تبدیلی یا اشرافیہ کی جنگ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تبدیلی کی نوید ہے؟ اشرافیہ کی آپس میں جنگ ہے؟ یا پھر کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں یہ سوالات عام ہیں۔ کچھ رجائیت پسند لوگ اسے تبدیلی کی نوید کہتے ہیں۔ کچھ اسے اشرافیہ کی اندرونی جنگ قرار دیتے ہیں۔ کچھ قنوطیت پسندوں کا خیال ہے کہ اشرافیہ کے درمیان طاقت کی از سر نو بندر بانٹ کے بعد یہ جنگ ختم ہو جائے گی، اور اس سارے عمل میں عوام کے ہاتھ مزید غربت، مہنگائی اور مصائب کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر دیکھ لیتے ہیں کہ یہ اشرافیہ ہے کیا، اور یہ کن لوگوں پر مشتمل ہے۔
اشرافیہ کے لوگ اپنے وقت کے سب سے زیادہ ذہین، طاقت ور، دولت مند اور مراعات یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ قدیم لاطینی زبان میں ان کو ایلیگرے کہا جاتا تھا۔ فرانسیسیوں نے ان کو ایلیٹ کا نام دیا۔ وہاں سے یہ لفظ انگریزی میں آیا۔ ہم اسے اشرافیہ کہتے ہیں۔ انگریزی ڈکشنری میں اشرافیہ سے مراد ایک خاص گروہ ہے جو صلاحیت و قابلیت کے اعتبار سے دوسرے گروہ یا سماج سے بہتر ہو۔ کیمبرج انگلش ڈکشنری میں کسی معاشرے کے امیر ترین، طاقت ور، بہترین تعلیم یافتہ گروہ کو اشرافیہ کہا جاتا ہے۔ سادہ زبان میں یہ افراد کا ایسا گروہ ہوتا ہے، جو کسی معاشرے میں سب سے زیادہ طاقت اور اثر و رسوخ کا مالک ہوتا ہے، اور اس معاشرے میں کوئی اہم فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔
امریکی دانشور رائیٹ ملز نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ اس نے سن انیس سو ستاون میں اشرافیہ پر پوری ایک کتاب لکھی، جس میں اس تصور کے ساتھ جڑے کئی کنفیوژن ختم کیے گئے تھے۔ وہ اشرافیہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایسے سیاسی اور معاشی حلقے جو مل جل کر ایسے فیصلے کرتے ہیں، جن کے قومی سطح پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اشرافیہ کا ایک فرد دوسرے فرد کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
قاعدے کے مطابق وہ ایک دوسرے کو قبول و تسلیم کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے سے رشتے داریاں کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہیں‘ اور ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی منظم وجود ہے، جس میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ لوگ ممتاز تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور نمایاں سوشل کلبوں کے ممبر بنتے ہیں۔ تعلیمی اداروں سے سوشل کلب تک ان کی نیٹ ورکنگ ان کو سیاسی، مالی اور سماجی فوائد دیتی ہے۔
ملز کے بقول تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ لوگ طاقت کے تین مضبوط دائروں میں داخل ہوتے ہیں۔ ان میں طاقت کا پہلا دائرہ سیاسی قیادت یا حکمرانی ہوتی ہے۔ طاقت کا دوسرا دائرہ عسکری قیادت ہوتی ہے۔ طاقت کا تیسرا دائرہ کارپوریٹ اشرافیہ ہے۔
جس طرح ہر قوم میں مقامی طور پر ایک اشرافیہ کا طبقہ ہے، اسی طرح ایک عالمی اشرافیہ بھی ہے، جو اپنی ماہیت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے گلوبل ہے۔ سرمایہ داری کے پھیلائو اور معاشی اور عسکری طاقت کے عالمی ہونے کی وجہ سے ساری دنیا کے سیاست دان‘ حکمران اور کارپوریٹ لیڈرز ایک مشترکہ مفاد کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کا قومی ریاست سے ایک پیچیدہ رشتہ بن جاتا ہے۔
دنیا میں جو عدم مساوات ہے، اور امیر اور غریب کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے، اس میں اس عالمی اشرافیہ کا بڑا کردار ہے۔ بیشتر ممالک میں دولت، طاقت اور اختیارات چند ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ معاشی عدم مساوات میں اضافہ کچھ ملکوں میں اتنی تیزی سے ہو رہا ہے کہ قومی بحران بنتا جا رہا ہے، جس کا ذمہ دار اشرافیہ کو قرار دیا جاتا ہے۔
یہ دنیا ایک خاص بندوبست کے تابع ہے۔ اس بندوبست کو چلانے والوں کو آپ اشرافیہ کہہ لیں، اسٹیبلشمنٹ کہہ لیں، یا کوئی اور نام دے دیں، یہ دنیا کے ہر ملک میں موجود ہے۔ البتہ وقت حالات اور ملک کے اندر موجود نظام کی وجہ سے اس کی شکلیں ایک دوسرے سے تھوڑی مختلف ہوتی ہیں۔ پوری ترقی یافتہ دنیا میں اشرافیہ کا یہ نظام یا غلبہ بالکل ایک ہی جیسا نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ویلفیئر ریاستوں اور سوشل ڈیموکریسی میں اشرافیہ کی ہیئت ترکیبی اور ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی سکیورٹی سٹیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاستوں میں اشرافیہ کا عمل دخل، کردار اور شکل مختلف ہوتی ہے۔ اس طرح کی ریاستوں میں عموماً عسکری قیادت اور کارپوریٹ طاقتیں زیادہ طاقت اور اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستان کی طرح کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں اشرافیہ کی ہیئت ترکیبی تھوڑی سی مختلف ہوتی ہے۔ پسماندہ ممالک میں کارپوریٹ کی جگہ جاگیردار، وڈیرے، سردار اور مذہبی پیشوا عموماً اشرافیہ کے اندرونی دائرے میں شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اشرافیہ میں جدید صنعت کار اور کاروباری طبقے کی شمولیت کے باوجود روایتی جاگیردار، پیر اور سردار کا کردار ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ لہٰذا یہاں اشرافیہ کا دائرہ اور زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔
ہمارے ہاں اشرافیہ یا ایلیٹ کے ساتھ ایلیٹ ازم بھی ہے۔ یہ اشرافیہ کے کسی فرد، گروہ اور طبقے کا رویہ ہوتا ہے، جس کو ایلیٹ ازم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک فرد یا گروہ کی سوچ، خیال یا یقین ہوتا ہے کہ خاص قسم کے خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے، کسی خاص خصوصیت کا حامل ہونے یا زیادہ دولت مند اور تجربہ کار ہونے کی وجہ سے وہ سماج میں ایک خاص حیثیت اور حق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ بہت عام ہے۔ اس کے مظاہر ہر جگہ نظر آتے ہیں۔
اسی سوچ کا نتیجہ وی آئی پی کلچر ہے، جس میں کچھ لوگ اپنے آپ کو ایک خاص سلوک اور سماج میں ایک خاص جگہ کا حقدار سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ عام آدمی کی طرح کا سلوک برداشت نہیں کر سکتے۔ اشرافیہ کا طاقتور گروہ مل جل کر سماج کے اندر اپنے لیے جو خاص مقام، حیثیت اور جگہ بناتا ہے، اس کی حفاظت اور تسلسل کے لیے باقاعدہ نظام ترتیب دیا جاتا ہے۔ وی آئی پی کلچر اس کی ایک مثال ہے۔ سکیورٹی کے نام پر اہم لوگوں کو وہ ماحول مہیا کیا جاتا ہے، جس کا وہ خود کو حقدار قرار دیتے ہیں۔
شہروں میں اہم لوگوں کی نقل و حرکت کے دوران عام آدمی کے سارے بنیادی حقوق کی معطلی بلکہ اس کی زندگی اجیرن کرنے کا عمل اس کلچر کا ایک مظہر ہے۔ پاکستان میں تبدیلی کی بات کرنے والے لوگوں نے اس کلچر کو بدلنے کے وعدے کیے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس پورے نظام کو بدلے بغیر اس کی ایک نشانی یعنی وی آئی پی کلچر بدل دیں گے۔ ایسا گورنر ہائوس کے دروازے کھولنے یا وزیر اعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے جیسی علامتی اقدامات سے شروع ہو سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اشرافیہ، ایلیٹ ازم اور وی آئی پی کلچر ایک باقاعدہ نظام پر قائم ہے۔ اس نظام کی بقا اور تسلسل کا راز ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ یہ نظام بدلے بغیر تبدیلی نہیں آ سکتی۔ چنانچہ تبدیلی کے پر جوش نعروں کے باوجود زمین پر تبدیلی کی کوئی ہلکی سی جھک بھی نہیں نظر آتی۔ جو کچھ انفرادی اقدامات اور کاروائیاں ہو رہی ہیں وہ اشرافیہ کی اندرونی جنگ ہے، جس میں نئے طاقت ور لوگ پرانے طاقت ور لوگوں سے جگہ خالی کرانے کے لیے ان کا گریبان بھی پکڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ کی طاقت اور اختیارات کم کرنے کے لیے عوام کے اختیارات اور طاقت بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ایک سچی جمہوریت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سچی جمہوریت کو آپ سوشل ڈیموکریسی کہہ لیں یا فلاحی ریاست۔ اصل چیز یہ ہے کہ ملک کو چند یا چند سو لوگوں کے گروہ کے بجائے عوام چلاتے ہوں۔
ایسا تب ہی ممکن ہے جب طاقت اور اختیارات کو محدود دائروں سے نکال کر نچلی سطح پر عوام کے سپرد کر دیا جائے۔ جن ملکوں نے اس فارمولے پر عمل کیا ہے، وہاں اشرافیہ کی طاقت اور اثر و رسوخ میں واضح کمی آئی ہے۔ ایسی جگہوں پر عوام مقامی گائوں، یونین کونسل اور ٹائون کونسل وغیرہ کی سطح پر اپنی ضروریات کا تعین خود کرتے ہیں، اور اپنے بارے میں خود فیصلے کرتے ہیں۔ اشرافیہ کی طاقت اور اختیارات میں کمی کا یہ واحد راستہ ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •