کر بند کرتے ہیں، اس وقت اپنے ہاں کے سوکھے کنوؤں کا خیال آجاتا ہے۔ ہمیں برطانیہ میں آباد ہوئے پچاس برس ہونے والے ہیں۔ جب ہم نئے نئے آئے تھے تو پانی کا بل چار پاؤنڈ کا آتا تھا۔ اب وہی بل چار سو پاؤنڈ کا آتا ہے اور کسی مہینے بارش نہ ہو تو اعلان ہونے لگتا ہے کہ پانی کے ذخیرے سوکھ رہے ہیں۔

یہاں ہمارا یہ حال ہے، ادھر ہندوستان پاکستان میں ہم نے دیکھا کہ لوگ پانی کی ٹونٹی کھول کر کپڑے یا برتن دھوتے ہیں تو پانی کا نل پورے وقت کھلا رہتا ہے اور پانی بہے چلا جاتا ہے۔ اسی طرح گھر کے ہر کمرے کی بجلی جل رہی ہوتی ہے۔ لوگ کسی کام کے لئے کمرے میں جاتے ہیں تو بجلی جلا دیتے ہیں اور کام کرکے جانے لگتے ہیں تو بجلی جلی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں برطانیہ میں دن ڈھلنے کے بعد اپنی گلی میں چلیں اور مکانوں کے سامنے سے گزریں جن کی بڑی کھڑکیاں کھلی ہوتی ہیں۔ ان میں نظر آتا ہے کہ لوگ جس کمرے میں بیٹھے ہیں بس اسی کی روشنی کھلی ہے باقی ساری بتیاں بجھی ہوئی ہیں۔

اس کا فوری صلہ یوں ملتا ہے کہ بجلی کا بل کم آتا ہے۔ یہی حال گیس کا ہے۔ چولہے جل رہے ہیں تو جلے جارہے ہیں، چاہے ان کے اوپر کچھ بھی نہ پک رہا ہو۔ ہم یہاں برطانیہ میں اس بات پر کڑی نظر رکھتے ہیں کہ گیس کے چولہے کی آنچ اتنی اونچی نہ ہو کہ اس کے اوپر رکھی پتیلی یا کڑھائی سے باہر نکل رہی ہو۔ اس سلسلے کا ایک سرکاری اشتہار یاد آتا ہے جس میں لکھا ہوتا تھا کہ پتیلی گرم کیجئے، باورچی خانہ نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک باورچی خانہ ہی نہیں، پوری دنیا کے ماحول کو گرم کر رہے ہیں۔ جس طرح دنیا میں پٹرول، ڈیزل اور کوئلہ پھونکا جارہا ہے، اس کے نتیجے میں ہماری زمین کے گرد لپٹی ہوئی آکسیجن کی نفیس سی اوڑھنی بھی راکھ ہوئی جارہی ہے۔ آج ہی خبروں میں دیکھا کہ امیزون کے جنگل بے رحمی سے کاٹے جارہے ہیں اور برازیل کی حکومت کی رضامندی سے ان درختوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔

ملک کے صدر کو زراعت اور باغبانی کے لئے زمین چاہئے، درخت رہیں نہ رہیں۔ سب جانتے ہیں کہ برازیل کے علاقے کے دسویں حصے پر یہ جنگل پھیلے ہوئے ہیں اور سب یہ بھی جانتے ہیں یہ جنگل ہمارے کرہّ ارض کے لئے آکسیجن پیدا کرتے ہیں جس سے ہماری سانسیں چلتی ہیں، تو اس خیال سے خوف آتا ہے کہ کیا پانی گیس بجلی کی طرح ہوا کی بھی قلّت ہو جائے گی اور کیا ہم منرل واٹر کی بوتل کی طرح آکسیجن کی ٹنکیاں بھی خریدا کریں گے اور ناک میں نلکی لگا کر سویا کریں گے۔

مسئلہ صرف پانی اور گیس بچانے ہی کا نہیں، حکومت نے بڑی حکمت سے کام لیا ہے اور گیس، پانی اور بجلی کے نرخ اس طرح مقرر کئے ہیں کہ جن لوگوں کے گھروں میں بجلی اور گیس کی کھپت کم ہوگی ان کو یہ نعمت سستی فراہم کی جائے گی۔ اسی طر ح زیادہ بجلی اور گیس پھونکنے والوں کے لئے نرخ بھی زیادہ ہوں گے۔ حکومت کی تدبیر اپنی جگہ مگر عام لوگوں کو اس معاملے کی سمجھ بوجھ بھی ہے؟ کیا لوگ اپنے چولہوں اور بجلی کے میٹروں پر نگاہ رکھنے کی زحمت کریں گے یا بھاری بھرکم بل آنے پر احتجاج ہی کرتے رہیں گے۔

میں نے تھرپار کر کے صحرا میں دیکھا، زمین کے نیچے سے نکلنے والے پانی کو صاف کرکے میٹھا بنایا جارہا تھا۔ آس پاس کے لوگ وہیں آکر پانی بھر بھر کر لے جارہے تھے۔ میں متاثر ہورہا تھا کہ بتایا گیا کہ اس علاقے میں حکومت نے پانی کو میٹھا بنانے والے دس پلانٹ لگائے ہیں جن میں نو بیکار پڑے گرد پھانک رہے ہیں، یہ ایک پلانٹ کسی این جی او نے لے لیا تھا وہ اسے بڑی خوبی سے چلا رہی ہے۔ سرکاری کاموں یا ناکامیوں پر ہم پہلے ہی اتنا رو چکے ہیں کہ اب رویا بھی نہیں جاتا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جس کام میں سرکار کا ہاتھ لگ جائے اس کام سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ یہ سب نیتوں کا فتور نہیں تو اور کیا ہے۔

سوکھی پڑی جھیلوں کی خشک تہہ تڑخ رہی ہے، جا بجا ڈھور ڈنگر کے ڈھانچے پڑے نظر آتے ہیں یا مردار خور پرندے تازہ خوراک کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کا موسم تلپٹ ہو رہا ہے، ریگستانوں میں سیلاب آرہے ہیں اور بارانی علاقوں میں سوکھا پڑا ہے، کبھی اتنے آندھی طوفان نہیں آتے تھے، اب انہوں نے گھر دیکھ لیا ہے، بستیاں غرقاب ہو رہی ہیں، پہاڑوں پر جمی برف پگھل رہی ہے اور برفانی تودے پھسل کر نیچے وادیوں میں گر رہے ہیں، جب یہ سب نہیں آتا تو زلزلے آجاتے ہیں۔

زمین لرزتی ہے، کانپتی ہے اور اس کی تہہ میں کہیں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے۔ کہیں یہ سب ہمارے لئے قدرت کا کوئی پیغام تو نہیں، کہیں اس میں کوئی تنبیہ روپوش تو نہیں، کہیں ایسا تو نہیں کے قدرت بول رہی ہے اور ہم نے اپنے کان بند کر لئے ہیں کہ ہمارے کام تو جاری ہیں، جو عذاب نازل ہوگا اسے آنے والی نسلیں جھیلیں گی۔ ہم کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلیں کسی اور کی نہیں،ہماری ہی اولادیں ہوں گی۔ ہوں گی یا نہیں، بتائیے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •